رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

ایمان والوں کے باہمی حقوق

On: فروری 21, 2026 6:34 شام
Follow Us:
ایمان والوں کے باہمی حقوق

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمؤمن على المؤمن ست خصال يعوده اذا مرض ويشهده اذا مات ويجيبه اذا دعاه ويسلم عليه اذا لقيته ويشمته اذا عطس وينصح له اذا غاب او شهد.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مومن کے مومن پر چھ حق ہیں ، جب وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی کرے اور جب مر جائے تو جنازہ پر حاضر ہو، جب دعوت دے تو قبول کرے، جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے اور جب چھینکے تو جواب دے اور اس کی خیر خواہی کرے (خواہ ) جب وہ غائب ہو یا حاضر۔

(نسائی شریف بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ )

اس ارشاد مبارکہ میں ان بنیادی امور کے متعلق صراحت فرمائی گئی ہے جن کا تعلق مؤمنین کے آپسی حقوق سے ہے اور جن سے دینی معاشرہ کی پہچان ہے اور جو اسلامی اقدار کے مؤثر پہلوؤں کے آئینہ دار ہیں ، ان میں پہلا حق جو ایک مؤمن کا دوسرے مؤمن پر ہے وہ یہ کہ اگر بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی کرے، اس کی بڑی فضیلت اور اجر عظیم ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے رحمت و مغفرت کی دعاء کرتے ہیں اور جو شام کے وقت عیادت کرتا ہے اس کے لئے ستر ہزار فرشتے صبح تک دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ ہے۔

(ترمذی شریف اور ابو داؤد شریف)

اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اچھا وضو کیا اور محض ثواب حاصل کرنے کی غرض سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کی تو اس کی ساٹھ برس کی مسافت کے فاصلے پر دوزخ سے دور کر دیا جاتا ہے

(احمد)

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تم کسی کی مزاج پرسی کو جاؤ تو موت کے بارے میں اس کا رنج وغم دور کرو اگرچہ اس سے اس کی موت کا وقت ٹل نہیں سکتا لیکن اس کا دل خوش ہو جائے گا

(ترمذی و ابن ماجہ)

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین عبادت یہ ہے کہ مزاج پرسی کے بعد فورا اٹھ جائے۔

(بیہقی)

دوسرا حق جنازہ میں حاضری

دوسرا حق یہ ہے کہ جب کوئی مؤمن بھائی مر جائے تو جنازہ پر حاضر ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنازہ کے لئے جانے میں جلدی کرو اس لئے کہ اگر وہ نیک آدمی کا جنازہ ہے تو اسے خیر کی (منزل) کی طرف جلد پہنچانا چاہئے اور اگر بدکار کا جنازہ ہے تو برے کو اپنی گردنوں سے جلد اتار دینا چاہئیے۔

(بخاری و مسلم)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کا تقاضہ سمجھ کر اور حصول ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ ساتھ چلے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھے اور اس کے دفن سے فارغ ہو تو وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس لوٹتا ہے ، جس میں ہر قیراط احد (پہاڑ) کے برابر ہے اور جو شخص صرف جنازہ کی نماز پڑھ کر واپس آجائے اور دفن میں شریک نہ ہو تو وہ ایک قیراط کا ثواب لے کر واپس ہوتا ہے۔

(بخاری و مسلم بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)

تیسرا حقِ مؤمن دعوت قبول کرنا

حق مؤمن میں تیسرا حق دعوت کا قبول کرنا ہے۔ اور جب مؤمن اپنے مؤمن بھائی کی دعوت قبول کرلے اور اس کا مہمان بن جائے تو دعوت دینے والے میزبان پر اپنے مہمان کا احترام و اکرام ضروری ہے۔
حضرت ابو الاحوص سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ ! فرمائیے کہ اگر میں کسی شخص پر گزروں تو نہ وہ میری مہمانی کرے نہ مجھے دعوت دے، پھر وہ بعد میں مجھ پر گزرے تو میں اسے مہمان بناؤں یا بدلہ لوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ مہمان بناؤ
یعنی اس سے بے مروتی نہ کرو اس کو حق مہمانی دو۔

(ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ (بے وجہ شرعی) دعوت قبول نہ کرے تو اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو بغیر عوت کے پہنچ جائے تو وہ چور کی طرح گیا اور ڈاکو بن کر نکلا۔

(ابوداؤد )

مؤمن پر مؤمن کا چوتھا حق سلام ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سلام آپس میں محبت بڑھانے کا سبب ہے

(مسلم )

حضور علیہ السلام نے کلام سے پہلے سلام کا حکم دیا ہے۔

(ترمذی)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام میں پہل کرنے والا غرور و تکبر سے پاک ہے

(بیہقی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا اے بیٹے! جب تو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کر کیونکہ تیرا سلام تیرے اور تیرے گھر والوں کے لئے برکت کا سبب ہے۔

(ترمذی)

پانچواں حق چھینک کا جواب دینا ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے تو "الحمد للہ کہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والا یرحمک اللہ کہے جب یرحمک اللہ کہہ لے تو چھینکنے والا اس کے جواب میں کہے یھد یکم الله و یصلح بالكم

(بخاری شریف)

چھٹا حق مؤمن خیر خواہی

چھٹا حق مؤمن کا مؤمن پر یہ ہے کہ اس کی خیر خواہی کرے خواہ وہ موجود ہو یا غیر حاضر ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا اللہ اس کی حاجت روائی کرے گا اور جو مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔

(بخاری و مسلم روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)

سہ ماہی رہبر نور

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment