حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جنہیں "ام المومنین” اور "طاہرہ” کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ، سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی، اور دین اسلام کے ابتدائی دور میں سب سے بڑی مددگار تھیں۔ آپ کا کردار، قربانی اور ایثار اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
احادیث کی روشنی میں عظمت
رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں مختلف مواقع پر ان کی فضیلت اور مقام کا ذکر فرمایا:
اللہ کی طرف سے سلام –
حضرت جبرائیل علیہ السّلام حضورسیدنا نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا:
"يا رسول الله، هذه خديجة قد أتتك، معها إناء فيه إدام أو طعام أو شراب، فإذا هي أتتك، فاقرأ عليها السلام من ربها ومني، وبشرها ببيت في الجنة من قصب، لا صخب فيه ولا نصب”
(بخاری: 3820، مسلم: 2432)
ترجمہ: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آپ کے پاس آئی ہیں، ان کے ساتھ کھانے یا پینے کی کوئی چیز ہے، جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کو ان کے رب کا اور میرا سلام پہنچا دیں اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دے دیں جہاں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف۔
یہ حدیث حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بلند مقام کی عکاسی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو سلام بھیجا، جو کسی اور صحابی یا صحابیہ کے بارے میں اس انداز سے روایت نہیں۔
سب سے پہلی ایمان لانے والی –
حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی کہ انہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ حضورسیدنا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ”
(بخاری: 3432، مسلم: 2430)
ترجمہ: دنیا کی عورتوں میں سب سے بہترین مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ہیں۔
یہ حدیث مبارکہ ثابت کرتی ہے کہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا تمام عورتوں میں سب سے برگزیدہ اور عظیم المرتبت شخصیت تھیں۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ کی سیرت کے نمایاں پہلو
اعلیٰ اخلاق اور طہارت –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو "الطاہرہ” کہا جاتا تھا، کیونکہ آپ ہمیشہ پاکیزگی اور عفت و حیا کی پیکر تھیں۔ جاہلیت کے دور میں بھی آپ کی سچائی، دیانت اور نیک سیرتی معروف تھی۔
کامیاب اور دیانتدار تاجرہ –
آپ ایک کامیاب تاجرہ تھیں، جن کا کاروبار مکہ سے لے کر شام تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ نے اپنی تجارت میں ہمیشہ دیانت داری کو مقدم رکھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ایمانداری سے متاثر ہو کر آپ نے انہیں اپنی تجارتی قافلوں کی نگرانی کے لیے منتخب کیا اور بعد میں خود نبی کریم ﷺ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔
نبی کریم ﷺ کی سب سے بڑی مددگار –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ ہستی تھیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے ابتدائی دنوں میں ان کی سب سے زیادہ حمایت کی۔ جب غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی دی اور فرمایا:
"کَلَّا، وَاللّٰهِ مَا يُخْزِيكَ اللّٰهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ”
(بخاری: 4953، مسلم: 160)
ترجمہ: ہرگز نہیں!، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں فرماۓ گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو نوازتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملے میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
یہ الفاظ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عقلمندی اور نبی کریم ﷺ پر ان کے مکمل یقین کو ظاہر کرتے ہیں۔
اپنا سارا مال اسلام کے لیے وقف کر دیا –
اسلام کے ابتدائی ایام میں قریش نے مسلمانوں پر سخت ظلم و ستم کیا۔ ایسے میں حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اپنی ساری دولت اسلام کے لیے وقف کر دی، جس سے مسلمانوں کی بڑی مدد ہوئی۔ شعب ابی طالب میں جب مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا گیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اپنی تمام تر دولت مسلمانوں کے لیے خرچ کر دی۔
عظیم ازدواجی زندگی اور نبی کریم ﷺ کی محبت –
نبی کریم ﷺ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بےحد محبت فرماتے تھے اور ان کے بعد بھی انہیں یاد کرتے رہتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں:
مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا”
(بخاری: 3818، مسلم: 2435)
ترجمہ: میں نبی کریم ﷺ کی کسی بیوی سے اتنی غیرت نہیں کی جتن خدیجتہ الکبریٰ سے کی، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن نبی کریم ﷺ انہیں بہت زیادہ یاد فرماتے تھے۔
حضرت سیدہ خدیجۃ اور سیدہ زہراء کی پرورش و پرداخت
حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھما کی سیرت میں ایک خصوصی تعلق پایا جاتا ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نہ صرف نبی اکرم ﷺ کی سب سے قریبی اور وفادار زوجہ تھیں بلکہ وہ ایک مثالی ماں بھی تھیں، جنہوں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا جیسی جلیل القدر شخصیت کی پرورش کی۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی والدین کی حیثیت سے ذمہ داری
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا عرب کی معزز ترین خواتین میں سے تھیں۔ آپ کی شخصیت میں اعلیٰ اخلاق، دانائی، حلم، صبر اور استقامت جیسی خوبیاں موجود تھیں۔ ان اوصاف کا اثر ان کی اولاد کی تربیت میں بھی نظر آتا ہے، خاص طور پر حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی زندگی میں۔
ماں کی محبت اور قربانی –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو بےحد محبت دی، لیکن ان کی تربیت محض نرمی اور محبت تک محدود نہ تھی بلکہ انہوں نے انہیں صبر، حیا، دین داری اور سادگی جیسے اوصاف سے بھی آراستہ کیا۔
اسلامی تعلیمات کی بنیاد –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اپنی بیٹی کی تربیت اس انداز میں فرمائی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے مشن کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو نبی کریم ﷺ کی محبت، دین کی خدمت، ایثار و قربانی، اور حق کے لیے استقامت کی تعلیم دی۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش
ابتدائی زندگی اور مشکلات –
سیدہ فاطمہ زھرا رضی اللہ تعالیٰ عنھاکی پرورش ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام کے ابتدائی ایام میں مسلمانوں کو شدید مخالفت کا سامنا تھا۔
وہ بچپن ہی سے اپنے والد گرامی حضور نبی اکرم ﷺ پر کفار کے ظلم و ستم کو دیکھتی رہیں، جس کی وجہ سے ان کی طبیعت میں صبر، استقامت اور جفاکشی پیدا ہوئی۔
جب کفار نے نبی کریم ﷺ پر ظلم کیا، ان پر کوڑا کرکٹ پھینکا یا اونٹ کی اوجھڑی رکھی جیسا کہ کہا جاتا ہے، تو فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ہی وہ ہستی تھیں جو دوڑ کر اپنے والد ماجد تاجدارحرم حضرت محمد مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سنبھالتی تھیں۔
سادگی اور قناعت پسندی –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی دولت اسلام کی راہ میں خرچ کر دی تھی، اور حضرت فاطمہ زھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تربیت میں بھی یہی سادگی نظر آتی ہے۔ وہ انتہائی سادہ زندگی بسر فرماتی تھیں، چکی پیستی تھیں، اور گھر کے کام خود کرتی تھیں۔
دین کے لیے قربانی کا جذبہ –
حضرت سیدہ فاطمہ زھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تربیت اس انداز میں کی گئی کہ وہ دین کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہیں۔ ان کی شادی حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے انتہائی سادگی سے ہوئی اور انہوں نے ہمیشہ دنیاوی آسائشوں کو ترک کر کے زہد و تقویٰ کی زندگی گزاری۔
ماں بیٹی کے درمیان محبت اور اثرات –
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رحلت کے بعد نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ زھرا رضی اللہ تعالیٰ عنھاکو "ام ابیہا” (اپنے باپ کی ماں) کا لقب دیا، کیونکہ وہ اپنی ماں کی طرح نبی کریم ﷺ کی دلجوئی فرماتی تھیں۔
نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے بارے میں فرمایا:
"فاطمة بضعة مني، فمن أغضبها أغضبني”
(بخاری: 3714، مسلم: 2449)
ترجمہ: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
یہ الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش کا اثر سیدہ فاطمہ زھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت میں کس قدر نمایاں تھا۔
حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت ہمیں ایثار، قربانی، محبت، دیانت، عفت و پاکیزگی، اور نبی کریم ﷺ سے بے پناہ وفاداری کا درس دیتی ہے۔ آپ کی شخصیت ہر مسلمان عورت کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات اور قربانیوں کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت میں ایک عظیم الشان محل کی بشارت دی۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ کا کردار اتنا مؤثر تھا کہ ان کے بعد بھی نبی کریم ﷺ آپ کو ہمیشہ یاد کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے اور ان کی اولاد کے فیضان سے ہمیں مالا مال فرمائے۔ آمین۔











