تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

شان ولایت اور جشن غدیر

On: جون 5, 2026 1:17 صبح
Follow Us:
شان ولایت اور جشن غدیر

امیر المؤمنین، یعسوب الدین،امام المتقیین مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی شان ولایت اور جشن غدیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، الذی شرّف أهل بیت نبیہ سید المرسلین، وجعلہم مصابیح الہدی ونجوم الاقتداء، والصلاۃ والسلام علی سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین، وعلی آلہ الأطہار وأصحابہ الأخیار أجمعین۔ اما بعد!

تاریخِ اسلام کے افق پر بعض شخصیات ایسی درخشاں و تابندہ ہیں جن کی عظمت و رفعت کا تصور کرتے ہی دل عقیدت سے جھک جاتے ہیں، نگاہیں ادب سے خم ہوجاتی ہیں اور زبان بے ساختہ صلاۃ و سلام اور تمدیح و تقدیس کے نغمات چھیڑ دیتی ہے۔ ان مقدس اور جلیل القدر ہستیوں میں ایک نہایت تابندہ، عظیم اور بے مثال نام امیر المؤمنین، امام المتقین، قائد الغر المحجلین، سیدنا ومولانا حضرت علی بن ابی طالب المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا ہے، جن کی ذاتِ گرامی علم و حکمت، شجاعت و سیادت، زہد و تقویٰ، عدالت و دیانت، ولایت و معرفت اور قربِ مصطفویﷺ کا ایک حسین مرقع اور جامع نمونہ ہے۔

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم وہ مبارک ہستی ہیں جنہیں قدرت نے آغازِ حیات ہی سے آغوشِ نبوت کی تربیت کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ نے دست نبوت کی لمس سے آنکھ کھولی تو سب سے پہلے مصطفیٰ جان عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ زیبا دیکھا، دہن مبارک میں پہلی گھٹی لعاب دہن مصطفی کریم ﷺ کی دی گئی ،خانۂ کعبہ میں ولادت ہوئی، مگر پرورش پائی تو رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِ سایہ۔ آپ کا بچپن، جوانی، اعلان اسلام، ایمان، ہجرت، جہاد، علم، عبادت، خلافت اور شہادت سب کے سب ایسے روشن اور درخشاں ابواب ہیں کہ جن پر تاریخِ اسلام ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمت کا سب سے بڑا حوالہ یہ ہے کہ آپ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا قرب نصیب ہوا جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔ آپ چچازاد بھی ہیں اور داماد بھی، تربیت یافتہ بھی ہیں اور جاں نثار بھی اور محبوبِ رسول بھی۔ آپ کا گھرانہ وہ گھرانہ ہے جسے آیۂ تطہیر کی نسبت حاصل ہوئی، جس کے دروازے پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہا تشریف لا کر اہلِ بیت کی فضیلت کا اعلان فرمایا اور السلام علیکم اھل البیت کے مژدۂ جاں فزا سے گھر کے ماحول کو معطر فرمایا،اور جس کے افراد کو امت کے لیے ہدایت و محبت کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔

ہم جب بھی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں بے شمار کمالات جمع فرما دیے تھے۔ آپ علم کے سمندر تھے، حکمت کے خزینہ دار تھے، شجاعت کے آفتاب تھے، عبادت کے امام تھے، زہد و تقویٰ کے پیکر تھے اور اخلاق و کردار کے ایسے مینار تھے جن کی روشنی صدیوں سے اہلِ ایمان کے قلوب کو منور کر رہی ہے۔

اگر علم کا تذکرہ ہو تو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ آپ ان اصحابِ رسول میں سے ہیں جنہیں فہمِ قرآن، دقائقِ شریعت اور اسرارِ دین میں امتیازی مقام حاصل تھا۔ اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے علم و فقاہت کے معترف تھے۔ آپ کے اقوال و ارشادات حکمت و معرفت کے ایسے موتی ہیں جن سے آج بھی اہلِ علم اپنے دامن بھر رہے ہیں۔ آپ کے فیصلے عدل و انصاف کی روشن مثال تھے اور آپ کی فقاہت کا لوہا دوست و دشمن سبھی مانتے تھے۔

اور اگر شجاعت و بہادری کا ذکر ہو تو میدانِ بدر سے لے کر خیبر تک، احد سے لے کر خندق تک، اسلام کے ہر معرکہ میں حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی تلوار حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کا عنوان نظر آتی ہے۔ وہی علیؓ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے موقع پر فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر یہ اعزاز حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا گیا۔ اس اعلان نے آپ کی فضیلت و محبوبیت کو قیامت تک کے لیے روشن کر دیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی عبادت و ریاضت ہے۔ راتوں کے قیام، آنسوؤں سے لبریز دعائیں، خوفِ خدا سے لرزتے ہوئے دل، اور دنیا کی بے ثباتی پر غور و فکر آپ کی زندگی کا مستقل معمول تھا۔ خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود دنیا کی چمک دمک آپ کے دل کو کبھی متاثر نہ کرسکی۔ بیت المال کے بارے میں آپ کی احتیاط، عدل کے بارے میں آپ کی حساسیت اور رعایا کے حقوق کے بارے میں آپ کی فکر تاریخ کے سنہرے اوراق کا حصہ ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف ایک جلیل القدر صحابی ہی نہیں بلکہ اھل بیت رسول علیہ السلام کے رکن عظیم، خلفائے راشدین میں سے چوتھے خلیفۂ برحق، عشرۂ مبشرہ کے ممتاز رکن، اہلِ کساء کے عظیم فرد اور اولیاءِ امت کے پیشوا ہیں۔ آپ سے محبت ایمان کی علامت اور آپ سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت کے اکابرین نے ہمیشہ محبتِ علی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھا اور اہلِ بیتِ اطہار کے ادب و احترام کو اپنی دینی شناخت قرار دیا۔
تاہم حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی محبت کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ انہیں ان کے حقیقی مقام پر رکھا جائے؛ نہ ان کے فضائل کا انکار کیا جائے اور نہ ایسی غلو آمیز باتیں اختیار کی جائیں جو جمہور صحابۂ کرام یا دیگر خلفائے راشدین کی تنقیص کا سبب بنیں۔ کیونکہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجھہ خود محبت، عدل، اعتدال اور اتحادِ امت کے داعی تھے۔ آپ نے ہمیشہ امت کی شیرازہ بندی کو مقدم رکھا اور خلفائے سابقین کے ساتھ حسنِ تعلق اور خیر خواہی کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ علم کے ساتھ عمل، شجاعت کے ساتھ اخلاص، اقتدار کے ساتھ عدل، عبادت کے ساتھ خدمتِ خلق اور محبت کے ساتھ اعتدال بھی ضروری ہے۔ یہی وہ جامع اوصاف ہیں جنہوں نے آپ کو تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین انسانوں کی صف میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔

آج امتِ مسلمہ کو اگر کسی شخصیت سے علم، حکمت، اخلاص، عدل، صبر، استقامت اور حق گوئی کا درس لینا ہے تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ طیبہ اس کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ ایمان افروز واقعات، اخلاقی عظمتوں، علمی رفعتوں اور روحانی بلندیوں کا ایسا گلشن ہے جس کی خوشبو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے دلوں کو معطر کرتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار خصوصاً سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی سچی محبت، ان کے ادب و احترام، ان کی تعلیمات کی پیروی اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں صحابۂ کرام و اہلِ بیتِ اطہار سب کی محبت و عقیدت پر قائم رکھے آمين.

جشن غدیر

یوم غدیر حضور مولائے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کی ولایت عظمیٰ کے اعلان کا دن ہے اس لییے اس عظیم بشارت کو بطور یادگار منانا محبین مولیٰ علی کرم اللہ وجھہ کیلئے باعث مسرت و فرحت ہے. حدیث غدیر مشہور روایات سے ثابت ہے بہت سے محدثین نے اس حدیث کو متواتر کہا ہےاور کثیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی روایات مروی ہیں. حدیثِ غدیر اہلِ سنت کے نزدیک حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی عظیم فضیلتوں میں سے ایک جلیل القدر حدیث ہے لیکن یہ خلافت بلا فصل پر حجت نہیں ہے۔ محدثین نے مختلف اسانید و طرق سے اسے نقل کیا ہے۔

(1) روایتِ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ عِنْدَ شَجَرَاتٍ خُمٍّ، فَقَالَ: أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ.
( مسند أحمد، حدیث: 19321 حیدری المداری)

ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان غدیرِ خم میں ٹھہرے، پھر فرمایا: "کیا میں مؤمنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟” صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔”

(2) روایتِ براء بن عازب رضی اللہ عنہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
( مسند أحمد، حدیث: 18464 حیدری المداری)

ترجمہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ غدیرِ خم پر قیام ہوا۔ اعلان کیا گیا کہ سب جمع ہوجائیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: "کیا میں مؤمنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟” لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”

(3) روایتِ بریدة رضی اللہ عنہ
حضرت بریدة اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ.
(سنن النسائی، خصائص علی، حدیث: 81 حیدری المداری)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس کا میں ولی ہوں، علی بھی اس کے ولی ہیں۔”

(4) روایتِ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
( سنن الترمذی، حدیث: 3713 حیدری المداری)

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
"یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

جشن غدیر کی مبارکباد دینا اور اس دن خوشیوں کا اظہار کرنا

جشن غدیر پر خوشیاں ظاہر کرنا اور مسرت وشادمانی کے طور پر اس کا اظہار واعلان کرنا خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت ہے "واقعۂ غدیر کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو مبارک باد دینے کے الفاظ احادیث میں منقول ہیں۔ یہ روایت مختلف کتب میں قدرے اختلافِ الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔

(1) مسند احمد بن حنبل میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ … فَقَالَ: أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ.
قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.( مسند أحمد، حدیث: 18464 حیدری المداری)

ترجمہ: پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: "مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! آج آپ ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کے مولا بن گئے۔”

(2) المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ

ترجمہ: "مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! آپ ہر مومن مرد و عورت کے مولا ہوگئے۔”

(3) المعجم الأوسط للطبرانی کے بعض نسخوں میں ہے:

بَخٍّ بَخٍّ لَكَ يَا عَلِيُّ، أَصْبَحْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ

ترجمہ: "واہ واہ! اے علی! آپ ہر مومن مرد و عورت کے مولا بن گئے۔”

(4) تاریخ بغداد میں امام خطیب بغدادی علیہ الرحمہ نے روایت نقل کی ہے:

بَخٍّ بَخٍّ لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

ترجمہ: "مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! آپ میرے بھی مولا ہوگئے اور ہر مسلمان کے مولا ہوگئے۔”
( تاریخ بغداد، حیدری المداری)

(5) اسد الغابہ میں علامہ ابن الاثیر علیہ الرحمہ نے نقل کیا:

بَخٍّ بَخٍّ لَكَ يَا عَلِيُّ، أَصْبَحْتَ مَوْلَىٰ كُلِّ مُؤْمِنٍ
(أسد الغابة في معرفة الصحابة، حیدری المداری)

لفظ "بَخٍّ بَخٍّ” اور "هَنِيئًا”
اردو میں اس کا معنی ہے: بَخٍّ بَخٍّ = واہ واہ! مبارک ہو! بہت عمدہ!
هَنِيئًا لَكَ = تمہیں مبارک ہو، خوش گوار ہو یہ دونوں الفاظ تہنیت، مسرت اور مبارک باد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اہلِ سنت کے اکابر کا موقف

امام ابن حجر ہیتمی نے الصواعق المحرقۃ میں حدیثِ غدیر کو حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم فضیلت قرار دیا ہے۔امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں حدیثِ غدیر اور اس کے طرق کا ذکر کیا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک حدیثِ غدیر اور لفظ "مولیٰ” کا معنی سرپرست / متولی. متصرف، مختار، سردار اور محبوب اور صاحب ولایت وغیرہ معانی کیلیے مستعمل ہوتا ہے۔

فضائلِ عالیہ اور دینی مناقب پر مبارک باد دینے کا بیان
امام جلال الدین عبد الرحمٰن ابن ابی بکر السیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ الحاوی للفتاویٰ میں ایک باب باندھا ہے

”باب التهنئة بالفضائل العلية والمناقب الدينية“

اس کے تحت آپ تحریر فرماتے ہیں:

أخرج الشيخان عن أنس قال: أنزلت على النبي ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر مرجعه من الحديبية، فقال النبي : لقد نزلت على آية أحب إلى مما على وجه الأرض ثم قرأها عليهم، فقالوا: هنيئاً لك يا رسول الله الحديث، وأخرج الحاكم في المستدرك عن أسامة قال: بعثنی رسول الله إلى بيت حمزة فلم نجده فقالت له امرأته : جئت یا رسول الله وأنا أريد أن أتيك وأهنئك أخبرني أبو عمارة – يعني حمزة – أنك أعطيت نهراً في الجنة يدعى الكوثره، وأخرج أحمد عن البراء بن عازب، وزيد بن أرقم: أن رسول الله ﷺ قال: من كنت مولاه فعلي مولاه فقال عمر بن الخطاب هنيئاً لك يا علي امسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة وأخرج أحمد، وابن ماجه عن البراء بن عازب قال: «كنا مع رسول الله ﷺ في سفر فنزلنا بغدير خم (۱) فنودي فينا الصلاة جامعة فصلى الظهر وأخذ بيد علي فقال: ألم تعلموا أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى فأخذ بيد علي فقال: اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداءه. قال: فلقيه عمر بعد ذلك فقال له: هنيئاً لك يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة وأخرج ابن عساكر عن عبد الله بن جعفر أن رسول الله ﷺ قال: يا عبد الله هنيئاً لك مريئاً خلقت من طينتي وأبوك يطير مع الملائكة في السماء وأخرج أحمد، ومسلم
(1) هو – بضم الخاء المعجمة ، موضع بين مكة والمدينة تصب فيه عين هناك.

ترجمہ: شیخین (امام بخاری و امام مسلم علیھما الرحمہ) نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی:

﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾

"تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے سب ظاہری خلافِ اولیٰ امور کو معاف فرما دے۔”

یہ آیت حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے روئے زمین کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔”

پھر آپ ﷺ نے یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو سنائی، تو انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو مبارک ہو، آپ کے لیے خوش خبری اور سعادت ہو۔”

اور امام حاکم نے المستدرک میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر بھیجا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہ موجود نہ تھے۔ ان کی زوجہ نے عرض کیا:
"یارسول اللہ! میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ آپ کو مبارک باد پیش کروں، کیونکہ ابو عمارہ (یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں ایک نہر عطا فرمائی ہے جس کا نام کوثر ہے۔”

اور امام احمد نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ”

ترجمہ: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”
اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"هَنِيئًا لَكَ يَا عَلِيُّ، أَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ”

"اے علی! آپ کو مبارک ہو، آپ ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کے مولا بن گئے۔”

نیز امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم مقامِ غدیرِ خم پر پہنچے تو اعلان کیا گیا کہ سب لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ‘کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟’ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! اس پر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا:

"اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ”

‘اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت فرما، اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔’

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا:

"هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ”

‘اے ابنِ ابی طالب! آپ کو مبارک ہو، آپ ہمہ وقت کیلئے ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کے مولا بن گئے۔’

اور امام ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"يَا عَبْدَ اللَّهِ هَنِيئًا لَكَ مَرِيئًا، خُلِقْتَ مِنْ طِينَتِي، وَأَبُوكَ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي السَّمَاءِ”

"اے عبداللہ! تمہیں مبارک ہو، یہ سعادت تمہارے لیے خوشگوار ہو؛ تم میری طینت سے پیدا کیے گئے ہو اور تمہارے والد (جعفر طیار رضی اللہ عنہ) آسمان میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔”

نوٹ:
غدیرِ خم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مشہور مقام ہے جہاں ایک چشمہ بہتا تھا۔

علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمہ لفظ مولیٰ کا معنی بیان کرتے ہویے فرماتے ہیں:

آپ فرماتے ہیں: رہا حدیثِ غدیر، تو وہ یہ ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیرِ خم کے دن، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان جحفہ کے مقام پر واقع ہے، حجۃ الوداع سے واپسی کے بعد لوگوں کو جمع کیا۔ وہ نہایت گرم دن تھا، یہاں تک کہ آدمی شدتِ گرمی کی وجہ سے اپنی چادر اپنے قدموں کے نیچے رکھ لیتا تھا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کجاووں کو جمع کروایا اور ان پر تشریف فرما ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور فرمایا: "کیا میں تمہاری جانوں سے بڑھ کر تم پر حق نہیں رکھتا؟” لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! پھر آپ نے فرمایا: "جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کے علی بھی مولیٰ ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر، جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی کر، جو ان کی مدد کرے تو اس کی مدد کر، اور جو انہیں چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دے۔” یہ حدیث صحت کے اعتبار سے متفق علیہ ہے۔ امیرالمؤمنین سیدنا علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اسے یومِ شوریٰ کے موقع پر اپنی فضیلت بیان کرتے ہوئے پیش کیا، اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔

خلاصہ یہ کہ لفظ "مولیٰ” کا استعمال "متولی، صاحبِ اختیار، اور تصرف کا زیادہ حق رکھنے والا” کے معنی میں عربی کلام میں عام ہے، اور یہ معنی بہت سے ائمۂ لغت سے منقول ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ لفظ اسی معنی کے لیے اسم ہے، صفت نہیں، جیسے "أولىٰ” (زیادہ حق دار)۔ لہٰذا حدیث میں بھی یہی معنی مراد ہونا چاہیے تاکہ حدیث کے آغاز کے ساتھ مطابقت رہے۔
(شرح المقاصد : التفتازاني، سعد الدين ج: 5 ص : 273. حیدری المدار)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ازالۃ الخفاء میں حدیثِ غدیر کو مناقبِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں عظیم شمار کیا ہے۔

ازقلم : مفتی ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری آستانہ حضور سید احمد بدیع الدین قطب المدارزندہ شاہ مدار قدس سرہ مکنپور شریف

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment