تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

On: اگست 15, 2026 12:46 شام
Follow Us:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

قارئینِ حضرات! ہمارا وطنِ عزیز ہندوستان سارے عالم میں جس کی انفرادیت اور ہمہ جہت خوبیوں پر پوری دنیا کی توجہ مرکوز ہے ، کیونکہ کشمیر کی سبز و حسین وادیوں سے کنیا کماری کی رونق و رعنائی تک پہاڑوں، وادیوں، آبشاروں اور سبزہ زار ریگزاروں سے سجا ہوا جنت نما ایک حسین سلسلہ جس کی گودی میں گنگ و جمن بپتوا ، گومتی چنبل و ساردا جیسی بَل کھاتی اٹھلاتی ندیوں کی لہروں سے جس کا حُسن اور بھی نمایاں ہے، جس کی چھاتی پر ہمسایہ آسمان ہمالیہ پروت جس کی عظمتِ شان کا خطیب، تاج محل کے دودھیا نظاروں سے جو مزین، قطب مینار جس کی بلندی کانشان، لال قلعہ کی فصیلیں جس کی قوت و طاقت کی داستان، پِنک سِٹی کی گلابی عکس کی کشِش، اجتنا اور ایلُورا کی گھپھائیں، دارجلنگ کے پھیلے دامن میں پہاڑوں کی خوبصورتی پر چائے کے باغاتوں کا پر کیف منظر ، نینی تال کے حسن و جمال کی پُر شبنم دِلکشی، کیرالہ کی خوبصورتی حسین مناظر کی دعوت دیتی ہے۔

ڈیوائی لینڈ ، سینٹ میری، مجولی، پونمٹھورتھو، پازم ، لکشدیپ، انڈومان نیکو بارشیپور جیسے ٹھنڈے مسحور کن اور دلکش جزائر سے مزین جھرنوں کے تبسّم ریز نظارے ، سبُک خُرامی سے بل کھاتی اِٹھلاتی لبِ ساحل پر موجوں کے حسین مناظر ، سبزے سے لدے ہوئے میدانوں میں قِسم قِسم کے چرندوں، پرندوں اور بھانت بھانت کے پتنگوں اور تیلیوں سے رقص و سرود کے پُر کیف نظارے ، جس کے باغوں میں کوئل کی مدھُر اور سریلی آواز کیا کہنا ، گویا کہ کانوں میں رس گھولنے والی ساز، گنگا جمنا سرسوتی کا سنگم، جن و انس کی حیات، مرغ و ماہی کی کائنات، مصر کے حسن و جمال کی جہاں بازار، چمبا ، مسوری ، ابو، گووا کوہِ نور کی رونق و رعنائی، بلند و بالا ہرے بھرے خشک و سادے پہاڑوں کے دامنوں میں آباد شہر و قصبات و قَریات ، پوری دنیا کی آنکھیں جس کی آنکھ پر شیدا، سراب بند اترتی دھوتی کی چمک سے منور، وُسعتِ ریگستاں پر چاندنی کے نچھاور دودھیان خزانوں کا اسٹاک ، گودی میں کھیلتی کودتی اچھلتی ہزاروں ندیوں کا پرکیف سماں، ہر جنس و فصل کو اگل دینے والی ارض جاں، سمندر کے ساحل پر آباد جنت نشاں ، میرا ملک ہندوستاں ، جس کی عزت و عظمت شوکت و وقار کی بلندی کی مثال پوری دنیا دینے سے قاصر ہے

کیونکہ

مِیرِ عرب کو خوشبو آئی تھی جس جگہ سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

اسی لئے شاعر مشرق نباضِ قوم یوں لب کشا ہوئے

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بُلبلیں ہیں اس کی یہ گُلسِتاں ہمارا

کل بھی تھا اب بھی ہے کل بھی رہے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سونے کی چڑیا کو قفس میں بند کرنے کیلئے سیکڑوں صیّاد آئے کسی نے قوّتِ پرواز سلب کرنے کیلئے شہپر توڑے ، کسی نے اندھی بڑھیا بنانا چاہا تو اس چشمِ آہو سے کوہِ نور جیسے ہیرے چھینے یہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو اس کے پَیر توڑنے کی کوشش کی مگر پوچھو ”نباتات کے نمو“ سے کہ اے وطنِ عزیز تیرے ماتھے پر نصیبے کی بلندی اور تقدیر کی ارجمندی کی جو بِندیا چمک رہی ہے بتاؤ یہ چمک کس نے عطا کی؟ اور کون اس کی حفاظت کیلئے خونِ آشام بازاروں میں قتل ہوا؟ اپنے ملک کے نظم و نسق تعمیر و ترقی کی خاطر کِس کی چوڑیاں سہاگ کی چمک سے محروم ہوئیں؟ کس نے جوان بیٹوں کے خون سے ملک کی مانگ میں سندور بھرا؟ تو تاریخِ ہند جواب دیگی وہ مسلمانانِ وطن کی آرزوئیں تھیں جو لاشوں کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئیں کیونکہ وہ مسلمان تھے اور مسلمان ہونے کی وجہ سے پہلے اپنے ملک کی عزت و عظمت کے محافظ ہیں کیونکہ مسلمانوں میں مشہور ہے کہ مسلمانوں کی جان ، فخر پیغمبران، کا فرمان عالیشان ، حُبّ الوَطَن مِنَ الاِیمَان ہے۔

اسی وجہ سے ہم اس کے پاسبان ، اور آج بھی ہم اپنے ملک کی عِصمت اور اس کے وقار کی تعمیرات پر تخریب کاری کو ترجیح نہیں دے سکتے ملک کی ہر سرحد و سیما کی اور اسکے ہر آئین و دستور کی حفاظت کیلئے ہم خنداں پیشانی کے ساتھ دار و رسن کو قبول کریں گے۔ صلیب پر لٹکیں گے، گولیاں کھائیں گے، بمباری کو جھیلیں گے، توپوں کا مقابلہ کریں گے اس کی اخوّت و محبّت کی زرخیز فصلوں پر دہشت گردی اور فرقہ پرستی کی ٹِڈّیاں نہیں اترنے دیں گے !! سچ بتا اے وطن! اے مرے بہشتِ بریں جب جب تیری رگوں کے بہتے ہوئے لہو کی گردش پر فسادات کے بند باندھے گئے ، بند کو توڑنے کیلئے جوانوں کی ضرورت پڑی تو وہ کون جوان تھے جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر ان بندشوں سے آزاد کرایا؟ تیرے سرخ و گرم خون کے ہیموگلوبین پر تخریب کا عارضۂِ یرقان لاحق ہوا تو سچ بتا؟ صالح خون کا ایک ایک قطرہ تیری رگوں میں کس نے ڈالا؟ کس نے تیرے ماتھے کی بندیا کی حفاظت کی؟ اور کس نے تیرے سہاگ کی خاطر اپنی بیویوں کو بیوہ ہوتے دیکھا ؟ کون تیرے سندور کی محافظت کی خاطر گولیوں سے بھونا گیا؟ کس نے تیری محبتوں میں صلیب و دار کو چوما، اس سوال پر پورے مُلک کی حمیّت و غیرت اور احسان مندی مٹی کا ایک ایک ذرہ پکار اٹھتا ہے کہ آزادی کی آواز اٹھائی تھی تمہیں نے ، اور ریشمی تحریک چلائی تھی تمہیں نے ، میرے سرِ عصمت سے جب موالی چادرِ حیا چھین رہے تھے میری عصمت و عزت پر جب درندہ صفت لوگوں کے پنجے بڑھ رہے تھے ، جب میری تعمیرات پر تخریب کاروں کی سازشیں اثر انداز ہو رہی تھیں ، جب گوروں کے ظلم سے میرا بدن چھلنی ہونے لگا ، تو اس کی حفاظت کیلئے اور ظالموں کی سرکوبی کیلئے پہلے اگر کوئی میدان میں اترا ہے تو وہ قومِ مسلم ہے اس قوم میں بھی سب سے پہلے یعنی 1767 عیسوی میں سلسلہ عالیہ مداریہ کے فرزندوں نے ، ملنگوں نے ، فقیروں نے ، مریدوں نے ، ملک کی آزادی کا سنگِ بنیاد رکھا اور اُس آزادی کے مجاہدِ اول اور انگریزوں سے پہلی جنگ کے ہِیرو حضرت سیدّنا بابا مجنوں شاہ مداری ملنگ اوران کے خلفاء عیسیٰ شاہ ، موسیٰ شاہ ، چراغ علی شاہ وغیرہ تھے جنہوں نے سب سے پہلے آزادی کے قصرِ شاہی کی بنیاد رکھی اور مُلک آزاد کرانے کی جو شکل مرتّب کی ، اس میں بربادیوں کے قلم سے تباہیوں کے کاغذ پر، اجڑی اور ویران بستیوں کی میز پر، ظلم و بربریت کے اندھیرے میں آنکھوں کی روشنی نکال کر ، چہیتوں کے خون سے جو نقشہ بنایا گیا ، بس اسی نے میدانِ آزادی کے مجاہدوں کی راہ ہموار کر دی اور اس نقشہ پر چل کر سب نے منزلِ مقصود کو پالیا۔ اب جو پتھر دل تھے اور وطن کی آزادی انہیں اولاد سے زیادہ عزیز تھی تو انہوں نے آنکھوں کے سامنے بیٹوں کے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے ، لاشوں پر چیل کووؤں کو اُترتے دیکھا ، نازُک اجسام کو پامال ہوتے دیکھا، گولیوں کا استقبال کیا پھندوں کو چومتے ہوئے پیغام دیا کہ

اے وطن اے وطن ہم کو تیری قسم
تیری راہوں میں جاں تک لٹا جائیں گے
دل تو ہے چیز کیا تیرے قدموں پہ ہم
بھینٹ اپنے سروں کو چڑھا جائیں گے

اور چڑھا بھی دیئے مگر ملک کی غیرت و حمیّت کو داغدار نہ ہونے دیا کتنے طوفان لائے گئے ہوں گے ، کتنے کوہائے مصائب توڑے گئے ہوں گے، کتنی دولت سے تولنے کے وعدے ہوں گے مگر عزائم ایسے کہ تھکتے نہیں ، مضبوط اتنے کہ پھٹتے نہیں ، انمول اتنے کہ بِکتے نہیں بلکہ اس خاکِ وطن سے یوں مخاطب رہے۔

تیری اک مشت خاک کے بدلے
لوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے

ان کے جذبۂِ وفا اور جانثاری و فداکاری نے اِس ملک کے ہاتھوں سے غلامی کی زنجیروں ، اسیری کی بیڑیاں، کاٹ کر مُلک کو آزاد کرا دیا۔ ہم ان وفاداروں کی ہمّت کو سلام کرتے ہیں اور اپنے اسلاف کے نقوشِ پا کو رہبرِ منزل سمجھتے ہوئے اپنے وطن کی عزت و آبرو اور اس کی حفاظت کا حلف اٹھاتے ہیں اور بِلا تفریقِ رنگ و نسل ہم کسی سے بیر نہیں رکھتے کیونکہ

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بَیر رکھنا
ہِندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا

رب کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ یہ صرف کہنے سننے تک منحصر نہ ہو بلکہ

ہو مِرے دَم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جِس طرح پھول سے ہوتی ہے چَمن کی زینت

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment