تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

سلسلہ مداریہ کے روہیلہ پٹھان

On: اگست 15, 2026 12:04 شام
Follow Us:
سلسلہ مداریہ کے روہیلہ پٹھان

1793 سے لے کر مسلسل 1787 تک بے سر و سامانی کی حالت میں ایک مُنظّم حکومتِ وقت کے شیطان انگریزوں سے جنگ کرنا مذاق یا کھلواڑ نہ تھا، جبکہ انگریزوں کے سامنے چھوٹے بڑے زمین دار ، جاگیردار، راجے، مہاراجے، نواب، بادشاه پنشن خوار بن کر اپنے گھُٹنے ٹیک چکے تھے، سید مجنوں شاہ مداری کے ساتھ عوام کے علاوہ کوئی نہیں تھا ، سبھی سید مجنوں شاہ مداری کے لشکر کے مخالف و معاند تھے، یہ تو ایک غیبی کرشمہ تھا کہ 25 سال تک مجنوں شاہ ملنگ اسی طرح انگریزوں سے جنگ لڑتے رہے اور بعد میں ان کے وارِثین نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا ، یہ تمام جنگیں ٹیپو سلطان میسور ، حاجی شریعت اللہ وغیرہ سے بہت پہلے لڑی گئی تھیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ تاریخ کے اوراق سے انہیں مستور رکھا گیا۔

ہندوستان میں سلسلہِ مداریہ کی لاکھوں کی تعداد میں خانقاہیں اور تکیے تھے صرف ضلع پورنیہ کا یہ حال تھا کہ انگریز بوکانند 1809-1810 کے سروے میں لکھتا ہے کہ سلسلہِ مداریہ کی یہاں 1900 خانقاہیں مرجعِ خلائق ہیں، ان تکیوں سے بڑے بڑے علماء فارغ ہوتے تھے، خود مکن پور شریف میں اس وقت سب سے بڑا ادارہ ”فیضان العلوم“ نامی موجود تھا، جس کے اندر ایک قدیم لائبریری بھی مرجعِ خواص تھی، جو صدیوں پرانے ایسے قلمی مخطوطات سے آراستہ تھی، جن کا دوسرا نُسخہ کسی لائبریری میں موجود نہیں تھا، سلسلہِ مداریہ کا بھی ایک بیش بہا قلمی خزانہ اس لائبریری کی زینت تھا لیکن 1793ء میں مجنوں شاہ ملنگ مداری کی انگریزوں کے خلاف چھیڑی گئی جنگ سلسلۂِ مداریہ کی تباہی و بربادی کا سبب بن گئی، اور حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور تکیوں (مدرسوں) سے فارغ ہونے والے علماء کرام و مفتیانِ عِظام کو صفحۂِ ہستی سے مٹانے میں انگریز حکومت کمر بستہ ہوگئی، انگریز حکومت نے سب سے پہلے مداری فقراء کے مرکز مکن پور شریف کو تہِس نہس کرکے آگ لگادی، اور مدرسہ فیضان العلوم کو اجاڑ دیا، جس میں موجود لائبریری بھی آگ کی زد ہوگئی ، اس کے ساتھ مداری سلسلے کے ہزاروں تکیوں، خانقاہوں، چلّوں اور تکیہ داروں کو بے نام و نشان کردیا، اس کے علاوہ سلسلۂِ مداریہ کو بدنام کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہ رکھی، بزرگوں کی کتابوں میں تحریف کرکے سلسلۂِ مداریہ کے بابت مُغلِظات و واہیات در انداز کر دئیے گئے، غرضیکہ انگریز حکومت نے سلسلۂِ مداریہ کو تنزلی و پسماندگی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا لیکن اس کسمپرسی کے وقت بھی مجاہدینِ سلسلۂِ مداریہ نے اپنے عزائم بلند رکھے، انگریزوں سے صلح نہیں کی اور وطنِ ہِند کی آزادی کے لیے مستعد رہے۔

سلسلہ مداریہ کے روہیلہ پٹھان

فُقرائے مدار یہ جو مجنوں شاہ ملنگ کے مشن کو فروغ دے رہے تھے، ان کے علاوہ مداری پٹھانوں نے بھی 1857 عیسوی کی جنگ میں انگریزوں کو بھگانے میں بھر پور حصہ لیا، ان گمشدہ مداری پٹھانوں کی تاریخ رقم کرنے کے قابل ہے۔

10 مئی 1857ء کو میرٹھ میں اشتعال انگیزی کی خبریں قُرب و جوار میں تیزی سے پھیل رہی تھیں، بریلی، پیلی بھیت اور شاہجہاں پور وغیرہ میں لوگوں کے اندر اِشتعال برپا ہوچکا تھا اور لوگ جوق در جوق مرنے کے لئے آمادہ ہو گئے تھے، اس وقت بریلی کے احمد خان پٹھان والد رحمت خان پٹھان مداری صدر الصّدور کے عہدے پر فائز تھے، انہوں نے جنرل بخت خان پٹھان روہیلہ مداری کے کہنے پر انگریزوں کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا بہت سے انگریزوں کو اس میں قتل کر دیا گیا اور شہر کے مختلف مقامات پر جنگِ آزادی کے مجاہدوں نے انگریزوں سے سامنا کیا، یہ گھمسان کئی دنوں تک جاری رہی اور اس میں بریلی کے کئی وطن پرست مداری پٹھانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن کے اسماء درج ذیل ہیں:
(۱) روہیلہ پٹھان اعجاز خان بھٹی مداری (سن شہادت : 5 مئی 1858ء)
(۲) روہیلہ پٹھان کالے خان بھٹی مداری (سن شہادت: 5 مئی 1858ء)
(۳) روہیلہ پٹھان تلو خان مداری (سن شہادت : 5 مئی 1858ء)
(۴) روہیلہ پٹھان اندر خان بھٹی مداری (سن شہادت : 4 مئی 1858 ء)
(۵) روہیلہ پٹھان عزیز احمد خان بھٹی مداری (سن شہادت : 1858ء)
(۶) روہیلہ پٹھان قاسم خان بھٹی مداری (سن شہادت : 4 مئی
1858ء)
(۷) روہیلہ پٹھان شاکر داؤد خان مداری (سن شہادت 4 م : مئی
1858ء)
(۸) روہیلہ پٹھان اشرف خان مداری (سن شہادت : 4 مئی
1858ء)
(۹) روہیلہ پٹھان محراب خان بھٹی مداری۔

محراب خان مداری شدید زخمی ہو گئے تھے اور کچھ دنوں بعد زخموں کی تاب نہ لاکر وفات پائی، جس مقام پر یہ زخمی ہوئے تھے اور جہاں ان کا خون گِرا تھا، ان کے انتقال کے بعد ان کی قبر وصیت کے مطابق وہیں پر بنائی گئی۔

11 مئی 1857ء کی جنگ میں احمد خان عرف بہادر خان پٹھان مداری نے انگریزوں کے چھکّے چھڑا دیئے تھے، بریلی، شاہ جہانپور، بدایوں، اور پیلی بھیت سے انہیں بھگا دیا گیا تھا، مگر بے شرم انگریزوں کی پھر کمک آجاتی اور پھر یَکجُٹ ہوکر جمع ہو جاتے، انقلابی مداریہ بٹالیَن نے فروری 1858ء تک دوبارہ انگریزوں کے پنجے اس علاقے میں جمنے نہیں دیے۔ یہ پٹھان مداریہ سلسلے میں بیعت تھے اور اپنے نام کے آگے پیچھے مداری لکھتے تھے یہ لوگ بھاٹیہ چھتری و کھتری سے مسلمان ہوئے اور یہی چھتری بھائیہ پٹھان تھے جس طرح شیر شاہ سوری شوریہ ونٹی پٹھان تھا۔

1857 کی جنگ آزادی اور فقرائے مداریہ

سابق میں تفصیل سے گزرا کہ مجنوں شاہ ملنگ مداری کے خلفاء و مریدین اور مداری پٹھان برابر شریک رہے اور جام شہادت بھی نوش کیا لیکن آزادیِ وطن کے لئے ہمہ وقت مستعد رہے جب 1857ء کی جنگ شروع ہوئی تو مغل بادشاہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر نے ان کی بہادری کو دیکھتے ہوئے انہیں ملنگ فقرا اور ہندو سنیاسیوں سے جنگ عظیم 1857 میں بھر پور حصہ لینے کی استدعا کی مغل شاہی فرمان میں تحریر ہے۔

”چونکہ اہل یورپ ہندومت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں اور اس وقت انگریزوں کے خلاف مذہب کی بنا پر جنگ جاری ہے، اس لیے پنڈتوں اور فُقرا پر لازم ہے کہ وہ 1857ء کی مقدس جنگ میں حصہ لیں، کیوں کہ پنڈت اور فُقراء ہندومت اور اسلام کے محافظ ہیں۔“

اس طرح فقراء و سنیاسیوں کا ایک بڑا گروہ جنگ آزادی 1857ء میں بھی شریک رہا بس تاریخ کے صفحات پر سلسلۂِ مداریہ کی اُن جلیل القدر شخصیات کو جگہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور ان پر ریسرچ کی جانی چاہئے تاکہ ان مجاہدین کے نام صفحہ ہستی پر باقی رہیں۔

حوالہ جات:
(1) سفينة الاولیاء : مصنفہ داره شکوه قادری ، ص: 322 مطبوعہ مدرسہ آگر 1853۔
Bagar the Beritenta, 186 (2) اور بنگالی قدیم مطبوعات۔
(3) شاہی فرمان یکم محرم الحرام 1244 خط شکشتہ فارسی۔
Gosh(J.m):sanyasi and Fari (4) Raidersh اور بنگالی کی قدیم مطبوعات

نوٹ: مضمون میں ذکر کردہ رپورٹیں اور فرامین شاہی خدا بخش لائبریری پٹنہ ، اور اورینٹل پبلک لائبریری کلکتہ میں موجود ہیں، جن کی زیراکس خانقاہ مداریہ اور تکیہ داروں کے پاس بھی ہیں ، مضمون میں موجود انہیں سے نقل کیا گیا ہے۔
☆☆☆

حضرت مولانا مفتی ھاشم علی بدیعی مصباحی
[ماخوذ : سہ ماہی رسالہ رہبرِ نور اگست ۲۰۲۱]

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment