تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

حضرت سید شاہ عطا اللہ مداری رحمۃ اللہ علیہ

On: اپریل 21, 2026 2:39 شام
Follow Us:

یہ بزرگ ایک جلیل القدر عالمِ باعمل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ آپ کا تعلق سلسلۂ عالیہ مداریہ سے تھا اور آپ اس عظیم روحانی سلسلے کے ممتاز خلیفہ و جانشین تھے۔ آپ اپنے والدِ ماجد حضرت محمد شریف رحمۃ اللہ علیہ کے فیض یافتہ تھے، جبکہ آپ کا روحانی و خاندانی تعلق شیخ الطریقت برہان الحقیقت قاضی محمود گرگ دانشمندان تیغ برہنہ کنتوری رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک تھا، جو طریقت و حقیقت کے بلند مرتبہ بزرگ شمار کیے جاتے ہیں۔

کتاب بحر زخار میں ایک دلچسپ واقعہ مذکور ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ روحانی فوائد کے حصول کے لیے ایک بزرگ کی طرف رجوع کیا۔ ان بزرگ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ آپ کو سلسلۂ مداریہ سے ہٹا کر اپنے سلسلے میں شامل کر لیں۔ اسی خیال کے دوران انہوں نے خواب میں دیکھا کہ بے شمار ملنگ (اولیائے کرام) نہایت غضب اور جلال کے ساتھ انہیں ملامت کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ "کیا تو ہمارے صاحبزادے کو اپنے سلسلے میں لینا چاہتا ہے؟”۔

جب وہ بزرگ بیدار ہوئے تو فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کیا اور اعتراف کیا کہ وہ سلسلۂ مداریہ کے فقراء کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ انہوں نے تحریری طور پر بھی اظہارِ معذرت کیا اور آپ کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کر دیا۔ اس واقعے سے آپ کے روحانی مقام اور سلسلۂ مداریہ کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

ایک اور واقعہ آپ کی کرامت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مرتبہ آپ کے صاحبزادے غلام بدیع الدین المعروف شاہ میاں نے آپ سے عرض کیا کہ ایک ہی وقت میں کسی شخص کا مختلف مقامات پر موجود ہونا عقل میں نہیں آتا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو ایسی قدرت عطا فرماتا ہے، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

پھر آپ نے ایک سنگریزہ اٹھا کر اپنی انگلیوں پر رکھا اور فرمایا: "دیکھو”۔ جب دیکھا گیا تو آپ کے دستِ مبارک کی ہر انگلی پر ویسا ہی ایک ایک سنگریزہ موجود تھا۔ اس کرامت کو دیکھ کر آپ کے صاحبزادے کی حیرت دور ہو گئی اور ان کے دل میں عشقِ الٰہی کا ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔

آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1100 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا مزار مبارک کنتور شریف میں واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دے کر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔

قطعۂ تاریخ وفات
سالکِ راہِ خدا آن شہِ سید عطا
رفت از دارالفنا چوں سوئے دارالبقا
ہاتفی تاریخ او گفت بگوشم خرد
آہ ز آفاق رفت زہدۂ اہلِ صفا

ماخذ: کتاب سیر المدار، مصنف ظہیر احمد سہسوانی، صفحہ 138۔

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment