تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

امام حسین پر گریہ زاری کا ثواب

On: جون 16, 2026 8:40 شام
Follow Us:
امام حسین پر گریہ زاری کا ثواب

زیرِ نظر مضمون میں شامل تمام روایات، اقوال اور مباحث ایک غیر مطبوعہ کتاب "رسوماتِ محرم” کے اس باب سے ماخوذ ہیں جو "امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری کے ثواب” کے موضوع پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو تاحال شائع نہیں کیا گیا ہے۔ قارئین کی علمی و دینی استفادہ کے پیشِ نظر اس باب کو مکمل طور پر اس مضمون میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی محبت، ان کے غم میں گریہ و زاری کی فضیلت اور اس سلسلے میں منقول روایات سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ مضمون مذکورہ غیر مطبوعہ کتاب کے ایک مستقل باب کی مکمل نقل ہے، لہٰذا اس کے علمی و تحقیقی حقوق محفوظ ہیں۔ اس کی اشاعت یا نقل کرتے وقت ماخذ اور مرتب کا حوالہ ضرور درج فرمایا جائے۔
مرتب: غلام فرید حیدری مداری

حسنین کریمین سے محبت کرنے والوں کے لئے رسول خداﷺ کی دعا:
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔
[سنن ترمذي/حدیث: 3769]

قرآنِ کریم میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے غمِ فراق کا ذکر نہایت مؤثر انداز میں موجود ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس قدر غمگین کر دیا کہ مسلسل روتے روتے آپ کی آنکھیں سفید ہو گئیں۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیان فرمایا، مگر کہیں بھی اس غم اور گریہ پر نکیر نہیں فرمائی، بلکہ اسے ایک نبیِ خدا کی محبت اور فراق کی کیفیت کے طور پر ذکر کیا۔

سورۂ یوسف کی آیت نمبر ۸۴

﴿وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾

کے تحت امام محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اگر لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کے حزن کی شدت کے متعلق پوچھیں تو اس کے تین جواب ہیں جو علماء نے بیان کئے ہیں:
{۱} جب حضرت یعقوب علیہ السلام کو پتہ چلا کہ حضرت یوسف علیہ السلام زندہ ہیں، تو انہیں ان کے دین کا خوف لاحق ہوا اس وجہ سے ان کی پریشانی شدت اختیار کر گئی۔
{۲} ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ آپ نے بچپن میں انہیں بھائیوں کے سپرد کیا تھا اس وجہ سے پریشان ہوئے اور اس پر شرمندہ بھی ہوئے۔
{۳} یہ تیسرا جواب زیادہ واضح ہے اور وہ یہ کہ پریشانی کوئی ممنوع چیز نہیں، ممنوع تو واویلا، کپڑوں کو پھاڑنا اور ایسا کام کرنا ہے جو نہیں کرنا چاہیے۔
[تفسیر قرطبی، جلد ۵، ص ۲۶۳]

ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے غم کی بنیاد حضرت یوسف علیہ السلام کا فراق اور جدائی تھی۔ آپ اس جدائی میں اس قدر رنجیدہ رہے کہ آنکھوں کی بینائی متاثر ہو گئی، مگر چونکہ یہ غم محبت، فراق اور قلبی تعلق کا اظہار تھا، اس لیے اسے ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔ ممنوع صرف وہ امور ہیں جو صبر اور شریعت کے خلاف ہوں۔

مزید یہ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس غم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب بھی عطا ہوا۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ سورۂ یوسف کی آیت کے تحت لکھتے ہیں:

﴿وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾

امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن ابی جعفر سے روایت کیا ہے کہ جبریلِ امین علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس قید خانہ میں آئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے پوچھا:
اے جبریل! میرے والد کو کتنا غم لاحق ہوا ہے؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اتنا غم جتنا ستر ایسی عورتوں کو ہوتا ہے جن کے بچے فوت ہو گئے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پوچھا: اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کیا اجر ملے گا؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا: سو شہیدوں کے برابر اجر۔
[الدر المنثور، جلد ۴، ص ۹۱-۹۲]

