غرائب احوال و عجائب اطوار از وے نقل می کنند گویند کہ وے در مقام صمدیت کہ از مقامات سالکان است بود تا دوازدہ سال طعام نخورد و لباسے کہ یک بار پوشیدہ بار دیگر احتیاج بہ تجدید غسل او نشدہ اکثر احوال برقع بر رو کشیدہ بودے؛
گویند ہر کہ را نظر بر جمال او افتادے؛ بے اختیار سجود کر دے سلسلہ او کبر سن یا جہتے دیگر بہ پنج و شش واسطہ بہ حضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم می پیوند ؛ و بعضے مداریاں بے واسطہ او را بہ حضرت منتسب دارند؛ و بعضے چیزہائے دیگر گویند کہ اصل ندارد واز دائرہ شریعت خارج است واللہ اعلم بالصواب
حضرت سیدنا شیخ سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ کے عجیب وغریب احوال و اطوار لوگ نقل کرتے ہیں کہتے ہیں کہ آپ مقام صمدیت میں تھے جو کہ سالکوں کے مقامات سے ہے
بارہ سال تک آپ نے کھانا نہیں کھایا اور جو لباس کہ آپ نے ایک بار پہنا اس کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہ ہوئی اکثر اوقات آپ کے چہرے پر نقاب رہتے تھے
کہتے ہیں کہ جو کوئی آپکے جمال پر نظر ڈالتا بے اختیار ہوکر سجدے کرتاتھا؛
حضرت بدیع الدین مدار کا سلسلہ پانچ اور چھ واسطوں سے حضرت رسالت پناہ ﷺ سے مل جاتا ہے
اور بعض مداری حضرات آپکا سلسلہ بغیر کسی واسطے کے رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں
اور بعض لوگ تو ایسی چیزوں کو کہتے ہیں کہ جس کی کوئی اصل نہیں ہے اور دائرہ شریعت سے خارج ہے
واللہ اعلم بالصواب
حضرت عبد الحق محدث دہلوی رقمطراز ہیں کہ حضرت سیدنا سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ مقام صمدیت پر فائض تھے کتاب کے مترجم ( سبحان محمود اور محمد فاضل) نے یہاں خیانت و بد دیانتی مدار پاک کے متعلق سے یہ کی کہ من گھڑنت لکھ ڈالا کہ مدار پاک رضی اللہ عنہ سمندر میں رہا کرتے تھے جو صوفیوں کا مقام ہے کچھ لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر کچھ علماء سوء جھوٹ بولتے اور لکھتے بھی ہیں
قائرین و ناظرین آپ پر مترجم کی خیانت و بد دیانتی روز روشن کی طرح عیاں ہے ان لوگوں نے عتاب الہی کو دعوت نہیں دی ؟ قطب المدار کے مقام و منصب کو چھپانے کی لا حاصل کوشش نہیں کی ؟؟
اس خیانت سے انکا قطب المدار سے قلبی عناد اور تعصب ظاہر ہے اور اس عناد و تعصب نے ان دونوں کو لعنت کے قعر عمیق میں ڈال دیا
لعنت اللہ علی الکاذبین
اور
من عاد لی ولیاً فقد اذنت بالحرب
حدیث قدسی ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی رکھی اس کو میرا کھلا اعلان جنگ ہے
یہ تو واضح ہے کہ ان مترجموں کو اپنے کئے کی سزا ضرور پانی ہوگی؛ اور قطب المدار رضی اللہ عنہ کی گستاخی اور قلبی عناد و تعصب نے دنیا و آخرت میں خوب ذلت و رسوائی کرائی
آپ بھی لعنت و ملام کر رہے ہونگے
مرتبہ صمدیت کیا
مختصر عرض ہے
حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
الصمد بمعنی السید المقصود الیہ فی الحوائج
وہ آقا جس کی طرف حوائج کے وقت قصد کیا جائے اور وہ خود بذاتہ مستغنی ہو؛ اور ما سوا تمام جملہ جہات سے اس کے محتاج ہوں؛ اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ عالم وجود میں اللہ تعالی کے سوا اور کوئی صمد نہیں الخ
(روح البیان پ ۳۰ ص ۶۲۲ مترجم شیخ التفسیر مولانا محمد فیض احمد اویسی )
صمدیت حوائج سے لاپرواہی اور بے نیازی کا مقام ہے اور ذات باری تعالی کی صفت ہے اور انسان کامل چونکہ خلیفۃ اللہ فی الارض ہے لہذا وہ
ان اللہ خلق ادم علی صورتہ کے سانچے میں ڈھل کر
و اتصفو بصفات اللہ و تخلقوا باخلاق اللہ
کے مطابق اوصاف و صفات خداوندی تبارک و تعالی کا مظہر اور
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا مصداق ہوا ہے
خداوند تبارک و تعالیٰ نے جس طرح اپنی صفات سمع ؛ بصر ؛ علم؛ حکمت؛ حیات وغیرہ کا پرتو (عکس جمیل) ڈال کر انسان کو سمیع و بصیر عالم اور حی وغیرہ بنایا ہے اسی طرح جس بندے کو صمدیت کے لائق بناتا ہے اس کو صمدیت کے پرتو سے منور فرما کر مقام صمدیت پر سرفرازی بخشتا ہے اور اصطلاح صوفیہ میں عبدالصمد کے لقب سے ملقب ہوتا ہے اس کی تعریف کرتے ہوئے حضرت علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں کہ عبدالصمد وہ ہے جو اسم صمدیت کا مظہر ہے جس کی طرف قصد کیا جاتا ہے دفع بلیات اور امداد الخیرات کے لیے اور اسے دفع عذاب اور ثواب کے لیے اللہ تعالی کے حضور میں شفیع بنایا جائے
اللہ تعالی جو ربوبیت کی نظر کرم عالم کی طرف فرماتا ہے اس کا مطمع نظر وہی عبدالصمد ہوتا ہے (روح البیان )
چونکہ اسم؛ صمد؛ کی خاصیت ؛ حصول الخیر و الصلاح ہے اس کے ورد کرنے والے پر صدق و صدیقیت کے اثار ظاہر ہوتے ہیں اور صاحب اللمعہ کے مطابق اس کا ورد کرنے والا جب تک اس کے ذکر سے سرشار رہے گا بھوک کا درد نہ دیکھے گا( روح البیان)
یہی وجہ ہے کہ سالک مقام صمدیت پر جلوہ گر ہو کر بھوک پیاس نیند وغیرہ خواہشات بشری سے بے نیاز ہو جاتا ہے اس مقام رفیع کے بارے میں حضرت قدوت الکبری مخدوم العالم میر سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی کچھوچھوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سالکین میں سے بعض کے ساتھ (ایسا) ہوتا ہے کہ وہ اول اخر سلوک میں تجلی صمدیت سے مشرف کیے جاتے ہیں اور یہ مقام سالک کی ہلاکت کا مقام ہے (اگر وہ مغرور ہو جائے اور خود کوخدا کی طرح سمجھنے لگے) یہاں تک کہ مرشد کامل کو چاہیے کہ سالک کو اس ورطہ غلط سے باہر نکالے (اس مقام میں ایک سالک کے ورطہ غلط میں پڑجانے پر مرشد کا اس مرید سالک کو ورطہ غلط سے باہر نکالنا بیان کر کے)
فرماتے ہیں حق یہ ہے کہ مقام بہت اونچا تھا اس کے بعد بھی دیگر چند مرتبہ تجلی؛ صمدیت؛ سے متجلی ہوا اور یہ مقام ہے بہت اونچا؛ اس مقام میں کھانے پینے کی حاجت سالک کو نہیں رہتی
خداوند قدوس نے اپنے محبوب مقبول قاسم نعمات صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے حضور سید بدیع الدین احمد مدار العالمین رضی اللہ تعالی عنہ کو اس مقام رفیع سے سرفراز فرمایا
جیسا کہ آپ حضرت عبد الحق محدث دہلوی کی صریح عبارت گویند در مقام صمدیت کہ از مقامات سالکاں است بود
حضرت سیدنا سید احمد بدیع الدین مدار العالمین مقام صمدیت پر فائض تھے جو سالکوں کے مقامات میں سے ہے
اور حضرت مولانا شیخ عبدالرزاق بانسوی نے سرکار مدار پاک کی بارگاہ میں جو منظوم عریضہ پیش کیا اس میں مدار العالمین رضی اللہ عنہ کی صمدیت کا قصیدہ پڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ
صمدیت از مرتبت حاصل شدہ نور یقیں
کن کرم بہر خدا سید بدیع الدیں مدار
نور یقین سے عرض کر رہا ہوں کہ مراتب ولایت میں سے مرتبہ صمدیت آپ کو حاصل ہوا؛ اللہ تعالی کے واسطے کرم فرمائیے سید بدیع الدین مدار
یہ عبارت کہ بارہ سال تک آپ نے کھانا نہیں کھایا
اس سے مراد حضرت سید اشرف جہاں گیر کا بارہ سال کا عینی مشاہدہ ہے غوث العالم حضرت اشرف جہاں گیر بارہ سال کے عرصہ دراز تک حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار مدار العالمین کی معیت بابرکت میں رہے مدار پاک کے شب و روز کو دیکھا عبادت و ریاضت کو دیکھا علوم نادرہ کیمیا و ہیمیا ریمیا و سیمیا کا معائینہ کیا اس مدت مدید میں کبھی بھی مدار پاک کو کھاتے اور نہ پیتے دیکھا حضرت سید اشرف جہاں گیر کا یہ عینی مشاہدہ ہے
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس بارہ تک کھایا پیا نہیں
یہ روایت حضرت عبد الحق محدث دہلوی کو پہونچی آپ نے اخبار الاخیار میں نقل فرمادی
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مدار العالمین سید احمد بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ چالیس سال کی عمر شریف تک خورد و نوش فرماتے تھے چونکہ آپ مرتبہ ربانی اور پھر مقام صمدانی پر بھی فائض رہے (رسالہ قشریہ میں ہے ربانی لوگ چالیس دنوں میں اور صمدانی لوگ اسی دنوں میں کھانا نہیں کھاتے ہیں ص ۳۳۶ اسلامک پبلیشر)
چالیس دن میں ایک دفعہ چند خرمہ یا دیگر اشیاء خورد و نوش تناول فرماتے تھے
پھر چالیس کی عمر مبارک سے لیکر تا دم حیات ۵۹۶ سال کے طویل عرصہ تک سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ لباس تبدیل کرنے کی حاجت ہوئی
حضرت شیخ زاہد رضی اللہ عنہ نے مدار پاک سے عرض کیا کہ آپ کھاتے نہیں پیتے نہیں اور آپ کے جسم پر مکھی نہیں اور چہرہ کو نقاب سے مستور و پوشیدہ رکھتے ہیں ہمارا مسلک تو یہ ہے کہ کرامت کو چھپائیں اور آپ کرامت کا اظہار فرماتے ہیں۔
حضور مدار العالمین رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے جس کا اظہارضروری ہے یہ تحدیث نعمت ہے اور کتمان نعمت کفر ہے۔
تو ہے عکس آئینہ صمد تو صفات باری کا نور ہے
تیرے مرتبہ کو سمجھ سکے یہ کہاں کسی میں شعور ہے
( مصباح حرم مدار)
حضرت عبد الحق کی یہ عبارت کہ
اکثر احوال برقع بر رو کشیدہ بودے گویند ہر کہ را بر جمال او نظر افتادے بے اختیار سجود کردے
اکثر حالتوں میں آپ روئے انور پر نقاب ڈالے رہتے تھے کہتے ہیں کہ جو شخص آپکے روئے تاباں پر نظر ڈالتا تھا بےاختیاری میں سجدے کرتا تھا
اس جملے سے حضرت عبد الحق نے مدار العالمین رضی اللہ علیہ کے تجلی پیکر روئے انور کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مدار پاک رضی اللہ عنہ کا چہرہ ایسا روشن و تابندہ تھا دیکھنے والا بے اختیار ہوجاتا تھا یہ عطا و نوازش اور کرم قاسم نعمات رسول اللہ ﷺ کی ہے
کیونکہ مدار پاک کے چہرے کو تاباں و درخشاں رسول اللہﷺ نے بنایا ہے روایت ہے کہ سنہ ھ ۲۸۲ میں جب مدار پاک رضی اللہ عنہ پہلی مرتبہ گھمبات گجرات میں وارد ہوئے سمندری سفر طے فرمانے کی وجہ سے کھاری پانی سے لباس بوسیدہ ہو چکا تھا بھوک سے نڈھال تھے ساحل پر پہونچتے ہی نماز شکرانہ ادا فرما کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ملتجی ہوئے
الٰہی مرا گرسنگی نہ شود لباس من کہنہ نہ گردد
حضرت سید بدیع الدین قطب المدار دعا سے فارغ ہوئے تو حضرت خضر علیہ السلام آئے اور اپنے ساتھ ایک مقام پر لے گئے جہاں رسول اکرم ﷺ جلوہ بار تھے قاسم نعمت ﷺ نے طعام ملکوتی اپنے دست اقدس سے کھلایا اور لباس بہشتی پہنا کر اپنا نوری دست اقدس آپ کے چہرے پر پھیر کر فرمایا کہ بدیع الدین تمہیں کھانے کا احتیاج نہ ہوگا اور لباس میلا نہ ہوگا اور چہرہ ایسا روشن ہوا کہ کسی کو دیکھنے کی مجال نہ تھی جو بے نقاب آپ کو دیکھتا بیہوش اور خود رفتہ ہوجاتا
تاب کس کو جو دیکھے تیرا رخ
کون سورج سے آنکھیں ملائے
کوئ اعجاز دیکھے نور والے کی ہتھیلی کا
منور کس قدر چہرہ مدار العالمیں کا ہے
یہ دست رسالت کا معجزہ و کمال تھا کہ مدار پاک رضی اللہ عنہ کا روئے انور تجلی پیکر بن گیا
اب اعتراض جس کو کرنا ہے پہلے غور و فکر کرلے بارگاہ رسالت سے یہ عطا و نوازشات اور انعامات مدار العالمین سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ کو ملے ہیں
مترجم کی خیانت اور تحریف پر نظر کیجیئے
"ایک بار جس کپڑے کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے”
جبکہ عبد الحق محدث دہلوی نے فارسی میں صاف صاف فرمایا ہے کہ جو لباس ایک بار پہنا اس کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہ ہوئی یہاں مدار پاک کی کرامت بیان کر رہے کہ قطب المدار رضی اللہ عنہ کا لباس و پیراہن پراگندہ نہیں ہوتا ہے یہ وصف و خوبی اور کمال مدار پاک کے پیراہن میں تھا میلا نہ ہوتا تھا جب میلا نہ ہوتا تھا اس کو تجدید غسل یعنی دھونے کی بھی حاجت و ضرورت نہیں تھی۔
مترجم نے عداوت و عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبارت میں تحریف کر ڈالی ترجمہ کیا کہ ایک بار جس لباس کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے عبد الحق محدث کی فارسی عبارت میں اور ترجمہ میں زمین و آسمان کر فرق ہے
آگے دیکھئے
اکثر کپڑے سے چہرہ ڈھاپے رہتے تھے آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑجاتی وہ بے اختیار ہوکر آپ کی غایت درجہ تعظیم و تکریم کرتا فارسی عبارت ہے:
اکثر احوال برقع بر رو کشیدہ بودے گویند ہر کہ را نظر بر جمال او افتادے بے اختیار سجود کردے
کہ اکثر احوال یعنی زیادہ وقت مدار پاک اپنے چہرہ پر نقاب رکھتے تھے کہتے ہیں جو شخص آپ کے جمال پر نظر ڈالتا ( آپ کے جمال نور کی وجہ سے) بے اختیار ہوجاتا سجدہ میں گرجاتا
مترجم نے ترجمہ کیا اکثر کپڑ ے سے چہرہ ڈھاپے رہتے تھے
کپڑے عام لفظ ہے اور لفظ برقع خاص ہے جیسی فارسی عبارت ہے ویسا ترجمہ نہیں ہے مترجم نے ترجمہ میں خوب ڈنڈی ماری ہےمن چاہا لکھا ہے
مزید دیکھئے
آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑجاتی وہ بے اختیار ہو کر آپ کی تعظیم و تکریم کرتا
جب کہ محدث فرما رہے ہیں ہر کہ را نظر بر جمال او افتادے بے اختیار سجود کردے
جو شخص آپ کے جمال پر نظر ڈالتا بے اختیار ہو کر سجدے کرتا
یہاں بھی مترجم نے ترجمہ میں ہیرا پھیری کی عبد الحق محدث دہلوی قطب المدار کے چہرہ کے جمال و نورانیت اور رونق کا تذکرہ کر کے پیغام دے رہے ہیں کہ قطب المدار کا جمال و نور ایسا تھا کہ جو بھی مشاہدہ معائنہ کرتا وہ آپکے چہرہ میں تجلی ربانی کا ظہور دیکھتا اس تجلی نور کی تاب و طاقت نہ لاکر سجدہ میں گرجاتا تھا
پھر مترجم نے محدث دہلوی کی فارسی عبارت کا ترجمہ من چاہا کیا ہے اور معنی و مفہوم بدل دیا یہ مترجم کی بد دیانتی اور خیانت اور کتاب میں تحریف ہے جو کسی طرح جائز نہیں ہے
حضرت عبد الحق محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں کہ
سلسلہ او سبب کبر سنی یا بجہتے دیگر بہ پنچ و شش واسطہ بہ حضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم می پیوند و بعضے مداریان بے واسطہ او را بہ حضرت منتسب دارند
یعنی حضرت بدیع الدین مدار کا سلسلہ طویل العمری ( لمبی عمر) کے سبب یا کسی اور وجہ سے پانچ اور چھ واسطوں سے حضرت رسالت پناہ ﷺ سے مل جاتا ہے اور بعض مداری حضرات بغیر کسی واسطہ کے آپ کا سلسلہ حضور ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں
حضرت عبد الحق محدث دہلوی نے سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ کے سلسلہ کی عظمت و بزرگی بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے حضرت شیخ بدیع الدین مدار کا سلسلہ آپ کی عمر طویل ہونے کے سبب سے یا کسی دوسری وجہ سے صرف پانچ اور چھ واسطوں سے بارگاہ رسالت تک پہونچ جاتا ہے یہ شرف و بزرگی اور انفرادیت و خصوصیت اور فضیلت سلسلہ مداریہ میں ہے کہ صرف چند واسطوں کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک رسائی ہو جاتی ہے
جبکہ دوسرے سلاسل میں واسطوں کی خوب کثرت ہے یہ صرف اور صرف سلسلہ مداریہ کا وصف ہے کہ اس کے وسائط و وسائل قلیل القلیل ہیں
جیسے سلسلہ قادری میں حضرت عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان سترہ واسطے ہیں
سلسلہ چشتیہ میں حضرت معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان اٹھارہ واسطے ہیں
اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رضی اللہ عنہ اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان نو واسطے ہیں
اور سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت بہاء الدین نقشبندی رضی اللہ عنہ اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان دس واسطے ہیں
ان سلاسل حقہ قادریہ؛ چشتیہ؛ سہروردیہ؛ نقشبندیہ؛ کے علاوہ بقیہ سلسلے جو بعد میں معرض وجود میں آئے اکثر ان ہی سلسلوں سے جاری ہوئے (سلسلہ مداریہ کے سوا ) مثلا سلسلہ اشرفیہ؛ صابریہ؛ نظامیہ؛ وغیرہ اگر ان سلسلوں کے مشائخ کا شمار کریں تو اور مشائخ کے ناموں کا اضافہ ہوگا اور واسطے مزید بڑھ جائیں گے
مگر سلسلہ مداریہ ( زادھا اللہ شرفا و تعظیما ) کی انفرادیت و خصوصیت یہ ہے کہ صرف پانچ اور چھ واسطوں کے ذریعے بارگاہ رسالت میں رسائی حاصل ہو جاتی ہے
اسی طرح شیخ غوثی شطاری مندوی اپنی کتاب گلزار ابرار میں تحریر فرماتے ہیں:
شیخ بدیع الدین مدار مرید شیخ محمد طیفور شامی است او مرید بامراد شیخ یمین الدین شامی کہ خلیفہ امام علم دار است؛ ایں سلسلہ قلت وسائل از روئے عدد اقرب سلاسل است (گلزار ابرار ص ۶۵ مطبوعہ خدا بخش لائبریری پٹنہ)
ترجمہ شیخ بدیع الدین مدار شیخ محمد طیفور شامی کے مرید؛ اور شیخ طیفور شامی شیخ یمین الدین شامی کے مرید ہیں؛ جو امام علم دار کے خاص خلیفہ ہیں یہ سلسلہ واسطے کم ہونے کی وجہ سے از روئے عدد سب سلاسل میں حضور ﷺ سے قریب تر ہے
اور حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب جواہر خمسہ میں سلسلہ مداریہ کا ایک عمل تحریر کرکے :لکھتے ہیں
ھذا عمل شاہ مدار و ھو الشیخ بدیع الدین الطیفوری و ھو شیخ المداریین طریقتہ منا الی النبی ﷺ اقرب الطرق
ترجمہ یہ حضرت شاہ مدار شیخ بدیع الدین طیفوری کا عمل ہے جو مداریوں کے پیر و مرشد ہیں یہ طریقہ نبی کریم ﷺ سے قریب تر ہے
حضرت شیخ صادق دہلوی کشمیری اپنی کتاب طبقات شاہجہانی میں لکھتے ہیں:
وے سلسلہ بجہتِ وسائط اقرب سلاسل در کشف و اشراق بر دلہا و ادراک معانی بغایت مرتبہ اعلیٰ دارد
ترجمہ دیگر سلسلوں کی بنسبت آپ کا سلسلہ بہت کم واسطوں سے دلوں پر کشف و تجلی اور ادراک معانی کرنے میں بہت بلند مرتبہ رکھتا ہے
سلاسل طریقت میں سلسلہ مداریہ کو قلت وسائط کی ممتاز شان حاصل ہے دوسرے سلسلوں کی بنسبت حضرت رسالت مآب ﷺ سے قریب تر ہے
لہذا ذیل میں سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ کے چند موثوق بہ شجرات طریقت مرقوم کئے جاتے ہیں
شجرہ مداریہ بصریہ
حضرت شیخ الوقت بدیع الدین مدار ، حضرت بایزید بسطامی ، حضرت خواجہ حبیب عجمی ، حضرت خواجہ حسن بصری ، سیدنا امیر المومنین علی بن ابو طالب کرم اللہ وجھہ الکریم ، حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ( تذکرہ مشائخ مداریہ ۲۶۶)
شجرہ مداریہ شامیہ
حضرت بدیع الدین قطب المدار مکن پوری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت شیخ عبد اللہ شامی ، حضرت عبد الاول ، حضرت امین الدین شامی ، حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ ، سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
شجرہ مداریہ طیفوریہ
حضرت شیخ بدیع الدین مدار، حضرت شیخ بایزید بسطامی معروف طیفور شامی ، حضرت شیخ عین الدین شامی ، حضرت شیخ یمین الدین شامی ، حضرت عبداللہ علم بردار ، خلیفہ اول حضرت شیخ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تذکرہ مشائخ مداریہ ایضا)
شجرہ مداریہ طیفوریہ جعفریہ
حضرت شیخ بدیع الدین قطب المدار مکن پوری ، حضرت بایزید بسطامی ، حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام محمد باقر ، حضرت امام زین العابدین علی اوسط ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم ، حضرت امام الانبیاء رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم
یہ وہ سلاسل مبارکہ و مقدسہ ہیں جو حضرت سیدنا سید بدیع الدین احمد مدار العالمین رضی اللہ عنہ کو ظاہری طور پر حاصل ہوئے جن سلسلوں میں چار؛ پانچ َ اور چھ؛ واسطے ہیں
حضرت عبد الحق محدث دہلوی نے حضور مدار پاک کے واسطوں کا ذکر فرمایا مگر شجرات طیبہ و مبارکہ کو اختصار کی وجہ سے نقل نہیں فرمایا
اور آگے فرمایا کہ بعض مداری حضرات حضرت بدیع الدین مدار رضی اللہ عنہ کا سلسلہ بلا واسطہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو مداری حضرات مدار پاک رضی اللہ عنہ کو بلا واسطہ منسوب کرتے ہیں ان مداریوں میں غوث العام حضرت سید اشرف جہانگیر رضی اللہ عنہ کی ذات قدسیہ سر فہرست ہے
حضرت عبد الحق محدث دہلوی اسی اپنی کتاب اخبار الاخیار میں حضرت سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ النورانی کے تعلق سے فرماتے ہیں:
لوگ آپ کو سید اشرف جہاں گیر کہا کرتے تھے؛ آپ صاحب کرامات و تصرف اور بڑے کامل ولی اللہ تھے؛ آپ سید علی ہمدانی کے رفیق سفر رہے تھے؛ بالآخر ہندوستان آکر شیخ علاء الدین کے مرید ہوئے؛ مرید ہونے سے قبل ہی آپ کشف وکرامت کے مقامات عالیہ حاصل کر چکے تھے اور حقائق اور توحید میں بڑی بلند باتیں بیان فرمایا کرتے تھے( ص۳۵۴ اخبار الاخیار)
اور لطائف اشرفی میں ہے کہ حضرت اشرف جہانگیر دمشق سے مکہ معظمہ تشریف لائے یہاں مشہور بزرگ عبد اللہ یافعی سے ملاقات حاصل کیا؛ اور یہیں آپ کی ملاقات حضرت سید علی ہمدانی حضرت بدیع الدین مدار سے ہوئی ( ص ۱۰ لطائف اشرفی)
نواح روم میں کئی سال قیام کے بعد حضرت نے طواف کعبہ کا عزم کیا شیخ بدیع الدین بندر روم تک ہمسفر تھے انہوں نے اپنا خرقہ محبت حضرت کو پہنایا روتے ہوئے ہندوستان کی طرف رخصت ہوئے( ص ۷۸ لطائف اشرفی مخدوم اشرف اکیڈمی) ان عبارات کی رو سے معلوم ہوا کہ حضرت سید بدیع الدین مدار؛ حضرت سید علی ہمدانی ؛ اور حضرت سید اشرف جہانگیر رضی اللہ عنھم طویل عرصہ تک ایک دوسرے کی صحبت و معیت میں رہے اور ایک ساتھ حج بیت اللہ بھی ادا کیا ؛ اور حضرت سید احمد بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ نے بوقت رخصت حضرت سید اشرف جہانگیر کو خرقہ محبت پہنا کر سلسلہ مداریہ کی اجازت و خلافت بھی عطا فرمائی
اس اجازت و خلافت کا تذکرہ لطائف اشرفی میں ایک جگہ اور بالتفصیل موجود ہے حضرت اشرف سمنانی فرماتے ہیں:
اکثر اکابر روز گار و مآثر نامدار لباس خرقہ پنچ گفتہ اند اول خرقہ ارادت روز بیعت شیخ مرید را بدہد و تلقین توبہ کند و خرقہ صلاح و نقاوت در آرد ، دوم خرقہ محبت است کہ پیر بعد ارادت مرید را جامہ یا خرقہ بدہد یا دو درویش در یکدیگر بطریق رفاقت مدتے بسر بردہ باشند چوں از ہم دیگر فرقت واقع شود یک مر دیگرے را خرقہ محبت بدہد چنانچہ شیخ بدیع الدین الملقب بہ شاہ مدار قدس سرہ العزیز بہ قدوۃ الکبریٰ ایام کثیرہ اعوام کبیرہ ہم دیگر رفیق سفر می سیروند و سبیل خضر بیک دیگر بسر می برند ، چوں ازو در بندر روم حضرت مدار بسوئے اودھ صانھا اللہ عن البلیات عود نمودند بحضرت ایشاں خرقہ محبت الباس کردند و در وقت فرقت ہم دیگر رقت بسیار کردند(ص ۳۸۳ لطائف اشرفی)
اکابر روزگار اور مآثر نامدار نے اکثر لباس اور خرقہ کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں
اول خرقہ وہ ہے جو پیر بیعت کے دن مرید کو عطا کرے اور تلقین توبہ کرے ،اور خرقہ صلاح و تقویٰ اسی میں شمار
ہوتا ہے
دوسرا خرقہ محبت ہے جو پیر مرید کی ارادت کے بعد خرقہ یا کپڑا دیتا ہے
یا دو درویش کی ایک مدت سفر میں رفاقت و معیت رہتی ہے ،اور جب آپس میں رخصت ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو خرقہ محبت دیتے ہیں،
جیسے کہ شیخ بدیع الدین المعروف بہ شاہ مدار قدس سرہ العزیز قدوۃ الکبریٰ اشرف سمنانی کے ساتھ بہت دن اور کئی سال ایک دوسرے کے رفیق سفر رہ کر سیر فرماتے رہے اور سفر و حضر ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رہے
جب بندرگاہ روم سے حضرتِ مدار (خطہ )اودھ صانھا اللہ عن البلیات کی طرف لوٹے حضرت کو حضرت بدیع الدین شاہ مدار نے خرقہ محبت پہنایا اور بوقت فرقت( اختتام سفر پر) ایک دوسرے پر بہت رقت طاری ہوئی
ان حوالوں کی روشنی سے اس بات کی مکمل صراحت و وضاحت ہو گئی کہ سلطان التارکین غوث العالم حضرت اشرف جہانگیر رضی اللہ عنہ بھی خرقہ مداری ملبوس کئے ہوئے ہیں آپ بھی سید السادات فرد الافراد قطب الارشاد حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار مدار العالمین رضی اللہ عنہ کو بلا واسطہ و وسیلہ آپ کا سلسلہ سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں
اور سبب و وجہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ
*شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ گفتہ اند کہ قومے از اولیاء اللہ عز و جل باشند ایشاں را مشائخ طریقت و کبرائے حقیقت اویساں نامند ایشاں را در ظاہر بہ پیرے احتیاج نہ بود؛ ایشاں را حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم در حجرہ عنایت خود پرورش می دہند؛ بے واسطہ غیرے چناں اویس را دادہ؛ ایں عظیم مقامے بود؛ و روشن عالی تر کرا اینجا رسانند؛ وایں دولت بکہ رونماید بموجب آیت کریمہ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء و اللہ ذوالفضل العظیم (لطائف اشرفی)
شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اللہ عز و جل کے ولیوں میں سے کچھ حضرات وہ ہیں جنہیں بزرگان دین و مشائخ طریقت : اویسی : کہتے ہیں ان حضرات کو ظاہر میں کسی پیر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ عنایت میں بذات خود ان کی تربیت اور پرورش فرماتے ہیں؛ اس میں کسی غیر کا واسطہ نہیں ہوتا جیسے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو تربیت دی تھی یہ مقام اویست نہایت ہی بلند ؛ روشن عظیم مقام ہے کس کی اس مقام عالی تک رسائی ہوتی ہے اور یہ دولت اویسیت کسے میسر آتی ہے بموجب آیت کریمہ ہے وہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے
حضرت فرید الدین عطار قدس سرہ العزیز کے اس فرمان سے معلوم ہوا اولیاء اللہ کرام رضی اللہ عنہم میں کچھ ایسے مخصوص اور اخص الخواص اولیاء ہیں جنکو یہ دولت عظمی و نسبت کبریٰ حاصل ہے کہ ان اولیاء کرام کا سلسلہ بلا واسطہ و وسیلہ قاسم نعمات ؛ فخر موجودات؛ احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے اور ان اخص الخواص اولیاء کرام میں سرکار سرکاراں؛ قطب دو جہاں؛ سیدالاولیاء؛ وارث الانبیاء حضرت سید بدیع الدین احمد مدار العالمین رضی اللہ عنہ بھی ہیں
اس بات کی تائید و توثیق کیلئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے اسکی بھی تائید و توثیق بارگاہ مخدوم سمنانی سے ہوتی ہے
آپ فرماتے ہیں حضرت شیخ بدیع الدین الملقب بہ شاہ مدار ایشاں نیز اویسی بودہ اند؛ و بسے مشرب عالی داشتند و بعضے علوم نوادر از ہیمیا، و کیمیا، و ریمیا، از ایشاں معائنہ شد کہ نادر ازیں طائفہ کسے را باشد (لطائف اشرفی ۳۵۴)
حضرت شیخ بدیع الدین المعروف بہ شاہ مدار قدس سرہ العالی بھی اویسی ہوئے ہیں نہایت ہی بلند مرتبہ اور شرف والے ہیں بعض نادر علوم جیسے ہیمیا؛ کیمیا؛ ریمیا؛ ان سے مشاہدہ میں آئے ہیں جو اس گروہ اولیاء میں نادر ہی کسی کو حاصل ہوتے ہیں
سلسلہ مداریہ کے گروہ طالبان کے سرخیل و بانی اور قطب المدار کے عظیم خلیفہ حضرت سیدنا سید محمود الدین کنتوری رضی اللہ عنہ نے بارگاہ مداریت میں عرض کیا کہ حضور والا مرتبت آپ اپنا شجرہ لکھوا دیں ؛ سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ نے اپنی زبان فیض ترجمان سے فرمایا
اکتب اسمک ثم اسمی ثم اسم رسول الله
اپنا نام پھر میرا نام پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی تحریر کرلو
حضرت سیدنا عبد العزیز شعری رضی اللہ عنہ کو بھی بارگاہ مداریت سے خلعت خلافت عطا ہوئی ہے اور آپ بھی سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ کے نامور و مشہور خلیفہ ہیں
تذکرتہ المتقین فی احوال خلفاء سید بدیع الدین میں ہے
کہ حضرت عبد العزیز شعری فرماتے ہیں کہ
من شبے بر تربت حضرت نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ معتکف بودم؛ و بدرود خوانی مشغول شدم دراں حال بزرگ ظاہر گشت؛ و از ما فرمود کہ بیداری شب و حاضری چگونہ است؛ گفتم ایصال ثواب و از اہل قبر از روئے دارم کہ فیض روحانی حاصل کنم ؛ فرمود نصیبت از قطب المدار اویسی است خدمتش رفتہ بکام خود فائز شو؛ از اوشاں عرض نمودم کہ کدامے بزرگ اند و ازمقامش مطلع نیم چگونہ بخدمتش خواہم رسید گفت ولی است مشہور در سواد اعظم جہاں و معروف در زماں قدم بوسیش در بلخ حاصل خواہد شد
ترجمہ
میں ایک رات حضرت نجم الدین کبریٰ رضی اللہ عنہ کے مزار مقدس پر معتکف تھا اور درود خوانی میں مشغول ہوا اور اسی رات ایک بزرگ ظاہر ہوئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ شب داری اور مزار پر حاضری کیسی ہے میں نے عرض کیا کہ صاحب قبر کو ایصال ثواب کروں اس امید کے ساتھ کہ اہل مزار سے فیض روحانی حاصل ہوگا بزرگ فرماتے ہیں کہ تیرا نصیب قطب المدار کے یہاں ہے جو اویسی المشرب ہیں؛ ان کی خدمت میں جاؤ اور اپنے مقصد کو حاصل کرو میں نے ان بزرگ سے عرض کیا قطب المدار کون بزرگ ہیں؟ اور انکے مقام سے واقف نہیں ہوں۔
بزرگ نے فرمایا کہ وہ ولی کامل ہیں جو سواد اعظم میں مشہور اور زمانے میں معروف ہیں انکی قدم بوسی شہر بلخ میں حاصل ہوگی انکے فیض عام سے خود کو مشرف کرو،
حضرت شیخ عین الدین رضی اللہ عنہ حضرت شیخ زاہد سجستانی رضی اللہ عنہ سے شرف ارادت اور اجازت و خلافت کا افتخار رکھتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مرشد کامل سے پیران طریقت کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا محمد مدار زاہد
پھر فرمایا کہ ہادی ما اویسی مشرب بودہ است از باطن رسالت پناہی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تربیت یافتہ بظاہر احتیاج پیرے نداشت ( ص ۵۳ تذکرتہ المتقین)
ہمارے پیر و مرشد اویسی المشرب ہوئے ہیں اور رسالت مآب صلی الله عليه وآله وسلم کے باطن سے تربیت پائی ہے ظاہر میں کسی پیر کے محتاج نہیں ہیں
حضرت قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے بھی اویسیت کے تعلق سے بارگاہ حضور مدار العالمین میں سوال کیا تھا کہ سنا ہے حضرت کو حسب ظاہر سید المرسلین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی صحبت و معیت حاصل ہے ( رسول اکرم ﷺ کی صحبت و معیت) کیوں کر میسر ہوئی
سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ کی اویسیت کا شہرہ اور چرچہ تھا خواص و عوام الناس قطب المدار کی اویسیت سے واقف تھے اس امر عجیب و غریب کہ قطب المدار کو ظاہر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت و دیدارسرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ کی اویسیت کا شہرہ اور چرچہ تھا خواص و عوام الناس قطب المدار کی اویسیت سے ہوتا تھا اور حضرت قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے اس بارے میں استفسار بھی کیا تھا اور سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ نے قاضی شہاب الدین دولت آبادی کے سوالوں کے جوابات بھی عطا فرمائے تھے یہاں نقل کریں گے تو مضمون اور طویل ہو جائے گا۔
اگر کسی کو تلاش و جستجو ہے کتب مداریہ کو پڑھکر اپنی تشنگی مٹا سکتا ہے۔
جاروب کش بارگاہ مدار
سید اشفاق علی جعفری مداری مکن پوری











