حضرت سید شاہ ابو علی رحمۃ اللہ علیہ اُن اکابر اولیائے کرام میں سے تھے جو علم و حلم، زہد و تقویٰ اور مجاہدۂ نفس میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ آپ کی ذات سراپا اخلاص، عبادت اور استقامت کا نمونہ تھی۔
ولادت باسعادت
آپ کی ولادت گجرات میں ہوئی، جبکہ نشو و نما جونپور میں پائی۔ عمرِ شریف سو برس سے متجاوز ہو چکی تھی، مگر اس دراز عمر کے باوجود آپ کے چہرۂ انور سے ضعف کے آثار مطلقاً ظاہر نہیں ہوتے تھے۔
عبادت و ریاضت
حضرت سید شاہ ابو علی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا نمایاں ترین پہلو آپ کی کثرتِ عبادت اور دوامِ ذکر تھا۔ آپ شب و روز عبادتِ الٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے اور دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش رہنا آپ کی فطرت میں شامل تھا۔ عمرِ شریف سو برس سے متجاوز ہونے کے باوجود آپ کی عبادت میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوئی۔ روایت ہے کہ آپ دن اور رات میں مجموعی طور پر دو سو رکعت نوافل ادا فرمایا کرتے تھے، جو آپ کی غیر معمولی ہمّت، روحانی قوت اور قربِ الٰہی کی دلیل ہے۔ ذکر و فکر، مجاہدہ و ریاضت، اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنا آپ کا معمول تھا، اور اسی اخلاصِ عبادت نے آپ کو اہلِ دل و نظر میں بلند مقام عطا فرمایا۔
بیعت و سلسلۂ طریقت
حضرت سید شاہ ابو علی رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت شاہ فتح اللہ قدس اللہ سرہٗ العزیز سے ارادت حاصل تھی، اور آپ سلسلۂ طبقاتیہ مداریہ سے وابستہ تھے۔ حضرت شاہ فتح اللہ قدس اللہ سرہٗ العزیز کی وفات ۱۰۳۷ ہجری میں ہوئی۔
شجرۂ مرشد
ارادت حضرت شاہ فتح الله قدس اللہ سرہ العزیز سے سلسلہ طبقاتیہ مداریہ میں رکھتے تھے جن کی وفات ١٠٣٧ ہجری میں ہویی. آپ کا شجرۂ مرشد حضرت سلطان التارکین، حضرت سید ابو محمد خواجہ ارغون، سجادہ نشین حضرت سید الموحدین، عمدۃ الاطہار، حضرت بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چار واسطوں کے ساتھ ملتا ہے۔ اس طرح آپ کا تعلق ایک جلیل القدر روحانی سلسلے سے قائم ہوتا ہے جو برصغیر میں رشد و ہدایت کا عظیم مرکز رہا ہے۔
وصالِ مبارک
حضرت سید شاہ ابو علی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳ شعبان کو ہوا۔
جبکہ ایک روایت کے مطابق آپ کی وفات ۱۱۴۸ ہجری، ۷ شوال المکرم کو ہوئی۔
قطعۂ تاریخِ وفات
معینِ دین و ملت بو علی شاہ
چو عازم جانبِ خلدِ برین شد
من نقلش سروش از روئے افسوس
بگفتا بو علی رحلت گزین شد











