مجاہِدِ اعظمِ ہِند ، حضرت سالار مسعود غازی رَضِیَ اللّٰہُ تعالیٰ عنہُ کی وِلادت انگریزی کیلنڈر کے مطابق 10 فروری سن 1014 عِیسوی کو اجمیر شریف میں ہوئی۔
آپ کے والد کا نام سیّد ساہو سالار غازی اور آپ کی والدہ کا نام سَترِے معلّیٰ ہے۔ والد کی جانب سے آپ علوی سادات ہیں ، یعنی خاندانِ بنی ہاشم کے فرزند ہیں۔
حضرت سالار مسعود غازی حضور سیّدنا شیخ بدِیعُ الدِّین زندہ شاہ مدار کے مُرید و خلیفہ بھی ہیں اور کُتُبِ تاریخ کے مُطابق آپ حضور مدارِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ عنہُ دعا سے ہی پیدا بھی ہوئے تھے۔
حضرت سالار مسعود غازی کی ولادت سے پہلے بہت ساری شخصیات نے آپ کی آمد کی بشارت آپ کے والدِ گرامی حضرت ساہو سالار غازی کو سنائی تھی۔ جب حضرت ساہو سالار غازی اجمیر میں مظفر خان کی مدد کرنے کو آئے ، تو حضرت سیّدنا قُطبُ المدار رضی اللہ عنہ سے بھی آپ کی ملاقات ہوئی ، حضور مدارِ پاک نے ساہو سالار کو مسعود سالار نامی ایک فرزند کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔
چنانچہ مراتِ مسعودی میں لکھا ہے ، اپنی اسکرین پر دیکھئیے:

”ایک شخص نے مصاحبانِ سالار ساہو میں سے آکر عرض کی، کہ پہاڑ پر درخت کے نیچے ایک فقیر خدا ترس بیٹھا ہوا ہے، وہ آپ کے حالات بصد خلوص پوچھ رہے تھے میرا مشورہ ہے، کہ فوراً ملاقات کرو۔ سالار ساہو نہایت خلوص اور آرزو سے فقیر کی خدمت میں گئے۔ فورًا فقیر نے فرمایا کہ آؤ سالار مسعود کے باپ، سالار ساہو اُٹھ کر آدابِ خدمت بجالا کر بیٹھے، فقیر نے فرمایا کہ اس سفر میں تم کو دو نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ایک کافروں سے فتحیابی ، دوسری فرزند نرِینہ۔“
حضرات! اِس رِوایت میں جس فقیر نے ساہو سالار کو مسعود غازی کی ولادت کی خوشخبری سنائی ، وہ کوئی اور نہیں بلکہ حضور مدار پاک رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔
دیکھئے کتاب ذولفقارِ بدیع میں ، مُلّا محمود کی کتاب "توارہخِ محمودی کے حوالے سے لکھا ہے:

”کہ جب ساہو سالار مظفّر خان اجمیری کی امداد کے لیے اجمیر کے قریب پہنچے، تو ایک تالاب کے پاس خیمہ نصب کیا اور ایک بڑے درویش کی خدمت سے فیض یاب ہوئے ، اور وہ درویش حضرت سید بدیع الدین قطب المدار تھے، اپنی زبانِ مبارک سے سالار مسعود غازی کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔
اب اِس رسالے کو دیکھیے ، اس رسالے کا نام ”جامِ نور“ ہے اس میں بھی یہی لکھا ہے۔

سید سِکندَر دیوانہ کہتے ہیں: کہ میں سلطان محمود غزنوی سے اجازت لے کر ، حضرت سید ساھو سالار غازی کے ساتھ ٹھٹھر کے راستے اجمیر پہنچا، راستے میں حضرت قطب المدار زندہ شاہ مدار سے ملاقات ہوئی، جیسے ہی ان کی نظر سیدِ سالار ساہو غازی پر پڑی ، تو فورا کہا ”سید سالار مسعود غازی کے باپ اِدھر آؤ“ میں یہ سن کر متعجب ہوا کہ زندہ شاہ مدار کیا فرمارہے ہیں، (یہ حیرانی اِس لئیے ہوئی کیونکہ ابجی مسعود غازی کی ولادت نہیں ہوئی تھی)۔
اس کتاب کو بھی ملاحظہ فرمائیے ، جس کا نام "السلسلۃ العلویہ الغازیۃ المسعودیہ” ہے اس کے صفحہ نمبر 32 پر حضور سید سالار مسعود غازی کا شجرۂ مداریہ تحریر ہے۔

اب ایک اور کتاب دیکھیے جس کا نام تذکرہ مشائخ مداریہ ہے اس کتاب کے مصنف ”جناب مفتی محمد ہاشم علی مصباحی“ نے ، جناب محمود رضا صاحب کی کتاب عظمتِ سرکار مسعود غازی کے حوالے سے لکھا ہے۔ ”کہ جب اسلامی لشکر مجاہدینِ وقت بڑے ہی شان و شوکت کے ساتھ حضرت سید سالار ساہو غازی سِپہ سالارِ اعظم کی رہبری میں ٹھٹھ کے راستے سے اجمیر شریف پہونچے ، تو سید سالار ساہو کی ملاقات ، حضور سیّدنا سیّد بدیعُ الدین زندہ شاہ مدار سے ہوئی، جیسے ہی ان کی نظر حضرت سید سالار ساہو غازی پر پڑی ، فورا کہا سالار مسعود غازی کے والد ادھر آئیے ، یہ بات سن کر آپ کو بہت ہی تعجب ہوا کہ زندہ شاہ مدار کیا کہ رہے ہیں، (یہ حیرانی اِس لئیے ہوئی کیونکہ ابھی مسعود غازی کی ولادت نہیں ہوئی تھی)۔

حضرات! حضور مدارِ پاک اور سید ساہو سلار کی اِس ملاقات کا ذِکر ، آچاریہ چتُر سِین نے بھی اپنی کتاب "سومناتھ” میں لکھا ہے ، اس کو بھی آپ دیکھ لیجئے اور خود پڑھ لیجئے۔

اور اب ایک کتاب اور دیکھ لیجیے جس کا نام ”تذکرہ اولیائے ہِند“ ہے اس کے لکھنے والے ، محبوبُ العلماء ، حضرت سید سالم علوی صاحب ہیں ، انہوں نے بھی اپنی اس کتاب کے پیج نمبر 159 پر لکھا ہے، ”کہ مدارِ پاک کی دعاؤں سے ، ہمارے جدِّ کریم (سید سیف الدین سُرخ غازی علیہ الرحمہ کے بھتیجے) سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی۔

اور اب یہ کتاب بھی دیکھ لیجیے جس کا نام تذکرہ تاجدارِ بہرائچ ہے ، اِس کتاب کے لکھنے والے سید سلیمان بابا علوی ہیں اِنہوں نے اپنی اِس کتاب کے پیج نمبر 128 پر ، اِس ملاقات کا ذکر کیا ہے ، یعنی حضور مدارِ پاک نے سید سالار مسعود غازی کے والد ، سید ساہو سالار سے فرمایا تھا ، ”اِس کو بچہ ادنا نہ سمجھ ، یہ مادر زاد ولی ہے ، جب بالِغ ہوگا ، کفر و شرک کا نشان مٹائے گا۔

اب اِس کتاب کو بھی ملاحظہ فرمائیے ، جس کا نام ”کراماتِ مسعودیہ“ ہے ، اِس کتاب کے پیج نمبر 25 ، 26 ، 27 سے یہ وضاحت ہوتی ہے ، کہ حضور سالار مسعود غازی حضور مدارِ پاک کی دعاؤں سے پیدا ہوئے ، اور حضور مدارِ پاک کے مرید اور خلیفہ بھی تھے۔




اور اب ہم آخر میں ، تذکرہ مشائخِ مداریہ کے حوالے سے، حضرت سالار مسعود غازی کا شجرۂِ مداریہ بھی لگا رہے ہیں ، جس کو شیخ علاؤ الدین علوی نے اپنی کتاب ”کَنزُ السَلاسِل میں لکھا ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
”حضور محمد مصطفى صلى الله عليه و آلهِ وسلم
آپ کے خلیفہ ہیں حضرت على كرم الله وجهه الكريم
آپ کے خلیفہ حضرت عبد الله علم بردار ہیں
اور آپ کے خليفه حضرت عین الدین شامی ہیں اور اُن کے خلیفه حضرت شیخ طیفور شامی ہیں اور آپ خلیفه حضرت سيد بديع الدين حلبي قطب المدار ہیں اور آپ کے مرید و خليفه ہیں ، حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃُ اللّہِ تعالیٰ علَیہ۔









