تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ

On: مئی 3, 2026 11:38 شام
Follow Us:
Baba Kapoor / بابا کپور

گوالیر برصغیر کا ایک ایسا تاریخی شہر ہے جو اپنی مذہبی، روحانی اور تہذیبی روایتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس سرزمین نے مختلف مذاہب اور سلسلوں کے بزرگوں کو جنم دیا جنہوں نے اپنی تعلیمات اور کردار سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہی بزرگوں میں ایک نمایاں نام حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی ذات آج بھی عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض ہے اور جن کی درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ حاضر ہو کر اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔

اسمِ گرامی و تعارف

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام حضرت سید شاہ عبدالغفور تھا۔ آپ ایک جلیل القدر صوفی بزرگ اور صاحبِ کرامت ولی تھے۔ عوام میں آپ بابا کپور کے نام سے مشہور ہوئے، اور یہی نام آپ کی پہچان بن گیا۔ آپ کا روحانی تعلق ایک عظیم سلسلۂ تصوف سے تھا جو آگے چل کر بدیع الدین احمد قطب المدار جیسے بلند پایہ بزرگ تک پہنچتا ہے۔

ولادت اور ابتدائی نشانیاں

آپ کی ولادت کے ساتھ ہی آثارِ ولایت ظاہر ہونے لگے تھے۔ روایت کے مطابق آپ دن میں دودھ نہیں پیتے تھے بلکہ شام کے وقت روزہ کھولنے کے بعد ہی دودھ نوش فرماتے تھے۔ بچپن ہی سے آپ کی توجہ اکثر آسمان کی طرف رہتی تھی، جسے عام لوگ ایک معمولی بات سمجھتے تھے، مگر اہلِ دل نے اس میں ایک خاص روحانی کیفیت کو پہچان لیا تھا اور اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ بچہ مستقبل میں ایک عظیم ولی بنے گا۔

علم و معرفت کی جستجو

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ ظاہر و باطن دونوں میں مہارت حاصل کی، مگر اس کے باوجود آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی شدید طلب باقی رہی۔ اسی جستجو نے آپ کو ایک کامل مرشد کی تلاش پر آمادہ کیا۔ بالآخر آپ کو حضرت سید شاہ راجے دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت نصیب ہوئی، جنہوں نے آپ کو بیعت و خلافت سے نواز کر روحانی فیض عطا فرمایا اور آپ کو منزلِ مقصود تک پہنچایا۔

مجاہدہ و ریاضت

مرشد سے فیض حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو سخت مجاہدہ اور ریاضت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ دنیاوی آسائشوں سے دور ہو گئے، کم خوراکی اختیار کی اور نہایت سادہ لباس پہنا۔ اکثر آپ حالتِ جذب و استغراق میں رہتے تھے۔ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو خدمتِ خلق بھی تھا، چنانچہ آپ گرمی کی راتوں میں مساکین اور ضرورت مندوں کو پانی پلایا کرتے تھے، جو آپ کی بے لوث خدمت کا روشن ثبوت ہے۔

گوالیر میں قیام

آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گوالیر کے قرب و جوار میں گزارا۔ یہی مقام آپ کی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنا، جہاں سے آپ نے لوگوں کو فیض پہنچایا۔ وقت کے ساتھ یہی جگہ آپ کی درگاہ کی صورت اختیار کر گئی، جو آج بھی عقیدت مندوں کے لیے روحانی سکون کا باعث ہے۔

کرامات و واقعات

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ کرامات سے بھرپور ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے کھانے کے متعلق فرمایا کہ یہ حلال نہیں، اور تحقیق پر معلوم ہوا کہ واقعی وہ کھانا ایک غیر دیندار شخص کی طرف سے آیا تھا۔ اسی طرح آپ کی سب سے مشہور کرامت وہ ہے جب اکبر نے آپ کو قیمتی جواہرات بھیجے، مگر آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ بعد میں جب وہ جواہرات واپس طلب کیے گئے تو آپ نے اپنی گدڑی جھاڑی اور اس میں سے بے شمار جواہرات ظاہر ہو گئے، جس سے لوگوں پر آپ کی روحانی عظمت واضح ہو گئی۔

ملاقاتِ اکبر

بادشاہ اکبر نے جب آپ کی کرامات کے بارے میں سنا تو آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ یہ ملاقات تانسن کے ذریعے ممکن ہوئی۔ آپ نے شرط رکھی کہ بادشاہ جوتیاں سر پر رکھ کر آئے، جسے اکبر نے عاجزی سے قبول کیا۔ اس واقعہ کا ذکر تاریخی کتاب آئین اکبری میں بھی ملتا ہے، جو آپ کی عظمت کی ایک اہم دلیل ہے۔

عوامی عقیدت و اثرات

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ آج بھی لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔ یہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ آتے ہیں، چادریں چڑھاتے ہیں اور اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔ خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر لوگ یہاں حاضری دیتے ہیں اور اپنی خوشیوں میں برکت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے، جو آپ کی مقبولیت اور روحانی اثر کا واضح ثبوت ہے۔

وصال

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ نے 3 ذی القعدہ 989 ہجری کو گوالیر میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی اسی شہر میں موجود ہے، جہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند حاضر ہو کر فیض حاصل کرتے ہیں۔

خلاصۂ سیرت

حضرت بابا کپور رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت ایک کامل صوفی، سچے درویش اور انسانیت کے خادم کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے ذریعے یہ سبق دیا کہ اصل کامیابی دنیاوی دولت میں نہیں بلکہ روحانیت، عاجزی اور خدمتِ خلق میں ہے۔ آپ کی تعلیمات اور کرامات آج بھی لوگوں کے دلوں میں ایمان اور محبت کی روشنی پیدا کرتی ہیں۔

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment