رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

تراویح کا پس منظر اور تیز قرأت کی حکمت

On: مارچ 5, 2026 1:41 صبح
Follow Us:
  • قرآن کو تیز پڑھنا کیسا ہے
  • تیز قرأت قرآن
  • تراویح میں تیز قرأت
  • تراویح میں قرآن جلدی پڑھنا
  • تراویح میں قرآن کی تلاوت
  • قرآن کی تلاوت کا طریقہ
  • قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھنا
  • تراویح کی نماز اور قرآن
  • حافظ قرآن اور تراویح
  • تراویح میں قرآن ختم کرنا
  • تراویح میں تیز تلاوت کا حکم
  • قرآن کی تلاوت اور برکت

ہر سال کسی نہ کسی مولانا کی یا کسی نہ کسی عام آدمی کی ایک دو چار پانچ ویڈیو چلائی جاتی ہیں اور اس میں کسی نہ کسی انداز سے تراویح کی مخالفت ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان تراویح سے دور ہو جائیں کیونکہ ۲۰ کی ۸ تو کچھ لوگوں نے ویسی کر رکھی۔ اسلام نے ہمیں ۲۰ رکعتیں دی تھیں، پیغمبر اسلام علیہ السلام نے ۲۰ رکعت تراویح ہمیں عطا فرمائی۔ کچھ لوگوں نے گھٹا کر آٹھ کر دیا اور کچھ اب بالکل ہی ختم کر دینا چاہتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ اسلام کو جتنا غیر مسلموں نے دبایا اُس سے کہیں زیادہ ان لوگوں نے دبانے کی کوشش کی ہے کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اوپر سے مسلمان ہیں اندر سے بے ایمان ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے بڑی پریشانی ہے۔

پہلے تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں۔ ایک بات چلائی جاتی ہے کہ قرآن کریم کو تیز تیز نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ بڑے آرام آرام سے ٹھہر ٹھہر کے پوری تجوید کے ساتھ پڑھنا چاہیے جیسے لوگ پڑھتے ہیں نا نماز میں پڑھتے ہیں:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ

اس طریقے سے ٹھہر ٹھہر کے پڑھو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔ ابھی آپ نے وہ آیتِ کریمہ سورہ مزمل شریف میں سنی، اس کا حصہ:

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاﭤ

قرآنِ کریم کو ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہئے!
کیوں؟ اس لیے کہ قرآنِ کریم جو ہمارے اور آپ کے درمیان ہے، جو ہمیں عطا فرمایا گیا ہے، اس کا ایک مقصد ہے۔ اور مقصد کیا ہے؟ کہ ہم یہ قرآن کریم پڑھ کر اس سے دین حاصل کریں، اس سے ہدایت حاصل کریں۔ یہ قرآن کریم کا مقصد ہے۔ اس لئے قرآن کریم کو آرام آرام سے پڑھو، ٹھہر ٹھہر کے پڑھو، سمجھ کے پڑھو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

ہمارے یہاں مدرسوں میں ایسا ہوتا بھی ہے۔ ہمارے یہاں جلسوں میں ایسا ہوتا بھی ہے۔ ہمارے یہاں محفلوں میں، میلاد شریف کی محفلوں میں ایسا ہوتا بھی ہے کہ قرآن کریم پڑھا جاتا ہے اور اس کو سمجھایا جاتا ہے۔ کہ ایک آیت پڑھی، اس کا مقصد یہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے، اس کا شان نزول یہ ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے، اس سے یہ مسائل ہمیں سمجھ میں آتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں بتائی جاتی ہیں۔

لیکن قرآن کریم کے پڑھنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کو اس لیے پڑھا جائے کہ اس سے تعلیم حاصل ہو۔ اور قرآن کریم کو پڑھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے برکتیں حاصل کی جائیں۔

جیسے آپ اپنے بچے کو جب مدرسے میں بھیجتے ہیں قرآن کریم پڑھانے کے لئے، کس لیے؟ تاکہ قرآن کریم سیکھے، اس کی تعلیم حاصل کرے۔

لیکن جب آپ کے گھر میں کسی کا انتقال ہوتا ہے، آپ قرآن کریم پڑھتے ہیں، مدرسے کے بچوں کو بلا کر قرآن کریم پڑھواتے ہیں، محلے کے لوگ ملکر قرآن کریم پڑھتے ہیں، گھر میں خواتین قرآن کریم پڑھتی ہیں۔ اب کیا وہ تعلیم کے لیے پڑھتی ہیں؟ کیا وہ قرآن کریم سیکھنے کے لیے پڑھتی ہیں؟ نہیں! بلکہ صرف اور صرف برکت حاصل کرنے کے لیے پڑھا جاتا ہے، ثواب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جاتا ہے۔

اس وقت مقصد یہ نہیں ہوتا کہ قرآن کریم اس لئے پڑھا جائے کہ صاحب اس سے ہم دین سیکھیں۔ نہیں۔ اس پر برکت حاصل کرنا ہوتا ہے۔

تو قرآن کریم پڑھنے کے دو انداز ہیں اور دو زاویے ہیں اور دو نظریے ہیں اور دو فائدے ہیں۔ ایک تعلیم حاصل کرنا اور دوسرا اس سے برکت حاصل کرنا۔

جو مدرسے میں اور مجلسوں میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے وہ اس لئے کہ اس سے تعلیم حاصل کی جائے۔ اور جو تراویح میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے وہ اس لیے کہ اس سے برکتیں حاصل کی جائیں۔

اب تیز پڑھنے میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے اس لیے کہ آپ سب لوگ عربی داں تو ہیں نہیں۔ اگر آپ کو قرآن کریم ویسے ہی لمبی قرات کر کے بھی اگر سنایا جائے آپ کو کچھ حاصل ہوگا اس سے نہیں جب تک اس کا ترجمہ نہ سنایا جائے، جب تک اس کا معنی نہ بتایا جائے۔

تو تراویح میں جو قرآن کریم پڑھا جاتا ہے یا گھر میں ویسے ہی خواتین پڑھتی ہیں یا ہم اور آپ ویسے ہی قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں وہ صرف اور صرف قرآن کریم کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔

چنانچہ سیدنا حضور غریب نواز معین الدین اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تقریباً چوبیس سال آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی اور ہر رات ایک قرآن کریم تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ہر رات ایک قرآنِ کریم مکمل کرتے تھے۔ کون؟ سرکار غریب نواز۔

اور آگے بڑھ جاؤ۔
سیدنا غوث اعظم پیر پیراں میر میراں شیخ عبدالقادر محی الدین جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالی عنہ تقریباً بتیس سال آپ نے عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز ادا فرمائی اور ہر رات ایک قرآنِ کریم مکمل فرمایا۔

اور آگے بڑھ جاؤ۔
ہم جن کے مسلک پر چلتے ہیں، ہم جن کے مسئلک کو مانتے ہیں۔ کون؟ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ۔ چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی اور ہر رات ایک قرآن کریم مکمل فرمایا۔

اب ذرا مجھے کوئی وہ مولوی بتائے، وہ کون سی تجوید سے پڑھتے تھے امام اعظم ابو حنیفہ؟ وہ کونسی قرأت میں پڑھتے تھے سرکار غریب نواز و سرکار غوث اعظم؟ جو ایک رات میں قرآنِ کریم مکمل ہوتا تھا۔

اگر ایسے پڑھتے ہیں کہ:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ

تو پندرہ راتوں میں بھی پورا نہ ہوگا۔
ظاہر سی بات ہے وہ بھی ایسے پڑھتے ہوں گے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (1) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ (2) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِﭤ (3) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُﭤ (4) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ (5) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ (7)

نہ میں نے سرکار غریب نواز کو دیکھا پڑھتے ہوئے، نہ میں نے سرکار امام اعظم ابو حنیفہ کو دیکھا پڑھتے ہوئے۔ میں نے نہیں دیکھا انہیں پڑھتے ہوئے۔ میں نے اپنے والد گرامی حضور مجدد مراد آبادی امام سید محمد انتخاب حسین قدیری اشرفی مداری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پڑھتے ہوئے دیکھا۔

وہ دہلی سے ٹرین میں بیٹھتے تھے سورت کے لیے، بومبے کے لیے، حیدراباد کے لیے۔ اب راستہ کتنے گھنٹے کا ہے؟ دس گھنٹے کا ہے، بارہ گھنٹے کا ہے، چودہ گھنٹے کا ہے۔ اور راستے میں کم سے کم ایک قرآن کریم ضرور مکمل فرمایا کرتے تھے۔ سفر میں ایک قرآن کریم مکمل ہو جاتا تھا۔

تو یہ بزرگوں کا طریقہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو تعلیم کے لیے بھی پڑھا اور پڑھوایا ہے اور برکتیں حاصل کرنے کے لئے خود بھی پڑھا ہے اور پڑھوایا بھی ہے۔

لہذا یہ کہنا کہ صاحب قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کے پڑھو، سمجھ سمجھ کے پڑھو۔ اچھا یہ باتیں وہ مولوی کرتے ہیں کہ جو خود حافظ نہیں ہیں۔ ایک تو ۹۹ فیصد مولوی حافظ نہیں ہوتے۔ اور خاص طور پر جو مقرر ہوتے ہیں نا مولوی اسٹیج والے، یہ تو واقعی میں حافظ نہیں ہوتے۔

اور جو اگر گھر میں ماں باپ نے مار پیٹ کے اگر کسی کو حافظ بنا بھی دیا تو پھر یاد نہیں رہتا، پڑھتے نہیں۔

اب انہیں تو معلوم نہیں کہ حافظ کا درد کیا ہوتا ہے۔ انہیں تو پتہ نہیں کہ حافظ کی محنتیں کیا ہوتی ہیں۔ یہ تو بس رمضان کے دو دن پہلے کھڑے ہوئے اور حافظوں کے خلاف فالتو باتیں کرنا شروع کرتے ہیں۔ حافظ ایسا پڑھتے ہیں، حافظ ویسا پڑھتے ہیں، حافظ نذرانہ لیتے ہیں۔

اچھا یہ مولوی تو بنا نذرانے کے تقریریں کر رہے ہیں نا؟ جیسے اماں ہندوستان میں ایک ایک مقرر ایک ایک تقریر کے ایک ایک لاکھ روپے لے رہا ہے۔ ایک ایک لاکھ! اور کچھ نہیں گپے سناتے ہیں، گپے، جھوٹی روایتیں سناتے ہیں۔ اور ایک تقریر کے کتنے؟ ایک لاکھ!

یہ حالت ہو گئی ہے۔
تو ان لوگوں کو یہ تو پتہ نہیں ہے کہ حافظوں کی کیا اہمیت ہے، حافظوں کی کیا پریشانیاں ہیں، حافظوں کے ساتھ کیسی دشواریاں ہیں۔ انہیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے۔ بس کھڑے ہو گئے، ٹٹن ٹٹن شروع ہو گئے حافظوں کے خلاف۔

بالکل نہیں۔ جہاں چھ دن میں قرآن کریم ہوتا ہے صحیح ہے، جہاں دس دن قرآن کریم ہوتا ہے صحیح ہے، جو تیز پڑھتے ہیں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کا مطلب قرآن کریم کو آپ کو سمجھانا نہیں ہے، اس سے آپ کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنا ہے۔

ہاں اگر اس کا شوق ہے تو قرآن کریم کو تلاوت کے ساتھ پڑھا جائے اور تلاوت کے ساتھ پڑھ کر سمجھ سمجھ کر پڑھا جائے۔ ایک ایک آیت کا مطلب، معنی، مفہوم اور اس کا شان نزول سب کچھ سمجھا جائے۔
تو عید کے بعد بیٹھو نا۔ روزانہ ایک صفحہ پڑھا کریں گے اور روزانہ ایک صفحہ آپ سنا کیجئے۔

لیکن جہاں تراویح کا معاملہ ہے تو یہ برکتیں حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔

لہذا ایسے کسی بہکاوے میں آپ نہ آئیں کہ آپ لوگ ایسے ایسے پڑھتے ہیں، تیز پڑھتے ہیں، یوں کرتے ہیں۔ جس پر بیت تی ہے وہی جانتا ہے۔ تیز پڑھنا بڑا مشکل کام ہے۔

میں آپ کو ایک مثال دوں۔ اگر آپ چالیس اور پچاس کی سپیڈ پر گاڑی چلا رہے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ ادھر بھی دیکھ لیا، ہاں بھائی کیا ہو رہا بھائی، پیچھے والے سے باتیں کرلیں، سب کچھ ہوتا رہتا ہے۔ بیچ میں موبائل بھی نکال لیا، سامنے بھی نظر، موبائل بھی چلا لیا۔

اگر چالیس پچاس ساٹھ کی سپیڈ پر کار چلا رہے ہو۔ اور اگر ایک سو چالیس پر چل رہی ہو تو اب پوچھو گے پیچھے والا نے کیا کھا رہا؟ پھر تو یوں رہتا ہے آدمی، ذرا سی نظر نہ چوک جائے ورنہ تیجہ پکا۔

الحمدللہ میں نے آج تک جہاں جہاں بھی تراویح دیکھی، میں رمضان شریف میں بہت جگہ گھوما ہوں۔ مرادآباد شریف تو کیا، مہاراشٹر، گجرات، حیدراباد، دلی۔ کہاں کہاں میں گھوما رمضان شریف میں۔

میں نے دیکھا پورے ہندوستان میں جتنے سکون کے ساتھ تراویح تخت والی مسجد میں ہوتی ہے کہیں نہیں ہوتی۔
آپ باہر نہیں جاتے، آپ شہر میں دیکھو۔ شہر کی کسی مسجد میں چلے جائیں۔ پچاس پرسنٹ، پچیس پرسنٹ، دس پرسنٹ ایسے ضرور ملیں گے کہ جو حافظ کے ساتھ نیت نہیں باندھتے ہیں۔ بیٹھے ہیں اپنے آپ۔ حافظ صاحب شروع ہو گئے۔ جب رکوع کا نمبر آئے گا تو اللہ اکبر کہہ گا رکوع میں پہنچ جائیں گے۔

لیکن الحمدللہ یہ تخت والی مسجد ایسی ہے کہ یہاں پر ہر نمازی حافظ صاحب کے ساتھ نیت باندھتا ہے۔ کوئی ایک دو ہوں ان کی گنتی نہیں ہے۔ ایک دو کی کوئی گنتی نہیں ہوتی۔

الحمدللہ سارے نمازی امام کے ساتھ نیت باندھتے ہیں اور کھڑے ہو کے سنتے ہیں۔ الحمدللہ۔
تو ان مولویوں کو یہ چاہیے کہ عوام کو بتائیں کہ تراویح میں کھیل کود نہیں کرنا چاہیے بلکہ تراویح صحیح طریقے میں پڑھنے چاہیے۔

بتانے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ بالکل یہ ختم ہو جائے کیونکہ خود تو پڑھنی نہیں ہے۔
میں نے دیکھا بڑے بڑے مولوی اسٹیٹس لگائیں گے۔ ابھی ہم بنگلور ائرپورٹ سے نکل رہے ہیں۔ ابھی ہم کلکتہ ائرپورٹ پر پہنچ چکے ہیں۔

بڑے بڑے مولوی لگائیں گے۔
آج تک میں نے کسی مولوی کو یہ اسٹیٹس لگاتے نہیں دیکھا کہ میں فلاں مسجد میں تراویح پڑھ رہا ہوں۔ کوئی نہیں لگاتا۔

کیوں؟ پڑھتے ہی نہ۔
اگر پوچھ بھی لیا حضرت تراویح؟
الحمدللہ میں اپنے گھر میں ادا کر لیتا ہوں۔
اچھا تراویح گھر میں ہوگی تو مولویوں کو چاہیے کہ تراویح بھی پڑھیں اور حافظوں کا درد بھی سمجھیں۔

بہرحال یہ ایک مسئلہ تھا بیان کر دیا۔

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment