تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام

On: فروری 21, 2026 5:48 شام
Follow Us:
Story of Imam Jafar As Sadiq

سيد العرب ، شريف النسب کعبہ مومنین قبلہ اہل یقین ، سند الصابرين، قائد غرالمحجلین ، سيد الصادقین، امام العالمین، الصادق الصديق نجم الطارق حضرت سیدنا امام جعفر صادق بن محمد بن علی بن حسین بن علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

عظمائے اہلبیت میں شرفائے امت میں علمائے ملت میں اس عظیم الشان ہستی اور پیکر جلیل و جمیل کا نام سنہرے حروف سے لکھا ہے امام جعفر صادق اہلبیت کے اس بلند روشن مینارہ کا نام ہے جسے آسمانوں کی بلندیاں ستارے روشنی جھک کر سلام کرتی ہیں جس کی نورانی ضیاؤں سے چاند سورج ستارے روشنی کی خیرات مانگتے ہیں۔
مسند امامت ہو کار نذارت ہو پیغام بشارت ہو تقوی وطہارت ہو عبادت و ریاضت ہو تفقہ فی الدین ہو علم دین ہو یا علم دنیا سب حضرت جعفر صادق کے مرہون کرم ہیں۔

امامت امت خلافت رسالت کی سیج پر گلدستہ پنجتن میں علی و فاطمہ سی جڑ اور تنے کے ساتھ امامت کے مہکتے پھولوں میں زینت مسند امامت امام چہارم بیمار کربلا حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے زمانہ امامت کی تابانیوں سے پوری کائنات منور تھی وہیں پر امام پنجم حضرت سیدنا کی امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کی امامت کی ابدی سعادتوں سے دنیا بہرہ ور ہو رہی تھی افراد امت ان قدسی نفوس کی دہلیز پر خراج عقیدت پیش کرنے اور نصیبے جگمگاتے یہاں تک کہ سن ۸۰ ہجری کا نصف حصہ گزر چکا تھا۔

۱۷ ربیع النور سن ۸۰ یا ۸۳ ہجری کی نوری کرنوں نے آفاق مدینہ پر سنہری چادر پھیلائی بھی نہ تھی کہ افق انسانیت پر خورشید امامت کے مطلع بار ہونے کی خبر جانفزا صدائے بازگشت کر کے فضاؤں میں بکھر گئی۔ اب کیا تھا چاروں طرف سے مبارک باد دینے والوں کا تانتہ حضرت سیدنا امام زین العابدین اور حضرت سید نا امام محمد باقر علیہم السلام کے سامنے لگا رہا۔
۱۷ ربیع الاول سن ۸۰ یا ۸۳ ہجری میں قاسم نعمات امامت حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے گھر ایک سعید ازلی کی ولادت ہوئی۔

نام نامی اسم گرامی
جعفر رکھا گیا

القاب
صادق جیسے اشہر ترین لقب کے علاوہ فاضل اور طاہر جیسے القاب سے دنیا یاد کرتی ہے۔

کنیت
ابو عبد اللہ اور ابو اسمعیل ہے۔

حلیہ مبارک
آپ نہایت ہی حسین و جمیل زیبا شکیل گندم گوں رنگ موزوں قد کے ساتھ ساتھ سیرت صورت حسن و جمال میں آبائے کرام کا پرتوِ خاص تھے۔ اس طرۂ امتیاز کے ساتھ ساتھ آپ ایسے صادق تھے کہ دو مرتبہ حضرت صدیق اکبر کے گھر پیدا ہوئے جیسا کہ آپ کا قول ولدنی الصدیق مرتین کیونکہ حضور امام جعفر کی والدہ مقدسہ حضرت ام فروی رضی اللہ عنہا جو دختر ہیں حضرت قاسم نبیرہ حضرت سیدنا صدیق اکبر کی اور حضرت قاسم رضی اللہ عنہا کی والدہ اسماء ہیں جو دختر ہیں حضرت عبد الرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہم کی اس اعزاز و شرف سے جعفر صادق کو صادق الصدیقین کر دیا۔

فضائل وکمالات
بات اتنے پر ختم نہیں کی جاسکتی بلکہ آپ بیشمار فضائل و کمالات کے سنگم تھے سلطان ملت نبوی برہان دین مصطفوی نور نگاه علی ، پیکر طہارت فاطمی، مقدم زاہداں ، مکرم عابداں ، نازش کاملاں ، مونس بیکساں ، پیش روِ اہل ذوق، پیشوائے اہل شوق اور بضعۃ پنجتن تھے۔

عادات و صفات
عادات و صفات میں آپ یگانہ عصر تھے عبادت و مجاہدات میں مستجاب الدعوات آپ کا ثانی اور مماثل نہ تھا۔ سید الاتقیاء امت ہونے کے ساتھ ساتھ خشیت الہی اس درجہ حاصل تھی کہ ہمہ وقت خوف خدا سے لرزتے اور کانپتے تھے۔

اس دن ساتھیوں کی حیرت کا بند ٹوٹ گیا جب آپ نے فرمایا کہ ساتھیوں آج یہ عہد و پیمان لیں کہ کل بروز محشر ہم میں سے جو نجات کا پروانہ پائے تو وہ بقیہ ساتھیوں کی شفاعت کریگا۔ ساتھیوں نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ اے ابن رسول آپ کو ہماری شفاعت کی کیا ضرورت جبکہ آپ شفیع الامت کے بیٹے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنے رد عمل کو دیکھ کر شرم آتی ہے کہ کل بروز محشر نانا جان کے سامنے کیسے جاؤں۔ اللہ اللہ سید الصادقین کا یہ عجز وتقوی اور خشیت جسے دیکھ کر تا بہ روز جزا ملائکہ حیران و ششدر رہیں گے۔

اسی طرح خشیت الہی کی یہ دوسری مثال بھی ملاحظہ فرمالیں ایک مرتبہ حضرت داد طائی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا حضور اس سیاہ قلب کے لئے کوئی نصیحت فرمائیں تو آپ نے فرمایا کہ تو خود مقرب الی اللہ ہے تو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے۔حضرت داؤد نے عرض کیا کہ اے ابن رسول آپ پر واجب ہے کہ اپنے نانا کی امت کو نصیحت کریں ان کے ظاہر و باطن کا تزکیہ کریں آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں فرمایا کہ اے داؤد میں اس بات سے خوف زدہ رہتا ہوں کہ بروز حشر اگر نانا جان نے میری فرد عمل دیکھ لی تو کیا جواب دوں گا۔ یہ سن کر حضرت داؤد بہت روئے اور عرض کیا کہ اے اللہ جس کی سرشت کے تقدس کیلئے آب نبوت لیا گیا جس کی طبیعت کا خمیر برہان وحجت سے اٹھایا گیا جس کی آنکھوں میں خشیت الہی کا سمندر اس طرح موجزن ہو جس کے دل کی ہر دھڑکن ساز خشیت سے پر ساز ہو اس کی خشیت اور خوف کا یہ عالم تو اب داؤد کس پر ناز کرے۔

حضرت امام جعفر صادق کا علمی مقام
مفاتیح العلوم حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے علمی وقار و مقام کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے انا مدینۃ العلم کی سچائیوں کے وارث و علی با بہا کے سچے امین کی وراثت کا ورثہ دار ہو اس کے علم فضل کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا چنانچہ گہوارۂ علم میں آنکھ کھولنے کے بعد حضرت امام صادق نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا۔ بعدہ علم حدیث اور اس کی رواۃ کے علم کی تشنگی نے تڑپایا تو اپنے دادا محترم بیمار کربلا حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے دامن شفقت و محبت سے لپٹ کر علم حدیث حاصل کیا۔ ابھی چند سال ہی حاصل کر پائے تھے کہ دادا محترم کا سایہ ظاہری سر سے اٹھ گیا۔ گرچہ آپ کی عمر شریف ۱۴/۱۳ سال کی ہی ہوئی ہوگی مگر پھر بھی ذخیرۂ علم کو خانہ دل میں جمع کر لیا۔ دادا جان کی شہادت کے بعد آپ نے نانا جان حضرت قاسم بن محمد سے علم حدیث حاصل کیا۔ دادا اور نانا ان دو بزرگوں کے چشمۂ علم سے خوب خوب سیراب ہوئے اس کے بعد امام پنجم حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے علم حدیث میں مکمل استفادہ کیا ان کے علاوہ بھی کئی شیوخ و اساتذہ اکابر محدثین سے احادیث مبارکہ روایت کیں جیسے عطا بن ابی رباح ، نافع ( مولی ابن عمر ) اور امام زہری وغیرہ سے۔ حصول علم میں اس قدر محنت کی اور ایسے کمال کے عالم ہوئے کہ وقت کے ائمہ محدثین ائمۂ فقہ و تفسیر غرض کہ حضرت امام مالک، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت سفیان ثوری بن عینیہ وغیرہم نے خوب خوب استفادہ کیا۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے تقریباً دو سال تک آپ کی خدمت میں رہ کر علم دین حاصل کیا۔ اور یہ بیس سال امام صاحب کے حاصلِ زندگی تھے جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ لولا السنتان فھلک النعمان یعنی میری زندگی کے وہ دو سال نہ ہوتے جسمیں امام جعفر سے علم حاصل کیا تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔

عروج بزرگی کا یہ دلچسپ اتفاق ملاحظہ کریں
کہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اور امام اعظم رضی اللہ عنہ کی تقریبا عمر ایک تھی ایک ہی سن ولادت بھی مگر جب حضرت امام اعظم کی ملاقات امام جعفر صادق سے ہوئی تو آپ ان کے علم کے آگے ٹک نہ سکے اور فرمایا کہ ماراَت احدا فقه من جعفر بن محمد یعنی میں امام جعفر بن محمد باقر سے زیادہ فقیہ نہ دیکھا۔ اور زانوئے تلمذخم کر کے علوم نبویہ حاصل کئے۔
موفق مکی المناقب میں لکھتے ہیں کہ ابو جعفر منصور نے کہا کہ ابو حنیفہ لوگ جعفر بن محمد پر بڑے فریفتہ ہیں ان کے لئے کچھ مشکل مسائل بنادیجئے امام اعظم نے ان کے لئے چالیس مشکل سوال تیار کئے امام اعظم نے فرمایا کہ جب میں حیرہ کے مقام پر منصور کے دربار میں آیا تو وہاں امام جعفر اس کے دائیں جانب جلوہ فرما تھے ان سے اس قدر مرعوب ہوا کہ منصور سے بھی نہ ہوا تھا میں نے سلام کیا انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں بیٹھ گیا منصور حضرت جعفر صادق سے مخاطب ہو کر بولا ابو عبداللہ یہ ابو حنیفہ ہیں۔ جعفر صادق بولے اچھا پھر منصور میری طرف متوجہ ہوئے کہا کہ ابو عبد اللہ سے وہ مسائل پوچھئے ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں پوچھتا جاتا اور آپ جواب دیتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ تم عراقی لوگ یوں کہتے ہو اہل مدینہ کا یہ قول ہے اور ہمارا یہ خیال ہے کبھی ہمارے موافق فتوی دیتے اور کبھی ان کے کبھی ہماری مخالفت کرنے لگتے یہاں تک کہ چالیس مسائل ختم ہوئے کوئی مسئلہ باقی نہ چھوڑا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ امام اعظم نے پہلی ہی ملاقات میں بھانپ لیا تھا کہ فقہ میں امام جعفر کا ایک خاص مقام ہے۔ ( حیات حضرت ابو حنیفہ )

حضرت علامہ عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ شواہد النبوۃ میں لکھتے ہیں کہ آپ عظمائے اہلبیت سے ہیں اور ان میں سے تمام سے اعلم ہیں اور اس قدر کہ کثرت علوم جو ان کے قلب پر نازل ہوئے ان کا احاطہ فہم و ادراک نہیں کر سکتے۔ اور بھی علوم آپ سے روایت کئے جاتے ہیں کہا جاتا کہ کتاب جفر جو عبد المومن کے توسط سے مغرب میں رائج ہے وہ آپ کا ہی کلام ہے یہ کتاب جفر کے نام سے مشہور ہے۔ جو آپ کے اسرار علوم پر مشتمل ہے اور اس کا تذکرہ حضرت سیدنا امام علی ابن موسی کے ملفوظات میں صریحاً پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت مامون الرشید نے آپ کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تو آپ نے فرمایا کہ جفر اور جامعہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں آپ اس دعوے میں سچے تھے۔ کیونکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے علم غابر و مزبور ہیں جسے ہم سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں اور کانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس جفر احمر ، جفر ابیض ، جفر فاطمہ بھی ہے لیکن علم جامعہ میں وہ تمام چیزیں پائی جاتی ہیں جن سے لوگوں کو واسطہ رہتا ہے ان کی تفسیر و تشریح بھی لوگ ہم سے پوچھا کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ غابر وہ علم ہے جس کی روشنی میں مستقبل کے تمام حالات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اور مربور وہ علم ہے جس کی روشنی سے گزشتہ واقعات کا علم ہوتا ہے اور وہ علم جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے اس کا نام الہام ہے۔ اور وہ جو لوگوں کے کانوں تک وہ ملائکہ کی باتیں ہیں جن کو ہمارے کان ہی سن سکتے ہیں اور کوئی ان شخصیتوں کو نہیں دیکھ سکتا لیکن جفر احمر حضور علیہ السلام کا ایک قسم کا اسلحہ ہے جو ہم اہلبیت اس کو کبھی بھی ظاہر نہیں کرتے ہیں جب تک کہ اہلبیت سے امن اور برکت حاصل کرنا مقصود نہ ہولیکن جفر ابیض سے مراد یہ ہے کہ توراۃ ، انجیل، زبور اور قرآن پاک کے تمام علوم حاصل کئے جائیں۔ ( شواہد النبوۃ )

