تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

حضرت قاضی قدوت الدین علی حلبی

On: اپریل 21, 2026 3:22 شام
Follow Us:
حضرت قاضی قدوت الدین علی حلبی

سیدنا قاضی قدوت الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت 17 رجب 219 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ خاندانِ فاطمی کے چشم و چراغ، ولیٔ کامل اور عظیم بزرگی کے مالک تھے۔ زہد و تقویٰ، پرہیزگاری، نیکی اور شرافت، عدل و انصاف میں یکتائے زمانہ تھے۔

آپ کے والد کا نام حضرت سید بہاؤ الدین رضی اللہ عنہ ہے، اور آپ کا شجرۂ نسب حضرت سیدنا امام علی علیہ السلام سے کچھ اس طرح ملتا ہے:

سید قاضی قدوت الدین علی رضی اللہ عنہ
بن سید بہاؤ الدین رضی اللہ عنہ
بن سید ظہیر الدین احمد رضی اللہ عنہ
بن سید اسماعیل ثانی رضی اللہ عنہ
بن سید محمد مکتوم رضی اللہ عنہ
بن سید اسماعیل رضی اللہ عنہ
بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ
بن سید امام محمد الباقر علیہ السلام
بن سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام
بن سید الشہداء امام حسین علیہ السلام
بن مولائے کائنات مولا علی مرتضیٰ علیہ السلام

اللہ تبارک و تعالی نے آپ کے حصے میں عالمِ ولایت کی وہ ہستیاں رکھیں کہ جن کے دم قدم سے پورے عالم کو قرینۂ زندگی عطا ہوا۔ یعنی سید مقصود الدین المعروف شاہ بدرالدین و سید مطلوب الدین المعروف قاضی حمید الدین و سید نظام الدین المعروف خواجہ بکتاش ولی اور حضرت سید بدیع الدین المعروف احمد شاہ زنداں صوف رضی اللہ تعالی عنہ، مذکورہ یہ چاروں بلند پایہ کے بزرگ اور عالمی داعیانِ اسلام آپ ہی کے دل کے ٹکڑے یعنی آپ کے شہزادے ہیں۔ جب حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار کی ولادت ہوئی تھی تو اللہ کے نبی حضرت خضر علیہ السلام نے قاضی قدوت الدین علی حلبی کو مدار پاک کی ولادت کی مبارکباد دی تھی۔

حضرت قاضی قدوت الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ خداداد ذہن رکھتے تھے اور صرف 13 برس کی عمر میں تمام علومِ ظاہری و باطنی میں دسترس حاصل کر لی تھی۔ اور اپنے وقت میں قاضیِ حلب کہلاتے تھے اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتینا ہاجرہ تبریزیہ رضی اللہ تعالی عنہما ہیں۔
حضرت قدوۃ الدین علی حلبی نے فاطمہ ثانی عرف بی بی ہاجرہ تبریزیہ سے ۲۳۷ھ میں نکاح فرمایا عرصه ۴ / برس کوئی اولاد نہ ہوئی تو آپ نے بارگاہ خداوندی میں اولاد کیلئے مناجات کی اور جب متوکل علی اللہ کے ظلم و تشدد نے زور پکڑا تو آپ نے اپنے علاقے کو چھوڑ دیا اور چنار میں آکر ابو اسحاق شامی یہودی کے مکان میں پناہ گزیں ہوئے۔ یہاں آپ نے اپنی پیشانی پر ولایت کا نور لامع اور درخشاں دیکھا اور پروردگار عالم کے حکم سے ایک رات عالمِ رویا میں نبی کریم ﷺ کی زیارتِ بابرکت سے سرفراز ہوئے۔ نبی محترم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ائے علی خاطر جمع رکھو اور فیوض رحمانی کے امیدوار رہو، اللہ تعالیٰ تمہیں ایک فرزند مقتدائے وقت عنایت فرمائے گا جو دنیا میں ایک روحانی انقلاب بپا کر دیگا تمام عالم اس سے فیضیاب ہوگا اور بے شمار افراد منزل مقصود کو پہونچیں گے اس سے بے شمار تصرفات و کرامات ظہور پذیر ہوں گے وہ لوگوں کو راہ حق دکھائیگا ، ائے علی اس بچہ کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوتاہی اور غفلت نہ کرنا۔”
اس ہدایت کے بعد آپ کی آنکھ کھل گئی اس بشارت سے جو خوشی حاصل ہوئی اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے

کہتے ہیں کہ بدیع الدین احمد کی ولادت ہوئی لوگ مبارکباد پیش کرنے آتے جو مانگتے سو پاتے اس طرح مسلسل چھ ماہ گزر گئے یہاں تک کے گھر کا بھی سب کچھ تقسیم ہو گیا۔ اسی اثنا میں متوکل علی اللہ کے سپاہی چنار بھی پہونچ گئے ایک مرتبہ پھر علی حلبی کو یہ علاقہ بھی چھوڑنا پڑا اور جنگل جنگل صحرا صحرا  ، وقت کے ظالم سے اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے رہے یہاں تلک کے بھوک و پیاس سے نڈھال ہو گئے ، راتوں کو جگا دینے والی بھوک پیاس کی مصیبت آپڑی۔ ایک طویل عرصہ کی بھوک و پیاس اور رنج وغم نے بالکل نڈھال کر دیا ضبط و تحمل اور صبر و استقلال سے گلا گھٹنے لگا۔ آپ کے والدین نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کر ہی دیا تھا جو مصیبتوں کو راحتوں میں بدل دیتا ہے۔ بیٹے کو یکے بعد دیگرے گود میں لیتے اور منزل کی طرف بڑھتے رہے۔ چلتے چلتے بوجھل ہو چکے تھے کہ الہام ہوا کہ "بھروسہ رکھیں اور اپنے پروردگار پر اولاد کا معاملہ سپرد کردیں اور اس بچے بدیع الدین کو فلاں درخت کے نیچے لٹا دیں پھر فارغ البال ہو جا ئیں غم واندوہ سے” مگر جس درخت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ ہمیشہ پھلوں سے خالی رہتا ہے (چنار ) مگر آپ کے والدین نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے نعم البدل دیا اور اس جگہ کو سبز و شاداب زمین ، بہترین خوشگوار آب و ہوا ، پھلوں اور برکتوں سے گلزار کردیا۔

قاضی صاحب نے جس زمانے میں ولادت پائی، زندگی کو گزارا، وفات پائی، وہ زمانہ فتنوں اور ظلم و تشدد سے خالی نہیں تھا۔ جہاں ایک طرف دشمنانِ اسلام و مسلمانوں کو مٹانے کی سازشیں رچ رہے تھے، وہیں سلطنتِ عباسیہ کے خلیفہ خلقِ قرآن کے مسئلے میں پڑ کر مسلمانوں پر بے وجہ ظلم و ستم ڈھا کر سولیوں پر چڑھا رہے تھے۔
ایک گھڑی ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ خلیفہ واثق باللہ کے دورِ اقتدار میں، یعنی 227 ہجری سے 232 ہجری تک مسلمانوں کو راحت اور چین کچھ نصیب ہوا اور اسی کے دور میں قاضی قدوت الدین علی حلبی کے علم کا شہرہ سن کر بہت کوشش کے بعد آپ کو دربار میں بلایا گیا اور قاضیِ حلب بنایا گیا۔ لیکن خلیفہ واثق باللہ کے بعد جب اس کا بھائی متوکل علی اللہ تختِ خلافت پر بیٹھا اور جو اس نے ظلم و ستم ڈھایا، جیسے: حسین پاک کے مزار کو گرانے اور اس پر کھیتی کرنے کا حکم دینا اور علویوں کا سخت دشمن ہو جانا، علاوہ ازیں بہت ظلم و ستم اس نے کیے۔ الغرض جب اس کی دشمنی کا رخ حلب کی طرف ہوا تو قاضی قدوت الدین علی کو اپنا شہر چھوڑنا پڑا اور آپ نے قریہ چونار میں جا کر ایک یہودی ابو اسحاق کے گھر میں پناہ لی۔

قاضی قدوت الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ جس قدر ظلم و ستم سے نڈھال ہوئے، وہیں اپنی زندگی میں بھی آپ رنج و غم اور صدموں سے باہر نہیں آ سکے، آپ نے اپنی زندگی میں ہی اپنے چار بیٹوں میں سے ایک کو چھوڑ کر تینوں کو وفات پاتے دیکھا۔ یعنی صرف 33 سال کی عمر میں آپ کے بیٹے سید نظام الدین نے وفات پائی (آپ خواجہ بکتاش ولی کے نام سے مشہور ہیں اور آپ کا مزار مبارک قسطنطنیہ میں ہے) اور اسی طرح صرف 50 سال کی عمر میں آپ نے اپنے بیٹے سید مطلوب الدین کو (جن کا مزار مبارک ملکِ شام میں ہے) بھی وفات پاتے دیکھا اور اسی طرح 311 ہجری میں آپ نے اپنے بیٹے سید مقصود الدین کو (جن کا مزار حصار میں ہے) اپنی ہی زندگی میں وفات پاتے دیکھا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے دل نے کس قدر دکھ و آلام اور بیٹوں کی جدائی سے آپ کو تڑپایا ہے کہ قاضی قدوت الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ کے تین صاحبزادے ایسے تھے جن کو خود قاضی صاحب جی بھر کے نہ دیکھ سکے۔ لیکن انہی میں آپ کا ایک شہزادہ ایسا تھا کہ جس نے اپنی زندگی میں اپنی کئی پشتیں دیکھ ڈالیں۔ یعنی اللہ تبارک و تعالی نے قاضی قدوت الدین علی حلبی کے چوتھے صاحبزادے حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار مدارِ پاک کو 596 سال کی عمر عطا کر دی۔

حضرت سیدنا قاضی قدوت الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات بھی ایک صدمے سے ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 318 ہجری میں قرامطہ کا سردار ابو طاہر قرمطی فوج لے کر مکہ مکرمہ گیا۔ یہ حج کا زمانہ تھا، اس نے وہاں پہنچتے ہی حاجیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ سب کا مال و اسباب لوٹ لیا، خانۂ کعبہ کے اندر بھی لوگوں کو قتل کرنے سے باز نہ رہا اور مقتولوں کی لاشوں کو زم زم کے کنویں میں ڈلوا دیا اور حجرِ اسود کو گرز مار کر کعبہ کی دیوار سے الگ کر دیا اور 11 روز تک حجرِ اسود یوں ہی پڑا رہا۔

ابو طاہر نے 11 روز تک مکہ کے باشندوں کو خوب لوٹا اور حجرِ اسود کو اونٹ پر لاد کر اپنی دارالسلطنت بحرین کی جانب لے کر چلا۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ مکہ سے بحرین تک جس جس اونٹ پر حجرِ اسود کو رکھا جاتا وہ ہلاک ہو جاتا۔ اس طرح پورے راستے میں 40 اونٹ ہلاک ہوئے لیکن ان واقعات سے بھی ابو طاہر کو عبرت حاصل نہیں ہوئی۔ اور 20 سال تک حجرِ اسود قرامطہ کے قبضے میں رہا۔ (یہ تحقیق مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی ہے۔)

اس بھیانک اور پُرخطر حادثے کی خبر جب قاضی قدوت الدین علی حلبی کو ہوئی، تو رو رو کر آپ غم سے نڈھال ہو کر صدمے میں آ گئے اور اسی غم و بے چینی میں دل کا دورہ پڑنے سے آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد سرکارِ مدار نے اپنے بھتیجوں کے ساتھ حجرِ اسود کو پانے کی بہت کوشش کی، مگر نتیجہ صفر رہا۔ لیکن آپ اپنے بھتیجوں و محبین کے ساتھ حجرِ اسود کو واپس لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ اور ایک دن وہ آیا کہ سرکارِ مدار اور آپ کے عزیزوں کو اللہ تبارک و تعالی نے پُرمسرت دن دکھایا کہ 336 ہجری کے قریب اور تاریخِ اسلام کے حوالے سے 339 ہجری میں قرامطہ کے سردار ابو طاہر سے ایک معاہدہ ہوا جس میں یہ طے پایا گیا کہ جو شخص عبداللہ بن میمون جو اندھا ہو گیا تھا، اس کی آنکھیں ٹھیک کر دے، حجرِ اسود اس کو دے دیا جائے گا۔ سرکارِ مدار نے حجرِ اسود کو غسل دے کر اس کا پانی اس کی آنکھوں پر ملوایا دیا اور عبداللہ کی بینائی واپس آ گئی۔

صاحبِ جدید مدارِ اعظم نے تاریخِ تہران کے حوالے سے لکھا ہے کہ حجرِ اسود کا چوری ہونے کے بعد بیشتر حصہ ٹوٹ گیا تھا۔ اور سرکارِ مدار اور آپ کے ساتھیوں نے حجرِ اسود کو خانۂ کعبہ میں دوبارہ اسی مقام پر نصب کروایا جہاں نبی نے اپنے ہاتھ سے رکھا تھا۔

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment