رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

روزہ اور جدید سائنس

On: فروری 21, 2026 4:30 شام
Follow Us:
روزہ اور جدید سائنس

جاپان کے عظیم ماہر حیاتیات Biologist یوشی نوری او سومی Yoshinori Ohsumi ان کو سرطان Cancer سے حفاظت کا معقول طریقہ تلاش کرنے پر Nobel Prize in Physiology or Medicine یعنی فعلیات اور طب میں یہ اعزاز ملا تھا۔ انھوں نے اپنی Resarch یعنی تحقیق میں واضح کیا کہ اگر انسان ہر سال 20 یا 25 دن لگا تار 14 سے 15 گھنٹے بنا کھائے پیئے رہتا ہے تو اسکے جسم میں سرطان کے مواقع نا کے برابر ہوتے ہیں۔

غور طلب ہے کہ جب ہم روزہ کی حالت میں ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں Nutrients یعنی غذایت کی کمی ہو جاتی ہے۔ اور اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ہمارا جسم اپنے ہی کچھ حصوں Cells کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے۔ جو Damage ہو جاتے ہیں۔ یا سڑے گلے ہوتے ہیں۔ اس Process یعنی طریقہ کار کو انھوں نے Auto Phagy یا Self Eating کا نام دیا ہے۔ چونکہ ہمارا جسم متاثرہ حصوں کو خود بخود کھا جاتا ہے۔ اگر ہم سرطان Cancer سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم رمضان المبارک کے روزوں کا اہتمام کریں۔

ماسوا اسکے روزے سے حاصل ہونے والے فوائد سے متاثر ہوکر ماہرین حیاتیات نے روزہ پر زبردست تحقیق کی ہے۔ روزہ انسان کی ذہنی جسمانی اور روحانی صلاحیتوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً Improvement of Self Control Will Power & خود پر قابو پانا اور قوت ارادی کو محکم بنانا۔ دراصل روزے کی حالت میں انسان کے Brain دماغ کے Function بہت حد تک Improve ہو جاتے ہیں۔ اگر دماغ کے Neurotransmitter یعنی ( عصبی ناقل) میں کوئی In balance ہوں تو وہ بھی اپنی اصل حالت میں آجاتے ہیں۔ جس سے روزہ دار میں خود اعتمادی اور قوت ارادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنی وہ عادات جن کو عام دنوں میں چھوڑنے سے قاصر تھا روزے کی حالت میں قدرت رکھتا ہے۔

دوسرا بڑا قائدہ

Boasting of Immunity روزے کی حالت میں جب انسان بھوک و پیاس کی شدت کو جھیل رہا ہوتا ہے اور جسم میں خوراک کی بالکل کمی ہو جاتی ہے تو اس کا جسم Energy یعنی توانائی کو بڑے احتیات سے استعمال کرتا ہے۔ جسم کی یہ کوشش رہتی ہے کہ توانائی کومحفوظ رکھے اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جسم میں پہلے سے موجود Cells Immun ہے ہم جسم کا مدافعتی نظام کہتے ہیں ان سلس کو باز احیائی Recycle کرتا ہے۔ ایسے Immun Cells جنھوں نے حرکت کرنا بند کر دی ہوتی ہے یا مفلوج ہو جاتے ہیں۔ جسم ان کو ختم کر دیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی جگہ پر نئے Cells بن جاتے ہیں۔ جس کا روزے دار کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے جسم کو تمام تر بیماریوں سے لڑنے کی قوت بحال ہو جاتی ہے۔

تیسرا فائدہ

Reduction in Blood Sugar ہر کس و ناکس واقف ہے کہ جسم میں شکر کی مقدار کی زیادتی کو High Blood Sugar کہتے ہیں جسکی وجہ سے Pancreas یہ معدے کے قریب ایک غدہ ہوتا ہے لبلہ سا جو خون میں Insulin ایک ہارمونی مادہ ہوتا ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو معتدل رکھتا ہے ۔ لہذا Pancreas کو خون میں شکر کی زیادتی کی بنا پر insulin زیادہ Release کرنا پڑتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ Exhaust ہو جاتا ہے اور روزے دار کا جسم اس گلوکرز کے زخیرے کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جو جسم میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دوران خون Bloodstearm میں موجود گلوکوز کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے اور کرنا Pancreas کو insulin کم release کرنا پڑتی ہے اسے آرام مل جاتا ہے اور اس کے کام میں بھی بہتری آجاتی ہے۔

چوتھا فائدہ

Detoxification and Weight Loss انسانی جسم میں بہت سارے Toxins یعنی فاسق مادے موجود رہتے ہیں جو خوراک کے ذریعہ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور چربی کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ جو جسم کیلئے نقصان کا باعث بنتے ہیں جب انسان روزے کی حالت میں ہوتا ہے اور جسم کو خوراک کم ملتی ہے جسم energy توانائی کو پورا کرنے کیلئے Fats کو Breakdown کر کے Energy حاصل کرتا ہے اور یہ فاسق مادے s Toxin جسم سے Release ہو جاتے ہیں۔ جو روزے دار کے جسم کیلئے صحت بخش ہوتے اور جسم کو متوازن رکھتے ہیں۔

پانچواں فائدہ

Restore test Appeaciation and Feeling of happiness روزہ دار کو غذائی لذت جتنی افطار میں حاصل ہوتی ہے عام دنوں میں نہیں۔ مزید تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ روزہ دار کے Teste bards یعنی زبان پر موجود ذائقہ چکھنے والے خلیوں کے Functions میں کثرت سے Improvement دیکھنے کو ملا ہے جسکی وجہ سے روزه دار لاجواب ذائقہ کا مزا لیتا ہے۔ اور جسم میں موجود ہارمون Endrophin کی Release بڑھ جاتی ہے اور روزہ دار اپنے کو بہتر محسوس کرتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

جب اسلام نے اس عدیم النظیر عبادت سے روشناس کرایا جس میں بے حد و حساب نیکی اور بھلائی کا سمندر موجزن تھا تو پوری انسانیت کو سیراب کرتا چلا گیا۔ کیونکہ جب وہ روزہ رکھتا ہے تو وہ اللہ کی شدید محبت کی خاطر ایسا کرتا ہے۔ اور اپنے رب کی خوشنودی کے حصول کی امید رکھتے ہوئے دین کیلئے خود کو وقف کر دینے کا جذبہ اور اس عبادت کی تاثیر سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ روزہ دار اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے ظاہر و باطن ہر طرح بے وفائی یا بد عہدی اپنے رب سے نہیں کرتا۔ روزے کے معاملے میں خاص طور پر کوئی دنیاوی اقتدار ایسا نہیں ہے جو روزہ دار کے اس رویے پر روک لگا سکے یا اسے روزہ رکھنے پر مجبور کر سکے۔ وہ تو صرف اللہ کی محبت غالب آجانے پر ایسا کرتا ہے اور اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔

روزہ دار کو کچھ چیزوں کی عارضی محرومی سے تکلیف پہونچتی ہے مگر صبر اور بے لوثی اس کا دامن نہیں چھوڑتی۔ حالانکہ یہ محرومی عارضی ہوتی ہے مگر ان تمام ایسے لوگوں پر جو ہفتوں مہینوں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رہتے ہیں ان کی تکلیف کے اثرات کا احساس دلا دیتی ہے۔ یہ احساس روزہ دار کو بنی نوع سے حقیقی ہمدردی اور ضروریات کی خبر گیری میں حتی الامکان حساس بنا دیتا ہے۔ یقینا ایسا شخص اپنی خواہشات پر قابو پاکر اپنی طبعی ترغیبات اور تحریصوں سے اپنے آپ کو بلند رکھ سکتا ہے۔

طبی ہدایات ، اصول صحت اور انسانی تجربات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خالی معدہ جو کثرت غذا سے بوجھل نہیں ہوتا وہ انسان کو ایک پاکیزہ روح اور اصاف ذہن وفکر مہیا کراتا ہے۔ روزہ دار جب اپنے معدے کو معمول کے خلاف آرام مہیا کراتا ہے تو روح کا ذکر ہی کیا وہ اپنے جسم کو بھی ان تمام نقصانات سے محفوظ کر لیتا ہے جو بسیار خوروں کو امراض و مضرات پیش آتے ہیں۔

روزہ انسان کو حکیمانہ بجٹ سازی اور آمد وخرچ کا صحت مند میزانیہ کا صیح نظر یہ دیتا ہے۔ کھانوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے کھانا بھی کم مقدار میں کھایا جاتا ہے تو کم محنت اور کم رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کو خانگی اقتصادیات اور بجٹ سازی کی ایک روحانی میقات کہا جا سکتا ہے اور جو نقل و حرکت اور مختلف اعمال کیلئے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور روزمرہ کی زندگی کا رخ بدلنے میں روزہ دار کی مدد کرتا ہے اور اس میں مطابق پذیری کا ایک حکیمانہ احساس پیدا ہوتا ہے ایسا احساس جو زندگی میں پیش آنے والے غیر متوقع مصائب پر قابو پالینے میں معاون ہوتا ہے۔ جو نقل و حرکت اور مختلف اعمال کیلئے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

روزہ دار پورے مسلم معاشرے کے ساتھ ایک ہی وقت میں ، ایک ہی مقصد کے حصول کیلئے ، ایک ہی طریقے سے، ایک ہی فرض کی ادائیگی سے ہم کنار ہوتے ہوئے معاشرتی ربط و تعلق ، اتحاد و اخوت ، اللہ اور قانون کے پیش نظر مساوات کی حقیقی روح سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے۔ یادر ہے کہ روزہ اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ نسخہ ہے۔ اس میں خود اعتمادی اور ضبط نفس، وقار اور آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے فتح و کامرانی اور امن و عافیت کو حاصل کرنا انعام میں شامل ہے۔ روزہ دار ایک زندہ حقیقت کی حیثیت سے اپنے اظہار میں کبھی نا کام نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اسلئے کہ جب وہ روزہ رکھتا ہے تو اپنے ہر عمل پر پورا قابو رکھتا ہے، اپنے جذبات سے مغلوب نہیں ہوتا، اپنی خواہشات نفسانی کو ضبط و نظم کا پابند بنا لیتا ہے، تمام تر ترغیبات و تحریصات سے مزاحمت کرتا ہے۔ نتیجتا روزہ دار خود اعتمادی کے حصول ، اپنے وقار اور دیانت کی بازیابی اور تمام تر برائیوں سےنجات حاصل کرنے کی حالت میں ہوتا ہے اور اپنے رب سے طمانیت قلب کے ساتھ اپنے تعلق درست کرنے میں کامیابی و کامرانی حاصل کر لیتا ہے۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُم اصيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَقُون

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرؤوں پر فرض کیے گئے تھے۔ روزہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی معاشرہ کی تاریخ۔ روزے کو اسلام سے پہلے بھی اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے ذمہ فرض کیا تھا۔ جس طرح امت محمد ﷺ پر فرض کیا گیا ہے۔ ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ پا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے دوسری اقوام پر روزے جس انداز میں فرض کئے تھے اس کی شکل اصلاً کیا تھی۔ میں اپنے بہترین علم کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ غیر اسلامی روزہ مادی اشیاء کے جزوی اجتناب سے زیادہ کسی چیز کا مطالع نہیں کرتا۔ دوسرے مذاہب، فلسفوں، نظریات اور عقائد میں روزہ دار بعض اقسام کی غذاؤں، مادی اشیاء اور مشروبات سے مجتنب رہتا ہے۔ مگر وہ ان اشیاء کی جگہ پر چاہے معدے کو ناک تک بھر سکتا ہے۔ کیوں کہ غیر اسلامی روزہ جزوی مقاصد پر مشتمل ہو حانی مقاصد کیلئے ہوتا ہے یا جسمانی ضروریات کیلئے یا پھر ذہنی نشونما کیلئے۔ بیک وقت تمام مقاصد پیش نظر نہیں ہوتے۔ جبکہ مسلم روزہ دار مادی نوعیت کی تمام تر اشیاء سے پر ہیز کرتا ہے اور اپنے معدے کو ہر مادی شے سے خالی رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی روح کو امن و سلامتی اور برکات سے مالا مال کرے، اپنے قلب کو محبت اور ہمدردی سے اپنے نفس کو تقویٰ سے اور اپنے ذہن کو حکمت و عزم سے عروج بخشے۔

ماہ رمضان کے علاوہ اور اوقات بھی ہیں جن میں سنت نبوی ﷺ کے مطابق روزہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے مثلاً ہر ہفتے کے دو شنبہ، رمضان سے پہلے کے دوماہ کے چند ایام یعنی رجب اور شعبان میں ، عید الفطر کے بعد چھ روزے وغیرہ۔ کچھ روزے ایسے ہیں جن کو رکھنے سے بعض لوگوں کو منع کیا گیا اور کس کو انعام کے طور پر دیا گیا۔
ان میں ایک روزہ کی ایک قسم ہے صوم وصال جس سے بہت کم لوگ آشنا ہیں جسکے متعلق حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے صحاب کرام کو صوم وصال سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ خود تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون میری مثل ہو سکتا ہے؟ میں تو اس حال میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔

مگر حضرت سید احمد بدیع الدین قطب المدار المعروف زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کو صوم وصال کی نعمت عظمی کی اجازت عطا فرما کر نسبت خاص کا محور بنادیا۔ یاد رکھئے بہت سی نعمات متوارث ہوتی ہیں جو اس کے حقدار کو پہونچتی ہیں۔ حضرت قطب المدار نے 556 برس تک اس نعمت عظمی کو سنبھال کر رکھا پھر دنیا کو خیر باد کہا۔ اتنے لمبے عرصے کیلئے اللہ تعالی نے قطب المدار کو گویا کہ Hibernate کر دیا جس طرح اصحاب کہف کو 300 برس تک ایک غار میں سلائے رکھا اور انھیں ایک رات یا اس کا کچھ حصہ معلوم ہوا اسی طرح قطب المدار کو 556 برس تک جگائے رکھا اور ایک دن کا احساس ہوا اور آپ نے فرمایا ” دنیا ایک دن ہے جس میں میں روزہ دار ہوں۔“

حضرت مولانا سید اقتدا حسین جعفری مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment