غدیر خم کیا ہے
خُم ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں بکثرت گھنے درخت پائے جاتے ہیں، اور یہ مقامِ جُحْفَہ (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے) سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔ اسی وادیٔ جُحْفَہ کے پاس مشہور غدیر (تالاب) بھی ہے جسے اسی خُمّ کی طرف منسوب کیاجاتاہے۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب مناقب علی بن ابی طالب،الفصل الثالث،۱۰/۴۷۵، تحت الحدیث:۶۱۰۳)
اسی مقام پر نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے لئے مَن کُنتُ مَولاَہُ فَعَلِیٌّ مَولَاہُ یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) بھی مولا ہیں یعنی حضرت مولی علی کے منصبِ عالی ولایتِ علی کا اعلان فرمایا تھا۔
عید غدیر اور اعلان ولایت علی
تاریخ اسلام میں عید غدیر بہت اہم دن ہے۔ یہ وہی دن ہے جس دن دین اسلام مکمل ہوا۔ جو دین اسلام بابا آدم علیہ السلام سے چل کر آقا ﷺ تک پہونچا تھا وہ ۹ ہجری تک نامکمل تھا ۱۰ ھجری میں میدان غدیر میں جا کر مکمل ہوا۔
جیسا کہ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی نے "الدر المنثور في التفسير بالمأثور” (۲۵۹:۲) میں آیت
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا﴾ کی شان نزول کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے غدیر خم کے روز ‘من کنت مولاہ فعلی مولاہ’ کے الفاظ فرمائے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
[السیف الجلی علی منکر ولایت علی (اعلان غدیر) ص ، ۴۶]
بیان کیا گیا ہے کہ جب آقاﷺ آخری حج جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے، اس کو ادا کرکے سوا لاکھ صحابہ کرام کے ہمراہ مدینہ پاک کی طرف واپس ہو رہے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک صحرا جسے میدان غدیر خم کہتے ہیں آقا ﷺ نے اسی میدان میں قیام کیا، پھر جب چلنے کی تیاری ہونے لگی اتنے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت کریمہ لیکر نازل ہوئے:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ (سوره مائده)
اے میرے حبیب ﷺ آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پرودگار کی طرف سے نازل کیا گیا اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہو نچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو اکٹھا کیا جو رخصت ہو گئے تھے ان کو بھی بلوایا۔ جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا۔ جب سب لوگ اکھٹا ہو گئے تو آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اونٹوں کے کجاوے نیچے اوپر رکھ کر ممبر بنائے جائیں یہاں تک کہ ستر (۷۰) کجاوے رکھے گئے، ممبر ولایت تیار ہوگئی اور آقا ﷺ اس ممبر کے قریب تشریف لے گئے۔ دو پہر کا وقت تھا۔ میدان غدیر میں سناٹا تھا، کافی گرمی تھی۔
زید بن ارقم سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غدیرخم میں وارد ہوئے۔ تو منادی نے ندا کی الصلوٰۃ جامعہ۔ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے درختوں کے نیچے زمین صاف کی گئی پس رسول اللہ ﷺ نے بعد نماز ظہر علی ابن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے فرمایا کہ اے لوگو کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنین کے لئے ان کے جانوں سے اولی ہوں سب نے کہا بیشک، پھر آپ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے ہو کہ میں مومن کے لئے اس کے نفس سے اولیٰ ہوں سب نے عرض کیا بیشک ہاں یارسول الله ﷺ آپ ہر مومن کے لئے اس کے نفس سے اولیٰ ہیں پس آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں۔ الہی دوست رکھ اس کو جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی کو دشمن رکھے اس کے بعد حضرت عمر نے حضرت علی سے مل کر کہا مبارک ہو تم کو اے علی ابن طالب۔ کہ آج تم میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے لئے مولی ہوئے۔
روایتوں میں ہے کہ ممبر بننے کے بعد ، آقا ﷺ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر حضرت مولائے کائنات کو ممبر ولایت پر لیکر چڑھ گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر مولائے کائنات کو اٹھا کر اتنا بلند کیا کہ آپ کے بغل شریف سے روشنی پھوٹ پڑی ، مولائے کائنات کو اٹھا کر بلند کرکے دکھانا اس لئے تھا کہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے تو دیکھا ہی نہیں اور سنا ہی نہیں، آپ کی آواز چاروں طرف یکساں پہونچ رہی تھی سبھی صحابہ کرام برابر سن رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگوں اب میں جلد ہی دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں ابھی تک میں تمہارا ولی تھا مگر اب میرے بعد تمہارے ولی علی ہیں۔ ان کا دامن پکڑے رہنا تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم حاضرین کو چاہئے کہ غائبین تک یہ خبر پہنچائیں۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس نے فرمایا: واللہ یہ بات یعنی حضرت علی کو اپنا ولی ماننا تمام قوم کی گردن پر واجب ہوگئی ہے۔
[نسائی ۔ ابن مردویہ]
اعلان مولایت کے بعد حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے یوں عرض کیا: مبارک ہو مبارک ہو اے علی آج تم نے اس حال میں صبح کی کہ ہمارے اور سارے مؤمن و مومنہ کے مولیٰ ہو گئے پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت عثمان غنیؓ نے اور دیگر صحابہ کرام نے پھر یکے بعد دیگر امہات المؤمنین نے مبارکباد دی۔
کچھ لوگوں نے علی کو مولی مانا اور کچھ لوگوں نے وہیں انکار کر دیا جیسے حارث فہری۔ اور کچھ لوگوں نے بعد میں انکار کیا، تو ان پر عذاب الہی نازل ہوا۔
جیسا کہ امام محمد بن احمد قرطبی نے سورۂ معارج کی پہلی آیت ﴿سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ﴾ کے حوالے سے یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہاں سائل حارث بن عمان فہری تھا اس کی وجہ یہ بنی کہ جب اسے نبی کریم ﷺ کا حضرت علی شیر خدا کے بارے میں یہ فرمان پہنچا: "مَنْ كُنتُ مولاه فعلی مولاه” وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوا وہ آیا یہاں تک کہ اس نے اپنی سواری ابطح میں بٹھائی پھر کہا: اے محمد ﷺ تو نے ہمیں اللہ تعالی کے بارے میں حکم دیا کہ ہم "لا الهَ إِلَّا الله” کی "وانك رسول اللہ” کی گواہی دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی ، ہم پانچ نمازیں پڑھیں تو ہم نے آپ ﷺ سے وہ بات قبول کی ، ہم اپنے اموال کی زکوۃ دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی ہر سال ہم رمضان شریف کے روزے رکھیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی ، ہم حج کریں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی پھر آپ ﷺ اس بات پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے چچازاد (علی) کو ہم پر فضیلت دی۔ کیا یہ ایسی بات ہے جو آپ ﷺ نے اپنی جانب سے کی ہے یا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے حارث مڑا وہ کہہ رہا تھا: اے اللہ! اگر وہ حق ہے جو محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب لے آ۔ اللہ کی قسم! وہ اپنی اونٹنی تک نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک پتھر مارا جو اس کے دماغ کو لگا تو وہ اس کی دبر سے نکل گیا تو اسے قتل کر دیا تو یہ آیت نازل ہوئی ﴿سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ﴾
[کتاب: تفسیر قرطبی، جلد نہم، ص ۵۸۸]
پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت کریمہ لیکر نازل ہوئے
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-
اے میرے حبیب آج میں نے تمہارے لیے دین اسلام کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے۔ اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا
(صواعق محرقہ )
حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے: رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے غَدِیر خُم کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا شملہ میری پشت پر لٹکا دیا۔
[سنن الکبری للبیہقی ، کتاب السبق والرمی، باب التحریض علی الرمی، ۱۰/ ۲۴، حدیث : ۱۹۷۳۶]
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ.
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا. کے شان نزول میں محدثین و مفسرین نے بھی یہ حدیث مبارکہ بیان کی ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے ۱۸ ذی الحج کو روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ (۶۰) مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا، اور یہ غدیر خم کا دن تھا جب حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا میں مؤمنین کا والی نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب ﷺ نے فرمایا: مبارک ہو! اے ابنِ ابی طالب! آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا ٹھہرے۔ (اس موقع پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا۔“
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسولِ اکرم ﷺ حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے تو غدیر خم پر قیام فرمایا۔ آپ ﷺ نے سائبان لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیئے گئے پھر فرمایا : ’’مجھے لگتا ہے کہ عنقریب مجھے (وصال کا) بلاوا آنے کو ہے، جسے میں قبول کر لوں گا۔ تحقیق میں تمہارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، جو ایک دوسرے سے بڑھ کر اہمیت کی حامل ہیں : ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری آل۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو اور وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ (کوثر) پر میرے سامنے آئیں گی۔‘‘ پھر فرمایا : ’’بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مؤمن کا مولا ہوں۔‘‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں، اُس کا یہ ولی ہے، اے اللہ! جو اِسے (علی کو) دوست رکھے اُسے تو دوست رکھ اور جو اِس سے عداوت رکھے اُس سے تو عداوت رکھ۔‘‘
[نسائي، السنن الکبري، 5 : 45، 130، رقم : 8148، 8464]
طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایکیہودی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین! تم اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم نے (تعظیم کرتے ہوئے) اس دن کو عید بنا لینا تھا، انہوں نے کہا: وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ
{الْیَوْمَ أَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی}
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! میں وہ دن جانتا ہوں، جس میں یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس گھڑی کا بھی علم ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی، جمعہ کا دن تھا اور عرفہ کی شام تھی۔
[الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8578]
احمد نے ابو الطفیل سے روایت کی ہے کہ ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک وسیع مقام پر لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ میں تم سے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم غدیر خم کے موقع پر میری نسبت کیا ارشاد فرمایا تھا۔ اس مجمع سے تیس (۳۰) آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، الہی! علی سے جو محبت رکھے اس سے تو بھی محبت فرما اور جو علی سے بغض رکھے اس سے تو بھی دشمنی رکھنا”
(تاریخ الخلفاء)
فضائل مولی علی کرم اللہ وجہہ
بابِ وِلایت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
و فاتحِ اوّل ازین اُمت مرحومہ حضرت علی مرتضی است کرم اللہ تعالیٰ وجھہ۔ و سرِ حضرت امیر کرم اللہ وجھہ در اولادِ کرام ایشان رضی اللہ عنہم سرایت کرد۔چنانکہ کسی از اولیاء امت نیست الا بخاندانِ حضرت مرتضیٰ رضی اللہ عنہ مرتبط است بوجہی از وجوہ۔
’’اس اُمتِ مرحومہ میں (فاتح اَوّل) ولایت کا دروازہ سب سے پہلے کھولنے والے فرد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا رازِ ولایت آپ کی اولاد کرام رضی اللہ عنہم میں سرایت کرگیا۔ چنانچہَ اولیائے اُمت میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندانِ اِمامت سے (اکستابِ ولایت کے لئے) وابستہ نہ ہو۔‘‘
و از اُمتِ آنحضرت ﷺ اوّل کسیکہ فاتحِ بابِ جذب شدہ است، و دراں جا قدم نہادہ است حضرت امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجھہ، و لہٰذا سلاسلِ طُرُق بداں جانب راجع میشوند۔
’’حضور ﷺ کی اُمت میں پہلا فرد جو ولایت کے (سب سے اعلیٰ و اقویٰ طریق) بابِ جذب کا فاتح بنا اور جس نے اِس مقامِ بلند پر (پہلا ) قدم رکھا وہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے، اِسی وجہ سے روحانیت و ولایت کے مختلف طریقوں کے سلاسِل آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
’’اب اُمت میں جسے بھی بارگاہِ رسالت ﷺ سے فیضِ وِلایت نصیب ہوتا ہے وہ یا تو نسبتِ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے نصیب ہوتا ہے یا نسبتِ غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ عنہ سے، اس کے بغیر کوئی شخص مرتبۂ ولایت پر فائز نہیں ہوسکتا۔‘‘
[السیف الجلی علی منکر ولایت علی (اعلان غدیر) ص ، ۱۰]
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب
"تاریخ الخلفاء” سے مولا علی کے چند فضائل:
امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں وارد ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔
بخاری اور مسلم میں حضرت سعد ابن وقاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں جب آپ کو مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا اور دیگر مجاہدین کے ساتھ نہیں لیا تو آپ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے یہاں بچوں اور عورتوں پر اپنا خلیفہ بناکر چھوڑے جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں تمہیں اس طرح چھوڑے جاتا ہوں جس طرح موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے بس فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
بخاری اور مسلم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے کہ جنگ خیبر کے زمانے میں ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کل پرچمِ اسلامی اس شخص کے حوالہ کروں گا جس کے ہاتھ سے انشاء اللہ خیبر فتح ہو جائے گا۔ وہ شخص اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے راضی ہے۔ رات کو لوگ بہت دیر تک اس بات پر غور و خوض کرتے رہے کہ دیکھئے کل صبح کس کو علم عنایت ہو صبح ہوئی تو ہر شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہر ایک کے دل میں میں خواہش موجزن تھی کہ شاید یہ فخر مجھے حاصل ہو جائے۔ جب تمام صحابہ کرام جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی کہاں ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں اس وجہ سے حاضر خدمت نہیں ہوئے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھیں فورا بلالو۔ جس وقت آپ تشریف لائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن (شریف) لگا دیا جس سے آپ کی آنکھیں فورا اچھی ہو گئیں (اور پھر تازیست دکھنے نہیں آئیں) اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے علمِ لشکر آپ ہی کو مرحمت فرمایا اور ہم سب غور و خوض کرتے ہی رہ گئے۔
صحیح مسلم میں سعد بن وقاص سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آیت (مباہلہ) نازل ہوئی:
فدع ابناءنا وا بناءکم
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؑ حضرت فاطمہ زہراؐ حضرت حسنؑ اور حسینؑ کو بلا کر دعا کی کہ الہی یہ میرے کنبہ کے لوگ ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم
ترمذی اور حاکم نے بریدہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے چار آدمیوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالٰی بھی ان سے محبت رکھتا ہے۔ لوگوں نے کہا یارسول اللہ ہمیں ان کے نام بتا دیجئے، آپ نے ارشاد فرمایا ان میں سے ایک علی ہیں۔ باقی تین حضرات کے سلسلہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین حضرات یہ ہیں: حضرت ابوذر، حضرت مقداد اور حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ تعالی عنہم)
ترمذی نے ابو سریحہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کا میں صاحب (مولا) ہوں، علی بھی اس کے صاحب (مولا) ہیں۔ بعض راویوں کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ الہی جو شخص علی سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علی رضی اللہ سے بعض رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ "علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں”۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے مابین رشتہ مواخات قائم کرایا۔ تو حضرت علی بچشم گریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یارسول اللہ آپ نے تمام صحابہ کے درمیان رشتہ مواخات قائم فرمایا (ایک کو دوسرے کا بھائی بنایا) مگر میں یوں ہی رہ گیا (آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔
مومن اور منافق کی پہچان
مسلم نے حضرت علی رضی اللہ کی زبانی لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا "مجھے اس ذات کی قسم جس نے دانہ اگایا اور جان پیدا کی کہ مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن تم سے محبت رکھے گا اور منافق بغض رکھے گا۔ ترمذی نے ابو سعید سے روایت کی ہے کہ ہم منافق کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بغض سے پہچان لیا کرتے تھے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی لا اس کا دروازہ ہیں۔ (یہ حدیث حسن ہے اور جنھوں نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے انھوں نے غلطی کی ہے)۔
حاکم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی جانب (قاضی بناکر بھیجنا چاہا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں تو ابھی الھڑ جوان ہوں ناتجربہ کار جو معاملات طے کرنا نہیں جانتا اور آپ مجھے یمن بھیجتے ہیں یہ سن کر آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور پھر فرمایا "الہی! اس کے قلب کو روشن فرمادے۔ اس کی زبان کو تاثیر عطا فرما دے، قسم ہے اس خدا کی جس کے حکم سے بیجوں سے درخت پیدا ہوتے ہیں کہ اس دعا کے بعد سے پھر کبھی مجھے کسی مقدمہ کے تصفیہ میں کوئی دغدغہ اور تردد پیدا نہیں ہوا بغیر شک و شبہ کے میں نے ہر مقدمہ میں درست فیصلہ دیا۔
اقوال صحابہ کرام
ابن سعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ آپ زیادہ احادیث روایت کرتے ہیں! میں نے ان کو جواب دیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ جب کبھی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دریافت کرتا تھا تو آپ مجھے خوب اچھی طرح سمجھایا کرتے تھے اور جب میں چپ رہتا تھا (خود کچھ نہیں پوچھتا تھا تو آپ خود ہی بتلایا کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ ہی سب سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے (قاضی) ہیں۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کہا کرتے تھے کہ علی ہم اہل مدینہ میں سب سے ، زیادہ معاملہ فہم ہیں۔
ابن سعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بھی ہم نے علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی مسئلہ کو دریافت کیا تو ہمیشہ درست جواب ان سے پایا۔
سعید ابن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جب کوئی مشکل قضیہ آتا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود نہ ہوتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالی سے پناہ مانگا کرتے تھے ( تعوذ پڑھا کرتے تھے) کہ کہیں قضیہ غلط طے نہ ہو جائے۔ سعید بن مسیب یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام میں سوائے حضرت علی رضی اللہ کے اور کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لو!
ابن عساکر حضرت ابن عباس کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں فصل قضایا (مقدمات کے فیصل کرنے) اور علم فرائض میں علی ابن ابی طالب سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی اور نہیں تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب ان کے سامنے حضرت علی کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ علم سنت کا جاننے والا کوئی اور نہیں ہے۔
مسروق کہتے ہیں کہ اصحاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اب حضرت علی حضرت عمر، حضرت ابن مسعود اور عبد اللہ بن عمر (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) تک محدود رہ گیا ہے۔
عبد الله بن عیاش بن ابی ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ میں علم کی قوت، ارادے کی پختگی، مضبوطی اور استقلال موجود تھا، خاندان بھر میں آپ کی بہادری مشہور تھی، آپ پہلے اسلام لائے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے، احکام فقہ و سنت میں ماہر تھے، جنگی شجاعت اور مال و دولت کی بخشش میں سب سے ممتاز تھے۔
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا کہ تمام لوگ مختلف درختوں کی شاخیں ہو! میں اور علی ایک ہی درخت سے ہیں۔
طبرانی اور ابن حاتم حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جس جگہ قرآن شریف میں "یاایها الذین اٰمنو” ہے وہاں سمجھنا چاہیے کہ حضرت علی ان کے امیرو شریف ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں چند مقامت پر صحابہ کرام پر عتاب فرمایا ہے، مگر حضرت علی کا ذکر ہر جگہ خیر کے ساتھ ہے۔
ابن عساکر حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں جو کچھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں نازل ہوا وہ کسی کی شان میں نازل نہیں ہوا۔ ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ہی سے اس کو بھی روایت کیا ہے کہ آپ کی شان میں تین سو آیات نازل ہوئی ہیں۔
البزار نے سعد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس مسجد میں سوائے میرے اور تمھارے کسی کے لئے جنبی ہونا حلال نہیں ہے۔ (جنبی ہونے کی صورت میں اس مسجد میں داخل ہونا میرے اور تمہارے سوا کسی کے لئے حلال نہیں ہے)
طبرانی، ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں ہوتے تھے تو سوائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے کسی کی مجال نہیں تھی کہ آپ سے گفتگو کرسکے۔
طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: حضرت علی کی طرف دیکھنا بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔ (اس حدیث کے اسناد صحیح ہیں)۔ طبرانی نے اپنی اوسط میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی میں ایسی اٹھارہ (۱۸) صفات ہیں جو اور اور کسی صحابی میں نہیں ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین فضیلتیں ایسی ملی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی مل جاتی تو میرے نزدیک وہ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہوتی۔ لوگوں نے دریافت کیا وہ فضائل کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا اول حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی صاحبزادی (حضرت) فاطمہ کا نکاح کیا۔ دوم آپ نے ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور جو کچھ ان کو وہاں حلال ہے مجھے حلال نہیں ہے۔ تیسرے جنگ خیبر میں علم ان کو عطا فرمایا۔
ابو يعلى حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس دن سے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن مبارک لگایا تھا اور مجھے علم مرحمت فرمایا تھا نہ میری آنکھیں دکھنے آئیں اور نہ میرے سر میں درد ہوا۔
ابو یعلی اور البزار نے سعد ابن وقاص سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے علی کو اذیت دی اس نے خود مجھے ازیت دی۔
طبرانی نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے علی کو محبوب رکھا اس نے مجھے محبوب رکھا اس نے گویا اللہ تعالی کو محبوب رکھا۔ اور جس نے علی سے دشمنی رکھی گویا اس نے مجھ سے دشمنی رکھی اس نے گویا اللہ سے دشمنی رکھی۔
احمد ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا۔
البزار حاکم اور ابو یعلی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرماکر ارشاد فرمایا کہ تمھاری مثال حضرت عیسی علیہ السلام جیسی ہے کہ یہودیوں نے ان سے یہاں تک بغض و عداوت کی کہ ان کی (معصومہ) ماں پر بہتان لگایا اور نصاری نے ان سے محبت کی تو اتنی کی جس کے وہ لائق نہ تھے۔ یاد رکھو دو چیزیں انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ ایک تو اتنی محبت کہ وہ محبوب میں وہ باتیں سمجھنے لگے جو حقیقت میں اس میں موجود نہ ہو، دوسرے اس قدر شدید بغض و عداوت کہ برا کہتے تہمت لگانے سے بھی نہ چوکے۔
طبرانی نے اوسط اور صغیر میں ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد خود سنا ہے کہ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں مجھ سے جدا ہونے کے بعد مجھ سے کوثر پر پھر مل جائیں گے۔
احمد اور حاکم نے بسند صحیح عمار بن یاسر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دو شخص سب سے زیادہ شقی ہیں ایک تو آل ثمود جنھوں نے صالح پیغمبر کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں، دوسرے وہ شخص جو تمھارے سر پر تلوار مارے گا اور تمھاری داڑھی خون میں تربتر ہو جائی گی۔
حاکم نے ابو سعید خدری کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ چند لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی کچھ شکایت پیش کی تو آپ نے فوراً ایک خطبہ فرمایا اور کہا کہ لوگوں علی کی شکایت ہرگز نہ کرنا۔ وہ خداوند تعالی کے راستے میں اور اس کے معاملات میں بہت ہی سخت گیر ہیں۔
[کتاب: تاریخ الخلفاء ص ، ۲۵۵ – ۲۶۰]










