اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کا مہینہ ہے جس کا نام ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ۔ ماہ رمضان وہ ہے نازل فرمایا گیا جس میں قرآن رہنمائی کے لئے لوگوں کی اور روشن دلائل ہیں ہدایت کے اور حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے پھر جو پائے تم میں سے ماہ رمضان تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو ہے بیمار یا سفر پر تو گنتی پوری کرے دوسرے دنوں میں چاہتا ہے اللہ تمہارے ساتھ آسانی اور نہیں چاہتا تمہارے ساتھ دشواری اور یہ اسلئے کہ تم پوری کرلو گنتی اور یہ اسلئے کہ تم بڑائی بیان کرو اللہ کی اس پر کہ اس نے ہدایت فرمائی تم کو اور تاکہ تم شکرگزای کرو۔
(بصیرۃ الایمان پارہ 2 سورۃ بقرہ آیت 184)
حضور نبی کریم ﷺ کا وہ خطبہ سناتا ہوں جس سے ہم سب کو اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کا صحیح اندازہ ہو سکتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخر شعبان میں نبی کریم علیہ سلام نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
اے لوگو! تم پر عظمت والا مہینہ سایہ کر رہا ہے یہ مہینہ برکت والا ہے، جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ نے فرض کئے ، اور جس کی راتوں کا قیام نفل بنایا ، جو اس مہینہ میں کسی نفلی نیکی سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہے تو اسے فرض ادا کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ اور جو اس مہینہ میں کسی نفل نیکی سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہے تو اسے فرض ادا کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا تو اسے دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے برابر ثواب ملے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ آپس میں ہمدردی کا مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو اس مہینہ میں کسی روزے دار کو افطار کرائے تو اس کے گناہوں کی بخشش ہوگی اور آگ سے اس کی گردن آزاد ہو جائے گی ، اور اس کو روزے دار کا سا ثواب ملے گا۔ روزے دار کے ثواب میں کمی کے بغیر (حضرت سلمان فرماتے ہیں) ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص کے پاس روزہ افطار کرانے کا انتظام نہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا ، جو دودھ کے ایک گھونٹ یا کھجور ، یا گھونٹ بھر پانی سے کسی کو افطار کرائے، اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلایا اللہ اسے قیامت کے دن وہ پانی پلائے گا جس کے بعد جنت میں جانے تک وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے اول میں رحمت بیچ میں بخشش اور آخر میں آگ سے آزادی ہے اور جو اس مہینہ میں اپنے غلام (ملازم) سے نرمی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور آگ سے آزاد کر دیگا۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ خطبہ رمضان کی عظمت اور برکت کو سمجھنے کے لیے واضح اور کافی ہے غور فرمائیے ، کہ آپ نے اس مہینہ کے آنے کی خبر دیتے ہوئے فرمایاکہ تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ کرنے والا ہے یعنی رمضان ایک ایسا سایہ دار درخت ہے کہ جو مسلمان بھی اس کے نیچے ، تھکا ، ہارا ، آتا ہے ۔ اس کو یہ سکون بخشتا ہے، دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچا لیتا ہے، حقیقت یہی ہے کہ روزہ رکھنے والا اگر چہ ، دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے ، رات کو تراویح ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود، اسے ایک خاص، فرحت، سکون اور روحانی سرور حاصل ہوتا ہے ۔ جیساکہ نبی کریم علیہ اسلام نے فرمایا۔
روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک تو افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملتے وقت نصیب ہوگی۔ جب مسلمان افطار کرتا ہے ، تو اس کی خوشی اس کے چہرے سے ظاہر ہونے لگتی ہے سکون ملتا ہے، کیسے سرور حاصل ہوتا ، اس کا صحیح اندازہ صرف روزے دار ہی کو ہوتا ہے۔ روزہ پورا ہونے اور اس عظیم عبادت کے ادا کرنے میں کامیابی پر خوشی سے دل جھوم اٹھتا ہے۔
اور دوسری خوشی جو خدا کے دربار میں حاضری کے وقت نصیب ہوگی ، اس کو ہم اپنے لفظوں میں کیسے بیان کر سکتے۔ بس اللہ ہمارے روزے قبول کرے، تو ہمیں یقین کہ پھر قیامت کے دن ہمارا رب ہم سے خوش ہوکر یہی فرمائے گا : اے بندے، جو میں نے کہا وہ تو نے دنیا میں رضی کرنے کے لئے کیا تو اب میں تجھ سے راضی ہوں اور اب یہاں جو تو کہے گا وہ میں کرونگا۔
حضور نبی کریم علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں ہمیں بتایا کہ یہ مہینہ ایسی رحمتیں برساتا آیا ہے کہ اس مہینہ میں ایک نفلی نیکی کرنے والا اتنا ثواب پاتا ہے جتنا عام دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے اور اس مہینہ میں ایک فرض عبادت کرنے والے کو اتنا ثواب دیا جاتا ہے جتنا عام دنوں میں ستر فرض ادا کرنے پر دیا جاتا ہے ، پس آج ہم جس قدر بھی خدا کا شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں اتنی عمر عطا فرما دی کہ ہمیں یہ مہینہ نصیب ہو گیا، اب ہم جتنا چاہیں ثواب بٹور لیں اور جو چاہیں اپنے رب سے مانگ لیں کہ اس کی رحمت کا سایہ پھیلا ہوا ہے، بس اس کے نیچے پہنچنے کی دیر ہے۔ حضور علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق یہ مقدس مہینہ ہمارے اندر صبر کی قوت پیدا کرے گا۔ جو مومن کامل ہونے کی علامت ہے اور باہمی ہمدردی و محبت کا جذبہ بیدار کرے گا۔ جومسلم معاشرے کی خصوصیت ہے۔ اس مہینہ کی برکت سے ہمارے رزق میں فراخی ہوگی۔ پس مبارک ہو کہ یہ مہینہ آگیا اور خدانے ہمیں یہاں جمع ہونے کی توفیق بخشی دیکھئے رب کریم کے کرم کے دروازے کھل چکے ہیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کر دئیے جاتے ہیں دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا ، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور غیبی پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی چاہنے والے آ اور اے برائی چاہنے والے باز آ جا اور اللہ کی طرف سے لوگ آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔
ہم یقین کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس وقت سے شیاطین اور سرکش جن قید ہوچکے ہیں ، دوزخ کے دروازے بند ہیں جنت کے دروازے کھلے ہیں۔ خدا کی طرف سے پکار آرہی ہے کہ جھولیاں پھیلاؤ اور بھرلو، گناہوں سے نجات کا اعلان ہو رہا ہے ، اب نفس پر قابو کرنا باقی ہے ، جو ہمارا کام ہے۔ پس آئیے عزم کریں
کہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ حاصل کریں گے روزانہ اسی طرح جمع ہوں گے، پابندی سے تراویح ادا کریں گے ، روزہ رکھیں گے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کریں گے ، اپنے اندر صبر کی قوت پیدا کریں گے۔ آپس کی کدورتوں اور نفرتوں کو محبت میں بدل کر ایک دوسرے کے لیے ایثار کریں گے ، غریبوں کی ہر طرح مددکریں گے، مصیبت زدہ بھائیوں کو سکھ فراہم کریں گے یقین جانیے اگر ہم یہ عزم کرلیں تواس مقدس مہینہ کا ہم پر ایسا سایہ ہوگا کہ ہمیشہ کے لیے دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے نجات پالیں گے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین یا رب العالمین۔
مولانا راشد حسن قدیری