( نوٹ جفر ابیض حضرت سرکار سید نامدار العالمین رضی اللہ عنہ کو بطور وراثت حاصل ہوا پھر آپ سے دو چند مخصوص خلفا کو بھی مترشح ہوا )

آگے تحریر فرماتے ہیں کہ مصحف فاطمہ سے مراد یہ ہے کہ اس میں وہ تمام واقعات و اسما جو قیامت تک ظاہر ہونے والے ہیں موجود ہیں۔ جامعہ ایک ایسی کتاب ہے جو سترگز لمبی ہے اس کی عبارت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ترتیب دی ہے اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے لکھا قیامت تک انسانوں کی ضرورت کی ہر چیز اس میں موجود ہے حتی کہ دیت سے لیکر کوڑے اور آدھے کوڑے کی سزا بھی ہے۔ (شواہد النبوۃ)
حضرت امام صادق کے علم کا اندازہ لگانا محال ہے۔

خوارق وكرامات
نرم مزاجی ، عاجزی اور انکساری جس طرح عادت و فطرت میں داخل تھی اسی طرح کرامت بھی رب نے خوب خوب عطا کی تھیں بلکہ آپ سراپا کرامت تھے محققین نے آپ کی بہت سی کرامتوں کو تحریر فرمایا ہے یہاں بوجہ اختصار چند کرامتوں کا تذکرہ کر رہا ہوں۔

مرده گائی زنده هوگئی :
راوی کا بیان ہے کہ میں حضرت امام جعفر کی معیت میں مکہ معظمہ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا اچانک ایک عورت پر نظر پڑی جو اپنے بچوں کے ساتھ ایک مردہ گائے کے سامنے گریہ وزاری میں مصروف تھی ایسا لگتا کہ جیسے سرمایۂ حیات کی تمام تر لذتیں اور کروٹیں اس گائے کی زندگی سے وابستہ ہوں گریہ وزاری کے ساتھ آشفتہ حالی کی داستان اس کی بھیگی پلکوں سے ظاہر تھیں غربت و افلاس میں ایک ہی سہارا تھا جسے وہ کھوکر کیسے چپ بیٹھتی مگر اسے کیا معلوم کہ کسی کے قدم ناز اس کی خزاں بار زندگی کو رشک بہار بنادیں گے۔ حضرت جعفر صادق کو اس کے حال پر ترس آیا فرمایا کہ تم کیا یہ چاہتی ہو کہ گائے کو دوبارہ زندگی عطا کر دی جائے۔ پریشان عورت نے عجیب نظروں سے دیکھا اور پوچھا کیا حضور آپ اس غربت زدہ سے مذاق نہیں کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھو پھر آپ نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے پھر آپ نے اس کے سر اور پاؤں کو چھو کر اسے آواز دی تو وہ زندہ ہو کر اٹھی اور آپ کے قدموں کا بوسہ دینے لگی۔

خزاں رسیدہ باغ پر جان بہار کا تصرف
خزاں کی زد میں آئے اجڑے ہوئے باغ سے پھل تو کیا کوئی سائے کی بھی امید نہیں رکھ سکتا۔ مگر امام جعفر صادق پتھر نچوڑ کر پانی نکال سکتے ہیں سوکھے درختوں سے پھل کیا معنی۔
راوی کا بیان ہے کہ ہم حضرت جعفر صادق کے ہمراہ ارکان حج ادا کرنے جارہے تھے آرام کی غرض سے کھجور کے ایک سوکھے باغ میں ٹھہرے بھوک کا بھی احساس تھا میں نے دیکھا کہ حضرت امام جعفر صادق کے لبہائے مبارکہ جنبش میں ہیں آپ کیا پڑھ رہے تھے میری سمجھ میں نہیں آیا پھر آپ سوکھے درختوں سے یوں مخاطب ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں جو ہمارے لئے رزق ودیعت کیا وہ ہمیں پہنچا کر ہماری ضیافت کر آپ کا یہ فرمان قدسی زبان شیریں بیان جیسے ہی کھجور کے درختوں نے سنا ایک دم سب کے سب خوشوں سے لدگئے اور لٹکتے ہوئے تر خوشوں کے ساتھ ایک ایک درخت جھک گیا آپ نے فرمایا کہ آؤ اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل میں کھجور میں کھائیں اور ایسی میٹھی کھجور میں کبھی کھائیں بھی نہ تھیں اس جگہ ایک اعرابی بھی تھا اس نے کہا کہ آج تک میں نے ایسا جادو نہیں دیکھا تھا آپ نے فرمایا کہ اے اعرابی میں ابن رسول ہوں کوئی ساحر اور کاہن نہیں مجھ سے کرامتوں کا صدور ہوتا ہے نہ کہ جادو کا اگر تو مجھے آزمانا چاہتا ہے تو میں تیری صورت کو کتے کی شکل میں منتقل کئے دیتا ہوں اس نے کہا کہ اگر واقعی صاحب کرامت ہو تو کر کے دکھاؤ تو آپ نے اس اعرابی کو کتا بنادیا تو وہ وہاں سے بھاگا امام جعفر نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ساتھ جاؤ چنانچہ میں اس کے ساتھ ساتھ گیا دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنے بیوی بچوں کے سامنے دم ہلانے لگا تو گھر کے لوگوں نے ڈنڈا مار مار کر بھگا دیا واپس آکر میں نے ساری داستان امام صاحب کو سنادی جب تک وہ کتا بھی آگیا۔ اور جعفر صادق کے سامنے زمین پر لوٹنے لگا اشکبار آنکھوں سے التجائی حالت میں رحم کی بھیک مانگ رہا تھا تو امام جعفر نے اس کے حال زار پر ترس کھایا اور دعا فرمائی تو اللہ نے اس کی اصلی صورت لوٹا دی۔

قاسم جنت جعفر صادق
تاجدار خلقت مالک جنت حضرت جعفر صادق کی بخشش و عطا کا کیا کہنا جب سخاوت کا دریا جوش میں ہو تو دنیا کی ناز ونعم کیا جنت کے محل بانٹتے ہیں جیسا کہ تاریخ بتلاتی ہے کہ آپ مسند امامت پر متمکن تھے ایک شخص حاضر دربار ہوا دس ہزار درہم دے کر کہا کہ حضور یہ درہم رکھ لیں میں حج کو جا رہا ہوں اس سے آپ میرے لئے ایک بہترین سرائے خرید لیں تاکہ واپسی کے بعد اپنے بیوی بچوں کو لیکر اسی سرائے میں متوطن ہو سکوں یہ کہہ کر وہ حج کیلئے چلا گیا۔ حج کرکے جب واپس ہوا تو سب سے پہلے آپ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور پوچھا حضور آپ نے میرے لئے سرائے خرید لی؟ آپ نے فرمایا کہ جنت میں میں نے تمہارے لئے سرائے خرید لی ہے اور یہی سرائے جس کی پہلی حد سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر دوسری مولی علی پر تیسری امام حسن چوتھی امام حسین پرختم ہوتی ہے یہ بتاکر ایک رقعہ یعنی اتھارٹی لیٹر لکھا وہ بہت خوش ہوا اور اس پروانہ کو لیکر اپنے گھر آگیا کچھ دنوں کے بعد وہ بیمار ہوگیا تو اس نے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو اس رقعہ نجات کو میری قبر میں رکھ دینا چنانچہ اس کی موت کے بعد لواحقین نے ایسا ہی کیا قبر میں رکھ کر چلے آئے جب دوسرے دن دیکھا گیا تو وہی پروانہ اس کی قبر پر پڑا تھا جس کے پیچھے لکھا تھا کہ جعفر نے جو وعدہ کیا وہ ایفا کیا گیا۔ (ملخصاً شواہد النبوة )

شهادت
حضرت سیدنا جعفر صادق علیہ السلام کی جب عمر شریف اڑسٹھ (۶۸) سال کی ہوئی تو خاصۂ خاندان اہلبیت کے طوق نے گردن سجانے کی پوری تیاری کر لی شہادت کا ایک جام تھا جو لبہائے امام سے لگ کر مشرف ہونا چاہتا تھا ایک موت تھی جو ابدی زندگی تک پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ وہ وقت قریب آیا جس میں بادشاہ ابو جعفر منصور نے آپ کو زہر دلوادیا۔ اس طرح پندرہ رجب بروز پیر ۱۴۸ ھجری میں آپ کی شہادت ہوئی۔

مزار پرانوار
آپ کے والد گرامی حضرت امام محمد باقر اور دادا حضرت امام زین العابدین اور ان کے بڑے باپ حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ارشادات وفرمودات
آپ کے زریں اقوال کا شمار ناممکن ہے جس طرح آپ کی حیات طیبہ کو سمجھنا آسان نہیں ہے اسی طرح آپ کی زبان صدق سے نکلے فرمودات و نصائح بھی اہل علم وفن کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ ایک ایسا گنجینۂ بے بہا ہے جس میں ہر قسم کے نصیحتوں کا بہر ذخار چھپا ہے۔

☆ آپ فرماتے ہیں بے عمل داعی کی مثال اس تیر انداز کی سی ہے جو بغیر کمان کے تیر پھینکنا چاہتا ہوں۔

☆ آپ نے حضرت سفیان ثوری سے فرمایا کہ نیکی تین چیزوں سے پوری ہوتی ہے (1) اسکو جلدی کرنے سے (۲) چھوٹا سمجھنے سے (۳) اور چھپانے سے۔

☆ جب دنیا کسی انسان کے پاس آتی ہے اسے غیروں کی خوبیاں دے دیتی ہے اور جب اس سے منہ پھیر لیتی ہے تو اس کی ذاتی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے۔

☆ جب تجھے اپنے بھائی سے ایسی چیز پہنچے جو تو ناپسند کرتا ہے تو اس کے لئے ایک عذر سے ستر عذر تلاش کر اگر تجھے اس کے لئے کوئی عذر نہ ملے تو یوں کہے شاید اس کے لئے کوئی عذر ہو گا مجھے معلوم نہیں۔

☆ چار چیزیں ہیں جس سے شریف انسان کو عار نہ چاہئے والد کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جانا اپنے مہمان کی خدمت کرنا اپنے چوپائے کی خبر لینا خواہ اس کے سو غلام ہوں اپنے استاد کی خدمت کرنا۔

☆ زیادہ ہنسی مذاق سے بچو کہ اس سے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے۔

☆ جو شخص بغیر خاندانی جتھے کی قوت وعزت اور بغیر بادشاہت کے رعب وہیبت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نافرمانی کی ذلت بھری زندگی کو چھوڑ کرفرمانبرداری کی پر عزت زندگی شروع کرے۔

☆ کسی کو معاف کر کے پچھتانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی کو سزا دے کر پچھتاؤں۔

☆ علماء امانت انبیاء کے حاملین ہیں جب تم دیکھو کہ علماء بادشاہوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو ان علماء کو متہم سمجھو۔

☆ جب تم اپنے دوست کے گھر جاؤ تو اس کی طرف سے ہمہ قسمی اکرام قبول کر لینا مگر اس کی خاص نشست گاہ پر نہ بیٹھنا۔

☆ تقوی سے افضل کوئی تو شہ نہیں خاموشی سے بہتر کوئی شئے نہیں جہالت سے زیادہ نقصان دہ کوئی دشمن نہیں اور جھوٹ سے بڑی کوئی بیماری نہیں۔

اولاد امجاد
آپ کی اولا د امجاد میں کل چھ شہزادے اور ایک شہزادی تھیں۔
شہزادوں کے اسمائے گرامی حضرت اسماعیل حضرت محمد حضرت علی حضرت عبداللہ حضرت اسحق حضرت موسی کاظم۔
صاحبزادی حضرت ام فروہ جن کو ابن الاخضر نے فاطمہ لکھا ہے۔

خلفاء کرام
آپ کی دینی خدمات کی تاریخ پڑھی جائے تو بخوبی واقفیت ہوگی کہ آپ کے فیض روحانی سے مستفیض ہونے والے کیسے کیسے افراد ہیں۔ بعض بعض تو عالمگیر جماعت کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے حضرت اسماعیل، حضرت موسیٰ کاظم ، حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت سلطان الاولیاء بایزید بسطامی رضی اللہ عنہم۔

نوٹ :۔ حضرت امام اسماعیل رضی اللہ عنہ آپ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ سرکار قطب المدار حلبی مکن پوری کا شجرہ نسب آپ سے ہوتا ہوا امام حسین علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔

☆☆☆

امیر القلم مولانا سید ازبر علی جعفری مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment