قرآن پاک کا نزول
اسلامی تاریخ کے آئینے میں
اس پوری کائنات میں ہر چیز کی بقا کا کوئی نہ کوئی نظام مقرر ہے، اسی طرح انسان کی بقا کے لیے بھی نظام اور کوئی آئین لازمی اور ضروری ہے۔ اس کی دوہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
ایک یہ کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی حیات و بقاء کے لیے کوئی قانون و آئین خود ہی مرتب کرے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی غیر انسانی طاقت و ہستی انسان کی ضرورت کو پورا کرے۔
انسانی عقل و شعور اور تاریخ و تجربات اس بات کے شاہد ہیں کہ انسان کا خود ساختہ کوئی بھی نظام مرتب نہیں ہو سکا۔ جس میں تمام افراد و طبقات کا یکساں اور عادلانہ نظام رکھا گیا ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو اور ہر دور میں اور ہر علاقے میں یا ہر قوم اور ہر گروہ میں لائق عمل اور قابل قبول ہو۔ اس لیے کسی بھی دور کے اور کسی بھی علاقے کے تمام اہل عقل و شعور یکجا ہو کر بھی انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے لیے اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے کوئی آئینی نظام مرتب بھی کریں تب بھی ظاہر ہے کہ وہ اپنی معلومات و تجربات کے پیش نظر ہی ایسا کرسکتے ہیں اور یہ بھی یقینی امر ہے کہ ان معلومات و تجربات کا تعلق صرف عہد ماضی اور زمانہ حال سے ہی ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والی ضروریات اور احوال و کوائف سے بے خبر ہوں گے اور ان کا لحاظ رکھنا کسی بھی انسان کے خود ساختہ نظام حیات میں ممکن نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں ہر قوم اور ہر گروہ کے بلکہ ہر فرد اور ہر شخص کے جذبات و خیالات یکساں اور معتدل نہیں ہوتے ، لہذا نظام حیات کی ترتیب میں یقینا ان لوگوں کے جذبات واحساسات اور افکار و خیالات کا اثر انداز ہونا لازمی امر ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے اور کسی گروہ نے کوئی نظام حیات مرتب کیا ہے تو اس نے اپنے مخصوص ذہنی رجحانات کو مرکزی حیثیت دی ہے اور اپنے مرتب کردہ نظام و آئین کو اپنے ہی احساسات کا مظہر بنایا ہے۔
عہد ماضی کو چھوڑ دینے کے بعد زمانہ حال میں مختلف اقوام اور مختلف گروہ نے جتنے بھی آئین حکومت اور قوانین زندگی ترتیب دے رکھے ہیں ، ان میں سے کوئی آئین بھی اور کوئی قانون بھی ایسا نہیں ہے جس کو عادلانہ اور غیر جانب دارانہ قرار دیا جاسکے خواہ اس کا تعلق ، زندگی کے کسی ایک یا چند شعبوں سے ہی کیوں نہ ہو۔
یہ تاریخی اور واقعاتی شہادت اس فیصلے کو ناقابل تردید اور ناقابل انکار بنا دیتی ہے کہ انسان کا اپنا بنایا ہوا کوئی بھی نظام مکمل ، جامع اور منصفانہ و عادلانہ نہیں ہو سکتا اور انسان کی اس لازمی ضرورت کی تکمیل کوئی ایسی ہی طاقت اور ہستی ہی کرسکتی ہے۔ جس کا علم زمانہ ماضی و حال اور مستقبل کی قیود اور احاطوں سے بالاتر ہو اور تمام انسانوں کی ضروریات اور تمام ادوار کے حالات و واقعات پر اس کا عمل محیط ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں جو حضرات پیغمبر بنائے گئے وہ انہی صحفیوں اور شریعت ابراہیم کے مبلغ بناکر مختلف قوموں کی طرف بھیجے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا دور آیا اور بنی اسرائیل کی طرف ان کو رسول اور پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور ایک لکھی لکھائی کتاب توریت شریف ان کو عطا کی گئی۔
پھر اسی نسل میں اور انبیائے کرام آتے رہے جو توریت ہی کے مبلغ تھے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا گیا اور اللہ نے اپنی طرف سے ان کو ایک کتاب انجیل مقدس عطا کی اور سب سے آخر میں نبی آخر الزماں خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلسلہ انبیاء و رسل کا سرخیل اور تمام سابقہ بنیادی تعلیمات خداوندی اور ہدایت الہی کا جامع بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کو ایسی ہی جامع کتاب مقدس کتاب قرآن کریم عطا فرمائی۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی صرف وہ پیغمبر ہیں جو تمام انسانوں کے لیے اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے۔ اس طرح قرآن کریم جو اللہ کی آخری کتاب ہے تمام انسانوں اور تمام ادوار کے لیے ایک عمل اور جامع کتاب الہی ہے جو انسانوں کے ہر گروہ ، ہر قوم اور ہر طبقہ کے لیے عادلانہ نظام حیات پیش کرتی ہے۔
یوں تو آسمانی کتابوں کے نزول کے لیے کسی خاص زمانہ کی اور خاص مہینے کی بظاہر کوئی قید نہیں ہے جذبات و احساسات سے پاک اور بالاتر ہو۔
انہی وجوہات کی بنا پر خالق کا ئنات نے انسان کی اس بنیادی ضرورت کی تکمیل خود اپنے ذمہ لی اور نسل انسان کے آغاز ہی سے اس کو اپنی طرف سے تقاضہ احوال کے مطابق کوئی نہ کوئی نظام حیات عطا فرمایا۔ حضرت آدم علیہ الصلوة والسلام سے اس سلسلہ کی ابتدا ہوئی اور تاریخی طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اختتام ہوا۔
نزول صحائف کی تاریخ
سب سے پہلے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو آسمانی اور خداوندی ہدایات دی گئیں۔ اس کے بعد آنے والے مختلف اور بہت سے رسولوں اور پیغمبروں کو منجانب اللہ صحیفے عطا کئے جاتے رہے تاکہ آنحضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو مابعد کے ادوار کے لیے ایک مرکزی رسول بنایا گیا اور ان کو بھی صحیفے عطا کیے گئے جو سابقہ صحیفوں سے زیادہ جامع اور مکمل تھے۔
تاہم ماہ رمضان المبارک کو آسمانی کتابوں کے نزول سے خاص نسبت حاصل ہے اور مشہور آسمانی کتابیں اور صحیفے اسی مہینے میں عطا کیے گئے۔ چنانچہ علامہ محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر رمضان المبارک کی پہلی شب میں صحیفے نازل کیے گئے۔
حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر رمضان کی ۶ تاریخ کو توریت نازل ہوئی اور کوہ طور پر ان کو عطا کی گئی۔
حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام پر ۱۲ رمضان شریف کو زبور نازل ہوئی ۱۸ رمضان المبارک کو انجیل اور رمضان المبارک میں ۲۴ ویں شب کو قرآن نازل کیا گیا۔
خود قرآن کریم میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن کریم رمضان شریف میں شب قدر میں نازل کیا گیا مگر اس کے نزول سے مراد بعض روایات کے پیش نظر وہ نزول ہے جو لوح محفوظ سے آسمانی دنیا پر نازل کیا گیا تھا۔ ورنہ قرآن کریم کا نزول یکبارگی نہیں ہوا ہے۔ بخلاف سابقہ آسمانی اور صحیفوں کے ان کا نزول مجموعی طور پر یکبارگی ہوا ہے۔
قرآن حکیم کے نزول میں حق تعالیٰ نے یہ طرز اختیار فرمایا کہ تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت ، حسب حالات اور حسب مواقع نازل کیا گیا۔ بظاہر اس میں ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم چونکہ اللہ کی آخری کتاب ہے جس کے تحفظ اور جس کی تشریح و بیان جس کے مطالب کی ضروری وضاحت حق تعالیٰ نے اپنی ذمہ داریوں کو بھی بیان فرمایا نیز یہ کہ حسب موقعہ ہدایات خداوندی اور آیات الہی ذہن نشیں بھی زیادہ ہوتی تھیں۔ پھر جس طرح کتب الہیہ اور صحف سماویہ کا عطا کیا جانا رسولوں کی خصوصیت ہے۔ اسی طرح تشریح وحی خداوندی کی آمد بھی خصوصیات انبیاء میں سے ہے۔
سابقہ کتب اور صحفیوں کی حیثیت چونکہ وقتی ، علاقائی یا مخصوص نسلوں کے لیے ہدایات انہی کی تھی۔ اس لیے ان کے تحفظ کا اہتمام منجانب اللہ نہیں کیا گیا۔ لیکن چونکہ قرآن حکیم سابقہ صحیفوں کی طرح محدود خداوندی ہدایت نامہ نہیں ہے بلکہ پوری نوع انسانی اور تمام ادوار کے لیے رہنما کتاب الہی ہے اس لیے اس کے نزول میں بھی ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جو عملی طور پر سہل بھی ہو اور واقعات کی تصویر کے ساتھ ذہن نشین بھی خوب اچھی طرح ہو سکے۔ نیز سابقہ کتب الہیہ ، صحف سماویہ اور قرآن کریم کے نزول میں ایک فرق یہ بھی رہا کہ سابقہ کتاب لکھی ہوئی مجموعی طور پر ایک دفعہ میں متعلقہ پیغمبروں کو عطا کر دی گئیں اور قرآن کریم کو پورا کا پورا وحی کے ذریعے نازل کیا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبریل امین علیہ السلام لے کر آئے تھے۔
لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ کی طرف سے وحی آئیں وہ دو طرح کی تھیں۔ ایک وہ جو نزول قرآن سے متعلق تھیں اور جن کے ذریعہ قرآن حکیم نازل کیا جاتا تھا اور دوسری وحی جو موقع بہ موقع اور حسب ضرورت پیش آنے والے واقعات سے متعلق تھیں۔
پس قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا ایک جامع ہدایت نامہ اور انسان کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی ہر موقع پر اور ہر دور میں اور ہر نسل کی رہنمائی کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن حکیم کا ایک عملی پیکر تھے اور آپ کی پوری زندگی آپ کا ہر قول اور ہر عمل وحی الہی کی رہنمائی میں قرآن کریم کی تشریح و تفسیر تھی ، گویا اصطلاحی طور پر وحی کی دو قسمیں ہیں:
ایک وحی متلو ( تلاوت کی جانے والی وحی )
دوسری وحی غیر متلو (نہ تلاوت کرنے والی وحی )
وحی غیر متلو کے ذریعہ وحی متلو کی تشریح و تفسیر کی گئی ہے جس کو حدیث کہا جاتا ہے۔
ماخوذ : رسالہ رہبر نور ۲۰۲۲
تحریر : مولانا احتشام الحق










