حضرت ولایت علی شاہ طبقاتی مداری رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ کشف و کرامات بزرگ تھے۔ آپ سلسلۂ طبقاتیہ مداریہ کے نہایت خلیق الطبع اور کریم النفس بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔
اخلاق
آپ کے اخلاق کی کیفیت یہ تھی کہ آپ نے کبھی کسی کی دل شکنی نہیں کی، بلکہ ہر حال میں عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کو اختیار فرمایا۔
قیامِ مکنپور اور واقعۂ چوری
ایک مرتبہ آپ حضور سید الموحدین عمدۃ الاطہار حضرت سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرس شریف میں شرکت کرنے کے لئے مکنپور تشریف لے گئے۔ اس موقع پر آپ آبادی سے باہر صفدر علی شاہ عرف شیر علی شاہ کے تکیے پر قیام پذیر ہویے۔
چوری کا واقعہ اور کشفِ حال
ایک رات چور آپ کی سواری کا گھوڑا، جو بیش قیمتی تھا اور نہایت اچھا گھوڑا تھا، چراکر لے چلے۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ راتوں رات اس گھوڑے کو کسی ایسی جگہ پہنچا دیا جائے جہاں اس کا پتہ نہ چل سکے۔ چور ہر چند اس قسم کی کوشش کرتے رہے اور گھوڑے کو تیز دوڑاتے رہے، مگر جب خیال کرتے تو اپنے آپ کو مکنپور سے باہر نہیں پاتے تھے جب تھوڑی رات باقی رہ گئی تو چوروں نے اس خوف سے کہ کہیں چوری میں پکڑے نہ جائیں، اس گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ جب وہ سب اپنے آپ چلنا چاہتے تھے تو پاؤں کو شل اور آنکھوں کو بے نور پاتے تھے۔ تب ان سب کے دلوں میں یہ خیال گزرا کہ شاید ہمارا یہ حال اس بزرگ کے گھوڑے کو چرانے کے سبب سے ہوا ہے۔
اس خیال سے وہ گھوڑے کو لے کر آپ کی خدمت میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے حاضر ہوئے اور اپنی خطا پر نادم ہو کر زار زار روئے، اور آپ کے قدموں پر گر کر اپنی تندرستی کے خواستگار ہوئے۔ آپ نے ان کی خطا معاف فرما دی اور ان سے یہ اقرار لے لیا کہ وہ کبھی کسی کی چوری نہیں کریں گے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ، اس گھوڑے کو لے جاؤ، کیونکہ تم نے اس کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی ہے۔ جب آپ نے یہ فرمایا تو وہ سب کے سب بھلے چنگے ہو گئے اور اپنے ہاتھ پر تائب ہوئے۔ وہ گھوڑا لینے سے بہت انکار کرتے رہے، مگر آپ نے وہ گھوڑا ان کے حوالے کر دیا، اور ان کا اس بارے میں انکار کرنا پسند نہیں فرمایا۔
وصال اور مآخذ
وفات: چار شعبان ۱۲۹۰ ہجری
مزارِ مبارک
آپ کا مزار موزہ سبزہ، واقع ملکِ میوات میں ہے۔
ماخوذ:
سیار المدار، صفحہ نمبر 163
— سید الاقطاب، صفحہ نمبر 70











