برادران اسلام، السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ۔
حج کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ تمام حجاجِ کرام اپنے اپنے ممالک سے حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں۔ ان سب کو ہماری طرف سے سلام عرض ہے۔
حج کے موسم میں حجاج کی تربیت کے لیے جگہ جگہ ہر شہر میں کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ حاجیوں کی تربیت کے لیے کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی عجیب بات ہے، ہمارے ایک چاہنے والے نے راجستھان کے شہر اودے پور سے ایک میسج بھیجا ہے، ان کا صاحبزادہ حج کے لیے جانے کو تیار ہے، کیمپ میں جب تربیت کے لیے گئے تو وہاں جو مولانا صاحب تربیت دینے کے لیے گئے تھے، انہوں نے اپنی تربیتی باتوں میں سب سے سخت ہدایت یہ دی "کہ جب تم مکہ شریف یا مدینہ شریف جانا تو وہاں نماز مت پڑھنا، وہاں کے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنا بلکہ نماز پڑھنے کی ایکٹنگ کرنا ایکٹنگ نہیں کرو گے تو ہو سکتا ہے پکڑ لیے جاؤ گے، تو وہاں جا کر ایکٹنگ کرنا اور پھر اس کے بعد جب نماز ختم ہو جائے گی تو اپنی بعد میں اکیلے پڑھ لینا”
سوچئے! مسلمان کتنی گمراہی میں مبتلا ہے۔ نماز نہ پڑھنا، نماز کی ایکٹنگ کرنا، یہ حج کی تربیتی باتوں میں بتایا جا رہا ہے، اور لوگوں کے سامنے مسلمانوں کے جتھے کے سامنے جا کر نماز پڑھنے کا دکھاوا کرنا اور گھر میں آ کے پھر اپنی الگ سے ادا کرنا، یہ کون سا اسلام ہے؟
یہی تو منافقین کرتے تھے۔ یہ جب مسلمانوں کے ساتھ جاتے تھے، تو کہتے تھے کہ،
"آمنا باللہ والیوم الآخر”
کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب اپنے شیطانوں کے پاس، اپنے سرداروں کے پاس آتے تھے، (قرآن مقدس میں اس کا ذکر ہے پہلے پارے میں) تو وہ کہتے تھے کہ ہم ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ تو یہ دکھاوا کرنا نماز کا، ایکٹنگ کرنا وہاں جا کر کے نماز کی ایکٹنگ کرنا اور پھر آ کر گھر میں اپنی الگ پڑھ لینا۔ یہ تو صریح منافقت ہے، کھلی منافقت ہے اور ایسی منافقت کی مولویوں کے ذریعے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔
یعنی پورے مسلمانوں کو، ہندوستان کے مسلمانوں کو گمراہ کے دلدل میں ڈال دیا گیا۔ مکہ والے مسلمان نہیں، مدینہ والے مسلمان نہیں، عرب کے لوگ مسلمان نہیں، اور دوسرے دیگر اسلامی ممالک کے رہنے والے مسلمان، مسلمان نہیں، یہ باقاعدہ ایک ٹریننگ دی جا رہی ہے، سکھایا جا رہا ہے۔ مسلمان اگر کہیں ہے تو وہ بڑے مولانا صاحب کے شہر میں ان کے ماننے والے، ان کے چاہنے والے۔
یہ کہاں سے دین اٹھا لائے ہو بھائی؟ یہ کون سا دین ہے؟
قرآن مقدس نے تو یہ اعلان کیا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
اے ایمان والو! زیادہ بدگمانی کرنے سے بچو، بہت سی بدگمانیاں گناہ ہیں۔ (قرآن – الحجرات: 49 – آیت: 12)
یہ بدگمانیاں جب گناہ ہے، تو مکے کے لوگوں کے ساتھ یہ بدگمانی کرنا کہ وہاں مسلمان نہیں رہتے ہیں؟ مدینے کی مقدس سرزمین کے رہنے والے لوگ مسلمان نہیں ہیں؟
اور اسلامی ممالک کے لوگ مسلمان نہیں ہیں؟
تو کیا صرف ہمارے ہندوستان میں ہی لوگ مسلمان ہیں؟
کتنا غلط میسج!
نبیِ کریم نے ارشاد فرمایا:
"لا تسبوا العرب”
ایک روایت میں ہے:
"مَنْ سَبَّ الْعَرَبَ فَلَيْسَ مِنَّا”
جو عرب کو گالی دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اس سے بڑی کیا گالی ہوگی کہ مکہ میں جو لوگ رہتے ہیں، وہ مسلمان نہیں، مدینہ میں جو لوگ رہتے ہیں، مسلمان نہیں، اہلِ حرم مسلمان نہیں! اہلِ ہند مسلمان ہیں؟
یہ کیسی سوچ ہے، کیسی فکر ہے؟
سارے علما چپّی سادھے بیٹھے ہوئے رہتے ہیں۔ ہندوستان کے مولوی جب وہاں جاتے ہیں تو یہی اپنے ساتھ جتنے حجاج کو لے کر جاتے ہیں، یا ان کے ساتھ جتنے حجاج جاتے ہیں، یہی پیغام دیتے ہیں: نہیں، نہیں، وہاں نماز نہیں پڑھنا ہے۔ تو کیا خاک چھاننے جا رہے ہو؟ مکے میں نماز نہیں ہوگی، مدینے میں نماز نہیں ہوگی مولوی صاحب کی، کیا یہ نماز مولوی صاحب قبول کرتے ہیں کہ اللہ پاک قبول کرتا ہے؟
نماز تو اللہ پاک قبول کرتا ہے نا۔ بڑی سے بڑی جماعت ہو، زیادہ قبولیت کی امید ہے۔ پھر مکہ معظمہ میں، مدینہ معظمہ میں، مدینہ منورہ میں جس کی عزت اور حرمت ہر مسلمان کے دل میں ہے، وہاں کے لیے بھڑکانا کہ نماز نہ پڑھنا، وہاں جا کر اقتدا نہ کرنا، یہ مطلب! کیا آخر میسج دینا چاہ رہے ہیں؟
کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ ایسی شدت پسندی ہمیشہ مسلمانوں نے ریجیکٹ کیا ہے اور اسی لیے چاہے کسی شہر کے مسلمان وہاں جاتے ہوں، جب وہاں جاتے ہیں تو ان کا دل اپنے آپ ہی کعبہ کی طرف جھکتا ہے، مدینے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
دل نہیں مانتا۔ پڑھتے ہیں جا کے۔ بہت سے اہلِ خانقاہ کو میں نے دیکھا ہے۔ بڑے پورے عالم کے بڑے بڑے علما کو میں نے دیکھا ہے یہ وہاں جا کر حرم میں نماز پڑھتے ہیں۔
یہ مولوی بدگمانی پھیلاتے ہیں، وہاں کے لوگ مسلمان نہیں! ارے جہاں سے اسلام پھیلا جب وہیں کوئی مسلمان نہیں ہے تو پھر اسلام کہاں ہوگا، آپ اندازہ لگاؤ نا!
اس لیے مسلمانوں، فقہی معاملات ہیں ، فقہی مذاہب کے معاملات اپنی اپنی جگہ پہ ہیں۔
کس فقہ کے حساب سے کس امام کے پیچھے نماز مکمل ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ہے، یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔
لیکن مسلمانوں کے خلاف اس طریقے سے بھڑکانا اہلِ عرب کے ساتھ اتنے بری طریقے سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا، یہ خود شدید گمراہی ہے،
شدید گمراہی ہے،
شدید گمراہی ہے۔
ایسی باتوں کو بالکل قطعی ریجیکٹ کیا جانا چاہیے اور علما کو صاف کھلا مؤقف اعلانیہ کرنا چاہیے، باقاعدہ اعلان کرنا چاہیے آج سے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ورنہ آپ امت کو گمراہی میں ڈال رہے ہو۔
میں دعا کرتا ہوں، تمام حاجی جب وہاں جائیں تو اس بیمار کے لیے بھی دعا کریں اور اپنی دعاؤں میں ہر جگہ یاد رکھیں۔
میں ابوالحماد محمد اسرافیل حیدری آپ سبھی حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ "میرا سلام جب مدینہ منورہ جانا تو بارگاہِ رسالت میں اگر آپ کو یاد رہے تو ضرور پیش کرنا۔”
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ









