سلسلۂ عالیہ طبقاتیہ مداریہ کے جن بزرگوں نے اپنے عمل، زہد اور کامل توکل کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا، ان میں حضرت شاہ وحید الدین طبقاتی مداری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ ایک صاحبِ زہد و توکل بزرگ تھے اور سلسلۂ عالیہ طبقاتیہ مداریہ میں شامل اُن اہلِ حال اولیا میں سے تھے جن کی زندگیاں خاموش مگر اثر انگیز ہوتی ہیں۔
روحانی نسبت اور معاصرت
حضرت شاہ وحید الدین رحمۃ اللہ علیہ، سلسلۂ عالیہ طبقاتیہ مداریہ کے مرید اور اپنے وقت کے جلیل القدر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ حضرت صوفی حاجی نور محمد جائیگامی رحمۃ اللہ علیہ کے معاصر تھے۔ یہ معاصرت اس دور کے روحانی ماحول اور اہلِ سلوک کی کثرت کی جانب واضح اشارہ کرتی ہے۔
اوقات و معمولات
آپ کے اوقات نہایت اچھے اور منظم تھے۔ ذکر، عبادت اور یادِ الٰہی آپ کی زندگی کا مرکزی محور تھا۔ زہد و قناعت اور توکل علی اللہ آپ کی عملی زندگی میں نمایاں طور پر جھلکتا تھا، اور یہی اوصاف آپ کو اہلِ دل میں ممتاز بناتے تھے۔
وصال
حضرت شاہ وحید الدین طبقاتی مداری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نہایت بابرکت حالت میں اس دارِ فانی سے رخصت اختیار کی۔
آپ کا وصال ۱۲۸۴ھ میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران، جمعہ کے دن، نمازِ فجر کے وقت، عین حالتِ صوم میں ہوا۔ ایسی وفات بندگان خدا کے لیے سعادتِ عظمیٰ سمجھی جاتی ہے۔
قطعۂ تاریخِ وفات
چوں بروزِ جمعہ وقتِ صبح از حکمِ خدا شد
درستاں ترحیلِ آن اہلِ توکل اہلِ زہد
وحید الدین متوکل سوئے عقبا شتافت
ہاتفے گفتہ وحید الدین ز دنیا رو بتافت
خلاصہ
حضرت شاہ وحید الدین طبقاتی مداری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموش عبادت، کامل توکل اور سادہ طرزِ حیات انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچا دیتی ہے۔ آپ سلسلۂ عالیہ طبقاتیہ مداریہ کے اُن بزرگوں میں سے ہیں جن کا ذکر کم، مگر اثر دیرپا ہے۔
ماخوذ
کتاب: سیر المدار
مصنف: ظہیر احمد سہسوانی بدایونی
صفحہ: ۱۴۸








