تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

یاد ماضی اور میلہ مکن پورشریف

On: فروری 21, 2026 5:46 شام
Follow Us:
makanpur Basnt Mela

قدیم مکن پور
دریائے ایسن کے کنارے صناع عالم کی تخلیق کا ایک حسین شاہکار ، بالو کے ٹیلوں کے اوپر کہیں نیچے بسا ، تاڑوں کے باغات سے سجا، کناروں کناروں پرشفاف ریت کا چاندی نما منظر ، پھولوں اور کیاریوں سے مہکے مہکے بڑے بڑے آنگن، پیلی مٹی سے لسے صحن وچبوترے ،پنڈول سے پوتی ہوی دیواروں پر قلعی سے بنے پھول پودے کہیں کہیں کجھور کی شاخیں ، جیسے دیوالی کی دلنیاں سجی ہویہ حسین منظر کسی شفاف مرمریں محلات سے کم نہیں ہوتا تھا ،کہیں کہیں چھپروں پر لوکی کی بیلیں چڑھی رہتی تھیں

گلاباز ،گل دوپاریا، گیندا ، گلفرنگ کل داؤدی وغیرہ اچھے اچھے پودوں اور پھولوں سے سجی کیاریاں،
گھر گھر کا منظر حسین تھا مجھے یاد آتا ہے وہ دور جب مکن پور شریف میں کچے رستے تھے چھوٹا موٹا کام کرنے کیلئے بیل گاڑیاں ہوتی تھیں

بستی کے لو گ ندی کے پار کھڑی بس میں بڑی فرحت اور شوق و جذ بے کے ساتھ بیٹھ کر شہر کانپور جایا کرتے تھے
سڑک کے کنارے ندی کے پار لگی ہوی بس صبح کے خوش گوار موسم میں اپنا مخصوص ہارن بجاتی توبستی کے گھروں میں پتہ چلتا تھا کہ بس لگ گئی ہے وقت گزرنے سے پہلے کسی کو شہر جانے کیلئے اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کیلئے ایسن کے پار ناو سے جانا پڑتا تھا۔

چونکہ ایسن ندی پر پل تعمیر نہیں ہوا تھا درگاہ زندہ شاہ مدار میں ماگھ کا میلہ بموقع بسنت پنچمی شروع ہونے سے پہلے گلابی گلابی سردی میں ایسن ندی پر ہمیشہ کچا پل بنایا جاتا تھا
پل کی تعمیر مکمل ہونے پر افتتاح کے لیے ایک تاریخ مقرر کی جاتی پھر ایک ٹرک منگایا جاتا اس ٹرگ پر تھوڑا سا سامان رکھا جاتا نوجوان لڑکے بچے بیٹھ جاتے پھر اس ٹرک کو کچے پل سے گزارا جاتا جب ٹرگ ندی کے اس پار سے اس پار بذریعے پل پار ہوجاتا تو پھر وہ ٹرک سیدھا درگاہ شریف اتا بتاشے یا دیگر شیرینی پر فاتحہ کرا کر تقسیم کرای جاتی تھی اس دن کو بڑی مسرت کا دن یعنی عید کے دن سے کم نہ سمجھاجاتا تھا
اس کو ٹھیلہ پاس ہونے کا دن کہا جاتا تھا لوگ ایک دوسرے سے فرط مسرت سے کہتے تھے کہ ٹھیلہ پاس ہو گیا پھر دھیرے دھیرے ٹرک گزرنے لگتے میلہ آنے لگتا

اسی پل سے میلہ کی تیاریاں ہونے لگتی تھیں
پتلی پتلی کھنجرا اینٹوں کا رستہ، کیپٹس کے کانٹوں دار درختوں سے گھرا سجا ،
کہیں کہیں دھتورے کے پیڑوں پر پھول اچھے لگتے ،کہیں کہیں ہریالی ،کہیں کہیں خشکی، اورکھے ،کانس ،اور کسوندی راستہ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے۔

قصبے کے آس پاس بیگھوں سرسوں کے پیلے پیلے پھولوں سے سجے کھیتوں اور پتاور کی پتلی پتلی جھکتی پتیوں پر پندری پدوں کا چہچہانا ،جھومنا کھیلنا
کبھی یکہ گھوڑا سڑک پر دوڑتا ہوا آتا کوئی خوبصورت خوبصورت سجے ہوئے اونٹوں سے کوئی بیل گاڑی سے سامان لاد کر میلے تک لا تا

میلہ آراضی میں سینکڑوں کنویں تھے میلے سے پہلے کوئیں صاف کیے جاتے
برسات کی کٹی ہوئی زمین کے کھندوئے بھرے جاتے کہیں گڑھوں میں مٹی ڈالی جاتی صاف صفائی شروع ہو جاتی گھسیارے ایک مہینہ پہلے آجاتے گھاس چھیل چھیل کر ڈھیر لگاتے بھوسے کا ٹال لگتا اور بہشتی آنے لگتے جس سے پانی سب کے پاس مقام تک پہونچنے لگتا

بہت بڑا میلہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کا واحد میلہ تھا جس میں مویشیوں کے علاوہ تجارتی مال واسباب میں کوی بھی چیز باقی نہیں تھی جو اس میلے میں نہ ملتی ہو
سوئی سے لے کر ہاتھی تک اس میلے میں ملتا تھا۔

خوبی یہ تھی کہ ہر ایک چیز کا بازار الگ الگ لگتا تھا جیسے کہ ہاتھی کا بازار الگ ،اونٹ کا بازار الگ ،بھینس کا بازار الگ، بیل کا بازار الگ ،گھوڑے کا بازار الگ، بکری کا بازار الگ ،گدھے کا بازار الگ، اور ان میں بھی بچوں کا بازار الگ ،جوانوں کا الگ بوڑھوں کا الگ ،اعلی نسل کے جانوروں کا الگ ، کالے الگ، گورے الگ ،درمیانی جانوروں کا الگ، پستہ الک خستہ الگ

اسی طرح سے ہر چیز کی لائن الگ ،مارکیٹ الگ لکڑی منڈی (ٹال) الگ گھنگرو لائن الگ حریس الگ ،بکس لائن الگ ،دری لائن الگ ، کپڑا منڈی الگ ،چوڑی لائن الگ ،بساتی خانہ الگ ،حلوہ سوہن الگ، کھانے کے ہوٹل الگ ،کراکری الگ، کنگھی کی مارکیٹ الگ ،چٹلہ بازار الگ ،صدر لائن الگ، شیرینی مارکیٹ الگ ،جوتا چپل کی مارکیٹ الگ ، سرمہ کی لائن الگ ، دانتوں کی الگ ،، سل بٹہ الگ ، گدڑی الگ ، کھلونے کی مارکیٹ الگ ،
بچوں کے تفریح طبع (منورنجن) کے لیے کھیل تماشے جھولے سرکس ، موت کا کنواں ، وغیرہ یہ سب الگ گراؤنڈ میں لگتے

جھونپڑی اور مڑھیوں میں آنے والے زائرین ،تاجررہتے پورے میلے میں ہرطرح کا لطف ملتا کہیں چولھے بکتےکہیں گردن میں لٹکی پان بیڑی کی دوکان کہیں چاے گرم کہیں جانوروں کیلیے پتی بکتی کہیں نال بند کی صداؤں سے محذوظ ہوتے بڑھیا کے بال اور گردن میں لٹکے بای اسکوپ والے سنیما کی گھنٹیاں بجتے ہی بچے دوڑ پڑتے
زندہ شاہ مدار کی درگاہ شریف کا قرب وجوار لوبان کی بھینی بھینی مہک سے مہکا رہتا اور فضا دم مدار کی صداؤں سے گونجتی رہتی

عقیدت مندان اپنے سروں پر چادریں رکھ کر درگاہ شریف میں طواف کرتے کوئی مرغا چڑھاتا کوئی منتیں پوری کرتا کہیں مونڈن ہوتا
سب سے بڑی بات یہ ہوتی کہ جو کام پنچایتوں میں نہیں ہو پاتا وہ کام مدارن کے کھیت میں ہو جاتا تھا ساری ساری سال لڑتے ،جھگڑتے ،بول چال بند، میل ملاپ بند دشمنی تناو آپس میں ایک دوسرے سے دوری لیکن مدارن کے کھیت میں آ کے کھائی قسم کے بعد سب ختم ہو جاتا یہ بھی میلے کی اہم خوبیوں میں سے ایک خوبی تھی
بسنت پنچمی کے پر بہار موسم خوشگوار ماحول میں بابرکت ایام ہوتے

اتنا بڑا میلہ ہوتا کہ گھومنا مشکل پڑ جاتا گھومتے گھومتے آدمی تھک جاتا مگر دو چار پانچ دن میں میلہ نہیں دیکھ پاتا
اونٹ بازار میں اونٹ والے پوری پوری رات تھالی بجا بجا کر مدار کی دہائی گاتے اونٹوں کے بلبلانے بڑبڑانےکی اواز ساری آبادی سنتی
صبح صبح سے بانسری بیچنےوانے اپنی لیے پر بچوں کو بیدار کرتے اور بچے انکھیں ململ کر بانسری والوں کے پاس پہنچ جاتے

پورے میلے میں بڑی بڑی جگہوں پر کھیل تماشہ دکھانے والے اپنی ڈگڈگیا بجا کر بچوں کو اکٹھا کرتے
بڑوں کو بلاتے اور اپنا کھیل تماشہ کر تب دکھاتے
غرض یہ کہ بڑا سہانا منظر اور خوشگوار موسم ہوا کرتا تھا
ممیرہ نیم کا ٹھنڈا سرمہ والے کا لاؤڈی سپیکر تو سب کو یاد ہے
ضلع انتظامیہ کی جانب سے پولیس کا معقول انتظام ہوتا 52 ضلعوں کی پولیس میلے میں اتی تھی جگہ جگہ پر چوکی بنتی تھانے بنتے گھڑ سوار پولیس افسران گھوڑوں پر بیٹھ کر میلے میں گشت کرتے کچے راستوں پر پانی چھڑکنے کا انتظام میلہ کمیٹی تحصیل مکن پور سے کیا جاتا۔

میلہ کمیٹی کی جانب سے میلے کی خصوصی تقریبات میں سے ال انڈیا مشاعرہ ،کوی سمیلن، جلسہ, آرکیشٹرا اور دیغوں کا لنگر، چادر شریف ،وغیرہ موجودہ ایس ڈی ایم صاحب کی صدارت میں ہوتا میلے کا افتتاح سرکار قطب المدار کے استانے پر چادر پوشی سے کیا جاتا جس دن چادر چڑھتی تھی مکن پور شریف کے سادات مشائخ علماء بزرگ میلہ کمیٹی کے ممبران معززین ہندو مسلم بھائی سب شرکت کرتے

یہ افتتاحی جلوس چادر ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں تحصیل میلہ سے خانقاہ شریف تک اتا درگاہ شریف میں بارگاہ مدار العالمین میں چادر پیش کی جاتی اور افسران کے سروں پر خانقاہ کی طرف پگڑی باندھی جاتی
پھر باقاعدہ میلہ شروع ہو جاتا میلے کا خاص دن بسنت پنچمی کا ہے اس دن سرکار قطب المدار کے استانے پر جلسہ قل ہوتا قل کی خوبی یہ تھی کہ پورے میلے میں ایک ساتھ تالی بجتی اللہ جانے یہ شروع کہاں سے ہوتی اور کہاں پر ختم ہوتی ایک دم تالی بجتی اور تالی بجنے کے ساتھ فل کا اعلان ہو جاتا

میلہ تو اب بھی ہوتا ہے کل بھی لکھی میلہ تھا اج بھی
ہندومسلم ایکتا سے پہچانا جانے والا لکھی میلہ ہے پبلک کم نہیں ہوئی بلکہ مجمع بڑھا
البتہ ترقی یافتہ زمانے میں نئی نئی ایجادات نے میلوں پر اپنا اثر ڈالا مویشیوں کا کام ختم ہوا ان کی جگہ پر گاڑیاں چلنے لگیں اس لیے اب مویشی کا میلہ تقریبا ختم ہے دیگر ضروریات کی چیزیں ہر جگہ ملنے لگیں گلی گلی بازار لگنے لگے آن لائن والے دروازے دروازے مال پہنچا دیتے ہیں اسی وجہ سے میلے کی کاروباری ساخت متاثر ہوگیی اور اس کا برا اثر پڑ ایک میلہ ہی کیا سارے جہان کا عالم یہ ہے کہ سب بدل گیا وقت بدل گیا، راستے بدل گئے، لوگ بدل گئے، رت بدل گئی، محبتیں بدل گئیں، تانگے، بیل گاڑیاں تقریباً ختم حتی کے سواریاں بدل گئیں، سائیکلیں ٹھکانے لگ گئیں، میلوں کے مخصوص کھیل تماشے بدل گئے، درخت کٹ گئے، چِڑیاں اُڑ گئیں، منڈیر پہ کوے بیٹھنا چھوڑ گئے، چہچہاہٹ تھم گئی، پیدل چلنے والے راستوں پر گھاس ہو گئی، اور پھرہر بستی ہر شہر ہر قریہ کے بعض لوگ آپس میں بیگانے ہوتے گئے، نسلیں بدلنے لگیں، ایک دوسرے کی پرواہ، فکر، احساس ختم ہوتا گیا، اور یوں ایک حسین و پیار بھرے زمانے کا اختتام ہوتا گیا۔

اور ایک دوسرے کا پیار ومحبت اور سب سے بڑ ھ کر احساس تک ختم ہوگیا
اپنے ،پرائے ہو گئے پرائے ،اپنے ہو گئے
کل برسات ہوتی تو لوگ ایک دوسرے کی خیریت کی دعائیں مانگتے رات بھر پانی برسنے کے بعد صبح صبح بزرگ لوگ گھر گھرجاتے کسی کا چھپر گر گیا، کسی کا کمرہ بیٹھ گیا، کسی کی دیوار گر گئی پرسش احوال کرتے کہیں کسی کے چوٹ تو نہیں آی کسی کا کوئی نقصان تو نہیں ہوا گری ہوئی چھتوں کے نیچے دبے ہوئے مال و اسباب کو بھی اٹھواتے اور کہیں محفوظ جگہ پر پہنچانے کی ذمہ داری کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے
بچے بارش میں گدلائے ہوئے پانی میں خوشی خوشی دوڑتے بھاگتے نہاتے پھرتے
پھوٹیں ،کچریاں آم کی گٹھلیاں، جامن بھری برسات کا سہارا ہوتی تھیں فاقہ مستی کے وہ دن کتنے حسین تھے کہ خود پسندی ، آبلہ فریب دنیا نہ تھی حسد، تکبر ،جھوٹ ،فرعونیت کا گزر بھی نہیں تھا
مگر اب یہ سب کہنے سننے کو رہ گیا
جانے کہاں گئے وہ دن

از قلم سید ازبر علی جعفری مداری مکن پورشریف

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment