علیہِ السلام کے لغوی معنی
علیہِ السلام کے لغوی معنی ہوتے ہیں کہ اُس پر سلامتی۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "آپس میں ایک دوسرے میں سلام کو عام کرو”۔ اب ہم اگر کسی کو السلام علیکم کہہ رہے ہیں، اس کا مطلب ہے ہم نے اُسے علیہِ السلام ہی کہا ہے، اور اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنے والا بھی سلام کرنے والے کو علیہِ السلام کہہ رہا ہے۔
ایسے ہی اکثر شادی کے کارڈ میں دلہے کو "سلّمہٗ ، سلمہا” لکھنا بھی اسے معنوی اعتبار سے علیہِ السلام کہنا ہی ہے، مگر ہمارے ائمہ اہلِ سنت نے، محدثین و مجددین نے لفظِ علیہِ السلام انبیاء کے ناموں کے ساتھ لکھا تو تخصیص کے ساتھ انبیاء کے ناموں کے ساتھ علیہِ السلام کہنا ہم سنیوں کا شیوہ ہو گیا۔
رہا سوال ائمہ اہلِ بیت کے ساتھ علیہِ السلام کہنے کا، تو امام بخاری سے لے کر اکثر ائمہ اہلِ سنت نے انہیں بھی علیہِ السلام لکھا، اور کچھ ائمہ اہلِ سنت نے "رضی اللہ عنہم” بھی لکھا لیکن اہلِ بیت کو علیہِ السلام نہ کہا جائے، اس پر کسی نے شدت اختیار نہیں کی، اور نہ ہی ائمہ اہلِ بیت کو علیہِ السلام کہنے سے کسی سنی امام نے روکا۔ چنانچہ
امام بخاری نے اپنی کتاب "صحیح بخاری” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔ صحیح بخاری مترجم مولانا ناصر الدین مدنی عطاری ، صفحہ ۶۳۹ ، ۶۴۲ ملاحظہ فرمائیں:

"صحیح بخاری” میں صفحہ نمبر ۵۵۱ ، جلد دوم ، امام حسن کے نام کے ساتھ علیہ السلام تحریر ہے
صفحہ کا اسکین ملاحظہ فرمائیں:

"صحیح بخاری” میں صفحہ نمبر ۲۹۹ ، جلد دوم ، امام حسین کے نام کے ساتھ علیہ السلام تحریر ہے
صفحہ کا اسکین ملاحظہ فرمائیں:

حضرت علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب "فتاوی عزیزی” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔
صفحہ ۲۶۳ ملاحظہ فرمائیں:

اور شاہ عبد العزیز دہلوی نے اپنی دوسری کتاب "سر الشہادتین” میں بھی کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔
صفحہ ۷۲ ملاحظہ فرمائیں:

علامہ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب "مدارج النبوہ” کی جلد اول صفحہ ۴۴ پر امام حسن مجتبی سلام اللہ علیہ لکھا ہے
ملاحظہ فرمائیں:

اسی طرح علامہ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی دوسری کتاب "جذب القلوب” میں بھی کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔
صفحہ ۲۹ اور ۷۲ ملاحظہ فرمائیں:

سید علی ہمدانی نے اپنی کتاب "مودۃ فی القربی” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
ملاحظہ فرمائیں:

علامہ ابراھیم بن محمد جوینی نے اپنی کتاب "فرائد السمطین” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۲۶۵ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی کی تعلیمات پر مبنی کتاب "لطائف اشرفی” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۱۸۳ ، حصہ اول ملاحظہ فرمائیں:

قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی کتاب "السیف المسلول” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام موجود ہے
مثلاً صفحہ ۲۳۵ ملاحظہ فرمائیں:

یوسف بن فرغلي (سبط ابن جوزی) علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "تذکرۃ الخواص” میں بیشتر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۴ ملاحظہ فرمائیں:

شیخ سلیمان قندوزی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "ینابیع المودہ” میں بیشتر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً باب ۳۹ ملاحظہ فرمائیں:

محمد بن جریر الطبری نے اپنی کتاب "دلائل الامامہ” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۳۱ ملاحظہ فرمائیں:

کتاب "مطالب السؤول في مناقب آل الرسول” میں محمد بن طلحة الشافعي نے بھی اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۱۷۰ ملاحظہ فرمائیں:

کتاب "کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب” میں حافظ محمد بن یوسف کنجی شافعی نے بھی اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۴۲ ملاحظہ فرمائیں:

مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی کی کتاب "فتاوی رضویہ” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً: صفحہ ۴۲۹ کتاب الصلاۃ ، باب الاذان و الاقامہ ، ملاحظہ فرمائیں:




علامہ صائم چشتی نے اپنی کتاب "البتول” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۱۶۷ ملاحظہ فرمائیں:

صوفی ظہیر احمد شاہ جہانگیری نے اپنی کتاب "نگار یزداں” میں اکثر مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۴۹۷ ملاحظہ فرمائیں:

ابو الحماد مفتی محمد اسرافیل حیدری مداری نے اپنی کتاب "عقائد اہلسنت والجماعت” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۲۶۵ ملاحظہ فرمائیں:

مولوی محمد حشمت علی سنی حنفی بریلوی نے اپنی کتاب کا نام ہی "تذکرۂ حسنین علیہما السلام رکھا”۔
اول صفحہ ملاحظہ فرمائیں:

مفتی غلام رسول نے بھی اپنی ایک کتاب کا نام ہی "تذکرۂ امام حسین علیہ السلام” رکھا۔
علاوہ اس کے کئی مقامات پر علیہ السلام تحریر فرمایا فی الحال اول صفحہ ملاحظہ فرمائیں:

میر حسین دوست سنبھی نے اپنی کتاب "تذکرۂ حسینی” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۱۸ ملاحظہ فرمائیں:

مولوی محمد علم الدین قادری نے اپنی کتاب "تذکرۂ حسینی” میں کئی مقامات پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام ہی لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۲۲ ملاحظہ فرمائیں:

مولوی انوار اللہ چشتی قادری نے اپنی کتاب "مقاصد الاسلام” کے ‘حصہ پنجم’ پر اہل بیت کے اسمائے گرامی کے ساتھ علیہ السلام لکھا ہے
مثلاً صفحہ ۴۳ ملاحظہ فرمائیں:

طبقات کبیر میں امام اہلِ سنت امام زہری نے صفحہ نمبر 65 اور 96 پر علی علیہ السلام لکھا
فضائلِ قرآن کے باب میں امام بخاری نے صفحہ نمبر 994 پر حسین علیہ السلام لکھا
امام احمد بن حنبل نے فضائلِ صحابہ کے صفحہ نمبر 695 میں علی علیہ السلام لکھا
صفحہ 218 کتاب الجہاد والسیر کے باب لباس البیضہ میں فاطمہ علیہ السلام لکھا
فاضلِ بریلوی نے "اعلیٰ الافادہ فی تعزیت الہند و بیان الشہادہ” کے صفحہ نمبر 3 پر حسین علیہ السلام لکھا
اثبات الوصیت میں امام ابو الحسن علی بن حسین بن علی مسعودی ہذلی صاحب "مروج الذہب” (جن کا وصال 346 ہجری میں ہوا) انہوں نے بھی ائمہ اہلِ بیت اور سیدہ فاطمہ کو علیہا السلام لکھا
اھل بیت کے اسماے گرامی کے ساتھ علیہ السلام کہنے پر فتوی نہ لگاو بلکہ اپنی کم علمی اور جہالت کا علاج کراؤ ، محدثین اھل سنت کے نذدیک متواتر ثابت ھے۔ بخاری نے مولا علی علیہ السلام کے لیے ایک باب کا ذکر کیا، اور عنوان میں ہی علیہ السلام کا ذکر ہے
ملاحظہ ہو صحیح بخاری، جلد ۵، صفحہ ۱٦۳
ابُ بَعْثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَخَالِدِ بْنِ الوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِلَى اليَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الوَدَاعِ
بی بی فاطمہ کے لیے تو انہوں نے کئی مقام پر علیہ السلام کا ذکر کیا
مثال کے طور پر جلد ۴، صفحہ ۴۰، حدیث ۲۹۱۱؛ میں بی بی پاک کا نام یوں لکھا ہے
فَكَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، تَغْسِلُ الدَّمَ وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ
اسی طرح جلد ۵، صفحہ ۲۰، حدیث ۳۷۱۱؛ پر آتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ
جلد ۵، صفحہ ۹۰، حدیث ۴۰۳۵؛ پر یوں آتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، وَالعَبَّاسَ،
اور بھی مواقع ہیں، تاہم بی بی پاک کے لیے ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں
امام حسن کے لیے آتا ہے ؛ جلد ۴، صفحہ ۱۸۷، حدیث ۳۵۴۴ ؛ پر آتا ہے
رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ يُشْبِهُهُ،
امام حسین علیہ السلام کے لیے آتا ہے جلد ۴، صفحہ ۷۸، حدیث ۳۰۹۱؛ پر آتا ہے
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ
ائمہ حدیث اور اکابرین اہل سنت کے ہاں یہی طریقہ رائج رہا ہے چنانچہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم اورسنن ابی داؤد وغیر ہ کتب احادیث کے قلمی اور قدیم مطبوعہ نسخوں میں بہت سے مقامات پر حضرت اہل بیت کے اسماء مبارکہ کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھا ہوا موجود ہے اور ان کی مشہور شروحات مثلاً فتح الباری ،عمدۃ القاری وغیرہ میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ملتا ہے لیکن ان ہی کتب کے بعض مطبوعہ جدید نسخے بددیانت ناشرین کی تحریف کا نشانہ بن گئے اور علیہ السلام کی بجائے ’’رضی اللہ عنہ ‘‘ لکھاگیا ہے شاید اسی بنا پر شیخ عبد الحق محدث دہلوی کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہی پڑا ہے چنانچہ لکھتے ہیں ’’متقدمین میں اہل بیت اطہار اور ازواج مطہرات پر سلام کہنا متعارف تھا اور مشائخ اہل سنت کی پرانی کتابوں میں اہل بیت پر سلام لکھا ہوا پا یا جاتا ہے اور متاخرین میں اس کا چھوڑ دینا مروج ہو گیا ہے ‘‘۔
(اشعۃ اللمعات جلد اول صفحہ ۲۳۴ نول کشور لکھنو)
چنانچہ خود محدث دہلوی نے اپنی تمام تالیفات میں جہاں کہیں ائمہ اہل بیت کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے ساتھ ’’علیہ السلام ‘‘ استعمال کیا ہے جیسا کہ اپنی کتاب ’’ما ثبت بالسنہ‘‘ طبع لاہور میں یوں عنوان قائم کیا ہے
ذکر مقتل سیدنا الامام الشیھد السعید سبط رسول اللہ الامام ابی عبد اللہ الحسین سلام اللہ علیہ وعلیٰ اباۂ الکرام
اپنی ایک دوسری تصنیف میں لکھتے ہیں :
درموضع قبور امام حسن وزین العابدین ومحمد باقر وجعفرصادق سلام اللہ علیھم اجمعین
مدارج النبوۃ جلد ۲صفحہ ۵۴۵ طبع نول کشور
(الف) صحیح بخاری مع فتح الباری المطبعۃ الخیر یہ مصر جلد ششم کے صفحات ۲۶،۱۲۲،۱۳۱،۱۳۲،۱۷۷
پر فاطمہ علیہا السلام لکھا ہے ۔
ب) جلد ششم صفحہ ۱۱۹میں ’’الحسین بن علی علیہا السلام ‘‘تحریر ہے ۔
(ج) جلد ششم صفحہ ۳۶۴پر ’’الحسن علی علیہا السلام ہے ۔
(د) جلد ہفتم کے صفحات ۵۳،۵۶،۱۱۴،۲۳۶،۳۴۵اور ۳۵۵میں ’’فاطمۃ علیہا السلام ‘‘موجود ہے۔
(ھ) جلد نہم صفحہ ۱۰۹ پر ’’علی بن حسین علیہا السلام ‘‘ ۲۷۴،۴۰۷ میں ’’فاطمۃ علیہا السلام ‘‘تحریر ہے ۔
(د) جلد سیزدہم ،صفحہ ۳۴۷ پر’’حسین بن علی علیہاالسلام ‘‘لکھا ہے ۔
اس کے علاوہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد ہفتم صفحہ ۲۳۷مطبوعہ قسطنطنیہ میں ’’فاطمۃ علیہاالسلام ‘‘ہے ارشاد الباری شرح صحیح البخاری جلداول صفحہ ۹۷ میں بھی یہی کچھ لکھا ہے ۔
کئی جگہ پر بخاری شریف میں ہے ۔ امام بخاری اہل بیت اطہار کے نام کے ساتھ علیہ السلام کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ جیسے آپ یہ ایک حدیث کے الفاظ ملاحظہ کریں۔
أتي عبيد الله بن زياد برأس الحسين بن علي عليه السلام ، فجعل في طست ، فجعل ينكت ، وقال في حسنه شيئا ، فقال أنس : كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم ، وكان مخضوبا بالوسمة .
صحيح البخاري – الرقم: 3748
اس حدیث میں امام بخاری نے امام حسین بن علی کے لئے لفظ علیہ السلام استعمال کیا ہے۔
اسی طرح امام ابو داود نے اس روایت میں امام علی علیہ السلام کے ساتھ لفظ استعمال کیا
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ.
سنن أبي داود ج۲ ص ۳۸ المؤلف : أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني
اسی طرح عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد ہفتم (7) صفحہ 237 مطبوعہ قسطنطنیہ میں
"فاطمۃ علیہاالسلام”
ہے.("ارشاد الباری شرح صحیح البخاری”)
قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی نے اپنی تفسیر مظہری جلد ہفتم صفحہ 412 پر لکھا
رواہ احمد عن الحسین بن علی علیھما السلام ۔۔ ۔ وروی الطبرابی بسند حسن عن الحسین بن علی علیھما السلام –
اسی طرح امام شافعی علیہ رحمہ تو اہل بیت کے نام کے ساتھ لفظ علیہ السلام ہی استعمال کرتے تھے۔
اسی طرح مسلم شریف میں بھی کئی جگہوں پر امام مسلم نے اہل بیت کے ساتھ لفظ علیہ السلام استعمال کیا ہے۔
اکثر اسلامی کتب میں حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ لفظ سلام اللہ علیہا اور علیہ السلام پڑھا ہے۔
اور حضرت جبریل امین کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاتا ھے
اکثر و بیشترلوگ اہلبیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام سنتے ہیں، تو سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ جائز ہے؟ یہ سوال دراصل ان کے لاعلمی پر دلیل ہے، ورنہ بخاری نے اپنی صحیح میں کئی مقام پر اہلبیت کے اسمائے مبارک کے ساتھ علیہ السلام لگایا ہے ، اس مقصد کے لیے کسی بھی جگہ صحیح بخاری کا عربی نسخہ دیکھا جاسکتا ھے
اللہ تعالی نے جن پر درود و سلام بھیجا ھو ان پر سلام کیوں نھیں بھیجا جاسکتا حضرت مریم وحضرت جبریل علیھم السلام ان کے غلاموں میں شامل ھیں جب غلاموں کے نام کے ساتھ علیہ السلام ھے تو جو ساری کائنات کے سردار ھیں ان کے اسماے گرامی کے ساتھ سلام کیوں نھیں
ﺫرا سوچیے گا یہ کہیں بغض یا جہالت تو نھیں ھے ??











