حضرت سید ظہور عباس المعروف شاہ میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ جامع علوم صوری و معنوی بزرگ تھے اور کمالات ظاہری وباطنی بھی تھے
خاندان
آپ کے والد ماجد کا نام سید شاہ جمال مدار قدس سرہ العزیز ہے متوفی ۱۲۴۷ ھجری
اور آپکے دادا محترم غالباً حضرت سید شاہ نصر اللہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کا وصال ۱۲۴۰ ھجری میں ہوا تھا
بیعت و ارادت
سید ظہور عباس المعروف شاہ میاں رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ جمال مدار قدس سرہ العزیز سے سلسلۂ عالیہ مداریہ میں بیعت ہوئے اور تکمیل مولانا سید شاہ ثمر الدین احمد سے ہوئی
عادات و اطوار
آپ کے مزاج میں جہاں جلال زیادہ تھا اس سبب سے ہر ایک شخص کو آپ سے عرض و حال کی مجال نہ تھی
کرامت
ایک سال ایسا اتفاق ہوا کہ ایام بارش نصف سے زیادہ گزر گئے اور ایک قطرہ پانی کا زمین پر نہ آیا خلق خدا سخت پریشان اور نہایت نالان و پریشان تھی ایک بار کچھ لوگوں نے موقع پاکر ڈرتے ڈرتے عرض کیا حضور! ایام بارش نصف سے زیادہ گزر گئے اور ایک قطرہ پانی کا زمین پر نہ آیا آپ یہ حال سن کر دیر تک خاموشی کے ساتھ سر مراقبہ میں ڈالے رہے پھر ان لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ رحمت خدا سے مایوس نہ ہو اللہ تعالی جلد رحم فرمائے گا پھر جناب الہی میں بدست دعا ہوئے اور سجدے میں جا کر اتنی دیر تلک دعا فرمائی کہ کہ بارش کے بادل کا ٹکڑا نمود ہو کر محیط آسمان ہو گیا اور باران حسب مراد برسا
وفات
سید ظہور عباس المعروف شاہ میاں رحمۃ اللہ علیہ کی وفات چار شعبان 1290 ہجری میں ہوئی
مزار
مزار آپ کا کاسگنج ضلع ایٹہ میں ہے











