رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

حضرت خواجہ سید محمد ارغون رحمۃ اللہ علیہ

On: فروری 8, 2026 5:45 شام
Follow Us:
हज़रत ख़्वाजा सय्यद मुहम्मद अरग़ून रह - सय्यद मुनव्वर अली

مقتدائے اولیاء، پیشوائے اصفیاء، شہبازِ آمانِ ولایت و کرامت، شہسوارِ میدانِ سخاوت و قناعت، ہادیِ راہِ شریعت، ساقیِ جامِ طریقت، معلّمِ رموزِ حکمت، واقفِ اسرارِ حقیقت، غواصِ بحرِ معرفت، موردِ فیوضِ الٰہی، پیکرِ اخلاقِ مصطفوی، وارثِ اوصافِ مرتضوی، قدوتُ العارفین، عمدۃُ الکاملین، رہبرِ دین، قبلۂ اہلِ یقین، قطبُ العصر، غوثُ الدہر، سلطانُ العارفین حضرت خواجہ سید ابو محمد، محمد ارغون جعفری مداری حلبی مکنپوری رضی اللہ عنہ، خاندانِ فاطمی کے روشن چراغ، سلسلۂ عالیہ مداریہ ارغونیہ کے سرگروہ، بہت بڑے اور نامور ولی، جامعِ کمالاتِ صوری و معنوی بزرگ گزرے ہیں۔ غیر منقسم ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں آپ کے خوارق و کرامات، محاسن و کمالات اور روحانیت و معرفت کی عام شہرت و مقبولیت ہے۔

آپ نے اپنے سرچشمۂ فیض و ارشاد سے ایک عالم کو سیراب فرمایا۔ آپ کی توجہ سے ہزاروں گم گشتگانِ راہ، راہِ ہدایت پر گامزن ہوئے اور ہزاروں کے دامنِ طلب گوہرِ مقصود سے بھرے۔

آپ سرکارِ سرکاراں شہنشاہِ اولیائے کبار سید الافراد قطبِ وحدت حضور سیدنا بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کے برادرزادہ، فرزندِ معنوی، مرید، خلیفہ اور سجادہ نشین ہیں۔

اسمِ شریف ’’محمد‘‘، کنیت ’’ابو محمد‘‘ اور لقب ’’ارغون‘‘ ہے۔ آپ کا مولد قصبہ چونار شہر حلب ملکِ شام ہے۔

نسب نامہ:
السید الشریف ابو محمد ارغون ابن السید الشریف عبداللہ، بن سید کبیر الدین، بن سید وجیہ الدین، بن سید یاسین، ابن سید محمد، ابن سید داؤد، بن محمد، بن سید ابراہیم، بن سید محمد، بن سید اسماعیل، بن سید محمد، ابن اسحاق، بن سید عبدالرزاق، بن سید نظام الدین، بن سید ابو سعید، بن سید محمد، ابن سید جعفر، بن سید محمود الدین (برادر حضرت سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار)، بن سید علی، بن سید بہاء الدین، بن سید ظہیر الدین احمد، بن سید اسماعیل ثانی، بن سید محمد، بن سید اسماعیل، بن سید امام جعفر صادق، بن سید امام محمد باقر، بن سید علی اوسط زین العابدین، بن امام حسین ابن علی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

ولادت شریف

یومِ جمعہ بوقتِ فجر یکم ربیع الاول ۷۸۳ھ۔

تعلیم و تربیت

مدرسہ ابراہیمیہ خانقاہِ بدیعیہ مداریہ بمقام بیروت: یہ مدرسہ آپ کے جدِ مکرم حضرت علامہ خواجہ سید ابراہیم رضی اللہ عنہ نے قائم فرمایا تھا۔ وہ اپنے زمانے کے متبحر عالم و صاحبِ کمال بزرگ اور خانقاہِ مداریہ بیروت کے گدی نشین تھے۔

آمدِ ہندوستان

آٹھویں صدی ہجری کے آخر میں حضور سرکارِ سرکاراں سید بدیع الدین احمد قطب المدار رضی اللہ عنہ بغرضِ حج ہندوستان سے حجاز روانہ ہوئے۔ مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ کی آمد کی خبر اطراف و جوانب میں پھیل گئی۔

جب یہ خبر قصبہ چونار شہر حلب پہنچی تو حضور سید محمد ارغون نے اپنے والدِ محترم حضرت سید عبداللہ سے اپنے شوقِ دیدار کا اظہار کیا۔ والد محترم آپ کو اور آپ کے دونوں چھوٹے بھائیوں (حضرت قدوۃ العارفین خواجہ سید ابو تراب فنسور و حضرت شہبازِ طریقت خواجہ سید ابوالحسن تیفور رضی اللہ عنہما) کو لے کر مکہ مکرمہ میں حاضر ہوئے اور شرفِ ملاقات حاصل کیا۔ حضور سیدی قطب المدار کی نگاہِ التفات بچوں کی طرف ہوئی تو ان کی جبینوں پر انوارِ سعادت مسکرانے لگے۔ حضور مدار العالمین نے ہر سہ خواجگان کو صحنِ مسجدِ حرام میں بیعت فرمایا اور ان پر بے شمار نوازشات فرمائیں، انہیں تقربِ خاص سے نوازا اور ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا پسند کیا۔

ارکانِ حج و زیارت سے فراغت کے بعد جب حضور والا عازمِ ہندوستان ہوئے تو پہلے اپنے آبائی وطن شہر حلب قصبہ چونار پہنچے اور تینوں شہزادوں کی سعادت مندی سے ان کی والدہ ماجدہ اور اہلِ خاندان کو مطلع فرما کر اپنی معیت میں رکھنے کی اجازت لی۔ آپ خود ہی صاحبِ اختیار تھے اس لیے تمام اہلِ خاندان نے بخوشی خاطر معاملہ آپ کی مرضی پر موقوف کر دیا۔ سرکار قطب المدار مختصر عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور تینوں شہزادوں کو ہمراہ لے کر عازمِ سفر ہوئے۔ مختلف مقامات پر تبلیغ و اشاعت فرماتے ہوئے لکھنؤ میں جلوہ افروز ہوئے۔ مخلوقِ خدا کو مستفیض فرمایا۔ اسی دوران حضرت مخدوم شاہ مینا قدس سرہ العزیز کی ولادت ہوئی۔ آپ نے ان کی ولایت کو ظاہر فرمایا۔ مختلف مقامات کا دورہ فرماتے ہوئے جونپور تشریف لائے۔ کچھ عرصہ قیام کے بعد پھر لکھنؤ آئے۔ لکھنؤ میں حضرت قاضی شہاب الدین پرکالا آتش کی معرفت سے حضرت مخدوم شاہ مینا کو اپنی جانماز عنایت فرمائی اور ان کی قطبیت کا اعلان فرمایا۔ ۸۱۸ھ میں مکنپور شریف میں جلوہ افروز ہوئے جو اس وقت غیر آباد جنگل تھا۔

نکاح

ایک روز حضرت شیخ احمد زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ نے اپنے خلفاء و مریدین کی مجلس میں ارشاد فرمایا کہ میں نے خواجہ محمد ارغون کے نکاح اور انہیں اس زمین پر مستقل آباد کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے کیونکہ اس میں رب تبارک و تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔ تذکرتاً کسی نے یہ بات حضرت خواجہ سید محمد ارغون کو بتائی تو آپ نے انکار فرمایا مگر سرکار مدار العالمین کو جب معلوم ہوا تو آپ نے انہیں طلب کیا اور فرمایا: اے فرزند! تمہارا اور تمہارے بھائیوں کا نکاح ہونا مشیتِ ایزدی ہے، تم سے اجراۓ نسل ہونا ہے، اس لیے انکار نہ کرنا چاہیے۔ حضورِ اعلیٰ کا حکم سن کر آپ خاموش ہو گئے۔ حضرت خواجہ سید محمد جمال الدین جانِ من جنتی نے عرض کیا کہ قصبہ جتھرا (کالپی) میں حضرت سید احمد خاندانِ ہاشمی کے ایک ممتاز شخص ہیں، ان کی صاحبزادی جنت بی بی سے نکاح کے لیے پیغام پہنچایا جائے۔ غرض کہ پیغام پہنچایا گیا تو حضرت سید احمد جتھراوی نے اسے بسر و چشم قبول کر لیا اور یکم ربیع الاول ۸۲۳ھ کو آپ کا نکاح ہو گیا۔

بعد میں آپ کے دونوں چھوٹے بھائیوں حضرت خواجہ سید ابو تراب فنسور اور حضرت خواجہ سید ابوالحسن تیفور رضی اللہ عنہما کے نکاح بھی ہو گئے۔

خلافت و جانشینی

آپ کو بیعت و خلافت کا شرف تو حضور مدار العالمین سے حاصل ہی تھا۔ شیخ مرشد کی نگاہِ انتخاب نے اپنا جانشین بھی آپ کو مقرر فرمایا۔ چنانچہ حضور مدار پاک نے ایک دن اپنے قریب بلایا اور فرمایا: اے فرزند! ولادت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک صلبی دوسری روحانی۔ صلبی ماں باپ سے تعلق رکھتی ہے اور عالمِ خلق سے وابستہ ہے، جو کوئی آتا ہے اس لباسِ ظاہری کو پہنے ہوئے آتا ہے اور ایک دن اسے ترک کرنا ہوتا ہے۔ روحانی ولادت مربیٔ روح سے متعلق ہوتی ہے، اس کا تعلق عالمِ امر سے ہے، جو میرے اور تمہارے متعلق ہے اور یہ قیامت تک قائم رہے گی، اسے فنا نہیں۔ میں نے تم کو اپنا جانشین بنایا۔ ظاہری تعلق بھی تمہارے ساتھ یہ ہے کہ تم میرے بھائی کی اولاد ہو اور بھائی کی اولاد بھائی کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں آیا ہے (مفہوم: میں نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی) حالانکہ حضور سیدِ عالم ﷺ کا نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملتا ہے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے، مگر چونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بھائی تھے، انہیں بھی باپ کہا گیا۔ لہٰذا تم بھی میری اولاد ہو اور شریعت و طریقت میں میرے جانشین ہو۔

اسی طرح سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ نے اپنے وصال سے قبل تمام خلفاء و مریدین سے ارشاد فرمایا کہ سید محمد ارغون کو میں نے اپنا جانشین کیا اور ان تینوں سید محمد ارغون، سید ابو تراب فنسور اور سید ابوالحسن تیفور کو بجائے میرے یکساں تصور کرنا، اور جو کوئی مشکل پیش آئے تو ان کی طرف رجوع کرنا۔ باقی میری روح جس طرح اب تم لوگوں کی تربیت باطنی کرتی ہے، ان شاء اللہ بعد وصال بھی اسی طرح کرتی رہے گی۔ جو کوئی مجھ سے ارادت رکھتا ہے میں نے اسے قبول کیا، اس کی سات نسلوں تک قبول کیا، اور جو میرے ان فرزندوں سے ارادت رکھتا ہے میں نے اسے بھی سات پشتوں تک قبول کیا۔

غرض کہ جب حضور مدار العالمین کا وصال ہو گیا تو بعد وصال آپ کی جانشینی کا مسئلہ درپیش آیا تو تاج العارفین حضرت خواجہ سید محمود الدین کنتوری، خواجہ سید جمال الدین جانِ من جنتی، قاضی مطہر قلعہ شیر، حضرت خواجہ سید ابو تراب فنسور، حضرت خواجہ سید ابوالحسن تیفور، حضرت میر شمس الدین حسن عرب، حضرت میر رکن الدین حسن عرب اور دیگر خلفاء و مریدین نے بالاتفاق حضرت قطب الاقطاب خواجہ سید ابو محمد ارغون رضی اللہ عنہ کو سرکار مدار العالمین کا جانشین منتخب کر لیا اور نذرِ اطاعت پیش کی۔

کرامات

آپ کی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت، عبادت و ریاضت، مجاہدۂ نفس، تصفیۂ قلب اور رشد و ہدایت میں گزری۔

۱۔ حالتِ بیداری اور حالتِ نوم دونوں میں یکساں ذکر میں مصروف رہتے۔

۲۔ ذکر کے وقت آپ کے اعضاء سے عجیب قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی۔

۳۔ جب تلاوتِ قرآنِ مجید فرماتے تو لوگ محو و مست ہو جاتے تھے، پرندے بھی پاس آ کر جمع ہونے لگتے تھے اور بے ہوش ہو جاتے تھے۔

۴۔ آپ کی آواز بہت دلکش تھی، اسی وجہ سے سیدنا مدار العالمین نے لقب ارغون سے ملقب فرمایا۔ ارغون ایک قسم کے نفیس باجے کو کہتے ہیں۔

۵۔ ایک مرتبہ کچھ فقرا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چند دنوں مقیم رہ کر رخصت چاہی تو بوقتِ واپسی آپ نے ایک فقیر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تو کفر کے اندھیروں میں کب تک رہے گا اور دل کی سیاہی کب دھوئے گا۔ ان فقیروں میں رہ کر بھی تو اب تک مسلمان نہ ہو پایا۔ یہ سنتے ہی وہ جوگی جو بظاہر مسلمان فقیر بنا ہوا تھا آپ کے قدموں پر گر گیا اور مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ عبداللہ نے ساتھیوں کو رخصت کر دیا اور خود حضور خواجہ ارغون کی خدمتِ اقدس میں رہ گیا۔ سرکار خواجہ سید ابو محمد ارغون نے اپنی خصوصی توجہ سے اسے قاریِ قرآن اور عارفِ معرفتِ الٰہی بنا دیا اور سلسلۂ پاک کی نسبتوں سے مستفیض فرما کر اجازت و خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔

۶۔ ایک روز آپ تلاوت فرما رہے تھے کہ اسی دوران حضرت شیخ حامد اصفہانی آ گئے۔ آپ کی نظر ان پر پڑی تو وہ فوراً بے خود ہو گئے۔ جب آپ تلاوتِ قرآنِ الٰہی سے فارغ ہوئے تو اپنے ہاتھ میں ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہو کیا کیفیت ہے۔ انہوں نے آپ کے قدموں میں سر رکھ دیا، پھر ان کو خواجہ محترم نے سینے سے لگایا تو ان کا جوش سکون میں بدل گیا۔

کرامات تو آپ کی اور بھی ہیں مگر اس مختصر میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں۔

وفات شریف

آپ کی وفات ۶ جمادی الآخرہ ۸۹۱ھ کو ہوئی۔ مزارِ مقدس درگاہِ معلیٰ حضور سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار سے متصل ہے۔ مرجعِ خاص و عام اور مفیضِ انام ہے۔

اولادِ امجاد

حضرت خواجہ سید ابو الفیض محمد — حضرت خواجہ سید محمود — حضرت خواجہ سید داؤد — حضرت خواجہ سید اسماعیل — حضرت سید حامد محامد۔

خلفائے باوقار

سلطان الاولیاء سرگروہِ مداریہ حضرت خواجہ سید ابو الفیض محمد سجادہ نشین، سلطان التارکین عمدۃ الکاملین خواجہ سید محمود صدر نشین، حضرت شاہ سید حسین سرہندی، حضرت شیخ سیف الدین، حضرت خواجہ سید محمد، شیخِ کامل حضرت شاہ واصل، حضرت شاہ قمر الدین، حضرت شیخ کمال الدین بن شیخ سلیمان مداری، حضرت شاہ عبید اللہ، حضرت پیر غلام علی شاہ، حضرت شیخ احمد رضی اللہ عنہم۔

آپ تین بھائی تھے جو تین جسم اور ایک جان تھے۔ اسی لیے ہر سہ خواجگان کو کنفسٍ واحدہ کے لقب سے ملقب کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان کا تذکرہ جمیل کے بغیر یہ ذکر نامکمل رہے گا۔ ان شاء اللہ البدیع آئندہ دونوں نفوسِ قدسیہ (حضرت خواجہ سید ابو تراب فنسور و حضرت خواجہ سید ابو الحسن تیفور رضی اللہ عنہما) کا ذکر کیا جائے گا۔

ان ہر سہ خواجگان سے جو سلاسلِ مبارکہ جاری ہیں انہیں خادمان کہا جاتا ہے۔

خادمانِ ارغونی — خادمانِ فنسوری — خادمانِ تیفوری — خادمانِ ارغونی سے نقد ارغونی — ابو الفایزی — درباری، محمودی، ابنی، سرموری، سلوتری، سکندری، غلام علوی، احمدی سلاسل کا اجرا ہوا۔

از قلم

مولانا سید منور علی جعفری مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment