- حضور مدار پاک کی تاریخِ پیدائش
- زندہ شاہ مدار کی تاریخِ پیدائش
- حضرت مدار پاک کی تاریخِ ولادت
- قطب المدار کی تاریخِ پیدائش
- بدیع الدین زندہ شاہ مدار کی تاریخِ پیدائش
- مدارِ پاک کے سنہ ولادت پر تحقیق
- زندہ شاہ مدار کی ولادت 242 ہجری
آں حضرت حلبی قدّسُ سِّرہُ کا راجِح اور صحیح سالِ ولادت ۲۴۲ ہجری ہے، یعنی آپ تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوے، آپ کا مادّۂِ تاریخِ وِلادت "صاحبِ عالم” مشہور ہے ، بعض تذکرہ نِگاروں نے بغیر کسی دلیل کے تسامحا آپ کی پیدائش پانچویں اور آٹھویں صدی ہِجری میں تحریر کر ڈالی، جب کہ یہ سراسر تاریخی واقعات اور تحقیقی روایات کے خلاف ہے، آپ قدّسُ سِّرہُ تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوکر پروان چڑھ رہے تھے۔
اس پر چند شواہد درجِ ذیل ذکر کئیے جاتے ہیں:
۱.
قدیم مُستند تذکرہ جات میں یہ بات واضح طور پر تحریر ہے کہ حضرت قُطبُ المدار قدّسُ سِّرہُ تیسری صدی ہجری میں تولُّد ہو چُکے تھے، ہر چند کہ سالوں کے تقدُّم و تاخُّر کا اختلاف ہوا، چنانچہ مُلّا لعل بَدخشی متولِّد ۹۶۴ ہجری اپنی کتاب "ثمرات القدس” میں لکھتے ہیں:
گویند تولد وے در سنه خمسين ومأتين وقيل ثلثمأة بوده و عمر دراز یافته ألخ……
ترجمہ : منقول ہے کہ حضرت قُطبُ المدار رضی اللہُ تعالیٰ عنہُ ۲۵۰ ہجری میں پیدا ہوئے، اور کہا گیا کہ ۳۰۰ ہجری میں پیدا ہوئے ، اور لمبی عمر پائی۔
[ثمرات القدس من شجرات الانس ، ص: ۲۶ ، مخطوطه رضالائبریری رامپور سنه تالیف ۱۰۰۶]
شیخ عبد الباسط قنوجی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
وطنش حلب تاریخ تولد غره ماه شوال وقت فجر روز دوشنبه سنه سه صد ہجرة النبوی ، حیاتش پانصد سال۔
ترجمہ: حضرت قطب المدار کا وطن مادری حلب ہے ، آپ قدس سرہ بروز پیر بوقت فجر ماه شوال تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے، آپ پانچ سو سال باحیات رہے۔
[مدار الاسرار فی خوارق شاه بدیع الدین مدار ، ص ۲ ، مخطوطہ اسلامیہ کالج پشاور]
شیخ نجیب الدین ناگوریؒ اپنی کتاب "مخزنُ الاِعراس” میں لکھتے ہیں:
بدیع الدین شاہ مدار شب جمعه در سال هشتصد و چهل و تولد در دو صد و بست و یا پنجاہ و یکہ مدت عمر ششصد هشت و چهار سال۔
ترجمہ: حضرت بدیعُ الدّین شاہ مدار نے شبِ جمعہ ۸۴۰ ہجری میں وصال فرمایا، آپ ۲۲۰ یا ۲۵۰ ہجری میں پیدا ہوئے ، ۶۸۴ برس کی عمر پائی۔
[مخزن الاعراس ، ج۱، ص: ۱۶۴ ، مخطوطہ رضا لائبریری رامپور ، سنہ کتابت : ۱۲۵۲ ہجری]
فِصولِ مسعودیہ میں تُحفةُ الابرار سے نقل ہے:
تولد وے در سنه خمسين و مأتين وقيل ثلثمأة بود، در موضعے که سه منزل از رود نیل ست زادگاه وی است۔
ترجمہ: آپ قدّسُ سِّرہُ ۳۰۰ ہجری اور کہا گیا ۲۵۰ ہجری میں دریائے نیل سے تین کوس دور ایک جگہ پر پیدا ہوئے۔
[فصول مسعودیه ، ص ۱۸۰ ، مطبوعہ اصح المطابع آسی لکھنؤ ، سنه اشاعت ۱۳۳۱ ہجری]
اِن تمام دلائل و براہین سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت قُطبُ المدار تیسری صدی ہجری میں اختلافِ اقوال ۲۵۰ ہجری یا ۲۲۰ ہجری میں پیدا ہوئے، اور لمبی عمر پاکر ۸۴۰ ہجری میں وصال فرمایا۔
۲.
جُملہ تذکرہ نِگاروں نے حضرت قُطبُ المدار کی حیات میں اس پہلو کو بِالاتّفاق لکھا ہے کہ آپ کی دینی تعلیم و تربیت حضرت سَدِیدُ الدِّین حُذَیفہ بن قتّادہ مَرعَشی شامی قدّسُ سِّرہُ کے ذریعہ ہوئی ، ہم یہاں فقط ایک دلیل پر اِکتفا کرتے ہیں، بقیہ تفصیل (کتاب: تذکرہ مشائخِ مداریہ کی جِلد اوّل) باب سوم میں مُلاحِظہ کریں، چنانچہ "باقیات صالحات” میں عہد اکبری کی کتاب نفحۃُ الازہار سے منقول ہے:
واز زیارت مزار مرتضوی فیضیاب شده عازم هندوستان شد اثنای راه در صحرای گزر شد، در آں جا دو نفر ابدال آمدند و وی را در کوه برده در بستان رسانید، بردرش پیر مردے بشکل نورانی دید، نامش معلوم شد که طیفور شامی است، این را دیده بگفت، بدیع الدین! السلام علیک ، خواجه بانتظار تست، بدیع الدین از شنیدن نام خود متعجب شد، فرمود: جای تعجب نیست ہر کہ ترا باینجا رسانیده است، آں نیز مرا از نامش آگاہی داده است، و عنقریب تو نیز بایں مرتبه خواہی رسید، و دست بدیع الدین گرفته اندر بستان آورد دید که در کوشک پر تکلیف بر تخت خواجه بایزید بسطامی جلوه افروز اند و قریب تخت مع دوات و قلم خواجه حذیفہ شامی غرق بانوار الہی سر افگنده نششته اند، حضرت خواجه بایزید بسطامی با حذیفه شامی فرمود که تو نیز بدیع الدین را چیز بده، خواجہ حذیفہ شامی از دوات و قلم دعای بشمخ مع عزیمت تحریر کرده با بدیع الدین بخشید ، ازاں بعد خواجه با یزید بسطامی از بدیع الدین فرمود که بر و خدا حافظ عازم هندوستان شو۔
ترجمہ: حضرت بدیعُ الدِّین قُطبُ المدار قدّسُ سِّرہُ نے مزارِ مرتضوی کی زیارت سے فیضیاب ہوکر ہندوستان کی طرف سفر اختیار کیا، اثناےِ راہ ایک جنگل سے گُزر ہوا، اُس میں دو ابدال آئے اور اُن کو کوہِ بردہ کے ایک باغ میں پہنچا دیا، اُن کے در پر ایک نورانی شکل والے بزرگ دِکھے ، ان کا نام معلوم ہوا کہ طیفور شامی ہیں، بدیعُ الدِّین کو دیکھ کر اُنھوں نے کہا: بدیعُ الدِّین! اَلسَّلامُ علَیک ، خواجہ تمھارے انتظار میں ہیں، بدیعُ الدِین اپنا نام سُن کر حیرت میں پڑ گئے فرمایا: تعجب نہ کریں، جس نے آپ کو یہاں پہنچایا ہے، اسی نے مجھے آپ کا نام بتایا اور عنقریب تمھیں یہ رُتبہ حاصل ہوگا، پھر بدیع الدین کا ہاتھ پکڑ کے باغ میں لے آئے، دیکھا کہ عالی شان شکل میں ایک تخت پر خواجہ بایزید بُسطامی جلوہ افروز ہیں اور تخت کے قریب خواجہ حذیفہ شامی دوات و قلم کے ساتھ انوارِ الٰہِیَہ میں غرق سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں، حضرت خواجہ بایزید بُسطامی نے حُذَیفہ شامی سے فرمایا کہ تم بدیعُ الدِّین کو کچھ عطا کرو، حضرت خواجہ حذیفہ شامی نے دوات و قلم سے دعاے بشمخ لکھ کر بدیع الدین کو دی، اس کے بعد خواجہ بایزید بسطامی نے حضرت بدیع الدین قطب المدار سے فرمایا تمہارا خدا حافظ ہے، ہندوستان کی طرف سفر کرو۔
[باقیات صالحات مع طبقات الاولیا ، ص ۲۰ ، مملوکہ انوار صمدانی ، سنہ کتابت ۱۳۳۰ ہجری]
نفحۃ الازہار کے اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت قطب المدار کے استاذِ گرامی حضرت حذیفہ شامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جب کہ حضرت حذیفہ شامی کا سنہ وصال ۲۵۲ ہجری ہے، جیسا کہ شیخ اللہ دیہ بن عبدالرحیم چشتی متوفی ۱۰۳۶ھ سیر الاقطاب میں لکھتے ہیں:
نقل است که آں حضرت بست و چهارم شوال سنه اثنی و خمسين و مأتین به رحمت حق پیوست چنانکه این دعا گوی درویشان تاریخش "قطب زمان بودہ” است۔
ترجمہ : منقول ہے کہ آں حضرت حذیفہ شامی ۲۴/ شوال المکرم ۲۵۲ ہجری میں رحمتِ حق سے جا ملے، چناں چہ درویشوں کے اس نیاز کیش نے آں حضرت کی تاریخ وفات "قطب زمان بودہ” پائی ہے۔
[سیر الاقطاب ، ص ۵۰ ، بہ تصحیح و مقدمه : ڈاکٹر اکرم محمد سرور مولائی ، مطبوعہ مرکز تحقیقات فارسی تهران ۱۳۸۶ ہجری]
ان تمام تفصیلات کے بعد یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالی عنہ ۲۵۲ھ سے قبل بر قول راجح ۲۴۲ھ میں سر زمین حلب پر پیدا ہوئے، اس سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کا سنه ولادت ۳۰۰ ہجری یا ۲۵۰ ہجری درست نہیں ، چوں کہ فقط دو سال کی عمر میں حضرت قطب المدار کا حضرت حذیفہ مرعشی شامی سے تحصیل علم کرنا غیر متصور امر ہے۔
۳.
جمہور تذکرہ نگاروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حضرت قطب المدار قدس سره سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی عرف طیفور شامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرید اور خرقہ یافتہ ہیں، اس پر آپ کے قلت وسائط پر مشتمل شجرات بھی دلالت کرتے ہیں، اس بابت درج ذیل چند دلائل ذکر کیے جاتے ہیں، مزید تفصیل (کتاب: تذکرہ مشائخ مداریہ کی جلد اول) باب سوم میں دیکھیں۔
چنانچہ ابوالفضل علامی اپنی کتاب آئینِ اکبری میں لکھتا ہے:
شاہ مدار لقب بدیع الدین کہ و مہ ہندی بوم بدو گرد والا پایگی اور برگزارد، گویند مرید شیخ محمد طیفوری بسطامی است۔
ترجمہ: شاہ مدار آپ کا لقب بدیع الدین ہے، ہندوستان کا ہر خرد و بزرگ آپ کا معتقد ہے، اور آپ کے مراتب بیان کرتا ہے، کہتے ہیں کہ آپ مرید و خلیفہ شیخ محمد طیفوری بسطامی کے ہیں۔
[آئین اکبری ، ص ۲۱۹ ، مطبوعہ ایشاٹک سوسائٹی بنگال]
داره شکوه قادری سفینۃ الاولیاء میں لکھتا ہے:
حضرت سید بدیع الدین قدس سرہ لقب ایشاں شاہ مدار است و مرید شیخ محمد طیفور شامی۔
ترجمہ: حضرت سید بدیع الدین قدس سرہ کا لقب شاہ مدار ہے، مرید و خلیفہ شیخ محمد طیفور شامی کے ہیں۔
[سفينة الاولیا، ص: ۳۲۱ مطبع مدرسه آگره ۱۸۵۳ء]
حضرت شیخ عزیزاللہ کنتوری تحفہ الابرار میں لکھتے ہیں:
قطب المدار با وجود نسبت اویسیت بروح پر فتوح سرور کائنات خلاصۂ موجودات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم در عالم ناسوت خلافت و ارادت از شیخ محمد طیفوری و از شیخ عبداللہ شامی که از علما شام بود۔
ترجمہ: حضرت قطب المدار حضور سرور کائنات خلاصۂ موجودات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پر فتوح سے نسبت اویسیت پانے کے ساتھ ساتھ عالم ظاہری میں حضرت شیخ محمد طیفوری اور حضرت شیخ عبد اللہ شامی کے مرید و خلیفہ تھے۔
[تحفة الابرار في مناقب قطب المدار ، ص ۳۱ ، مخطوطہ مولانا آزاد لائبریری علی گڑھ ، سنہ کتابت: ۱۰۲۵ ہجری]
حضرت شاہ ولیُ اللہ محدث دہلوی اپنے ایک مکتوب بنام بابا عثمان کشمیری میں حضرت قطب المدار کا شجرۂِ طریقت لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:
حضرت شاہ بدیع الدین مدار نے خرقہ حاصل کیا شیخ طیفور شامی سے انھوں نے حاصل کیا یمین الدین شامی سے انھوں نے حاصل کیا شیخ عبد اللہ حامل رایۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضور سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
[نادر مکتوبات حضرت شاه ولی اللہ محدث دہلوی، ج ۲ ، ص ۱۸۹ ، مکتوب نمبر: ۸۹ ، تحقیق و ترجمہ مفتی نسیم احمد فریدی امروہوی ، مطبع بھارت آفسیٹ دہلی ۱۹۹۸ء]
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی خانوادۂ طیفوریہ کے بابت فرماتے ہیں:
طیفوریان چہار تن بودند، شیخ مسعود و شیخ محمود و شیخ ابراہیم و شیخ احمد و شیخ مسعود طیفوری خرقہ شکر پارہ کہ آنرا تماچہ ہم گویند در بر کرد و شیخ محمود طیفوری با ہزار ریشه سیاه کہ آنرا خرقہ ہزار میخی گویند در بر کرد و شیخ ابراہیم خرقہ خشت پاره مربع در بر کرد و شیخ احمد طیفوری خرقہ صوف در بر کرد۔
ترجمه سلطان العارفین طیفور (بایزید بسطامی) کے چار خلفا تھے ، شیخ مسعود، شیخ محمود، شیخ ابراهیم اور شیخ احمد (بدیع الدین مدار) شیخ مسعود طیفوری نے خرقہ شکر پارہ جسے تماچہ بھی کہتے ہیں، پہنا، او شیخ محمود طیفوری نے ہزار ریشہ سیاہ کا خرقہ پہنا، اس خرقہ کو خرقہ ہزار میخی بھی کہتے ہیں ، شیخ ابراہیم طیفوری نے خرقہ خشت پارہ مربع زیب تن کیا اور شیخ احمد طیفوری کو خرقۂ صوف شیخ نے عطا فرمایا۔
[لطائف اشرفی ، ج ا ، ص ۳۴۹ ، لطیفه چہار دہم در ذکر خانوادہاے مشایخ، مطبوعہ نصرة المطابع دہلی]
ان تمام حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت قطب المدار حضرت بایزید بسطامی طیفور شامی کے مرید و خلیفہ تھے ، اور حضرت بایزید بسطامی نے ۲۶۱ھ میں وصال فرمایا، جیسا کہ حضرت شیخ شیخ عبد الغنی نابلسی علیہ الرحمہ اپنے سفرنامه "الحقيقة و المجاز” میں لکھتے ہیں:
"و البسطامي بفتح الباء الموحدة وقيل بكسرها نسبة إلى بلد بطريق نيسابور ذكره السيوطي في لب اللباب و اسمه طيفور بن عيسى بن آدم بن عيسى بن علي أحد مشايخ الصوفية وكان جده مجوسيا فأسلم و كان لأبي يزيد إخوان صالحان عابدان وهو أجلهم، قال ابن خلکان و له مقامات و مجاهدات مشهورة و كرامات ظاهرة، توفي سنة إحدى و ستین و مأتين۔
ترجمہ: بسطامی باے موحدہ کے فتحہ کے ساتھ ، بر قول بعض اس کے کسرہ کے ساتھ ایک شہر کی طرف نسبت ہے، جو نیشاپور کے راہ پر پڑتا ہے، امام سیوطی نے لب اللباب میں ایسا ہی ذکر کیا ہے، ابو یزید بسطامی کا نام طیفور بن عیسی بن آدم بن عیسی بن علی ہے ، صوفی مشایخ میں سے ہیں، آپ کے جد بزرگوار مجوسی تھے، بعد میں اسلام لائے، حضرت ابو یزید کے دو عبادت گزار اور نیک بھائی تھے ، جن میں آپ سب سے زیادہ صاحب جلالت تھے، ابن خلکان کہتے ہیں کہ حضرت طیفور بسطامی مشہور مقامات و مجاہدات اور بلند کرامات کے مالک تھے ، آں حضرت نے ۲۶۱ھ میں وصال فرمایا۔
[الحقيقة و المجاز في الرحلة الى بلاد الشام و مصر و الحجاز، ص : ٤٣ ، الهيئة المصرية العامة للكتاب ۱۹۸۶ء]
ان تمام تفصیلات کی روشنی میں نتیجہ یہ مستفاد ہوتا ہے کہ حضرت قطب المدار قدس سرہ کا سنه ولادت ۲۴۲ھ ہی درست ہے، چوں کہ آپ کو حضرت بایزید بسطامی سے شرف بیعت حاصل ہے اور حضرت سلطان العارفین کا سنہ وصال ۲۶۱ ہجری ہے، لہذا آپ قدس سرہ کا تیسری صدی ہجری میں پیدا ہونا ہی راجح اور محقق قول ہے۔
۴.
معاصرین میں حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جن اولو العزم ہستیوں سے ملاقات ثابت ہے، ان میں حضرت شیخ ابو العباس احمد بن مسروق، حضرت محمود غزنوی، حضرت ساہو سالار غازی، حضرت سالار مسعود غازی، حضرت سکندر دیوانه، حضرت غوث اعظم جیلانی، حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری اور حضرت عماد الدین شامی بلگرامی جیسی عظیم ترین ہستیاں شامل ہیں، ان حضرات میں اول بزرگ تیسری صدی ہجری اور باقی چوتھی، پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کی شخصیات ہیں، ان حضرات سے حضرت قطب المدار کی ملاقات ثابت ہونا اس بات پر صریح دلالت ہے کہ آپ قدس سرہ تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوکر پانچ صدیوں تک باحیات رہے، مذکور الصدر شخصیات کی حضرت قطب المدار سے ملاقات کا تفصیلی تذکرہ (کتاب: تذکرہ مشائخ مداریہ کی جلد اول) باب پنجم میں ملاحظہ کریں۔
۵.
حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بھائی بروایت دیگر تین بھائی تھے، جن میں ایک بھائی کا نام حضرت محمد تھا، جن کی شہرت "اخو محسن اور شریف عابد” سے ہوئی۔
ابن عساکر (ولادت : ۴۹۹ ہجری وفات : ۵۷۱ ہجری) ان کے بابت تاريخ مدينہ دمشق میں لکھتے ہیں:
محمد بن علي بن الحسين بن أحمد بن إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب أبو الحسين العلوي المعروف بأخي محسن و يعرف بالشريف العابد كان زاهدا منقطعا في بيته و له تصانیف و مات الشريف محمد أخو محسن العلوي و هو الصغير وكان لازما للبيت متعبدا صالحا في يوم الثلاثاء لثلاث و عشرين ليلة خلت من جمادى الأولى سنة ثمان و تسعين و ثلاثماة و صلي عليه في المصلى وكان له مشهد عظيم۔
ترجمہ: محمد بن علی بن حسین بن احمد بن اسماعیل بن محمد بن اسماعیل بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ابو حسین علوی جو اخو محسن اور شریف عابد کے نام سے معروف ہیں، حضرت اخو حسن تقوی شعار اور گھر میں عزلت نشین بزرگ تھے، ان کی چند تصانیف ہیں، حضرت شریف محمد اخو محسن علوی بھائیوں میں چھوٹے، گوشہ نشین، عبادت گزار اور صالح بزرگ تھے ، جو بروز سه شنبه ۲۳/ جمادی الاول ۳۹۸ ہجری بقضاے الہی وصال فرما گئے، عیدگاہ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ، ان کا ایک عظیم مزار ہے۔
[تاريخ مدينة دمشق، ج : ٥٤ ، ص: ۳۰۷، دار الفكر بيروت ١٤١٨ هـ]
اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برادر صغیر حضرت اخو محسن نے چوتھی صدی ہجری میں وصال فرمایا، یہ واضح قرینہ ہے کہ حضرت قطب المدار قدس سرہ تیسری صدی ہجری کے بزرگ ہیں، اور آپ کا سنہ ولادت ۲۴۲ ہی درست اور محقق ہے۔
چند مرجوح اقوال کا تحقیقی جائزہ
سابقہ گفتگو سے واضح ہو گیا کہ دیگر تذکرہ نگاروں کے تحریر کردہ سنوات ولادت مثلا ۵۹۰ ہجری اور ۷۱۶ ہجری وغیرہ ضعف اور سقم سے خالی نہیں ، اور مرجوح اقوال میں شامل ہیں، ذیل میں ان کی مزید وضاحت کی جاتی ہے۔
چناں چہ حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی [۱۰۰۵/۱۰۹۴ ہجری] مرآة مداری میں آپ کا سنہ ولادت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
تولد آں حضرت در سنہ خمس و عشر و سبع مأۃ بولایت شام کہ بہشت روے زمین است واقع شده بود و یک صد و بست و پنج سال عمر داشت۔
ترجمہ: آں حضرت کی پیدائش ۷۱۵ ہجری ملک شام جو اس زمیں کی جنت ہے، میں ہوئی، آپ کی عمر ۱۲۵ سال ہوئی۔
[مرآة مداری، ص ۱۴۱، مخطوطہ خدابخش لائبریری پٹنہ، سنہ کتابت: ۱۳۰۴ ہجری]
اسی طرح صاحب مخبر الواصلین فاضل ترمذی اکبر آبادی [وفات : ۱۱۰۳ ہجری] نظمہا لکھتے ہیں:
عمر آں شاہ مطلع الانوار
یک صد و بست و چار سال شمار
شده سال طلوع آن بیقین
شمس دنیا و دين بديع الدين
ترجمہ : حضرت شاہ مطلع الانوار کی عمر ۱۲۴ سال شمار کر، حضرت کا سال آمد شمس دنیا و دین بدیع الدین (۸۱۶) یقیں کے ساتھ بر آمد ہوا۔
ان دو حوالوں کو پیش کرنے کے بعد عرض ہے کہ اس سنہ ولادت کا تعین خود انہی کی تحریرات کے خلاف ہے، چنانچہ مصنف مرآة مداری شیخ عبد الرحمن چشتی اپنی دوسری تصنیف گلستان مسعودیہ میں رسالہ قطبیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
الغرض پانچوں پیر (خواجہ معین الدین چشتی کی ملاقات کے بعد) حضرت بختیار کاکی کی معیت میں بہرائچ شریف پہنچ گئے ، اِسی اثنا میں قطبُ المدار سید بديعُ الدین زنده شاه مدار سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا، زندہ شاہ مدار نے پانچوں پیر کو دیکھتے ہی فرمایا، بہت دنوں بعد صدیقین کی خوشبو دِماغ میں پہنچی ہے، چند دنوں پانچوں پیر (حضرت سید اسلم غازی، حضرت سید اکرم غازی، حضرت سید صوفی غازی، حضرت سید ملِک غوث غازی، حضرت سید محمد غازی) خدمتِ اقدس میں رہ کر راہِ سلوک کے مدارج طے کرتے رہے ، خرقۂِ خلافت حاصل کرنے کے بعد قدم بوس ہوئے، حکم کے مطابق مقاماتِ مقدّسہ کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔
[گلستان مسعودیہ (مترجم)، ص: ۱۶-۱۷ ، ناشر محمد سلیم غازی، محمد حفیظ غازی الجامعة الغازیہ کوئلسہ بازار ضلع اعظم گڑھ]
اِسی طرح صاحبِ مُخبر الواصلين حضرت قطبُ المدار کے ظاہری پیر و مرشد حضرت طیفور شامی کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
آنکہ قطب مدار عالم بود
پادشاہ ممالک دین بود
شاہباز رواق علیین
نامدار جہاں بدیع الدین
یمنی ست شامی و حلبی
پیشوائی رہ خدا طلبی
آن شہنشہ کہ مطلع نور ست
از مریدان شاه طیفور است
لیک ویسی ست آن ستودہ سپر
یافت عرفان ز روح پیغمبر
ترجمہ: یہ قطب مدار عالم ہیں، دین و دنیا کے بادشاہ ہیں، سب سے بلند آسمان کے شاہین ہیں یعنی عالی نسب ہیں، اسم گرامی بدیع الدین ہے، یمنی، شامی اور حلبی ہیں، خدا طلبی کی راہوں کے پیشوا ہیں، یہ شہنشاہ جوکہ نور کی آماجگاہ ہے ، حضرت شاہ طیفور کے مریدوں میں سے ہیں، تاہم یہ ذات ستودہ صفات اویسی بھی ہے کہ آپ نے روح پیغیر ﷺ سے فیض پایا ہے۔
[مخبر الاصلين ، ص: ۶۳ ، مطبع مصطفائی لاہور]
اس تفصیل کے بعد واضح ہو کہ پانچوں پیر کی ملاقات حضرت قطب المدار سے ۶۲۰ ہجری سے قبل ہوئی، چنانچہ اس واقعے کے چند سطروں بعد مرقوم ہے:
۶۲۰ ہجری میں جب حضرت سید اسلم غازی کو معلوم ہوا کہ بہرائچ شریف میں کفار آمادۂِ جنگ ہیں، فورًا ان کی سرکوبی کے لیے دریا کے پار پہنچ کر لڑائی شروع ہوئی اور بہت ہی سخت معرکہ ہوا۔
[گلستان مسعود یہ ، ص ۱۷ ناشر الجامعة الغازیہ اعظم گڑھ]
علاوہ ازیں حضرت شاہ طیفور سے مراد حضرت بایزید بسطامی طیفور شامی ہیں اور ان کا نہ وصال ۲۶۱ ہجری ہے، جیسا کہ سابق میں تفصیل سے گزرا۔
لہذا یہ امر مشکل نہیں بلکہ غیر ممکن ہے کہ ۷۱۶ ہجری میں پیدا ہونے والا بزرگ حضرت با یزید بسطامی، حضرت حذیفہ شامی اور قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی ظاہری طور پر ملاقات کر چکا ہو اور یہ ثابت ہوا کہ مرآۃ مداری اور مخبر الواصلین کا تعین کردہ سنہ ولادت غلط اور غیر تحقیقی ہے۔
کسی نے آپ کا سنہ ولادت ماہ عالم تاب سمجھ کر تاریخ ولادت ۵۹۰ ہجری لکھ ڈالی، تو کسی نے شاہ کونین کو آپ کا سنہ ولادت سمجھا اور سنہ ولادت ۴۴۲ ہجری لکھ دیا، جب کہ کوئی ماہ کو نین سمجھ کر آپ کا سنہ ولادت سے ۱۷۷ ہجری ماننے پر آمادہ ہوا، حالاں کہ راجح یہی ہے کہ یہ سب حضرت قطب المدار کے القاب محض ہیں، ان سے سنہ ولادت اخذ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ آں حضرت کے دوسرے القاب سے سال ولادت نکالنا۔
یہ مضمون مفتی محمد ہاشم علی مصباحی کی کتاب "تذکرہ مشائخ مداریہ” جلد اول کے باب اول سے صفحہ ۱۷۱ پر حضور مدار پاک کی "سنہ وِلادت پر تحقیقی تبصرہ” سے پیش کیا گیا ہے۔
کتاب "معارف قظب المدار” کا یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں
کتاب "معارف قظب المدار” سے مفتی محمد اسرافیل صاحب کا یہ مضمون بھی قابل مطالعہ ہے جو حضور مدار پاک رضی اللہ عنہ کی تاریخ ولادت کی بحث پر مبنی ہے۔
حضور قطب المدار کی تاریخِ پیدائش اور وصال میں اختلاف
حضور مدارِ پاکؓ کی تاریخِ پیدائش اور وصال سے متعلق سیرت نگاروں نے بڑا اختلاف لکھ دیا ہے۔ موجودہ مراۃ مداری میں ولادت کی تاریخ ۷۱۵ ہجری اور تاریخِ وِصال ۱۷جمادی الاولی ۸۴۰ مرقوم ہے اور کل عمر شریف ۱۲۵ سال تحریر ہے۔
مُخبِر الواصِلین کے مؤلّف نے سالِ ولادت ۷۱۶ ہجری اور سالِ وصال ۸۴۰ ہجری تحریر کیا ہے۔ اس طرح کل عمر مبارک ۱۲۴ سال کی ہوتی ہے۔
کسی نے ماہِ عالمِ تاب سے سنِّ وِلادت ۵۹۰ ہجری نکالی تو کسی نے شاہ کو نین سے ۴۴۲ ہجری کو سنِّ ولادت قرار دیا ہے۔ کسی نے سالِ پیدائش ۳۰۰ ہجری میں بتایا ہے تو کسی نے ۲۵۰ میں تسلیم کیا ہے۔ بعض نے ماہِ کونین سے ۱۸۲ ہجری کا استخراج کیا ہے۔ لیکن سچائی اور حقیقت یہ ہے کہ قطب المدار سيد بديع الدین احمد زندہ شاہ مدار کی ولادت کا سال ۲۴۲ ہجری ہے اور یہی صحیح ہے۔ دلائل اور شواہد اِسی کی تائید کرتے ہیں۔ جمہور اہل سیر کے نزدیک بھی صحیح اور معتبر ہے۔ مشائخِ مکن پور کے نزدیک یہی مستند ہے۔
ویسے آپ کے سنِّ وِلادت میں اختلاف کیا گیا ہے لیکن اختلاف کرنے والوں کے دعوے بغیر دلیل کے ہیں۔ اور حق و حقیقت سے بعید ہیں اور بغیر دلیل حقاق کو نہ تو چھپایا جاسکتا ہے اور نہ ہی مٹایا جاسکتا ہے۔ بزرگانِ دین کی پیدائش و وصال کی تاریخوں میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے ، اختلاف تو اِس اُمّت کی فطرت ہے اور اِس کے لئے رحمت بھی۔
حضورﷺ کی تاریخ ولادت و وصال میں اختلاف
جب کائنات کی سب سے عظیم و محترم اور معروف مشہور ہستی سروَرِ کائنات ، فخرِ موجودات ، محمد رسول اللہ ﷺ کی میلاد و وصال کی تاریخوں میں اصحابِ سیر و تواریخ نے اختلاف کیا ہے تو دوسروں کا کیا کہنا۔ لیکن عامۃ المسلمین اور جمہور کا جس پر اتفاق ہو گیا وہی معتبر و مستند ہے اور اسی پر فتوی جاری ہوگا۔
چنانچہ ہادیِ اعظم ، شہنشاہِ دو عالم ﷺ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں متعدد اقوال ملتے ہیں:
(۱) ۱۲/ ربیع الاول ، طبری ابن خلدون و ابن ہشّام وغیرہ نے اسی پر جزم کیا ہے۔
(۲) ابن جوزی نے ولادت باسعادت کی تاریخ کے سلسلے میں تین مختلف اقوال نقل کئے ہیں (ا) ۱۲/ ربیع الاول (حضرت ابن عباس) (ب) ۸/ ربیع الاول (حضرت عکرمہ) (ج) ۳/ ربیع الاول (حضرت عطا) رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین (بیان میلاد)۔
(۳) بعض لوگوں نے ۲۲/ ربیع الاول تحریر کیا ہے۔
(۴) حضرت غوث اعظم جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے بعض نے آپ کی ولادت یوم عاشورہ کو لکھا ہے۔ (غنیہ الطالبین ص ۲۵۷)۔ لیکن عامۃ المسلمین کا ماننا ہے کہ ۱۲/ ربیع الاول ہی میلادُ النّبی کا دن ہے۔
عالمِ اسلام میں ۱۲/ ربیع الاول ہی کو متّفقہ طور سے عید میلاد النبی منائی جاتی ہے۔
اسی طرح سنِّ وِلادت میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے ۵۷۰ عیسوی لکھا ہے بعض کے نزدیک ۵۷۱ عیسوی ہے۔ اسی طرح تاریخِ وصال میں بھی اختلاف کرنے والوں نے اختلاف کیا ہے۔ شبلی نعمانی نے سیرت النّبی میں لکھا ہے کہ حضور کی وفات یکم ربیعُ الاول ہے۔ نور بخش توکّلی نے "وفاء الوفا” کے حوالے سے لکھا ہے کہ مشہور محدّث حافظ ابن حجر کے نزدیک حضور کا یوم وفات ۲/ ربیع الاول ہے۔ ادریس کاندھلوی نے سیرت المصطفی جلد دوم ص ۳۳۲ پر لکھا ہے کہ علامہ سہیلی نے روض الانف اور حافظ عسقلانی نے فتح الباری میں ۲/ ربیع الاول کو تاریخ وفات مرحج قرار دیا ہے۔ بایں ہمہ اختلاف ۱۲/ ربیع الاول ہی پر جمہور مسلمانوں کا اتفاق ہو گیا۔
اسی طرح حضور مدارِ پاکؓ کے سنِّ وِلادت میں اختلاف کیا گیا ہے ، کسی نے سنِّ وِلادت کی ہجری کو ۱۸۲ لکھا تو کسی نے ۲۵۰ ، اس طرح ۴۰۰ ، ۵۰۰ ، ۶۰۰ ، ۷۰۰ ، کے قول بھی موجود ہیں۔ مگر جمہور اہل سیر کے نزدیک ۲۴۲ ہجری ہی صحیح اور معتبر ہے۔ اور مشائخِ مکن پور کے نزدیک بھی یہی مستند ہے۔
صحابہ و تابعین کی تواریخ میں اختلاف
سرکار مدینہ ﷺ کے صحابہ و تابعین کی تاریخِ ولادت و وصال میں بھی اختلاف ہے۔ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سن وصال ۳۰ ہجری یا ۴۰ ہجری درج کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان فارسی کی عمر میں بڑا اختلاف ہے کسی نے پانچ سو برس، کسی نے ہزار برس، کسی نے تین سو پچاس سال، تو کسی نے دو سو پچاس سال تحریر کیا ہے، بعض کے نزدیک ایک سو پچاس سال بھی لکھا ہے۔ حضرت انس بن مالک کی وفات ۹۲ ہجری یا ۹۳ ہجری ہے حضرت سہیل بن سعد کی ۸۸ یا ۹۱ ہجری۔ حضرت واثلہ ابن اسقع کی ۸۳ ہجری یا ۸۵ ہجری ہے، حضرت ابو تفیل عامر بن واثلہ کی ۱۰۰ ہجری یا ۱۱۰ ہجری ہے۔ حضرت سائب بن یزید ۸۰ ہجری یا ۸۲ ہجری یا ۹۱ ہجری یا ۹۴ ہجری ہے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ۷۰ ہجری یا ۸۰ ہجری ہے۔ نزہة القاری ج ۱ ۔ ص ۱۱۴-۱۱۵ / مفتی شریف الحق امجدی) اسی طرح وصال کی تاریخ میں بعض نے ۱۴/ رجب اور بعض نے ۴/ شعبان ۱۵۰ ہجری لکھا ہے۔ (مسالک السالین ص ۲۴۷)
غوث و خواجہ کی رِحلت میں اختلاف
حضرت خواجہ غریب نواز کی سنِّ رحلت ۶ رجب ۶۳۲ ہجری یا ۶۳۳ ہجری اور ان کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی رحلت ۶/ شوال ۶۰۳ ہجری یا ۶۱۷ ہجری ہے۔ حضرت غوثِ پاک عبدُ القادر جیلانی کی رحلت ۹/ یا ۱۷/ یا ۱۱/ ربیع الثانی ۵۶۱ ہجری درج ہے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
حضور قطب المدارؓ کی عمر ۵۹۶ سال ہوئی
الغرض حقِّ حقیقت سے ناواقفی کی بنیاد پر اگر کسی عالمِ دین نے حضرت قطب المدار سيدنا سید بديع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہُ تعالی عنہُ کی عمرِ مبارک اور سنِّ وِلادت میں اختلاف کیا ہے ، تو اس سے حضرت کی ذاتِ بابرکاتِ والا صفات کی عظمت و رفعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ نہ کسی کے گھٹانے سے آپ کی عمر مبارک گھٹ سکتی ہے اور نہ ہی کسی کے بڑھانے سے بڑھ سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکار مدارِ پاک ایک طویل العُمر بزرگ ہیں اور کچھ بزرگوں کے طویل العُمر ہونے کی خاص وجہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے حبیبِ صادق و مصدوق ﷺ کا فرمان عالیشان ہے
العلماء ورثة الانبیاء وعلماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل
ظاہر سی بات ہے کہ انبیاءِ سابقین میں اللہ پاک کی عطا کردہ جہاں اور صفات تھیں وہیں کچھ کی عمریں طویل ہوئیں۔ اب امتِ محمدیہ علی صاحب الصّلوۃ و السّلام کے اولیا میں سے چند کو طویل عمری کے وصف سے بھی موصوف ہونا چاہئے تھا، کہ صادق و مصدوق ﷺ کا فرمان بہر صورت ہر زاویہ سے صادق ہو، اسی وجہ سے بعض اولیاء اللہ کی عمریں کافی طویل ہوئیں۔ سرکار قطبُ المدار سید بدیع الدین زنده شاه مدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنِّ ولادت شریف لکھنے میں اختلاف کرنے والوں نے اختلاف کیا ہے ، مگر اکثر اصحاب سیر نے صاحب عالم سے استخراج کیا ہے اور اِس کو سن ولادت قرار دیا ہے۔ شواہد و قرائن اس پر دال ہیں کہ ۲۴۲ ہجری ہی آپ کی سنِّ ولادت صحیح و درست اور قابل اعتبار ہے اور اسی پر اکثر کا اتفاق ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت سیدنا سید بدیع الدین زنده شاه مدار رضی اللہ تعالی عنہ یکم (۱) شوال بروز دوشنبہ ۲۴۲ ہجری میں قاضی قدوة الدین علی علبی کے گھر پیدا ہوئے۔










