ایک صاحبِ کمال بزرگِ سلسلۂ عالیہ مداریہ
سلسلۂ عالیہ مداریہ کے اُن ممتاز بزرگوں میں جنہوں نے خلوت، ذکرِ الٰہی اور توکل کے اعلیٰ نمونے قائم کیے، حضرت شیخ کرم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت ادب و احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ حضرت سید جمال الدین جانمن جنتی قدس اللہ سرہ العزیز کے خاص اور باخدا مریدوں میں شمار ہوتے ہیں، جو خود حضرت سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر خلیفہ تھے۔
پیدائش اور قبولِ نذر کا واقعہ
حضرت شیخ کرم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ایک غیر معمولی روحانی پس منظر رکھتی ہے۔ آپ کے والدین، بالخصوص والدہ، ابتدا میں عقیمہ تھیں۔ حضرت سید جمال الدین جانمن جنتی قدس اللہ سرہ العزیز کی بارگاہ میں اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی گئی۔ اس موقع پر حضرت جانمن جنتی نے ارشاد فرمایا کہ:
حق تعالیٰ تمہیں سات لڑکے عطا فرمائے گا، مگر ساتواں لڑکا مجھے دینا ہوگا۔
جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا اور وعدے کے مطابق آپ ساتویں بیٹے کی حیثیت سے پیدا ہوئے، تو والدین نے وفائے عہد کرتے ہوئے آپ کو حضرت جمال الدین جانمن جنتی قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں نذر کر دیا۔
نام، تربیت اور تعلیم
حضرت جمال الدین جانمن جنتی قدس اللہ سرہ العزیز نے آپ کا نام کرم اللہ رکھا۔ آپ کو نہ صرف اپنی خاص توجہ سے نوازا بلکہ آپ کی تعلیم و تربیت کا بھی بھرپور انتظام فرمایا اور تعلیم کے لیے اہلِ علم کے سپرد کیا۔
جب آپ تحصیلِ علوم سے فارغ ہوئے تو سب سے پہلے حضرت جانمن جنتی قدس اللہ سرہ العزیز نے خود آپ کو مرید کیا، اور چند ہی دنوں بعد آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا۔ مرشدِ کامل کی توجہ اور صحبت کی برکت سے آپ بہت جلد صاحبِ کمال بن گئے۔
طبعی میلان اور خلوت گزینی
تذکرۃ الصالحین میں مذکور ہے کہ حضرت شیخ کرم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی طبیعت فطری طور پر خلوت دوست تھی۔ آپ کو ہجوم اور کثرتِ خلائق سے وحشت محسوس ہوتی تھی۔ جب لوگوں کی آمد و رفت کی وجہ سے آپ کے اوقاتِ عبادت میں خلل آنے لگا تو آپ نے گوشہ نشینی کو ترجیح دی۔
چنانچہ ۹۶۴ھ میں، بعہدِ سلطنت
حضرت عرش آستانی جلال الدین محمد اکبر بادشاہ غازی،
آپ منڈوا تشریف لے گئے اور وہاں مکمل خلوت اختیار کر لی۔
چالیس سالہ مجاہدہ
حضرت شیخ کرم اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً چالیس برس منڈوا میں نہایت اطمینان اور فراغتِ قلب کے ساتھ ذکر، فکر اور یادِ الٰہی میں بسر کیے۔ اس طویل خلوت نے آپ کی روحانی عظمت کو مزید جِلا بخشی اور آپ اہلِ باطن کے لیے ایک درخشاں مثال بن گئے۔
وصال
یہ مردِ خدا بالآخر اپنے ربِ کریم سے جا ملا۔
آپ کا وصال ۱۱ رمضان المبارک ۱۰۰۴ھ میں ہوا۔
قطعۂ تاریخِ وفات
عازمِ فردوس شد چون زیں جہاں
عمدۂ زہّاد کرم اللہ شاہ
گفت ہاتف مصرعۂ تاریخِ او
شاہِ کرم اللہ جنان آرامگاہ
خلاصہ
حضرت شیخ کرم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ دعائے اولیا، وفائے عہد، اخلاص اور خلوت انسان کو بلند روحانی مراتب تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپ سلسلۂ عالیہ مداریہ کے اُن باطنی بااثر بزرگوں میں سے ہیں جن کی یاد اہلِ دل کے لیے آج بھی سرچشمۂ ہدایت ہے۔
ماخوذ
کتاب: سیر المدار
مصنف: ظہیر احمد سہسوانی بدایونی
صفحہ: ۱۶۰








