تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

نقوش حیات علامہ ادیب مکنپوری

On: اکتوبر 20, 2026 11:09 صبح
Follow Us:
نقوش حیات علامہ ادیب مکنپوری

الحمد لولیہ والصلوٰۃ علیٰ نبیہ وآلہ

بابائے شعر و سُخن، اُستاذُ الشّعراء حَسّانُ الہند ، علامہ معزّز حُسین ادیب مکنپوری قُدّسِ السّرّہُ

14جولائی 1924 عیسوی بروز پیر شیخِ طریقت اتالیقِ دوراں ، مُنشی سیّد کرامت حسین جعفری مداری علیہ الرحمہ کے گھر کرامتِ قطب المدار کا ظہور ہوا۔ اور سیّد معزّز حسین کی شکل میں ایک ایسا ادیب پیدا ہوا، جو آنے والے وقت میں اپنی ذہانت اور تبحُّرِ علمی کی بنیاد پر عالمِ علم و ادب پر آفتابِ نیم روز بن کر چمکنے والا ہے۔ والدِ گرامی نے جس وقت نومولود کا نام رکھا ہوگا اس وقت بابِ اجابت کھلا ہوا ہوگا اور رب نے نومولود کو اسمِ بامسمّٰی بنا دیا ہوگا۔

علامہ ادیب مکن پوری بچپن ہی سے بہت ذہین ، علم دوست ، اور جذبۂِ تحصیلِ علم سے سرشار تھے۔ ابتدائی تعلیم والدِ گرامی سے ہی حاصل کی اور بتدریج حصولِ علم کا دور جاری رہا۔ بڑے بڑے بانسبت بزرگوں سے اکتسابِ علم و فیض کیا اپنے دور کے عظیم مُعلِّمِین سے تعلیم حاصل کی چونکہ آپ حسنی حسینی سید تھے اور خونِ فاطمی آپ کی رگوں میں رواں دواں تھا اسلئے فاطمی ذہانت بھی آپ کو میسر تھی۔

بچپن ہی سے شاعرانہ فِکر ، فِطری طور پر وِراثت میں ملی تھی آپ ہر صنفِ سخن پر طبع آزمائی فرماتے تھے لیکن نعت گوئی آپ کا شعار تھا۔ آپ نے نعت میں وہ زاوئیے پیش کئے جو عدیم المثال ہیں اور کیوں نہ ہوں جب آلِ رسول نعتِ رسول کہے تو اس کی بات ہی نرالی ہوتی ہے۔ پھر آپ کو دربارِ قطب المدار سے نسبتِ اویسیہ حاصل تھی۔ آپ اپنی زندگی کا ایک اہم واقعہ اکثر بیان فرماتے تھے "کہ میرے پھوپھا محترم صدرُ المشائخ ساقئیِ میخانۂِ تصوّف ، سیّدُ الاصفیاء ، شیخِ طریقت ، حضرت سید سردار علی جعفری مداری علیہ الرحمۃُ والرضوان صدر سجادہ نشین و تخت نشین خانقاہِ عالیہ مداریہ کو بارگاہِ مدارِ پاک سے بشارت ہوئی کہ اک خاص معمول سید معزز حسین ادیب مکنپوری کو ودیعت کیجئیے جب بار بار بشارت ہوئی تو موصوف نے مجھے بُلوایا اور ارشاد فرمایا کہ معزّز حسین وضو کیجئیے میں نے وضو کیا پھر آپ نے اپنا پیرہنِ خاص جو تختِ سجادگی پر بیٹھنے کے وقت پہنتے تھے زیب تن کیا ، اور اپنا کشادہ دامن بچھادیا ، اور مجھ سے کہا کہ دور کعت نمازِ نفل ادا کیجئیے ، میں نے دور کعت نماز ادا کی اس کے بعد آپ نے اپنے دستِ حق پرست پر مجھے مرید کیا اور جس معمول کی بشارت ہوئی تھی وہ معمول مجھ کو عطا کیا اور تاعمر اس کی پابندی کی نصیحت فرمائی۔ میں نے اس معمول پر پابندی کی اور سفر و حضر کسی جگہ کبھی ترک نہیں کیا۔ اس معمول کی برکت سے مجھ پر رازہائے سربستہ مُنکشف ہونے لگے۔ اللہ اللہ!

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

بارگاہِ قطب المدار سے آپ کو نوازا گیا اور جانشینِ خاص کے ذریعے یہ آپ کی خوش قسمتی کی معراج تھی آپ ایک بہترین شاعر کے ساتھ ساتھ اور بہت سے فنون میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ بہترین نستعلیق ، تحریر ایسی کہ جس کو دیکھ کر آنکھیں روشن ہو جائیں ، حسنِ صورت و سیرت و حسنِ کردار ، صبر و تحمل ، ظرافت و خوش اخلاقی اللہ پاک نے ہر طرح سے آپ کو نوازاتھا۔ حسنِ اخلاق کا یہ عالم جو ایک بار ملاقات کرلے آپ کا ہوکے رہ جائے۔

آپ کے ہم عصر شعراء و ادباء ، آپ کی بے حد تعظیم کرتے تھے اور آپ کی ادیبانہ صلاحیتوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ ایک مشاعرے سے پہلے شعراء میں کسی لفظ پر تبصرہ ہو رہا تھا آپ پہنچے تو سب آپ کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ فراق گورکھپوری نے ایک دم کہا لو ادیب بھائی آگئے۔ اب اگر وہ اس لفظ کی تائید فرمادیں تو پھر مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں۔ یہ ایسے بات ہے جس سے علامہ ادیب مکنپوری کے معیارِ علم کا پتہ چلا۔

آپ نے غزل ، مراثی ، قصیدہ ، رباعی ، سہرا ، رخصتی ، نظم ہر صنف میں کلام کہے۔ لیکن نعت گوئی کو ایک عظیم عبادت سمجھ کر اپنا شعار بنالیا اور نعت گوئی اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ بنے، آپ کو رب تعالی نے بہترین مُترنّم آواز بھی عطاکی تھی جب آپ مستئِ عشقِ رسالت میں جھوم کر نعت پڑھتے تھے تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ فضائیں ساکت ہوکر گوش برآواز ہیں اور ہر دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ قاری رضی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بار کہا تھا "ادیب صاحب کو اللہ پاک نے صرف نعت کہنے کیلئے ہی پیداکیاہے۔”

علامہ ادیب مکنپوری کانپور کے ایک مشاعرے میں نعت پڑھ رہے تھے اور منبر پر اس دور کے بڑے معتبر شعرائے کرام موجود تھے۔ آپ نے اک شعر پڑھا ؎

وہ عالم ہائے وہ عالم جہنم جانے والے کا
شفیعِ حشر کا مُڑ مُڑ کے رستہ دیکھتا ہوگا

تو خمار بارہ بَنکوِی اشکبار ہوگئے اور بار بار اس شعر کو پڑھوایا آخر میں جب پڑھ کر بیٹھ گئے پھر فرمائش کی کہ ادیب صاحب ایک بار خدا کے لئے اور یہ شعر پڑھ دیجئیے کاش یہ شعر میں نےکہا ہوتا۔

اسطرح کے بہت سے واقعات ہیں جن کو پوری طرح بیان کیا جائے تو مضمون کا دامن طول ہو جائے گا میں مختصراً ہی لکھ رہا ہوں آپ جب نعت کے اشعار کہتے تو آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی آنکھوں میں آنسو ، آہیں کراہیں ، اور ایسی جذباتی ادائیں جن کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ آپ عشقِ رسالت کے سمندر میں غوطہ زن ہیں نمونے کے طور پر کچھ اشعار پیش کرتا ہوں:

اپنے انجام سے دل پریشان تھا فردِ عصیاں تھی روزِ جزا ہاتھ میں
وہ تو کہیئے بڑی خیریت ہوگئی آگیا دامنِ مصطفےٰ ہاتھ میں
سیرت ایسی کہ اغیار کلمہ پڑھیں صورت ایسی کہ یوسف بھی دیکھا کریں
پاؤں ایسے کہ جِبریل آنکھیں مَلیں ابنِ مریم سے بہتر شفا ہاتھ میں

درد ہجر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کیا جانے حیاتِ دو روزہ پھر اتنی بھی مہلت دے کہ نہ دے
ہم آج یہیں سے تجھ کو سلام اے گنبدِ خضریٰ کرتے ہیں

اے عازمِ طیبہ لیتا جا اشکوں کی امانت آقا تک
کیا جانے اِسے ہم جیتے جی لے جا سکے یا لے جا نہ سکے

سرا پائے نور کی مدحت میں کہتے ہیں:

آپ کا سر اور آپ کا سینہ اسرارِ حق کا گنجینہ
آنکھیں ہیں دو نور کے ساغر صلی اللہ علیہ وسلم

پائے مبارک دست و بازو مشعلِ روشن ہر ہر پہلو
آپ کا دل رحمت کا سمندر صلی اللہ علیہ وسلم

نور کے خط ہیں ابرو و بینی پیشانی پر ماہ جبینی
عارِض پھول تو دنداں گوہر صلی اللہ علیہ وسلم

نعت گوئی کا سلیقہ سکھاتے ہوئے کہتے ہیں:

یا رب مجھے وہ نعت کی توفیق عطا ہو
جو رتبۂِ آقا سے نہ کم ہو نہ سوا ہو

رحمت کا بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

خاک پر خونِ اطہر سے گلکاریاں اور نمودِ بہاراں کی لب پر دعا
ارضِ طائف سے پوچھو کہ کس شان سے اٹھ رہے تھے حبیبِ خدا کے قدم

منزل عشق کی انتہا کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ہوچکی طئے حدِ سدرۃ المنتہیٰ اب نہ جادہ نہ منزل کا کوئی پتہ
بڑھ رہے ہیں مگر عشق کے رہنما لیکے محبوبیت کا عصا ہاتھ میں

کبھی حسرت و آرزو کا اظہار یوں فرماتے ہیں:

کاش سرکار یہ فرمادیں کہ جا دیوانے
ہم جنوں کو تِرے صحرائے عرب دیتے ہیں

آپ نے اپنی نعتیہ شاعری کے ذریعے عشقِ رسالت کا ہر ہرطرح اظہار کیا اور اپنے دُکھڑے اپنے آقا کو سُنائے اور نعت کہنے والوں کے لئے نئے نئے رستے بنائے۔

آپ نے اس قدر کلام کہے کہ اگر سب کو اکھٹا کیا جائے تو ہزاروں کی تعداد بنے لیکن بہت سا کلام ضائع ہوگیا جو محفوظ رہا وہ اِس کتاب نیّرِ اعظم میں طبع کیا جاتا ہے۔ کہ لوگ اس کو پڑھ کر عشقِ رسالت کی کیفیات سے بہرہ وَر ہوں۔

نظم کے علاوہ نثر میں بھی آپ اپنی مثال آپ تھے جب دشمنانِ سلسلہ عالیہ مداریہ نے سلسلہِ مداریہ پر حرف زنی کی تو آپ نے اپنی نثر کے ایسے جوہر دکھائے کہ بڑے بڑے علماء دنگ رہ گئے آپ نے اپنی زبان اور اپنے قلم سے ہمیشہ اردو زبان و ادب کی خدمت کی اور اپنے کو خدمتِ خلق کے لئے وقف کردیا۔

ایک دائرہ جو "دائرۃُ الادب” کے نام سے ہے اس کے بانی و مبانی رہے شاگردوں کی اصلاح کا کام انجام دیتے رہے ہر حال میں ادبی ماحول کو سرگرم رکھنا آپ کی عادت تھی۔ اصلاح کا عجیب طریقہ تھا بیک وقت کئی کئی شاگردوں کی ایک ساتھ اصلاح فرماتے اور کبھی کوئی چوک نہ ہوتی یہ خاص کرمِ مدار تھا جو ہمیشہ آپ پر رہا۔ آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی ہر ادا سے یہ ثابت کردیا کہ میں حسنی حسینی ہوں۔ غرور اور مغرور سے بہت اجتناب فرماتے تھے۔ آپ دربارِ قطب المدار کے درباری شاعر تھے۔ اور آپ پر مدارِ پاک کا خاص فضل و کرم تھا اور اب بھی ہے آپ ہندوستان کے عظیم اجلاس میں شرکت فرماتے تھے اور کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کے بغیر ادھورا ہوتا تھا۔

ہر حال میں اپنی ذمہ داریوں کونبھانا آپ کی عادت تھی۔ بیماری کے عالم میں بھی اپنے علمی مشاغل سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ ایک مثالی زندگی گذار کے 17 اکتوبر 1996 عیسوی بروز جمعہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوکر محبوب حقیقی سے جاملے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

قطعہ تاریخ وفات

تیری تربت پہ سایہ فگن
رحمتِ کل کی شفقت ادیب
تجھ پہ قرباں بہارِ ارم
مدح خوانِ رسالت ادیب
1417 ھ

فقط والسلام. خاکپائے ادیب
مصباحِ ولی مکنپوری
از قلم – حضرت علّامہ مُفتی خواجہ سیّد ِمصباح المُراد صاحب قبلہ جعفری ارغونی مداری مدّظِلّہُ العالی و النّورانی۔ شیخ الحدیث :- جامعہ عربیہ مدارُ العلوم مدینۃُ الاولیاء ، مکن پور شریف. سجّادہ نشین :- آستانۂِ عالیہ مداریہ مکن پور شریف۔
08/01/2020

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment