تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

نگاہ ابو الوقار

On: جولائی 29, 2026 8:09 شام
Follow Us:
حضرت ابوالوقار سید کلب علی جعفری مداری

انسان کی ساخت میں آب و گل کے سِوا کچھ نہیں مگر قدرت کا نورانی ہاتھ اِس جسَدِ خاکی کو صیقل کرکے ایسا مُحَلّی بنا دیتا ہے کہ انسان ایک محیرُ العُقول تبدیلی حاصل کرکے ایک نئے قالب میں ڈھل جاتا ہے اور جب اسے توفیقِ عرفان و بصیرت ملتی ہے اور وہ معرفتِ باری تعالیٰ کے منازل طے کرنا چاہتا ہے تو قدرت کا ہاتھ اس ذرۂِ ناچیز کو مہرِ درخشاں بنا دیتا ہے جس کی ضیا باریوں سے ساری کائنات منور ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی پاکیزہ صورت و سیرت انسان کو ولی کامل ، صوفی و صافی اور روشن دل بزرگ کہا جاتا ہے۔

جس کو ایسا روشن دل عطا فرمایا ہے اس کی سب سے بڑی خوبی اخلاقِ اِلہیہ سے متَّصِف ہونا ہے۔ یہ قلبِ روشن تجلی گاہِ الہی ہے اور ایسا ہی دل ایک مبارک امانت ہے۔ جس قالب میں یہ ساکن ہو وہی برکت و عظمت والا ہے۔

جس جگہ ایسوں کا نقش کف پا ہوتا ہے
بس وہیں سجدۂِ اربابِ وفا ہوتا ہے

مجھے ایک ایسے ہی ولیِ کامل کے چشم کُشاں حالاتِ زندگی اور کرامات و کمالات سے چند صفحات کو زیب و زینت دینا ہے۔ وہ عظیم المرتب ہستی ، جناب قُطبِ زماں ، غوثِ دوراں ، حضرت الحاج مولانا سید کلبِ علی صاحب ، ضیغم ابوالوقار مداری رحمۃ اللہ علیہ ، ساکن دارُ النّور مکن پور شریف کی ہے۔

میں نے ابھی تک جو کچھ لکھا ان سے زیادہ خوبیوں کے حامل ہیں۔ آپ میرے وطن موضع رورا میں اس وقت سے تشریف لائے تھے جب میں آپ کی ذاتِ بابرکات سے متعارُف نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ کے تصرّفاتِ روحانی نے رورا کو روئےِ …… بنا دیا۔

جب میں ڈاکٹری کے کورس سے فارغُ التّحصیل ہوا ، ایک روز میرے چچا قبلہ حکیم عبد الغفور خاں صاحب مرحوم نے مجھے آپ کی خدمت میں لے جاکر قدموں پر ڈال دیا۔ جب میری نظر حضرت کی نظر سے ملی تو معًادل کی یہ کیفیت ہوکے رہ گئی۔

بِسمل نہ شُد دل سن از خوبر دی جاناں
دیرینہ سال پیرے بردش بہ یک نگا ہے

آج بھی جب وہ ڈِگری یاد آجاتی ہے تو دل کا عالم عجیب ہوتا ہے ، میرے مخلصین اور عقیدت مندانِ اولیاء کا اصرار ہے کہ میں کچھ چشم دید واقعات و کرامات جو میری نظر سے گزرے ہیں انہیں ضَبطِ تحریر میں لاؤں مگر ساگر کو گاگر میں بند کرنا اس لئے مشکل ہے کہ ’’دامانِ نگہ تنگ و گلِ حسن تو بسیار‘‘ پھر بھی جو کچھ ممکن ہوگا ضرور سپُردِ قلم کروں گا تاکہ دشمنانِ اولیاء کے لئے باعث عبرت ہو اور میرے لئے ذریعۂِ تحصیلِ ثواب بنے۔

قطبِ عالم حضرت مولانا سید ابوالوقار رحمۃ اللہ علیہ کی ذات بابرکات محتاجِ تعارُف نہیں جن حضرات کو شرفِ زیارت اور فیضانِ صحبت حاصل ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ حضور کی ہر جُنبش زندہ کرامت تھی اور ہر قدم اتباعِ سنّت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حامل تھا۔ آج بھی ان کے کمالاتِ روحانی زبان و زدِ خلائق ہیں:

’’در حاجتِ مشاطہ نیست روئے دل آرام را‘‘

آپ حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کے حقیقی بھائی کی اولاد سے ہیں حسبْا و نسبًا ساداتِ حَسَنی حُسَینی میں ہیں۔ آپ کو سلسلۂِ عالیہ مداریہ میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ لاکھوں مریدین ہیں اور ہزاروں خلفاء ، خلفاء میں ایسی ایسی ہستیاں ہیں جو ولی ہی نہیں ولی گر بھی ہیں۔ تمام خلفاء ذی ہوش ، ذی شعور اور پابندِ شریعت ملتے ہیں۔ آپ نے اور آپ کے خلفاء نے اس طرح تبلیغِ اسلام فرمائی ہے کہ لاکھوں انسان بندۂِ بے دام ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفّار و مشرکین حقّانیتِ اسلام کو تسلیم کرکے آپ کی نگاہِ کیمیا اثر سے ولی صفت بن گئے۔ میں پڑھا کرتا تھا:

گر تو سنگِ صخرہ و مرمر شوی
چوں بہ صاحب دل ری گوہر شوی

مگر یہ سب کچھ میں نے عینُ الیقین اور حقُّ الیقین کی شکل میں پالیا جس کے لافانی نقوش ناقابلِ فراموش ہیں۔ آج بھی آپ کے آستانۂِ مبارکہ پر ہی نہیں آپ کے ہر گلی کوچے پر انوار تجلِّیات کی ہمہ وقت بارش ہوتی رہتی ہے۔

ولی ہونے کیلئے کشف و کمال کی شرط نہیں ہے۔ جس کا قول و فعل کتاب و سنت کے مطابق ہو ، جس سے احکامِ الہی کی زندگی کے کسی شعبے اور گوشے میں خلاف ورزی نہ ہوتی ہو یہی ولایت اور قطبیت ہے۔ پھر بھی وہ تصرّفات و کرامات جن کا تعلق میری ذات سے ہے اگر پیش نہ کروں تو کفران نعمت ہے۔ آپ کے اوصاف عالیہ پر ، میں ایمان تو بہت پہلے لا چکا تھا اور دل میں ٹھان لی تھی کہ آپ ہی کے دست حق پرست پر بیعت کروں گا لیکن آج کل کے چکر میں پڑا رہا اور صاحب موصوف کا انتقال ہو گیا۔ میں نے پختہ عزم کرلیا تھا کہ میرے حضرت چالیس روز کے اندر عالمِ رویا میں جس کیلئے ارشاد فرمائیں گے میں انہیں سے بیعت ہو جاؤں گا۔ میں زمانے کے مکر و فریب سے کافی آشنا ہو چکا تھا اور سمجھتا تھا:

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
بس نیاید داد در ہر دست دست

آخر کار عالمِ خواب میں ایک روز آپ نے اپنے دستِ مبارک میں میرا ہاتھ لے کر اپنے بڑے صاحبزادے سلطانُ العارفین سیّدُ العلماء جناب حضرت مولوی الحاج سید ذُوالفقار علی صاحب قمرؔ (ابُو الانوار) خطیب جامع مسجد مکن پور شریف کے دستِ شفقت میں دے دیا۔ صبح کو میں اپنے ہاتھ میں ایسی عجیب و غریب خوشبو محسوس کررہا تھا کہ باید و شاید ، اور پھر بہت جَلد اس خواب کی تعبیر بھی عالمِ ظاہر میں رونما ہو گئی۔ کیسے کہہ دوں کہ آپ میری سانسوں اور دل کی دھڑکنوں میں ہمہ وقت رہے اور جمے ہوئے نہیں ہیں۔ یقینا آپ کے کمالات زندہ و جاوید ہیں۔ آپ کی نیکیاں زندہ ہیں آپ کی خوبیاں زندہ ہیں۔

زندگی میں انقلابات آتے ہی رہتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد مجھے فشارُ الدّم ، بلیڈ پریشر اور اختلاجِ قلب کے امراض ہو گئے۔ نہایت اعلیٰ پیمانہ کا علاج کرایا لیکن یہ ایسے ضدی مہمان تھے کہ انہوں نے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انہوں نے موتیا بِند کو بھی دعوت دے کر بُلالیا۔ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ دِماغی تناؤ بڑھ کر دِماغ کی رگ پھٹنے سے آنکھوں پر فالج گر گیا اور آنکھوں کی نچلی سطح میں ناکارہ رطوبت و فضلاتِ نزلیہ منجمد ہو کے رہ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آنکھوں کی روشنی نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ گھر میں اہلیہ کو پھیپھڑوں کا دق ہو گیا۔ اکلوتا لڑکا ٹائی فائڈ کی زد میں آگیا۔ یگانے بیگانے ہوگئے اور کیوں نہ ہوتے۔

به وقت تنگدستی آشنا بیگانه می گردد
صراحی چوں شود خالی جدا پیمانہ می گردد

کہہ نہیں سکتا یہ میرے گناہوں کی سزا تھی کہ آزمائش؟ خدا کا شکر ہے کہ پھر بھی نہ اپنا ساغرِ ضبط چھلکا اور نہ ہاتھوں سے دامنِ صبر ہی چھوٹا۔ غرضیکہ ان ناسازگار حالات نے ایک ایک کرکے قریب قریب سارے معیاری اسپتالوں کی خاک چھنوادی مگر جدّ و جِہدِ سعی لاحاصل ثابت ہوئی۔ ارسلا ، ہیلٹ ، خیر آباد ، سیتا پور ، لکھنؤ ، الہ آباد ، گاندھی نیتر چکتسالیہ ، علی گڑھ۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، جواہر لال روہتگی آئی اسپتال ، اگروال آئی انسٹی ٹیوٹ دہلی وغیرہ وغیرہ۔ سب کے سب میرے لئے ناکام ثابت ہوئے بالآخر مایوس ہو کر بڑے بڑے ڈاکٹروں نے یہ متّفقہ فیصلہ سنادیا کہ آپ کے کُلِی اِمراض لاعلاج ہیں۔ اِدھر کچھ اللہ کے بندے مجھ پر آوازے جس کے میری دل آزاری کا باعث بنے ہوئے تھے کہ منظور اپنے اعمال بھوگ رہا ہے۔ ان کا یہ طنز اور مضحکہ خیزی تیر و نشتر کا کام کر رہے تھے۔ یہ ایں ہمہ کوئی غیبی طاقت ایسی تھی جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کر رہی تھی اور جس کی حیاتِ افسُردہ صدائیں میرے کانوں میں آرہی تھیں کہ:

ایک دن تجھ کو بہاروں سے گزرنا ہے ضرور
آج راہوں میں تری خار مغیلاں ہی سہی

آخرکار کھانا پینا چھوٹ گیا صرف غم کے آنسو پیتا تھا اور اپنے خدا سے دعائیں کرتا تھا۔ مگر شاید اِس خطا شعار کی دعاؤں میں بھی کوئی اثر نہ تھا۔ خودکُشی کرلیتا اگر یہ نہ جانتا ہوتا کہ خودکُشی گناہ عظیم ہے کسی طرح نجات نہ ہوگی۔ کوئی غیبی طاقت تھی جو میرے اور میرے خیالاتِ فاسدہ کے درمیان حائل ہوکر مجھے مغلوب کر رہی تھی۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد میرے کرم فرما دوست نے میری رو دادِ غم سن کر مشورہ دیا ’’منظر تم کو تو اپنے صبر و ضبط پر بڑا ناز تھا، آج تم کو کیا ہو گیا ہے تم تو اکثر کہا کرتے تھے:

اولیاء را ہست قدرت ازالہ
تیر جستہ باز گرداند زراه

نگاہِ مردِ مومن سے تو تقدیریں بدل جایا کرتی ہیں اگر اللہ تعالی تمہاری براہ راست نہیں سنتا تو تم اپنے سلسلۂِ مداریہ کے بزرگوں اور ولیوں کے توسّل سے اس کے دربار میں عِجز و انکسار کے ساتھ گِڑگِڑاکَر رحمتِ خداوندی کو جوش میں لانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اللہ کا رحم و کرم اپنی رحمت اور تمہاری مصیبت کے درمیان کسی روحانی وسیلے کو ڈھونڈ رہا ہے۔ ’’رحمتِ حق بہانہ میی جوید‘‘ مجھے موصوف کے اس مشورے سے کافی تسلی ہوئی اور یکا یک میرے پژمردہ ہونٹوں پر مسکراہٹ کی اک لہر دوڑ گئی۔ میں نے عہد کرلیا کہ اپنے دوست کے مشورے پر عمل کروں گا۔ رات کے سناٹے میں بسترِ خاک پر میں عاجزی کے ساتھ مصروف دعا تھا اور میرے تصوِر میں اس وقت بجز اپنے مُورثِ اعلیٰ سرکارِ سرکاراں حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا پیر حضرت مولانا الحاج ابوالوقار سید کلبِ علی رحمۃ اللہ علیہ ، نیز اپنے پیرو مرشد کے کوئی نہ تھا۔ انہیں بزرگوں کو وسیلہ بنا کر اس بے نیاز سے سب کچھ طلب کر رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ سب حضرات میرے سامنے ہیں۔ اور میں ان سے کچھ عرض کر رہا ہوں اسی عالم بیخودی میں آنکھ لگ گئی۔ خواب میں کہ میری آنکھوں میں بینائی آگئی اور شاید میرا حالِ زار دیکھ کر میرے پیر و مرشد کی آنکھوں میں نمی تھی مگر میرے کرم فرما مسکرا رہے تھے اور شاید یہ مسکراہٹ اس لئے تھی کہ وہ مجھے موسم خِزاں میں مژدۂِ بہار پیش فرمارہے تھے۔ میں نے فرطِ مسرت سے قدم پکڑ لئے آپ نے اپنا دستِ شفقت میرے سر پر رکھا اور فرمایا منظور حسن غم نہ کرو تمہیں دربارِ قطب المدار میں مقبولیت کا شرف حاصل ہو گیا ہے سرکار نے تم کو اپنی غلامی میں قبول فرمالیا ہے میرے لئے یہ خوشخبری کتنی مسرّت افزا تھی جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

اس کے فوراً بعد دیکھا کہ میری آنکھوں پر یکے بعد دیگرے کسی نے ایک نورانی نرم و نازک ہاتھ رکھ دیا ہے جس سے نہایت ٹھنڈی اور نورانی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ اس کے بعد دیکھا جیسے سرکارِ مدار رضی اللہ عنہ کے گنبدِ عالی کے سنہرے کلس سے نورانی شعاعیں نکل کر میری آنکھوں پر پڑرہی ہیں ، جس سے آنکھوں کا درد فوراً اسی وقت کم ہو گیا مگر ابھی روشنی نابود تھی صبح کو جب اٹھا تو میری بے چینی و بیقراری کافور ہو چکی تھی۔ سوچا خواب و خیال کی باتیں ہیں انسان جو سوچتا ہے وہی خواب میں دیکھتا ہے۔ مگر آگے چل کر معلوم ہوا کہ یہ محض خواب ہی نہیں تھا بلکہ سراپا حقیقت ہی حقیقت تھی جن ڈاکٹروں نے میرے امراض کو لاعلاج بتاکر مجھ کو مایوس کردیا تھا میں نے ان کی خدمت میں جاکر عرض کیا کہ اب آپ میرا علاج کیجئے اور میں آپ کو کامل یقین دلاتا ہوں کہ مجھے یقینا شفا ہوگی۔ وہ یہ سمجھے کہ مصائب و آلام میں یہ شخص اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ میں نے انہیں بار بار یقین دلایا کہ میرے حواس درست ہیں یہ سن کر سب ڈاکٹر کہنے لگے کہ منظر صاحب! تین ماہ سے تمہارا علاج ہو رہا ہے مگر امراض میں کوئی کمی نہیں ، آج رات بھر میں تم کیسے آپریشن کے قابل ہو گئے۔ جب تک ذیا بیطس ، بلڈ پریشر وغیرہ نارمل نہ ہو جائیں آنکھوں میں عملِ جراحی کیلئے ہاتھ لگانا ڈاکٹری اصول کے سراسر منافی ہیں۔ میں نے عرض کیا آپ جانچ کر لیجئے مصارف کا میں ذمہ دار ہوں۔ وہ تو کہئے کہ میرے شیخ کی توجہ کے اثر اور میری خدمات سے تمام ڈاکٹر مجھ سے مانوس ہو گئے تھے ورنہ وہ لوگ مجھ پر ضرور برس پڑتے ، کیوں کہ میں اصول اور دستور کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ آخر کار جانچ ہوئی اور متعدد بار ہوئی اور جب میرے امراض طبیعی حالات میں نکلے تو سب کے سب نہایت سنجیدہ اور حیرت زدہ تھے۔ یہ تو عجیب معمّہ ہے کل تک جو لاعلاج تھا وہ آج قابلِ علاج کیسے ہو گیا۔ میں تمام ڈاکٹروں کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ بار بار اصرار کرنے پر مجھے ان ماہرینِ اِمراضِ چشم کو مجبورًا سب کچھ بتانا پڑا حتّٰی کہ وہ ماہدیت پرست روحانیت کے قائل ہوگئے۔ اب تو ایسا لگتا تھا کہ وہ میرے شاگرد تھے اور میں ان کا استاذ ، وہ سب میرے مرید تھے اور میں ان کا پیر ، اس لئے کہ روحانی علاج و شفا کے سامنے ان کی ڈاکٹری سائنس نے اپنا دم توڑ دیا تھا۔ اس کے بعد جو بھی آپریشن ہوا وہ کامیاب ہوا اور یہ ہے کہ روحانی آپریشن تو پہلے ہی ہو چکا تھا بعد میں جو کچھ ہوا وہ محض خانہ پوری تھی۔ آج اس کفر و الحاد کے دور میں ایسے بھی لوگ ملّتِ اسلامیہ میں نظر آرہے ہیں جن کی گمراہی اسقدر نقشۂِ عروج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ تصرّفاتِ باطنی کے قائل ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ اولیائےِ کِرام و صوفیائےِ عِظام سے کیا مستفیض و مستفید ہو سکتے ہیں۔

تہی دستاں قسمت را چہ سوداز رہبر کامل
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آره سکندر را

مجھے تو اسی دہلیز سے بینائی و دانائی اور آگَہی حاصل ہوئی ہے۔

بدیع الدین سے نسبت ہوگئی ہے
مکن پور سے محبت ہوگئی ہے

ملیں حضرت سے آنکھیں جب سے منظر
ہر اک باطل سے نفرت ہوگئی ہے

کیا کہوں کلبِ علی کی پاک ذات
جن کو جانے اور مانے کائنات

ان سے پھیلا ہر جگہ دینِ مُبیں
ان کے ہر ذرے پہ روشن صفات

ان کی طاقت مجھ سے اے منظر نہ پوچھ
یہ بدل سکتے ہیں نظم کائنات

آپ آج بھی قلوب و ارواح کی بنا پر ابرِ نوبہار بنکر برس رہے ہیں۔ آپ کا آستانہ آج بھی تصوفِ اسلام کی جان ، اخلاق و روحانیت کا مرکز ، عشق و محبت الہی کا منبع ، ہدایت و سعادت کا سر چشمہ ، اور حقائق و معارف کا بہتا ہوا دریا ہے۔

بیا کہ بزم طرب خیز جاں فزاینجاست
بیا کہ جابجا انوار مصطفی اینجاست
جناب حضرت اقدس حضور کلبِ علی
بیا کہ درد دل ہر کسے شفا اینجاست
☆☆☆☆☆☆

ڈاکٹر منظور احمد خاں صاحب منظرؔ
[بحوالہ – "سہ ماہی رہبر نور مکنپور شریف” ۲۰۲۲]

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment