حضرت سید شاہ کرم اللہ رضی اللہ عنہ ترک و تجرید میں یگانہ اور زہد و ورع میں اپنے زمانے کے بے مثال تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت خواجہ ابو محمد، محمد ارغون رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے، جو خود بڑے جلیل القدر صوفی بزرگ تھے ، اور حضور سرکار بدیع الدین رضی اللہ عنہ کے جانشین اول تھے۔
آپ کی شخصیت عبادت، ریاضت اور اخلاص کا ایسا نمونہ تھی کہ اہلِ زمانہ آپ کو روحانیت کے بلند مقام پر دیکھتے تھے۔
آپ کے معمولاتِ زندگی نہایت قابلِ رشک تھے۔ خاص طور پر آپ ہر ہفتے ایک مرتبہ قرآنِ مجید کا ختم فرمایا کرتے تھے۔ تلاوت کے دوران جب بھی آیاتِ ترہیب (عذابِ الٰہی کے بیان والی آیات) آتیں تو آپ پر خشیتِ الٰہی کا ایسا غلبہ طاری ہوتا کہ آپ زار و قطار رونے لگتے اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا۔ یہ کیفیت اس بات کی دلیل تھی کہ آپ کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور محبت سے لبریز تھا۔
ایک واقعہ آپ کی روحانی تاثیر کو واضح کرتا ہے۔ ایک دن آپ تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے کہ ایک شخص شراب کے نشے میں بدمست ہو کر وہاں سے گزرا۔ وہ کچھ دیر تک آپ کو دیکھتا رہا۔ اچانک جب اس کی نظر آپ پر پڑی تو آپ کی ہیبت اور روحانی جلال نے اس پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ کانپنے لگا اور فوراً اس کا نشہ جاتا رہا۔ اسی لمحے اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور اس نے سچے دل سے توبہ کر لی۔
یہ توبہ محض وقتی نہ تھی بلکہ اس کی پوری زندگی بدل گئی۔ وہ شخص اس کے بعد نماز اور روزے کا ایسا پابند ہوا کہ اپنی پوری زندگی میں نہ کبھی نماز ترک کی اور نہ ہی کسی رمضان کا روزہ چھوڑا۔ یہ واقعہ آپ کی روحانی قوت اور اصلاحِ باطن کی روشن مثال ہے۔
آپ کی وفات 27 ذیقعدہ 1196 ہجری کو ہوئی۔ آپ کا مزار مکن پور میں واقع ہے، جو آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے مرکزِ فیض ہے جہاں لوگ حاضری دے کر روحانی برکات حاصل کرتے ہیں۔
آپ کی وفات پر ایک قطعۂ تاریخ بھی کہا گیا جس میں آپ کے اخلاق و کردار کی تعریف اور تاریخِ وفات کی طرف اشارہ موجود ہے:
قطعۂ تاریخ وفات
اکرم الخلق شاہ کرم اللہ
کہ باخلاق اوست خلق گواہ
بست و ہفتم بماہ ذیقعدہ
ماند پاسے زلیل دوشنبہ
سن ہزار و صد و نو دشسن نہ بود
کہ ازیں دار رو بخلد نمود
ماخوذ: کتاب سیر المدار، مصنف ظہیر احمد سہسوانی ، صفحہ 120۔