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین اور محبوبانِ خدا کے فراق میں غمگین ہونا اور اشک بہانا صرف ایک فطری عمل ہی نہیں بلکہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہو سکتا ہے۔ جب ایک نبیِ خدا کو اپنے محبوب فرزند کے فراق میں غم کرنے پر سو شہیدوں کے برابر اجر عطا کیا گیا تو یہ حقیقت مزید روشن ہو جاتی ہے کہ محبت کے ساتھ کیا جانے والا غم اور گریہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قدر و منزلت رکھتا ہے۔ پھر غور کیجیے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کس قدر عظیم ہے۔ ایک طرف نواسۂ رسول ﷺ کی مظلومانہ شہادت، دوسری طرف اہلِ بیتِ اطہار پر ڈھائے گئے مصائب، پیاس، تکالیف اور قربانیاں؛ یہ سب ایسے واقعات ہیں جنہیں سن کر آج بھی اہلِ ایمان کے دل غمگین ہو جاتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
لہٰذا جب حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے فرزند کے فراق میں غم کرنا، رونا اور آنسو بہانا باعثِ اجر قرار پاتا ہے تو سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور ان کے مصائب کو یاد کر کے غمگین ہونا، دل کا رنجیدہ ہونا اور اشکِ محبت بہانا بدرجۂ اولیٰ باعثِ ثواب ہوگا، کیونکہ یہ غم بھی محبت، وفاداری اور اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے قلبی تعلق کا اظہار ہے، بشرطیکہ یہ سب شریعت کی حدود اور آداب کے مطابق ہو۔

﴿۱﴾
علامہ وجیہ الدین اشرف لکھتے ہیں:
اہل بیت جب مدینہ کے قریب پہنچے ، مدینہ کے مرد اور عورتیں سر پر خاک ڈالے، گریباں چاک کیے، دل بریاں اور چشم گریاں کے ساتھ استقبال کے لیے آئے اور اہل بیت کے ساتھ روتے ہوئے ، روضہ رسول پر حاضر ہوئے غم والم کا اظہار کیا۔ حضرت ام سلمہ زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو تسلی دی، غم حسین میں رونا اور رلانا اجر عظیم اور خلد بریں میں داخل ہونے کا سبب سمجھنا چاہیے۔ (بحر زخار)

﴿۲﴾
مولوی ناصر علی لکھتے ہیں:
جو کوئی مصائب اور واقعات و سیدنا امام حسین کی یاد رکے روتا ہے بخیر ان کے صدمات کے انسو سے رومال بھگوتا ہے یا بد تکلیف اپنی رونی صورت بناتا ہے آنکھوں میں آنسو بھر لاتا ہے تو وہ شخص مستحق دخول جنات تحتہا الانہار ہو جاتا ہے حق تعالی اس پر مینھ رحمت کا برساتا ہے۔
[کتاب: عناصر الشہادتین – ۰۵]

﴿۳﴾
مولوی ناصر علی لکھتے ہیں:
جو کوئی قطرہ آنسو کا غم و ماتم میں سیدنا امام حسین کے اپنی آنکھوں سے بہاتا ہے تو حق تعالی اس قطرے کو صدف کرامت میں جمع کر کے دُرّ بے بہا بناتا ہے پھر اسے رشتہ اعمال میں اس کے گوند کر ایک ہار انمول بنا کر گلے میں اس رونے والے کے پہناتا ہے اور قیمت اس کی بروز بازار قیامت کے خلق پر کھلے گی یعنی بہشت بریں اس کے رہنے کو ملے گی۔
[کتاب: عناصر الشہادتین – ۰۵]

﴿۴﴾
بابا فرید گنج شکر نے فرمایا:
بغداد میں ایک بزرگ تھا اس کے سامنے امیر المومنین حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے شہید ہونے کا حال بیان کیا گیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی محبت کے سبب، اس قدر سر زمین پر مارا کہ خون جاری ہوا اور دیر تک زمین پر پڑا رہا، جب دیکھا تو مرا ہوا پایا، اسی رات اس بزرگ کو خواب میں دیکھا کہ امیر المومنین حسین کے پاس کھڑا ہے، پوچھا کہ اللہ تعالی نے تجھ سے کیا سلوک کیا، کہا مجھے بخش دیا اور حکم دیا کہ امیر المومنین حسین رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہو۔ [کتاب: ہشت بہشت ، مکتبہ رضویہ- ۲۳۷]
یعنی امام حسین علیہ السلام نے اپنے عزادار کو اپنے پاس جگہ عطا فرمادی۔

﴿۵﴾
شیخ الاسلام بابا فرید نے فرمایا: ایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معہ تمام صحابہ کرام بیٹھے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یزید پلید کو کندھے پر سوار کرکے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراکر فرمایا: سبحان اللہ! دوزخی بہشتی کے کاندھے پر سوار ہے، یہ بات امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے سنی تو پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو معاویہ کا بیٹا ہے، دوزخی کس طرح ہو سکتا ہے، فرمایا، اے علی یہ یزید وہ بدبخت شخص ہے جو حسن اور حسین اور میری تمام آل کو شہید کرے گا، حضرت علی نے اٹھ کر نیام سے تلوار نکالی تاکہ اسے قتل کردیں، لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ ایسا نہ کرو کیونکہ تقدیر الہی ایسی ہی ہے، حضرت علی روئے اور پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، کیا آپ باقی رہیں گے، فرمایا نہیں، پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہم میں سے کوئی ہوگا، فرمایا نہیں، پھر پوچھا کیا میں ہوں گا، فرمایا نہیں، پوچھا کہ فاطمہ ہوں گی، فرمایا نہیں، پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میرے غریبوں( کربلا کے شہیدوں) کا ماتم کون کرے گا، فرمایا میری امت۔
بعد ازاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زار زار روئے اور شہزادوں کو گود میں لیا اور نعرہ مارا، کہ اے غریبوں ہمیں معلوم نہیں کہ تمہارا حال اس جنگل میں کیا ہوگا۔
بعد ازاں فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا تو ان کی ماتم داری کون کرے گا عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپ کی امت کے فرزندوں کا اس قدر ماتم کرے گی جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔
[کتاب: ہشت بہشت ، مکتبہ رضویہ- ۲۳۸]

﴿۶﴾
حضرت شاہ رضا حسین قادری لکھتے ہیں:
جس وقت حشر میں انصاف گنہگاران اور نیک کاران کا ہوگا، اور بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوں گے، تو اس وقت تک بھی دوزخ یہی کہے گی کہ پروردگار، ہنوز پیٹ ہمارا نہیں بھرا، اس وقت اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دے گا کہ عرش کے گوشے میں شیشیان رکھی ہیں، اس میں سے ایک شیشی اٹھا لاؤ اور عرق اس کا دوزخ میں ڈالو، جبرائیل ویسا ہی کریں گے، ہنوز دو تین قطرہ دوزخ میں نہیں پڑے ہونگے کہ دوزخ فریاد بھر لائے گی کہ یاربالعالمین، اگر ایک قطرہ اور پڑا تو بالکل آگ دو رخ کی سرد ہو جائے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے جبرائیل، بس کرو، تب جبرائیل علیہ السلام عرض کریں گے کہ خداوند اس شیشی میں کیا چیز ہے کہ جس سے دوزخ پناہ مانگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ اشک چشمِ محبانِ اہل بیت ہے، جو شخص دیدہ و بے بسی محبت اہل بیت میں روتا ہے، اس کے آنسوؤں کو میں خود اٹھاکر رکھتا ہوں، اے مومنین دیکھو تو کیا درجہ محبان اہل بیت کا ہے، کہ ایک قطرہ آنسو جو شخص محبت اہل بیت نبوت میں گرا دے، تو اس کے اوپر ایک دوزخ حرام ہو جائے، بھیجو درود و سلام نبی پر، آل نبی اولاد علی پر۔
[کتاب: احسن الشہادتین – ۹۴]

﴿۷﴾
مرزا محمد عبد الستار بیگ سہسرامی لکھتے ہیں:
ایک دن ایک گلی میں چند لڑکے کھیل رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ صحابہ کبار ادھر سے گزرے اور ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے کو گود میں لے کر پیار کرنے لگے، جب اس کے اوپر صحابہ نے تعجب ظاہر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ ایک دن یہ لڑکا (امام) حسین کے ساتھ کھیل رہا تھا اور (امام) حسین کی خاک قدم کو اپنی آنکھوں سے لگاتا تھا اس دن سے میں اس لڑکے کو دوست رکھتا ہوں۔
[کتاب: مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین – ۲۰۰]

حضرت شاہ رضا حسین قادری لکھتے ہیں:
روایت ہے کہ حضرت (سرکار محمد مصطفی) صلعم جماعت یاروں کے بازار میں گزرے، ایک جماعت لڑکوں کی کھیلتی تھی، آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نزدیک گئے اور اس میں سے ایک لڑکے کو پکڑا اور پیشانی کو بوسہ دے کر گود میں لیا، یاروں نے عرض کیا یارسول اللہ! آیا اس لڑکے پر جو آپ نے اتنی مہربانی فرمائی ہیں، سبب اس کا کیا ہے اور نہیں جانتا ہوں یہ کہ کون ہے اور حال اس کا کیا ہے، حضرت نے فرمایا کہ اے یاروں مجھ کو نصیحت نہ کرو، میں نے ایک روز کہا تھا کہ یہ لڑکا ساتھ حسین کے کھیلتا تھا اور خاکِ قدم حسین علیہ السلام کو لے کر اپنی آنکھوں پر ملتا تھا، اس روز سے میں اس لڑکے کو دوست رکھتا ہوں اور (اس لڑکے کی محبت حسین کے صدقے میں) کل شفاعت ماں باپ کی اس کے کروں گا اور فرمایا جس شخص نے دوست رکھا حسین علیہ السلام کو اس کو دوست رکھا میں نے اور جس کو دوست کہا میں نے اس کو دوست کہا خدا نے۔
[کتاب: احسن الشہادتین – ۷۶]

ایک روز نبی کریم ﷺ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک گلی سے گزرے تھے ایک مقام پر ملاحظہ فرمایا کہ کچھ بچے کھیل رہے تھے نبی کریم ﷺ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر بہت پیار کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک بار میں نے اس کو اپنے لخت جگر (حسین صلی اللہ عنہ) کے قدموں کے نیچے کی خاک آنکھوں میں ڈالتے دیکھا تھا اس دن سے مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے میں بروز قیامت اس کی اور اس کے والدین کی شفاعت کروں گا۔
[کتاب: تذکرہ خاندان نبوت – ۲۹۵]

﴿۸﴾
مولوی ناصر علی لکھتے ہیں:
شیخ سہیل بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں عاشور کے دن غم سیدنا امام حسین سے رو رہا تھا ان کے مصائب کو یاد کر کے بے قرار ہو رہا تھا اور جی میں کہتا تھا کہ اگر میں اس دن اپنی بدنصیبی سے وہاں حاضر نہ تھا کہ شاہ کربلا کے آگے، کفار اشرار سے لڑکے اپنا گلا کٹاتا حضرت پر قربان ہو جاتا، تو بارے آج تو اس کی حسرت میں کچھ تھوڑا رولوں، خون دل سے دامن بھگو لوں، پھر اسی رات کو اپنی بخت بیداری سے، حضرت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ نے فرمایا اے سہیل! قسم ہے ذات کبریا کی، کہ ایک قطرہ بھی تیرا آنسو جو مصیبت میں، میرے فرزندِ دل بند، نور عین حسین کے بہایا ہے، بیکار نہ جائے گا اور اس رونے کے بدلے، جو تو آج روتا ہے کل حق تعالی تجھے اجر جزیل اور ثواب جمیل عنایت فرمائے گا، کہ محاسبان تختۂ خاک اس کے حساب سے گھبرائیں گے اور کبیران خطۂ افلاک اس کے شمار سے عاجز ہو جائیں گے۔
[کتاب: عناصر الشہادتین – ۰۶]

﴿۹﴾
سلطان کونین حضرت امام حسین قیامت کے دن عرصات محشر میں ساتھ چہرۂ خون الود اور کفن رنگین کے تشریف لائیں گے اور جناب باری میں التجا فرمائیں گے "رَبِّ شَفِّعْنِي فِيمَنْ بَكَى عَلَىٰ مُصِيبَتِي” خداوندا جو کوئی دنیا میں میری شہادت اور مصیبت اور غریبی اور محرومی اور مظلومی اور بے کسی اور بے بسی اور بے برگی اور گرسنگی اور تنہائی اور یکتائی پر رویا ہے میرے غم میں دامان کو بھگویا ہے تو اسے میرے اس چہرۂ اغشتہ بخون اور پیرہن گلگوں کے بہا میں بخش دے، میری شفاعت اس کے حق میں قبول کر لے، پس حق تعالی شفاعت کو اس جناب کی قبول کرلے گا، گناہ ان لوگوں کے کہ امام کے غم میں روئے ہیں بخش دے گا۔
[کتاب: عناصر الشہادتین – ۰۷]

﴿۱۰﴾
امام علی بن موسی رضا سے منقول ہے کہ جب حق تعالی نے واسطے فدیۂ اسماعیل علیہ السلام کے بہشت سے میڈھا بھیجا اور ابراہیم علیہ السلام نے اس کو ذبح کیا، پھر دل مبارک میں اس شیر دلیر کے یہ خیال ہوا کہ اگر میں اس مینڈھے کے عوض اسماعیل ہی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتا تو ثواب عظیم پاتا، پس حق تعالی نے وحی بھیجی کہ اے ابراہیم تمام مخلوق میں سے تم کو کس کو زیادہ دوست رکھتے ہو، خلیل اللہ نے عرض کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، کہ حبیب اور صفی تیرے ہیں، پھر ارشاد ہوا کہ ان کو زیادہ دوست جانتے ہو یا اپنے کو، عرض کی قسم تیری کہ ان کو اپنی جان عزیز سے عزیز تر اور دوست تر جانتا ہوں، پھر فرمان پہنچا کہ فرزندان کو ان کے زیادہ دوست جانتے ہو یا اپنے فرزندوں کو، خلیل اللہ نے جواب دیا کہ فرزندان امجاد ان کے میرے نزدیک میری ساری اولاد سے دوست تر اور محبوب تر ہیں، پھر حق تعالی نے وحی بھیجی کہ اے خلیل، ایک فرزند کو فرزندان بزرگوار سے ان کے بڑے جورد ایذا اور نہایت ظلم و جفا سے غریب اور تنہا بھوکا پیاسا دشت کربلا میں شربت شہادت کا پلائیں گے اور سارے مال اسباب کو اس فرزند ارجمند کے لوٹ لیں گے، خاک میں ملائیں گے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ اس واقعہ جانکاہ کا اور حادثہ ہوشربا سن کر حالت رقت میں آئے اور قطرات حسرت اشک کے چشمان غم دیدہ سے بہائے، خطاب آیا ابراہیم ثواب رونے کا تمہارے امام حسین پر اور جو تم ان کی مصیبت کو یاد کرکے دل میں کڑھے، برابر ثواب کے ہے کہ اپنے ہاتھ سے تم اپنے فرزند اسماعیل کو میری راہ میں قربان کرتے۔ یارو مقام صبر ہے کہ مصیبت میں سیدنا امام حسین کے رونے کا کس قدر ثواب ہوتا ہے کتنا فضل رب الارباب ہوتا ہے۔
[کتاب – عناصر الشہادتین ، ۰۷]

اس واقعہ کو سید احمد نعیمی قادری نے اس طرح لکھا ہے:
امام علی بن موسی رضا رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ جب جناب الہی کی طرف سے فدائے اسماعیل کا معاوضہ گوسفند پر ہو گیا، تو خلیل کے دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ اگر اسماعیل ہی میرے ہاتھ سے ذبح ہوتا تو بنسبت اس فدیہ کے ثواب عظیم ملتا، جناب الہی نے بذریعہ وحی خلیل سے دریافت فرمایا کہ تمام عالم میں کس کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، خلیل نے عرض کی تیرے حبیب لبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، ارشاد ہوا انہیں دوست رکھتے ہو یا خود کو، عرض کی الہی اپنی جان سے ان کو زیادہ عزیز رکھتا ہوں، ارشاد ہوا ایک ان کے جگر گوشوں کو زیادہ محبوب رکھتے ہو یا اپنے لختہائے جگر کو، عرض کیا ان کی اولاد کو پیارا رکھتا ہوں، ارشاد ہوا ایک ان کے فرزند دلبند کو غریب الوطنی مصیبت زدگی بے کسی تشنہ کامی کی حالت میں شکار تیرِ بلا بنا کر جور و جفائے ستمگاران سے بھوکا پیاسا میدان کربلا میں شہید کرائیں گے۔ ابراہیم خلیل اس خبر کے سنتے ہی زار و قطار اشکبار ہوئے۔ ارشاد ہوا کہ خلیل جو ان کے غم میں روئے گا، اسے ثواب اس قدر ہم عطا فرمائیں گے جتنا تمہیں تمہارے فرزند کی قربانی میں عطا ہوا ہے۔
[کتاب – اوراق غم ، ۲۲]

﴿۱۱﴾
امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں:
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ جو شخص ہمارے لیے اپنی آنکھ سے آنسو بہاتا ہے، یا ایک قطرہ گراتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے اسے جنت عطا کرے گا۔
[کتاب – فضائل صحابہ ، ۳۸۲]

﴿١٢﴾
حضرت مخدوم علی احمد صابر کلیری فرماتے ہیں:

ہر که به حسین گریه و زاری کند
بر سر او از خدا لطف و کرم تازه شد

جو کوئی حضرت امام حسینؑ کی یاد میں گریہ وزاری کرتا ہے اس کے سر پر اللہ تعالی کا خاص لطف و کرم تازہ ہو جاتا ہے۔
[کتاب: دیوان حضرت علی احمد صابر کلیری ، ص ۲۲۰]

﴿١٣﴾
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ما من مسلم (ولا مسلمة) يصاب بمصيبة فيذكرها وان طال عهدها فيحدث لذلك استرجاعاً الاجدد الله له عند ذالك فأعطاه مثل اجرها یوم اصیب بھا۔ یعنی: کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جس کو کوئی مصیبت پہنچی ہو اگر چہ اس پر ایک زمانہ گزر چکا ہو اور وہ اس کا ذکر کر کے ”اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے واسطے اس کو تازہ کرکے اس کو اس دن کی مثل اجر و ثواب عطا فرماتا ہے جس دن اس کو مصیبت پہنچی تھی۔
[احمد : ۱۷۳۴، ابن ماجه: ۱۶۰۰، بیہقی، در منثور، جلد : ۱ صفحه : ۱۵۶ کنز العمال: ۶۶۳۴-۶۸۴۰ بحوالہ: شام کربلا]

اسی طرح شیخ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں: شيخ الفقہاء ومحد ثین شیخ شهاب الدین ابن حجر ہیثمی مصری مفتی مکہ معظمہ نے اپنی تالیف صواعق محرقہ میں عاشورا کے ضمن میں لکھا ہے لوگو! اچھی طرح سمجھ لو کہ عاشورا کے دن حضرت حسین، مصائب سے دو چار ہوئے اور آپ کی شہادت اللہ تعالی کے نزدیک آپ کے مراتب و درجات کی رفعت کا ثبوت ہے۔ اس شہادت کے ذریعہ اہل بیت اطہار کے درجات بلند کرنا بھی اللہ کے پیش نظر تھا۔ اس لئے عاشورا کے دن جو شخص مصائب کا تذکرہ کرے تو اسے لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے میں مشغول رہے۔ تا کہ اللہ تعالیٰ کے ثواب کا مستحق ہو سکے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔

”اولئك عليهم صلوة من ربهم ورحمة واولئك هم المهتدون”

(یہی وہ شخصیتیں ہیں جن پر منجانب پروردگار رحمت و کرم ہوتا ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں) عاشورہ کے دن اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے رہنے یا بڑی سے بڑی نیکی روزہ رکھنے کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول نہ ہو۔
[کتاب: مومن کے ماہ و سال، ص ١٠]

کتاب : رسومات محرم (غیر مطبوع)
غلام فرید حیدری مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

2 thoughts on “امام حسین پر گریہ زاری کا ثواب”

  1. امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؑ پر گریہ و زاری کے موضوع پر تحریر کردہ یہ مضمون نہایت مؤثر دل نشین اور روح پرور ہے ماشاء اللہ مصنف نے عشقِ حسینی سوزِ کربلا اور غمِ اہلِ بیتؑ کے جذبات کو جس فصاحت و بلاغت کے ساتھ قلم بند کیا ہے وہ قابلِ صد تحسین ہےاور لائقِ ستائش و مطالعہ ہے مضمون کے ہر ہر لفظ سے عقیدت محبت اور احترامِ اہلِ بیتؑ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے سبحان اللہ اس مضمون میں تاریخی حقائق دینی استدلال اور جذباتی تاثیر کا ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو قاری کے دل میں رقت پیدا آنکھوں میں اشک اور روح میں ولولۂ محبتِ حسینؑ پیدا کر دیتا ہے بلاشبہ یہ ایک شاندار بہترین عمدہ وقیع اور علمی کاوش ہے جو ذکرِ مظلومِ کربلا کے ادب اور تقدس کو بخوبی اجاگر کرتی ہے اللہ تعالیٰ مصنف کو مزید توفیقاتِ خیر سے نوازے اور اس قلم کو خدمتِ اہلِ بیتؑ کے لیے ہمیشہ رواں و دواں رکھے

    فقیر مداری عفان ادیب

    Reply

Leave a Comment