ہم لفظ "انفاق” کو تو جانتے ہیں جس کا لغوی معنی "مال نکالنا یا خرچ کرنا” ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سال میں ایک مہینہ بھوکا کیوں رکھا؟ کیا میرے رب کو (نعوذ باللہ) ہماری بھوک کی حاجت ہے؟ کیا وہ نہیں دیکھ رہا کہ اس کا بندہ پیاس سے تڑپ رہا ہے؟
قرآن کہتا ہے: "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (تم نیکی کی حقیقت کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیز خرچ نہ کر دو)۔
عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ محبوب چیز صرف "روپیہ پیسہ” ہے، لیکن یاد رکھیے! انسان کو اپنے مال سے زیادہ اپنی "ذات”، اپنی "راحت” اور اپنی "انا” محبوب ہوتی ہے۔ روزہ دراصل انفاقِ نفس کا نام ہے۔ یہ اپنی محبوب ترین ضرورتوں (کھانا، پینا اور خواہش) کو اللہ کے حضور "انفاق” کر دینے کا نام ہے۔
روزے کی معرفت
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ روزہ صرف سورج ڈھلنے تک کھانے پینے سے رکنے کا نام ہے، لیکن اس رکن کی اصل معرفت "انفاقِ رغبت” ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حلال رزق سے اس لیے روکا تاکہ آپ کو یہ احساس ہو کہ جب حلال (پانی اور روٹی) پر آپ کا حق ہوتے ہوئے بھی آپ اسے اللہ کے لیے چھوڑ سکتے ہیں، تو پھر حرام رزق، یتیم کا مال اور غریب کا حق چھوڑنا کتنا ضروری ہے۔
روزہ ایک "ٹریننگ کیمپ” کی طرح ہے جہاں سپاہی کو پیاسا رکھا جاتا ہے تاکہ جنگ کے میدان (عملی زندگی) میں وہ ثابت قدم رہے۔ اگر ٹریننگ کے بعد بھی سپاہی بزدل رہے، تو ٹریننگ محض ایک "رسم” تھی۔ روزے کی معرفت یہ ہے کہ افطار کے وقت دسترخوان پر بیٹھ کر آپ کو اپنی بھوک سے زیادہ اس بیوہ کی بھوک کا فکر ہو جس کا چولہا نہیں جلا۔
لوگ زکوٰۃ یا صدقہ کو ایک مالی بوجھ یا ٹیکس سمجھتے ہیں، جبکہ اس کی معرفت محبت کا امتحان ہے۔ ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ "زکوٰۃ کتنی ہے؟” انہوں نے فرمایا: "عوام کے لیے چالیسواں حصہ، اور عشق والوں کے لیے سب کچھ”۔
خرچ کرنے کی معرفت یہ ہے کہ آپ مال نہیں دے رہے، بلکہ اپنے دل سے "دنیا کی محبت” نکال رہے ہیں۔ اللہ کو آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں، اسے آپ کے دل کی وہ تڑپ چاہیے جو دوسرے کا دکھ دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔
جب ہم ولیمے میں صرف اشرافیہ کو بلاتے ہیں، تو ہم اللہ کی نعمت کا شکر نہیں بلکہ اپنی حیثیت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ مدینہ کے ایک صحابیؓ نے ولیمہ کیا اور سب سے پہلے محلے کے مساکین کو بٹھایا۔ کسی نے کہا: بڑے لوگوں کو بھی تو بلائیں۔ انہوں نے فرمایا: بڑے لوگ وہ ہیں جنہیں کھلانے پر اللہ خوش ہو جائے، نہ کہ وہ جو میرا کھانا کھا کر مجھ پر احسان کریں۔
روزہ دار اکیلا بیٹھ کر افطار کر سکتا ہے، اس کے پاس رزق موجود ہے، بھوک لگی ہے، وہ اس کا حقدار ہے، لیکن وہ دوسرے کو شریک کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے درد کو سمجھا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ افطار کرانے والے کو بھی روزہ دار جتنا ثواب ملے گا۔ یہ ثواب محض کھانے کی قیمت کا نہیں، بلکہ اس "احساسِ شرکت” کا ہے جو میزبان کے دل میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی بھوک کے آئینے میں دوسرے کی پیاس کو دیکھا۔
مثلاً آپ شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں! کیوں مار رہے ہیں? شیطان نے کیا کیا آپکا? کون سا گناہ کیا اس نے? یہی نا کہ اس نے ہمارے رب کے سامنے غرور و تکبر اور انانیت کا مظاہرہ کیا تھا تو حج میں "رمی جمار” (شیطان کو کنکریاں مارنا) دراصل شیطان اور شیطان کے حیرت و تکبر کو مارنا ہے۔ اگر حاجی مکہ سے آکر بھی غریبوں کو حقیر سمجھے، تو اس نے پتھر تو مارے مگر اپنے اندر کے شیطان کو ذبح نہیں کیا گویا اس انسان نے وہ کنکریاں خود کو ماری ہیں ، رمضان کی تربیت حج کا عشق اور محرم کی قربانی مل کر ایک ایسے انسان کو جنم دیتی ہے جو "خیر الناس من ینفع الناس” (بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے) کا پیکر ہوتا ہے۔
تاریخِ انسانیت کے حسین انسان یوسف علیہ السلام کا واقعہ دنیا یاد رکھیے! جب وہ مصر کے خزانوں کے مالک تھے، تب بھی اکثر بھوکے رہتے تھے۔ کسی نے پوچھا: "اے یوسف! آپ کے پاس تو زمین کے خزانے ہیں، پھر آپ بھوکے کیوں رہتے ہیں؟” آپؑ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جو آج ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے: "مجھے ڈر ہے کہ اگر میرا پیٹ بھر گیا تو میں بھوکوں کا دکھ بھول جاؤں گا”۔ (احیاء العلوم)
اسی کی ایک مثال عباس علمدار ہیں کربلا کے میدان میں حضرت عباس علمدارؓ کا دریا پر جانا اور پانی نہ پینا "انفاقِ پیاس” کی عظیم ترین مثال ہے۔ جب آپؓ نے چلو میں پانی بھرا اور اسے اپنے خشک ہونٹوں کے قریب لائے، تو آپ کو امام حسینؑ اور چھوٹے بچوں کی پیاس یاد آگئی۔ آپؓ نے وہ پانی واپس دریا میں گرا دیا۔ یہ "مما تحبون” کی انتہا ہے! پیاس لگی ہے، پانی ہاتھ میں ہے، کوئی دیکھنے والا نہیں، مگر "دردِ غیر” (دوسروں کا دکھ) اپنی ضرورت پر غالب آگیا۔
عبداللہ بن مبارک حج کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک عورت کو کوڑے دان سے مرا ہوا پرندہ اٹھاتے دیکھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بیوہ ہے اور کئی دن سے اس کے بچے فاقے سے ہیں۔ آپؒ نے حج کے لیے جمع کی گئی تمام رقم (جو ان کا محبوب مال تھا) اس عورت کو دے دی اور خود گھر واپس آ گئے۔ اس سال غیب سے ندا آئی کہ "عبداللہ بن مبارک کا حج قبول ہو گیا حالانکہ وہ مکہ نہیں پہنچے”۔
ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادیؒ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی: "حضرت! میں بہت عبادت کرتا ہوں، روزے رکھتا ہوں، مگر دل میں وہ ‘درد’ اور ‘رقت’ پیدا نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے۔” آپؒ نے فرمایا: "تم نے مال کا انفاق تو کیا ہوگا، کبھی اپنی پسند کا انفاق بھی کیا؟ جاؤ! اور کسی ایسے شخص کو کھانا کھلاؤ جسے تم ناپسند کرتے ہو، یا اپنی وہ چیز صدقہ کرو جس کے بغیر تمہارا گزارا مشکل ہو۔” جب اس شخص نے اپنی پسندیدہ پوشاک ایک سائل کو دے دی، تو اسے سجدے میں وہ لذت ملی جو ہزار نفلوں میں نہ تھی۔
ہمارا حال:
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میت کا کھانا تو یہ کہہ کر نہیں کھاتے کہ "غریب کا حق ہے”، لیکن ولیموں اور افطار پارٹیوں میں وہ اسراف کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! ہم بھول جاتے ہیں کہ میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "بدترین کھانا اس ولیمے کا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے” اگر روزہ رکھ کر بھی ہمارے اندر غریب کے لیے جگہ پیدا نہیں ہوئی، تو ہم نے صرف خوراک کا ٹائم ٹیبل بدلا ہے، اپنی تقدیر اور اخلاق نہیں بدلے۔ دراصل آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جب عبادت یا رسم سے اس کی روح (معرفت) نکل جاتی ہے، تو وہ محض ایک مشق یا بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔
ایک بزرگ نے حج کیا، واپس آئے تو کسی نے پوچھا: "کعبہ کیسا تھا؟” انہوں نے رو کر کہا: "میں تو وہاں صاحبِ کعبہ کو ڈھونڈنے گیا تھا، پتھروں کو دیکھنے نہیں۔” حج کی معرفت یہ ہے کہ انسان اپنا سب کچھ لٹا کر (انفاق کر کے) اللہ کا ہو جائے۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کی "انا” نہیں ٹوٹی، تو اس نے رکن تو ادا کیا مگر معرفت نہ پائی۔ اسی طرح روزے کا حقیقی پہلو یہ تھا کہ انسان کا نفس قابو میں آئے۔ ورنہ اللہ کو بھوکا رکھنے سے کیا ملے گا؟ اللہ تو بس بیداری چاہتا ہے جس نے روزے کی معرفت پا لی، اسے غریب کے فاقے پر برا لگنے لگتا ہے۔ اسے پتا چل جاتا ہے کہ میرا سحری کا لقمہ تب تک قبول نہیں جب تک میرا پڑوسی بے چین ہے۔
نظام قدرت مقصد الہی
رمضان : رمضان میں ہم نے بھوک، پیاس اور خواہش کا انفاق کرنا سیکھا (تربیت)۔
شوال : عید کے فوراً بعد شوال آتا ہے جو یہ دیکھتا ہے کہ کیا وہ "دردمندی” عید کے دسترخوان پر باقی رہی یا ولیموں کی نمائش میں کھو گئی؟ شوال کے چھ روزے اس "تربیتی کورس” کے تسلسل کی علامت ہیں۔
ذی القعدہ : ذی القعدہ خاموشی اور تیاری کا مہینہ ہے، جہاں روح کعبے کے دیدار کے لیے تڑپتی ہے۔
ذی الحجہ : حج دراصل "انفاقِ کُل” ہے۔ حاجی اپنا گھر، بار، سلے ہوئے کپڑے (انا)، مال اور وقت سب کچھ اللہ کے لیے "خرچ” کر دیتا ہے۔ کعبے کا طواف اس بات کا اعلان ہے کہ اب میری زندگی کا مرکز صرف تو ہے۔
محرم : ایثار و قربانی کا عظیم درس۔ اگر رمضان نے "بھوک” سکھائی، تو کربلا نے "پیاس کی انتہا” میں بھی حق پر ڈٹ جانا سکھایا۔ امام حسینؑ نے کربلا کے میدان میں وہ انفاق کیا جس کی مثال کائنات میں نہیں ملتی۔ آپؑ نے صرف مال نہیں، بلکہ اپنا بھرا پورا گھرانہ، اپنے جوان بیٹے، اور اپنی جان تک اللہ کی راہ میں "انفاق” کر دی۔ روزہ دار تو شام کو افطار کر لیتا ہے، لیکن کربلا کے شاہسواروں نے تین دن کی پیاس کے بعد شہات کا جام پی کر اپنا روزہ "رب کے دیدار” سے افطار کیا۔
سحری میں ہم اس لیے کھاتے ہیں کہ دن بھر کا روزہ نبھا سکیں (یہ تیاری ہے)۔ اسی طرح رمضان اس لیے ہے کہ ہم باقی ۱۱ مہینے کا "انسانیت کا روزہ” نبھا سکیں
روزے کا مقصد ہمیں دردمند بنانا ہے۔ اللہ کو ہماری بھوک سے کچھ نہیں ملے گا، وہ تو وہ "رقت” دیکھنا چاہتا ہے جو بھوک سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا تپتی دوپہر میں پیاس کی شدت تمہیں کسی پیاسے کی یاد دلاتی ہے؟ کیا افطار کے وقت دسترخوان کی وسعت تمہیں کسی خالی ہاتھ پڑوسی کی فکر دیتی ہے؟ اگر ہم نے اپنی انا، تکبر اور اسراف کا انفاق نہ کیا، تو ہمارا روزہ محض ایک رسم ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم روزے کو صرف ایک مشقت نہیں بلکہ "دردمندی کی تربیت گاہ” بنائیں گے، تاکہ جب ہم عید منائیں تو ہمارے دل اس اطمینان سے بھرے ہوں کہ ہم نے صرف بھوک نہیں کاٹی، بلکہ اللہ کے بندوں کا درد بانٹا ہے۔










