آج18, دسمبر کو ہرسال اقلیتوں کیلئے”الپ سنکھیک ادھیکار دیوس” کے طور پر منایا جاتا ہے اس "یوم حقوق اقلیت” کے موقع پر ہر اقلیتی ادارے میں آئین ہند کے ذریعے اقلیتوں کو جو حقوق اور مراعات دیئے گئے ہیں ان پر چرچا کرنا ضروری ہوتا ہے.
ہندوستان ایک کثیر المذاہب، کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی ملک ہے۔ اسی تنوع کے تحفظ کے لیے آئینِ ہند نے اقلیتوں (Religious & Linguistic Minorities) کو خصوصی آئینی ضمانتیں عطا کی ہیں تاکہ وہ اپنی شناخت، مذہب، زبان، ثقافت اور تعلیمی اداروں کو محفوظ رکھ سکیں۔ آئینِ ہند کی یہ دفعات ہندوستان کو ایک سیکولر، جمہوری اور تکثیری ریاست بناتی ہیں۔
اقلیت کی دستوری تعریف
آئینِ ہند میں لفظ “Minority” کی صراحتی تعریف موجود نہیں، لیکن عدالتی تشریحات کے مطابق
مذہبی اقلیت: وہ طبقہ ہے جو ملک یا ریاست میں عددی اعتبار سے کم ہو (جیسے: مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین، پارسی)
لسانی اقلیت: وہ گروہ جس کی زبان اکثریتی زبان سے مختلف ہو
مساوات کا حق (Right to Equality)
آرٹیکل 14 کے مطابق قانون کی نظر میں سب برابر ہیں.اقلیتوں کو برابری کا مکمل حق حاصل ہے
آرٹیکل 15 کے مطابق
مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز ممنوع ہے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے. اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی تفریق ناجائز ہے
•آرٹیکل 16 اقلیتوں کو سرکاری ملازمتوں میں مساوی حقوق دیتا ہے. اقلیتوں کو ملازمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا
مذہبی آزادی کے حقوق
آرٹیکل 25, ہر فرد کو: مذہب اختیار کرنے، مذہب پر عمل کرنے، مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے.
آرٹیکل 26 کے مطابق مذہبی جماعتوں کو حق ہے کہ وہ اپنےمذہبی ادارے قائم کریں، اپنے مذہبی امور خود چلائیں، جائیداد رکھیں اور انتظام کریں.
آرٹیکل 27 کے مطابق کسی شہری سے کسی مخصوص مذہب کی ترویج کے لیے ٹیکس نہیں لیا جا سکتا
آرٹیکل 28 ، سرکاری تعلیمی اداروں میں اقلیتوں پر زبردستی مذہبی تعلیم ممنوع قرار دیتا ہے
ثقافتی اور لسانی حقوق
آرٹیکل 29 اقلیتوں کو حق دیتا ہےاپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کا
آرٹیکل 30 جوانتہائی اہم ہے یہ اقلیتوں کو حق دیتا ہے کہ : اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے میں انہیں انتظامی خودمختاری حاصل ہو گی.
حکومت: امداد دیتے وقت اقلیتوں کے ساتھ امتیاز نہیں برتے گی
تعلیمی حقوق
اقلیتوں کووآئین میں تعلیمی حقوق حاصل ہیں اقلیتوں کو تعلیمی اداروں میں نصاب کی تشکیل میں آزادی حاصل ہے اور اساتذہ کے تقرر میں خودمختاری دی گئی ہے.
حکومتیں اقلیتی اداروں کے انتظام میں بلا وجہ مداخلت نہیں کر سکتیں.
سیاسی و قانونی تحفظ
آرٹیکل 325 کے مطابق اقلیتوں کو ووٹر لسٹ میں شمولیت سے مذہب کی بنیاد پر کسی کو نہیں روکا جا سکتا ہے.
آرٹیکل 326. اقلیتوں کو بالغ رائے دہی کا حق (Universal Adult Franchise) بنیادی حقوق کے نفاذ کا حق دیتا ہے.
آرٹیکل 32 اور 226 کے مطابق اقلیتیں: اپنے حقوق کی پامالی پر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں
اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آئینی ادارے
{1}
قومی کمیشن برائے اقلیتیں
یہ ادارہ اقلیتوں کے حقوق کی نگرانی،شکایات کا ازالہ،حکومت کو سفارشات بھیجنے کا کام کرتا ہے.
{2}
ریاستی اقلیتی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی سطح پر حقوق کا تحفظ کرے.
سیکولرزم اور اقلیتیں
آئین کا بنیادی ڈھانچہ Secularism پر قائم ہے
ریاست کسی ایک مذہب کو فوقیت نہیں دیتی، تمام مذاہب کو مساوی احترام دیتی ہے
غرض یہ کہ آئینِ ہند نے اقلیتوں کو:مکمل مذہبی آزادی، ثقافتی و لسانی تحفظ، تعلیمی خود مختاری،قانونی و عدالتی تحفظ
فراہم کر کے ہندوستان کو ایک جامع، ہم آہنگ اور انصاف پر مبنی ریاست بنایا ہے۔ یہ حقوق صرف اقلیتوں کے نہیں بلکہ ملکی اتحاد، بھائی چارے اور جمہوریت کے ضامن ہیں۔
ذیل میں ہندوستان میں اقلیتوں کے لیے مرکزی (اور کچھ ریاستی) حکومت کی اہم ترقیاتی و فلاحی یوژنائیں (سکیمیں) تفصیل سے پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ سکیمیں خاص طور پر مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے سماجی-اقتصادی، تعلیمی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے بنائی گئی ہیں
وزیراعظم کا نیا 15-نکاتی پروگرام
(Prime Minister’s New 15 Point Programme)
یہ سب سے جامع اور اہم مرکزی حکومت پروگرام ہے جس کا مقصد ہے کہ مرکزی اور شامل وزارتوں کی مختلف سکیموں میں اقلیتوں کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ ان کی تعلیم، روزگار، قرض، انفراسٹرکچر اور سماجی خدمات میں شمولیت بڑھے۔
اہم مقاصد میں شامل ہیں
تعلیم میں مواقع بڑھانا, معاشی سرگرمیوں اور روزگار میں حصہ داری, اقلیتوں کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فروغ, فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سلامتی کو فروغ دینا.
شافٹنگ و تعلیمی سہولتیں
(Scholarship & Education Schemes)
مرکزی حکومت Ministry of Minority Affairs کے تحت متعدد تعلیمی پروگرام چلاتی ہے، جن کا مقصد اقلیتوں کے بچوں کو تعلیم میں آگے لانا ہے
پری میٹرک اسکالر شپ
(Pre-Matric Scholarship)
کلاس 1 سے 10 تک کے طلبہ کو مالی مدد خاندان کی آمدنی کے مطابق وظیفہ ملتا ہے
پوسٹ میٹرک اسکالر شپ
(Post-Matric Scholarship)
میٹرک کے بعد کی تعلیم (11، 12، ڈگری وغیرہ) کے لیے وظیفہ اقلیتوں کے طلبہ کے لیے مالی طور پر مددگار
مرٹ-کم-مینز اسکالر شپ
(Merit-cum-Means)
اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے
پرادھان منتری جن وکاس کرییاکرَم
(Pradhan Mantri Jan Vikas Karyakram – PMJVK)
یہ مرکزی معاونت والی اسکیم اقلیتوں کے زیرِ اثر علاقوں میں انفراسٹرکچر بنانے اور بنیادی سہولیات جیسے: اسکول و کالجز کی عمارات صاف پانی و بیت الخلاء صحت مراکز وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے تاکہ تعلیم، صحت اور رہائش کے معیارات بہتر ہوں۔
قومی اقلیتی ترقی و مالیاتی کارپوریشن
(NMDFC)
یہ ایک سرکاری کارپوریشن ہے جو اقلیتوں کو کم سود یا بغیر سود قرضے دیتی ہے تاکہ وہ
چھوٹے کاروبار شروع کریں روزگار کے مواقع بڑھائیں خودمختار بن سکیں
پرادھان منتری وِراست کا سموردھان
(PM-VIKAS)
یہ ایک مخصوص مرکزی سکیم ہے جو ثقافتی، تاریخی اور سماجی ورثہ کو محفوظ رکھنے، اور اقلیتوں کے علاقوں میں معاشی و معاشرتی ترقی کو فروغ دیتی ہے۔
تعلیم میں مخصوص پروگرام
تعلیم وزارت کے تحت بھی اقلیتوں کے لیے پروگرام ہیں، جیسے
SPQEM -مدرسہ/اقلیتی اسکولوں میں معیاری تعلیم IDMI – اقلیتی اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کا فروغ
لڑکیوں اور کمزور بچوں کی تعلیم کو ترجیح دینا
ریاستی حکومتوں کی اقلیتی سکیمیں
علاوہ ازیں کچھ ریاستیں بھی اقلیتوں کے لیے خصوصی سہولیات دیتی ہیں
تلنگانہ میں
Indiramma Minority Mahila Yojana: بے سود مالی مدد (تقریباً ₹50,000) خصوصاً بیوہ، مطلقہ اور یتیم خواتین کو خودروزگار کے لیے۔
Revanth Anna ka Sahara – Miskeen la Kosam: کمزور اقلیتی طبقات کے لیے ₹1,00,000 کا گرانٹ۔
راجستھان میں
Ambedkar DBT Voucher Scheme: اقلیتی کالج طلبہ کو ماہانہ ₹2,000 تک مالی مدد دینے کی اسکیم۔
بہار میں
BPSC/ایڈمن سروسز کی تیاری کے لیے مفت کوچنگ فراہم کی جاتی ہے تاکہ اقلیتوں کے نوجوان اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لیے تیار ہو سکیں۔
جھارکھنڈ میں
Aalim/Fazil Degree Recognition: ان ڈگریوں کو سرکاری ملازمتوں میں تسلیم کیا گیا تاکہ الٰہٰیاتی تعلیم یافتہ نوجوان بھی سرکاری ملازمتوں کے اہل ہوں۔
دیگر مراعات و سہولیات
تعلیم میں بین الاقوامی مطالعہ کے لیے قرضوں پر سبسڈی (جیسے پڑھو پردیش – Study Abroad interest subsidy) جو اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم میں مدد دیتی ہے۔
متعدد مرکزی اسکیمیں جیسے PMKVY (مہارت و ہنر)، PMAY (رہائش)، Ayushman Bharat، NRLM وغیرہ کے تحت بھی اقلیتوں کو فائدہ دینے کے لیے خصوصی اہلیت اور ٹارگٹ مقرر کیا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے لیے گورنمنٹ نے متعدد مرکزی اور ریاستی اسکیمیں نافذ کی ہیں، جو بنیادی طور پر تعلیم، انفراسٹرکچر، خودروزگاری، قرض سہولت، اور سماجی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ان پروگراموں میں Prime Minister’s New 15 Point Programme سب سے نمایاں ہے، جس کے تحت متعدد وزارتیں اور شعبے مل کر اقلیتی برادریوں کے لیے برابر مواقع اور سہولیات کو یقینی بناتے ہیں۔
Constitutional Rights of Minorities in India
ازقلم: ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری جامعہ عربیہ مدار العلوم مدینۃ الاولیاء مکنپور شریف کانپور نگر.








