رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

آہ مولا کی آج آخری رات

On: مارچ 11, 2026 1:48 صبح
Follow Us:
آہ مولا کی آج آخری رات

مدینہ طیبہ کی پرکیف فضاوں سے مستفیض دراقدس پر نوید صبح اور نسیم سحری کے ٹھنڈےجھونکے چلنے ہی والے تھے کہ حسب عادت آج بھی اس موذن رسول ﷺنے نماز صبح کیلئے لوگوں کو جگانے کیلئے رحمت کدہ اور مہبط انوار الہیہ سے قدم نازنین باہر نکالے ہی تھے کہ والہانہ محبت میں بطخوں کا ایک غول آگے آیا اور جان جاناں کے آگے پیچھے (حلقہ میں لے کر )اپنے اپنے پنکھ پھیلا پھیلا کر قوں قوں کی آوازوں سے روکنا چاہا اور نوحہ شروع کردیا لوگوں نے بطخوں کو ہٹانا چاہا
پر اس دانا وبینا مولی نے فرمایا کہ انہیں مت روکو انہیں آج نوحہ کرنے دو

حسب عادت شریفہ نماز فجر کیلئے سب کو اٹھاتے بیدار کرتے ہوئے جب وہاں پر پہونچے جہاں پر بجائے اس کے کہ غیض وغضب کی تلوار اپنے قاتل کو دیکھ کر بے نیام ہوجاتی
وہاں تحمل اور ضبط خود ضبط وتحمل کی خیرات مانگ رہے تھے تمام مسلمانوں کو جگانے کے بعد اپنے قاتل کو بھی جگایا الصلوۃ الصلوۃ "اٹھو نماز کا وقت ہورہا ہے” ہزاروں رحمتیں ہو اس امیر کائنات پر جس نے نماز کیلئے اپنے قاتل کو بھی جگادیا جبکہ مولا کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا کہ جس کو نماز کیلئے جگایا جارہا ہے آج یہی ایک مہینے سے زہر میں بجھی ہوئ تلوار سے حملہ کردیگا حالانکہ مولا علی اپنے قاتل کو جانتے تھے

شواہد النبوۃ میں علامہ جامی علیہ الرحمہ نے تحریر کیاہے ملخصا پیش کررہا ہوں۔ ایک مرتبہ ابن ملجم ملعون کوفہ کی مسجد میں ٹہل رہا تھا جیسے ہی عبدالرحمن ابن ملجم لعین پر مولائے کائنات علیہ السلام کی نظر پڑی آپ امیر علیہ السلام نے خود کو مخاطب کرکے فی البدیع فرمایا

اشد وحیاذ یمیک للموت لدقیک
ولاتجرع الی الموت اذااجل بوادیک

سب سے زیادہ بری خبر موت کی ہےجو تجھے ملنے والی ہے جب یہ تجھ پہ روشن ہوجائے تو اسکی طرف جرعہ نوش نہ ہو

بعدہ آپ نے اسے طلب فرماکر اس سے فرمایا اے ابن ملجم زمانۂ جہالت میں یا زمانۂ صبا میں تیرے دل میں کون سا خیال آیا تھا اس نے کہا مجھے تو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں
مولائے کائنات نے فرمایا اے بد بخت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کیا تیری کوئ یہودی دایہ تھی ؟
اس نے کہا ہاں اس پر حضرت علی خاموش ہوگئے۔

محترم قارئین
آپنے دیکھ لیا میرے مولا کی پہلی نظر نے قاتل کو پہچان لیا
نہ کہ آپ نے قاتل کو پہچان لیا بلکہ شہادت کا وقت بھی بذریعہ خواب پہچان لیا
ایک مرتبہ مولا علی نے سرکار رسالت مآب ﷺ کو خواب میں دیکھا عرض کیا یارسول اللہ آپ کے امتیوں نے ساری مشکلیں میرے لئے کھڑی کردی ہیں بہت ستایا ہے آپ نے فرمایا کہ دعا کرو کہ اللہ پاک اچھے لوگوں میں بلالے چنانچہ آپ نے دعاکی قبول ہویئ آپ اسے جگا کے مسجد کی طرف بڑھ گئے اور وہ وقت قریب آرہا تھا کہ جس کی پیشین گوئ میرے آقانے فرمائی تھی۔

ایک مرتبہ مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کی طبیعت سخت ناساز ہوئ حضورﷺ عیادت کیلئے تشریف لے گئے عرض کیا حضور شاید میرے وصال کا وقت قریب ہے آپ نے فرمایا کہ اے علی ابھی نہیں جب تک تمہاری داڑھی خون سے لال نہ ہوجائے اور جب آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ کی داڑھی مبارک خون سے لال ہوگئ.
آپ نے فرمایا کہ اسے
(ابن ملجم ) کو پکڑلو جب اس لعین کو پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے فرمایا

انہ اسیر فاحسنوانزلووکرموا مثواہ فان بقیت قتلت اوعفوت فان مت اوقتلوا قتلتی ولاتعتدواان اللہ لایحب المعتدین

اس وقت اسکی حیثیت ایک قیدی کی ہے لہذ اتمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے کھانا کھلاؤ اس کیلئے رہائش کا انتظام کرو اگر میں زندہ رہا تو میری مرضی چاہوں میں اس کو قتل کردوں یا معاف کردوں اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرے قتل کی طرح اسے قتل کردینا اور اس قتل میں آگے نہ بڑھنایعنی ناک کان نہ کاٹنا
کہ اللہ تعالی حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس وقت اس لعین نے کہا تھا کہ اب علی نہیں بچیں گے اس لئے کہ جس تلوار سے میں نےان پر حملہ کیا ہے اس تلوار کو ایک مہینہ زہر میں بجھایاتھا۔

مورخین نے تحریر کیا ہے کہ
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ۱۹ویں رمضان کی شب اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے اور یہ رات نہایت عجیب اورآپ کے حالات غیر عادی تھے اور ان کی بیٹی ایسے حالت کا مشاھدہ کرنے سے نہایت حیران اور پریشان تھیں آپ اس قدر پریشان تھے کہ کئ بار بیدارہوتے تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آکر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے:
"خدا کی قسم! میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے”۔

حضرت علی علیہ السلام سن40 ھ کو مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوۓ۔ عبد الرحمن بن ملجم مرادی خوارج ، کہ جس نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ امام علی بن ابی طالب کو قتل کرڈالیں گے۔
اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور اس طرح عبد الرحمن بن ملجم مرادی کوفہ آگیا اور ۲۰ شعبان سن ۴۰ھ کو شھر کوفہ میں داخل ہوا۔

وہ شبیب بن بجرہ اشجعی ، جو کہ اسکے ہم فکروں میں سے تھااور دونوں کو ” قطاب بنت علقمہ” نے اکسایا اور للچایا تھا اور اس طرح ۱۹ویں رمضان سن ۴۰ کی سحر کو کوفہ کی جامع مسجد میں کمین میں بیٹھ کر امیرالمومنین علی مرتضی کے آنے کاانتظار کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قطام نے ” وردان بن مجالد” نامی شخص کے ساتھ اسکے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کۓ تھے۔

اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی علیہ السلام کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ، اس نے امام علی علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھاتا رہا بہر حال نماز صبح کیلۓ آنحضرت کوفہ کی جامع مسجد میں داخل ہوے اور سوۓ ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کو جو کہ پیٹ کے بل سویا تھا کو بیدار کیا۔ اور اسے نماز پڑھنے کوکہا۔

جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی ، پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کی طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ دیا : "للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک” ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک پر حملہ کیا اور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ(ماتھے) تک شگاف ہوا۔ حضرت علی علیہ السلام محراب میں گر پڑے۔

سجدے میں شیر حق کا دو پارہ ہوا جو سر
اک بار کانپنے لگے مسجد کے بام و در
ابلا لہو کہ ہو گئی محراب خوں میں تر
اک زلزلہ سا بس ہوا نازل زمین پر
گردوں پہ جبرئیل پکارے غضب ہوا
سجدے میں قتل آج امیر عرب ہوا

ِ ﺍﻟﻠﮭﻢ ﺍﻟﻌﻦ ﻗﺘﻠﺘﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦِ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ علیہ السلام

دیوار کعبہ بیٹھ گئ عرش گرپڑا

اسی حالت میں فرمایا :

بسم اللہ و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ ،
خدائے کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گيا۔

کچھ نماز گذار شبث اورا بن ملجم کو پکڑنے کیلئے باھر کی طرف دوڑ پڑے اور کچھ حضرت علی علیہ السلام کی طرف بڑھے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ۔
حضرت علی علیہ السلام کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا:

ھذا وعدنا اللہ و رسولہ

یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیاتھا۔
حضرت علی علیہ السلام چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ اپنے فرزند امام حسن مجتبی علیہ السلام سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور خود بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب عبدالرحمن بن ملجم لعین نے سرمبارک پر شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئیں آسمان متزلزل ہوا کوفہ کی مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ، کالی گھٹائيں اس طرح چھا گئیں کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین نے صدا دی اور ہر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہے تھے :

تهدمت و الله اركان الله الهدي و انطمست اعلام التّقي و انفصمت العروۃ الوثقي قُتل ابن عمّ المصطفي قُتل الوصيّ المجتبي قُتل عليّ المرتضي قَتَلہ اشقي الْاشقياء

خدا کی قسم ھدایت کے رکن کو توڑا گیا ، علم نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء ، علی مرتضی کو شھید کیا گيا ، اسے شقی ترین شقی (ابن ملجم) نے شھید کیا۔

دیوار کعبہ بیٹھ گئ عرش گرپڑا

علی پیشواؤں کے پیشوا ، عادل امام ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز ہمدرد حاکم ، کامل ترین انسان ، خدا کے ولی ، محمد مصطفے کے وصی جانشین نبی کو روئے زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ ہوگئے، پیغمبروں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہم نشین ہوگئے امت کو اپنے وجود بابرکت سے محروم کر گۓ.

آپ کو لوگ اٹھا کر گھر لائے ضربت مولا کا یہ واقعہ ١٩ رمضان بروز جمعہ بوقت صبح صادق ۴۰ ہجری میں پیش آیا دودن تک آپ بستر تکلیف پر نہایت بے چین رہے پھر شدت زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے ٢١ رمضان المبارک کو شہادت کا جام نوش فرمایا.

آپ شہید کیا ہوئے پورے شہر میں صف ماتم بچھ گئ
شہادت کے بعد فور ا تجہیز و تکفین کی تیاریاں شروع ہونے لگیں آپ علیہ السلام کے صاحبزادے امام حسن اورامام حسین علیھما السلام بھتجیے عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے غسل اور کفن دیا

علامہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ نے شواہدانبوۃ میں تحریر فرمایا:
حضرت امیرالمومنین حسین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر کرم اللہ وجھہ نے وفات پائی تو میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ باہر چلے جاؤ اس بندہ خدا کو ہمارے پاس چھوڑ دو میں گھر سے باہر نکل آیا اندر سے آواز آئی حضور ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد وصی رسول بھی شہید ہوگئے جو دین کی نگہبانی کرتے تھے حضور کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے تھے اور انکی اتباع کرتے تھے جب یہ آواز آنا بند ہوئی تو ہم اندر آگئے ہم نے دیکھا کہ حضرت علی کی تغسیل ہوچکی ہے چنانچہ ہم نے آپ کی نمازجنازہ ادا کی اور دفن کردیا
تجہیز وتکفین کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے و جانشین حضرت امام حسن علیہ السلام (خاتم خلافت راشدہ) نے نماز جنازہ پڑھائی پھر وہی نشستگاہ مولی ہی فخر باغ ارم بنی

مراد کس نے لہو سے دین کو سینچا
یہ بات حشر میں کھولے گی جانماز علی

آج اسکی شہادت ہے جسے اسلام میں اولیت حاصل ہے
آج اس کی شہادت ہے عالم اسلا م جنکو نور رسول، زوج بتول، وصیِ رسول، گلزاراخلاق کے نفیس پھول نبی کا چین ، ابوالحسنین ، غازئ بدروحنین دریائے معرفت کے شناور، ولایت کے مصدر فاتح خیبر ، شاہ صفدر ، جانشین پیمبر ، ابو تراب و حیدر ، نائب احمد مختار ، نور عیون اخیار ، شاہ مرداں ، شیر یزداں ، قوت پروردگار ، حیدر کرار ، شجاعت کے شہسوار ، امام الاولیاء ، و الاتقیاء ، امام الثقلین ، کعبۂ دارین ، قائد غرم المحجلین ، دیوان سخاوت کے صدر نشین ، سید المتقین ، یعسوب الدین ، امیرالمومنین ، امام المسلمین ، مولاۓ کائنات ، ابو تراب ، اسداللہ ، شیرخدا ، تاجدار ھل اتیٰ ، کاسراصنام کعبہ ، سیدنا علی المرتضی جیسے مقدس نام والقاب سے یادکرتی ہے

اللہ تبارک و تعالی لاکھوں لاکھ رحمتیں نازل فرمائے مرقد مولا پر

سمجھاہی نہیں کوئ کہ کیاشان علی ہے
بس سرور کونین کو عرفان علی

خاکپائے
مرتضی وحیدر
سیدازبر علی مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment