سر میں سرور حب نبی رکھ دیا گیا
سینہ میں عشق زندہ ولی رکھ دیا گیا
آئینۂ حلب سے جو پھوٹی کرن ادیب
نام اس کرن کا کلب علی رکھ دیا گیا
آسمانِ ولایت بیشمار نجوم و کواکب کی ضوفشانیوں سے مزین و آراستہ ہے لاکھوں لاکھ جھلملاتے ستارے آفاقِ ولایت کی زیب و زینت ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی نورانی سیرت لکھ کر قلم کی سیاہی کو منور کرکے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر لینا ہو گا میرا اقلم جس کی شانِ عظمت پر تصّدُق ہوکر صفحۂِ دہر میں سرخروئی اور آخرت کی تپش و حرارت میں آسائش تلاش کرنے کی سعادتیں حاصل کر رہا ہے وہ ہیں قوم و ملت کی مایہ ناز شخصیت عظیم المرتبت ، واقفِ اسرارِ حقیقت ، حامیِ سنت ، منبعِ فیضانِ مداریت ، حضرت علامہ مولانا الحاج ابوالوقار سید کلبِ علی حسنی حسینی جعفری مداری رحمۃ اللہ علیہ ، جن کی ضوفگن حیاتِ طیبہ کی ایک کرن ، بدبختوں کے نصیبے پر پڑی آنِ واحد میں مقدر کی گِرہیں کھُلتی چلی گئیں ، یہی ضیائےِ خورشیدِ ولایت جب دلوں کی اُفق پر طلوع ہوئی تو فکر و اعتقاد کی وادیوں میں صبحِ یقینی کا اجالا پھیل گیا ، جس سے اہل یقین کے نگار خانۂِ حیات کا گوشہ گوشہ چمک اٹھا اور لوگ وارفتگیِ عشق میں مست و بیخود ہوکر شریعتِ مطہّرہ کے پابندی سے عامل ہو گئے۔
یہ وہ ذات ہے جس کو لوگ ضیغمِ مداریت ابوالوقار جیسے پاکیزہ القاب سے جانتے پہچانتے اور مانتے بھی ہیں ، ابوالوقار ایک ایسی نادرالوُجود ہستی کا نام ہے جس کی ہر جان اسیرِ محبت ، ہر روح سرشارِ عقیدت ، اور ہر زبان مدح خواں ہے اور اگر انہیں ایک سچا عاشق ، قدسی صفت بزرگ ، راسخُ الاعتقاد ، مردِ مومن ، اخلاص و یقین ، عشق و وفا کا پیکرِ جمیل ، سلفِ صالحین کی زندہ تابندہ روایت ، ائمۂِ اسلام پر مشاہدات کا نقشِ حیات ، اولیاء اللہ کے فیضان کا جلوۂِ زیبا ، عقل و عشق ، فقر و علم و عمل ، شریعت و طریقت کے دریاؤں کا سنگم ، سیدنا قطب المدار کے الطاف و عنایت کا گہوارۂِ فیض ، ابو محمد ارغون کی فکر ، ابوتراب کا خون ، ابوالحسن کا سرور ، سلسلۂِ عالیہ مداریہ کے مشائخ کا تصوف ، سیدنا امام حسینؑ کا ایثار ، مولائےِ کائنات کی شاہانہ سطوت و اقتدار کا وارث کہا جائے تو کسی طرح کم نہ ہوگا۔
وہ دینی وقار اسلامی غیرت کا ایسا نادرُ الوجود نمونہ تھے جس کی مثال صرف تاریخ کے اوراق میں تلاش کرنے کی سعی کی جاسکتی ہے۔ آج کے دور میں کوئی ان کا مماثل نہیں گزرا ، وہ علم و عرفان کا ناممکن ناپید کنار سمندر تھے جس کی خاموشی سے اس کی گہرائیوں کا پتہ چلتا تھا اور جب بولتا تھا تو کفر و نفاق کی سیاہ راتوں کے لئے رشد و ہدایت کا سپیدۂِ سحر چمک اٹھتا تھا۔ سید نا ابوالوقار رحمۃ اللہ علیہ کی بلند پایہ شخصیت کو دیکھنے والوں نے علماء کی بزم میں دیکھا ، صوفیاء کی مجلس میں دیکھا ، پر ہیز گاروں کے حلقہ میں دیکھا ، صالحین کی جماعت میں دیکھا ، بار بار دیکھا مگر ان کے اندر جمالِ صورت میں یکتائی ، کمالِ سیرت میں تنہائی ، طبیعت میں سادگی پائی اور دنیا یہ پکار اٹھی:
للہ یہ تم دیکھنے والوں سے نہ پوچھو
کیا چیز ہو تم دیکھنے والوں کی نظر میں
حضرت ابوالوقار رحمۃ اللہ علیہ کے شب و روز کچھ اور ہی ہوا کرتے تھے۔ حضور ابوالوقار رب کا فضل و کرم بن کر آئے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ راست دکھانے کی عظیم ذمہ داری محسوس کی اور تمام عصری تقاضوں کو لبیک کہتے ہوئے ، تبلیغِ دینِ متین کرنے کے لئے گھر سے نکل گئے گجرات ، بنگال ، مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، کرناٹک ، مدراس ، بہار ، پنجاب ، یوپی ، نیپال ، پاکستان ، الغرض مُلک اور غیر مُلک میں سیر و سیاحت فرماکر لاکھوں عصیاں شعاروں کے داغِ معصیت کو اپنی نورانی ہتھیلیوں سے دھوکر ، طریقت و معرفت کی عطر بیزی فرمائی۔
آپ سے بہت سی کرامتوں کا ظہور ہوا جو صفحاتِ قرطاس کی زینت ہیں آپ نے ملک کے اکثر حصوں میں تبلیغ وَ اشاعتِ دین کا جو کام سرانجام دیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، سلسلۂِ عالیہ مداریہ کے علاوہ بہت سارے سلاسلِ طریقت کے اکابرین نے آپ سے فیض پایا اور شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے ، پوری زندگی سرکارِ رسالت مآب ارواحنافداه صلی اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم کی سیرتِ مطہّرہ کی پابندی فرمائی ، پھر وقت نے کروٹ بدلی ۲۵ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ کی وہ صبحِ صادق نمودار ہوئی ، جو اہلِ معرفت کے دامنوں میں اشکوں کے موتی بھرگئی ، اس عظیمُ الشان اور منفردُ المثال شخصیّت نے اس دارفانی سے ناطہ توڑ لیا ، طریقت کا یہ مہرِ منیر زمین دوز ہوگیا ، علم و ادب کی ایک ضو بار شمع روشن ہوکر خاموش ہوگئی ، عزیز و اقارب کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا ، آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے قرب و جوار کے لوگوں کا اژدہام اکٹھا ہو گیا۔
کوئی ویسا نظر نہیں آتا
وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا
آج اس عبقری شخصیت کے مزارِ اقدس سے لحدِ عالی کا بے مثالی پیغام مل رہا ہے۔
کتابِ دہر میں اک بابِ عبرت ہے میری ہستی
مجھے دیکھو میں بیٹھا ہوں مجسم داستاں ہوکر
میرا قلم ان لفظوں کے ساتھ آخری خراج عقیدت پیش کر رہا ہے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂِ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
امیر القلم حضرت علامہ مولانا حافظ سید از برعلی حسنی حسینی جعفری شکوہی مداری صاحب قبلہ صفر المظفر ۱۴۲۹ھ مطابق فروری ۲۰۰۸ء "ماهنامہ زنده شاه مدار”
[بحوالہ – "سہ ماہی رہبر نور مکنپور شریف” ۲۰۲۴]











