تعارف
آپ کا اسمِ گرامی جعفر صادق اور کنیت ابو محمد ہے۔ آپ کے مناقب و کرامات کے متعلق جو کچھ بھی تحریر کیا جائے بہت کم ہے، کیونکہ آپ اُمتِ محمدی کے لیے نہ صرف بادشاہ اور حجّتِ نبوی کے لیے روشن دلیل ہیں بلکہ صدق و تحقیق پر عمل پیرا، اولیائے کرام کے باغ کا ثمر، آلِ علی، سردارِ انبیاء کے عزیز اور صحیح معنوں میں وارثِ نبی بھی ہیں۔ آپ کی عظمت و شان کے اعتبار سے اُن خطابات کو کسی طرح بھی غیر موزوں نہیں کہا جا سکتا۔
آپ کا درجہ صحابۂ کرام کے بعد ہی آتا ہے، لیکن اہلِ بیت میں شمولیت کی وجہ سے نہ صرف بابِ طریقت ہی میں آپ سے ارشادات منقول ہیں بلکہ بہت سی روایات بھی ہیں، اور انہی کثیر ارشادات میں سے بعض چیزیں بطورِ سعادت ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔ اور جو لوگ آپ کے مسلک پر عمل پیرا ہیں وہ گویا بارہ امام کے مسلک پر گامزن ہیں، کیونکہ آپ کا مسلک بارہ امام کے مسلک کا قائم مقام ہے۔ اگر صرف تنہا آپ ہی کے حالات و مناقب بیان کر دیے جائیں تو وہ بارہ اماموں کے مناقب کا ذکر تصور کیا جائے گا۔
نام و نسب
آپ علیہ السلام کا نام جعفر تھا اور آپ حضرت امام باقر کے صاحبزادے تھے۔ جعفر کے متعلق علماء کا بیان ہے کہ جنت میں جعفر نامی ایک شیریں نہر ہے اسی کی مناسبت سے آپ کا یہ لقب رکھا گیا ہے چونکہ آپ کا فیض عام نہرِ جاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے۔ آپ کی والدہ حضرت ابو بکر صدیق کی پوتی اُمّ فروہ تھیں۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور مشہور لقب صادق تھا، اور آپ کو یہ لقب اس وجہ سے ملا کہ زندگی بھر آپ سے کسی نے جھوٹ نہیں سنا۔ تاہم اس مشہور لقب کے علاوہ آپ کے اور بھی کئی القاب تھے جیسے صابر، فاضل اور طاہر، مگر معروف لقب وہی صادق ہی تھا جس سے آپ نے دنیا میں شہرت پائی۔
ولادت
آپ ۸ رمضان المبارک ۸۰ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
حلیہ مبارک
آپ کا اعتدال کے ساتھ درمیانہ قد تھا، نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا۔ چہرہ مبارک سفید سرخی مائل (نہایت خوبصورت) اور چمکدار تھا۔ لکھا ہے کہ چہرہ اس حد تک نورانی اور چمکدار تھا جیسے کوئی چراغ روشنی بکھیر رہا ہو۔ سر کے بال سیاہ اور قدرے گھنگریالے تھے۔ ناک بلندی مائل تھی۔ پیشانی بالوں سے بالکل صاف تھی جس سے چہرہ اور زیادہ روشن لگتا تھا۔ اور رخسار پر ایک سیاہ تل تھا۔ یہ آپ کے دورِ شباب کا حلیہ مبارک ہے، بڑھاپے میں اس پر رونق و وقار اور جلال و ہیبت کا اضافہ ہو گیا تھا۔
لباس
آپ صاف ستھرا اور عمدہ لباس پہنتے تھے، دیکھنے والوں کو اچھی صورت و ہیئت میں نظر آتے تھے۔ خصوصاً جب درسِ حدیث کے لیے تشریف لاتے تو نہایت ہی خوشنما لباس، اور چہرہ، اور سر کے بال وغیرہ سنوار کر آتے اور فرماتے: میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کوئی نعمت دے رکھی ہو اور وہ اس کو ظاہر نہ کرے۔ پھر فرماتے: خوبصورت لباس پہنا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، لیکن اس کا خیال رکھو کہ وہ لباس حلال مال سے ہو۔
آپ اس غرض سے بھی عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے تھے تاکہ ہلکا اور موٹا جھوٹا لباس پہننے کی وجہ سے لوگ آپ کو زاہد (دنیا سے بے رغبت) انسان نہ سمجھیں اور ریاکاری نہ ہو، گویا اپنی صفتِ زہد (دنیا سے بے رغبتی) کو ریاکاری سے بچانے کے لیے آپ عمدہ لباس کا استعمال فرماتے تھے۔ آپ انگوٹھی بھی پہنتے تھے اور انگوٹھی پر یہ کلمات نقش تھے: ما شاء اللہ لا قوۃ إلا باللہ استغفر اللہ (گویا اللہ کی طاقت و قدرت اور اپنے گناہگار ہونے کا ہر وقت دھیان رہتا)۔
اولاد
آپ کے چھ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں، جن کے نام درجِ ذیل ہیں: اسماعیل، محمد علی، عبداللہ، اسحاق، موسیٰ کاظم، اور صاحبزادی کا نام فروہ تھا۔
ذوقِ عبادت
بہت سارے علماء نے آپ کا تعارف کراتے وقت آپ کو عبادت گزار عالم کے طور پر ذکر کیا ہے، جس کا کچھ نمونہ اوپر گزرا۔ تاہم امام مالک اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں ایک عرصۂ دراز تک امام جعفر صادق کے پاس آتا جاتا رہا۔ میں جب بھی ان کے پاس جاتا تو انہیں ان تین اعمال میں سے کسی ایک عمل میں دیکھا: یا تو وہ نماز میں مشغول ہوتے، یا روزے کی حالت میں ہوتے اور یا قرآنِ مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے۔ اور آپ بے مقصد اور بے فائدہ کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ بلا شبہ آپ ان علماء میں سے تھے جن کی زندگی عبادت سے معمور تھی اور جن کے دل خوفِ الٰہی سے سرشار تھے۔
سخاوت
آپ جس عظیم خاندان کے فرد تھے، وہ سخاوت میں معروف بلکہ ضربُ المثل تھا۔ حضرت علی کو اسخى العرب (یعنی عربوں کا سب سے سخی آدمی) کہا جاتا تھا، اور حضرت امام زین العابدین کے بارے میں مشہور ہے کہ اہلِ مدینہ کے سو (100) گھرانوں کی خفیہ کفالت انہوں نے اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ سخاوت کا بالکل یہی رنگ بلکہ یہی طرز حضرت امام جعفر صادق میں تھا کہ وہ بھی اپنے دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے رات کی تاریکی میں اپنی پیٹھ پر بوری لادتے، جس میں درہم اور کھانے پینے کا سامان ہوتا، اور جا کر اہلِ مدینہ کے حاجت مند لوگوں کو دے آتے، اور کسی کو پتا بھی نہ چلتا۔ جب آپ کا انتقال ہوا اور ان حاجت مند لوگوں کے پاس سامان آنا بند ہو گیا تو اس وقت آپ کا یہ راز لوگوں پر ظاہر ہوا۔
آپ صرف مستحقین کو ہی نہیں دیتے تھے بلکہ اپنے متعلقین کو اس بات کا حکم بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی طرف سے مال کی ادائیگی کر کے لوگوں کے باہمی مالی جھگڑے ختم کرایا کریں۔ اور آپ کا عام دستور یہ تھا کہ خفیہ طور پر مال خرچ کرتے تھے۔
حِلم و درگزر
بردباری آپ کا خاص وصف تھا۔ آپ لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کر جاتے اور ان کی زیادتی کا جواب حسنِ سلوک سے دیتے، اور فرماتے تھے: جب تمہارا کوئی بھائی تمہارے بارے میں ایسی بات کہے جس سے تمہاری دل آزاری ہو تو اسے کچھ نہ کہنا اور نہ غمزدہ ہونا، کیونکہ اگر تم واقعی ویسے ہی ہو جیسے وہ کہہ رہا ہے تو تمہاری غلطی کی سزا یہیں دنیا میں تمہیں دے دی گئی ہے، اور اگر تم ایسے نہیں ہو تو اس کا یہ بول تمہارے حق میں ایک نیکی ہے جو تمہارے کیے بغیر تمہارے نامۂ اعمال میں درج کر دی گئی ہے۔
آپ نرم مزاج انسان تھے۔ اپنے ماتحتوں کی غلطیوں پر انہیں سزا دینے کے بجائے درگزر سے کام لیتے اور نرمی سے سمجھاتے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا غلام کسی کام کے لیے بھیجا، وہ واپس آنے میں بہت دیر کر گیا۔ آپ اسے ڈھونڈنے کے لیے باہر نکلے تو دیکھا کہ وہ ایک جگہ سو رہا ہے۔ آپ اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور اسے پنکھا جھلنے لگے، یہاں تک کہ وہ اٹھ گیا۔ آپ نے اسے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی، صرف اتنا کہا: تمہارے لیے یہ سونا مناسب نہیں تھا، تم رات کو بھی سوتے ہو اور دن کو بھی۔ رات کو سویا کرو اور دن کو ہمارے کام کر دیا کرو۔
آپ کا لوگوں سے درگزر کرنا تو اس حد تک تھا کہ اگر آپ کو پتا چلتا کہ خلّال حفص نے آپ کی پیٹھ پیچھے آپ کو برا بھلا کہا ہے تو آپ اٹھتے، نماز کی تیاری کرتے، نماز پڑھتے، پھر اس کے لیے دعا کرتے کہ: اے اللہ! تو اس کی پکڑ نہ فرمانا، میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔
الغرض ہر ایک کو معاف کرنا آپ کا شیوہ تھا، کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے۔ بدلہ لینا تو درکنار، آپ بدلہ لینے والے انسان کو ہی کم تر شخص سمجھتے تھے اور فرماتے:
“معاف کرنے میں کوئی ذلت نہیں اور بدلہ لینے میں کوئی بڑائی نہیں۔”
کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: صدقہ و زکوٰۃ سے مال کم نہیں ہوتا، معاف کرنے سے بندے کی عزت ہی بڑھتی ہے، اور جو اللہ کے لیے کسی کے آگے جھک جاتا ہے، اکڑتا نہیں، اللہ تعالیٰ اسے بلندیاں اور عزتیں عطا فرماتا ہے۔
ہیبت و وجاہت
اللہ تعالیٰ نے آپ کو کثرتِ عبادت، فضول گوئی سے اجتناب، خواہشاتِ نفسانیہ کی مخالفت اور مصائب پر صبر و استقلال کے سبب ہیبت و جلال نصیب فرما رکھا تھا۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے جب آپ کو خلیفہ منصور کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا تو آپ کو دیکھتے ہی امام ابو حنیفہ پر ہیبت طاری ہو گئی۔ چنانچہ بعد میں اس منظر کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے خود بتایا کہ: “منصور جیسے طاقتور بادشاہ (جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا) کو دیکھ کر مجھ پر وہ ہیبت طاری نہیں ہوئی جو امام جعفر صادق کے چہرے کو دیکھ کر طاری ہوئی۔”
حضرت امام جعفر کی عراق میں “ابن العوجاء” سے ملاقات ہوئی۔ یہ زندیقوں (کٹّر پنث ناستکوں) کا بہت بڑا خطیب اور مبلغ تھا۔ آپ نے اس سے بات کرنا شروع کی مگر وہ اتنا بڑا خطیب ہونے کے باوجود جواب میں ایک لفظ تک نہ بولا۔ امام جعفر سمیت دیگر حاضرینِ مجلس بھی اس پر بڑے حیران ہوئے۔ بالآخر آپ نے اس سے پوچھا کہ: کس چیز نے تمہیں بولنے سے روک رکھا ہے؟ اس نے کہا: آپ کی ہیبت اور جلال نے۔ دراصل میری زبان آپ کے سامنے چل ہی نہیں رہی۔ میں مسلمانوں کے کئی علماء سے ملا ہوں اور ان سے مناظرے کیے ہیں، مگر مجھ پر کبھی ایسی ہیبت طاری نہیں ہوئی جو آپ کو دیکھ کر ہوئی ہے۔
حرمازی سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص امام جعفر کے پاس آیا کرتا تھا اور آپ کافی دیر تک اس کے ساتھ بیٹھے رہتے۔ ایک دن وہ نہیں آیا تو آپ نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ وہاں موجود ایک شخص (جو اسے آپ کے سامنے کم حیثیت انسان کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا) نے عرض کی: حضرت! وہ تو بس کھیتی باڑی کرنے والا ایک آدمی ہے۔
آپ نے فرمایا: آدمی کی اصلیت اس کی عقل ہے، اس کا حسب اس کا دین ہے اور اس کی شرافت و عزت اس کا تقویٰ ہے۔ اور لوگ آدمی ہونے میں تو سب برابر ہیں، اس میں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ یہ سن کر اس آدمی کو اپنے جواب پر ندامت ہوئی۔
علومِ دینیہ کی تحصیل و تدریس اور علمی مقام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے آنکھ ہی علمی خاندان میں کھولی اور مدینۂ طیبہ کی اُس مقدس سرزمین پر پرورش پائی جو علم کا گہوارہ اور علماءِ صحابہ و تابعین کا مسکن تھی۔
چنانچہ آپ نے بچپن ہی میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا۔ اس کے بعد حدیثِ شریف کو حفظ کرنے اور اسے روایت کرنے کی جانب متوجہ ہوئے۔ چونکہ آپ کا خاندان ہی علماء و محدثین کا خاندان تھا، اس لیے خود آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین جو وقت کے امام تھے، انہوں نے آپ کی علمی تربیت اپنے ذمے لے لی، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا۔ اُس وقت حضرت جعفر کی عمر چودہ پندرہ برس تھی، مگر اُس وقت تک آپ اپنے جدِ امجد سے علم کا بہت بڑا ذخیرہ لے چکے تھے۔ آپ نے اپنے والدِ ماجد حضرت امام باقر (جن کی علمی شہرت مسلم تھی) سے بھی بھرپور استفادہ کیا اور علمِ حدیث حاصل کیا۔
اور لوگ احادیث کے لیے دور دراز سے چل کر آپ کے پاس آنے لگے، یہاں تک کہ اُس زمانے کے عظیم المرتبت ائمہ و فقہاء نے بھی آپ سے احادیث روایت کیں، جیسے امام مالک، امام ابو حنیفہ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ وغیرہ۔ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک جلیل القدر مفسر بھی تھے اور بعد میں آنے والے مفسرین نے آپ کی بیان کردہ تفاسیر سے استفادہ کیا۔
اس کے علاوہ آپ فقہ کے بھی ایک بڑے عالم تھے اور “مثالی فقیہ” جیسے عظیم الشان لقب سے آپ کو نوازا گیا۔ چنانچہ لوگوں نے جس طرح آپ سے علمِ حدیث و تفسیر حاصل کیا، اسی طرح آپ سے فقہ کا علم بھی سیکھا۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ کا شمار بھی آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ آپ کے فقہی مقام کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت امام ابو حنیفہ سے پوچھا: جن لوگوں سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے اُن میں آپ کے نزدیک سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا: میں نے جعفر بن محمد علیہ السلام سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں پایا۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے: اگر میری زندگی میں وہ دو سال نہ ہوتے جو میں نے اپنے استاد امام جعفر صادق کی صحبت میں، اُن سے علم حاصل کرنے کی غرض سے، گزارے تھے تو میں تباہ و برباد ہو جاتا۔
غرض یہ کہ آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ ہر جگہ آپ کی علمی شہرت کا ڈنکا بجنے لگا، اور لوگوں نے آپ سے اتنے علوم حاصل کیے جنہیں اونٹ اٹھا کر چلتے تھے۔ اور اس قدر لوگ آپ کے پاس اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آئے کہ جب آپ کے اُن شاگردوں کی تعداد شمار کی گئی تو ان کا عدد چار ہزار کو پہنچ چکا تھا۔
ایک موقع پر آپ نے اپنے شاگرد امام ابو حنیفہ سے فرمایا: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ دین میں قیاس سے کام لیتے ہیں (قیاس اسلامی فقہ کا ایک اصطلاحی لفظ ہے، جس کو اس مقام کی مناسبت سے آسان لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس میں خاص قسم کی صفات والا ایک بڑا عالمِ دین اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق شریعت کا مسئلہ بیان کرتا ہے)۔ امام ابو حنیفہ نے اُن سے کہا: میں تو صرف اُس مسئلے میں قیاس سے کام لیتا ہوں جو مسئلہ قرآن و حدیث میں موجود نہ ہو۔
آپ نے لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے دنیا سے چلے جانے سے پہلے پہلے مجھ سے دینی مسائل معلوم کر لو، کہ میرے بعد تمہیں اس جیسی حدیثیں کوئی نہیں سنائے گا جو میں سنا رہا ہوں۔ امام مالک بیان کرتے ہیں کہ میں امام جعفر کے پاس جایا کرتا تھا۔ ان کے لبوں پر اکثر مسکراہٹ ہوتی تھی، لیکن جب ان کے سامنے آپ ﷺ کا نامِ مبارک لیا جاتا تو ان کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ شریفہ کا بہت ادب اور احترام کرتے تھے، چنانچہ آپ نے کبھی کوئی حدیث بے وضو بیان نہیں کی۔
مذہبی اختلافات سے نفرت :
آپ کو مسلمانوں کے آپس کے مذہبی اختلافات سے سخت نفرت تھی۔ اس سلسلے میں آپ انہیں سمجھایا بھی کرتے تھے اور فرماتے تھے: مذہبی اختلافات سے بچو، کیونکہ اس کا نقصان یہ ہے کہ اس سے دل ہر وقت انہی جھگڑوں میں پھنسا رہتا ہے، اور اس کے علاوہ اس سے دلوں میں منافقت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
غلط فہمی کا ازالہ
حضرت شیخ فرید الدین عطار فرماتے ہیں کہ مجھے اُن کم فہم لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ اہلِ سنت نعوذ باللہ اہلِ بیت سے معاندت رکھتے ہیں، جبکہ صحیح معنوں میں اہلِ سنت اہلِ بیت سے محبت رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اُن کے عقائد ہی میں یہ شے داخل ہے کہ رسولِ خدا پر ایمان لانے کے بعد اُن کی اولاد سے محبت کرنا لازم ہے۔
امام شافعی پر الزام
کس قدر تعصب آمیز بات ہے کہ اہلِ بیت ہی کی محبت کی وجہ سے حضرت امام شافعی کو رافضی کا خطاب دے کر قید و بند کی صعوبتوں میں ڈال دیا گیا، جس کے متعلق امام صاحب خود اپنے ہی ایک شعر میں اشارہ فرماتے ہیں کہ اگر اہلِ بیت سے مودّت کا نام رفض ہے تو پھر پورے عالم کو میرے رافضی ہونے پر گواہ رہنا چاہیے۔ اور اگر بالفرض اہلِ بیت اور صحابۂ کرام سے محبت کرنا ارکانِ ایمان میں داخل نہ بھی ہو، تب بھی اُن سے محبت کرنے اور اُن کے حالات سے باخبر رہنے میں کیا حرج واقع ہوتا ہے۔ اس لیے ہر اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہے کہ جس طرح حضورِ اکرم کے مراتب سے آگاہی حاصل کرتا ہے، اسی طرح خلفائے راشدین و دیگر صحابۂ کرام اور اہلِ بیت کے مراتب کو بھی بحسبِ مراتب افضل تصور کرے۔
سنی کی تعریف
صحیح معنوں میں اُسی کو “سنی” کہا جا سکتا ہے جو حضورِ اکرم سے رشتہ رکھنے والوں میں سے کسی کی فضیلت کا بھی منکر نہ ہو۔ ایک روایت ہے کہ کسی نے حضرت امام ابو حنیفہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے متعلقین میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ فرمایا: بوڑھوں میں حضرت صدیقِ اکبر و حضرت عمر، اور جوانوں میں حضرت عثمان و علی، اور عورتوں میں حضرت عائشہ صدیقہ، اور لڑکیوں میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حکایات
دہریے (ناستک) کا اسلام قبول کرنا:
ایک دہریہ آپ کے پاس آیا اور کہا: مجھے اللہ پر کوئی دلیل دو۔ آپ نے فرمایا: بیٹھو۔ ساتھ ہی ایک بچہ کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں انڈا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا: بچے! یہ انڈا ذرا مجھے دینا۔ اور آپ نے اس سے انڈا لے کر دہریے سے کہا: دیکھو، یہ ایک محفوظ قلعہ ہے۔ اوپر سے یہ ایک موٹی تہ ہے۔ اس موٹی تہ کے نیچے ایک باریک تہ ہے، اور باریک تہ کے نیچے ایک زردی ہے اور ایک سفیدی۔ اور یہ دونوں (زردی و سفیدی) مائع کی شکل میں ہیں یعنی پانی کی طرح بہنے والی اشیاء ہیں، لیکن زردی، سفیدی کے ساتھ اور سفیدی، زردی کے ساتھ نہیں ملتی بلکہ مائع ہونے کے باوجود یہ دونوں الگ الگ اپنی حالت پر برقرار رہتی ہیں۔ نہ اندر سے باہر کوئی چیز جاتی ہے اور نہ باہر سے اندر کوئی شے داخل ہوتی ہے۔ انہی اشیاء سے اس انڈے میں چوزہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بھی کبھی مذکر اور کبھی مؤنث۔ پھر یہ انڈا پھٹتا ہے اور اس میں سے مختلف رنگوں کے چوزے باہر نکلتے ہیں، کبھی کسی رنگ کے اور کبھی کسی رنگ کے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے خیال میں اس سارے نظام کو ٹھیک ٹھیک اور بر وقت چلانے والا کوئی ہوگا یا کوئی بھی نہیں ہوگا؟ یہ سن کر اُس دہریے نے کافی دیر تک سر نیچے جھکائے رکھا، سوچ و بچار کے بعد سر اوپر اٹھایا اور کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
اور پھر کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی خاندانِ نبوت کے فرد ہیں، اور میں آپ کے سامنے اپنی گزشتہ زندگی سے توبہ کرتا ہوں۔
جاہ و جلال:
خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے وزیر کو حکم دیا کہ جعفر صادق کو میرے رو برو پیش کرو تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔ وزیر نے عرض کی کہ دنیا کو خیر باد کہہ کر جو شخص عزلت نشین ہو گیا ہو، اس کو قتل کرنا قرینۂ مصلحت نہیں۔ لیکن خلیفہ نے غضبناک ہو کر کہا کہ میرے حکم کی تعمیل تم پر ضروری ہے۔ چنانچہ مجبوراً جب وزیر جعفر صادق کو لینے چلا گیا تو منصور نے غلاموں کو ہدایت کر دی کہ جس وقت میں اپنے سر سے تاج اتاروں تو تم صادق کو قتل کر دینا۔ لیکن جب وزیر کے ہمراہ آپ تشریف لائے تو آپ کی عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس درجہ متاثر کیا کہ وہ اضطراری طور پر آپ کے استقبال کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اور نہ صرف یہ بلکہ آپ نے فرمایا کہ میری سب سے اہم حاجت و ضرورت یہ ہے کہ آئندہ پھر کبھی مجھے دربار میں طلب نہ کیا جائے تاکہ میری عبادت و ریاضت میں خلل واقع نہ ہو۔ چنانچہ منصور نے وعدہ کر کے عزت و احترام کے ساتھ آپ کو رخصت کیا۔ لیکن آپ کے دب دبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ لرزہ بر اندام ہو کر تین شب و روز بے ہوش رہا۔ بلکہ بعض روایات میں ہے کہ تین نمازوں کے قضا ہونے کی حد تک غشی طاری رہی۔ بہرحال خلیفہ کی یہ حالت دیکھ کر وزیر و غلام حیرت زدہ ہو گئے۔ جب خلیفہ سے اس کا حال دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ جس وقت جعفر صادق میرے پاس تشریف لائے تو ان کے ساتھ ایک اتنا بڑا اژدہا تھا جو اپنے جبڑوں کے درمیان پورے چبوترے کو گھیرے میں لے سکتا تھا۔ اور وہ اپنی زبان میں مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اگر تُو نے ذرا سی بھی گستاخی کی تو تجھ کو چبوترے سمیت نگل جاؤں گا۔ چنانچہ اس کی دہشت مجھ پر طاری ہو گئی۔ میں نے آپ سے معافی طلب کر لی۔
خوفِ الٰہی:
ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی نے حاضرِ خدمت ہو کر جعفر صادق سے عرض کیا کہ آپ چونکہ اہلِ بیت میں سے ہیں اس لیے مجھ کو کوئی نصیحت فرمائیں۔ لیکن آپ خاموش رہے۔ جب دوبارہ داؤد طائی نے کہا کہ اہلِ بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ پر فرض ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی خوف لگا ہوا ہے کہ روزِ محشر کہیں میرے جدِ اعلیٰ ہاتھ پکڑ کر یہ سوال نہ کر بیٹھیں کہ تُو نے خود میری اتباع کیوں نہیں کی؟ اس لیے کہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں بلکہ اعمالِ صالحہ پر موقوف ہے۔ یہ سن کر داؤد طائی کو بہت عبرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ جب اہلِ بیت پر خوف کے غلبہ کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں اور کس چیز پر فخر کر سکتا ہوں۔
سفرِ حج اور تعلق باللہ:
حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں کہ میں ۱۱۳ ہجری میں پیدل حج کو گیا۔ جب میں مکہ مکرمہ پہنچ گیا تو عصر کی نماز کے وقت جبلِ ابو قبیس پر چڑھ گیا، جو صفا پہاڑی کے پاس ہے۔ وہاں میں نے ایک صاحب کو بیٹھے دیکھا کہ وہ دعائیں مانگ رہے ہیں اور “یا رب! یا رب!” اتنی مرتبہ کہا کہ دم گھٹنے لگا۔ پھر انہوں نے “یا ربّاہ! یا ربّاہ!” اسی طرح کہا کہ دم نکلنے لگا۔ پھر اسی طرح “یا اللہ! یا اللہ!” کہتے رہے کہ دم گھٹنے لگا۔ پھر اسی طرح “یا حی! یا حی!” لگاتار کہتے رہے۔ پھر اسی طرح “یا رحمن! یا رحمن!” پھر “یا رحیم! یا رحیم!” اسی طرح کہا کہ دم گھٹنے لگا۔ پھر “یا ارحم الراحمین” بھی اسی طرح کہا کہ سات مرتبہ دم گھٹنے لگا۔
اس کے بعد وہ کہنے لگے: “یا اللہ! میرا انگوروں کو جی چاہ رہا ہے، وہ عطا فرما اور میری چادریں بھی پرانی ہو گئیں۔” لیث کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان کی زبان سے یہ لفظ پورے نکلے بھی نہ تھے کہ میں نے ایک ٹوکری انگوروں سے بھری ہوئی رکھی دیکھی، حالانکہ اس وقت کہیں انگوروں کا نشان بھی نہ تھا، اور دو چادریں رکھی ہوئی دیکھیں۔ انہوں نے انگور کھانے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا کہ میں بھی ان میں آپ کا شریک ہوں۔ فرمایا: کیسے؟ میں نے کہا: جب آپ دعا کر رہے تھے تو میں آمین آمین کہہ رہا تھا۔ فرمانے لگے: آؤ کھاؤ لیکن اس میں سے کچھ ساتھ نہ لے جانا۔ میں آگے بڑھا اور ان کے ساتھ ایسی عجیب چیز کھائی کہ عمر بھر ایسی چیز نہ کھائی تھی۔ وہ عجیب قسم کے انگور تھے کہ ان میں بیج بھی نہ تھا۔ میں نے خوب پیٹ بھر کر کھائے مگر اس ٹوکری میں کچھ کمی نہ ہوئی۔
پھر انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں چادروں میں سے جو تمہیں پسند ہو لے لو۔ میں نے کہا کہ چادر کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ ذرا سامنے سے ہٹ جاؤ، میں ان کو پہن لوں۔ میں ایک طرف ہو گیا۔ انہوں نے ایک چادر لنگی کی طرح باندھ لی، دوسری اوڑھ لی اور جو چادریں پہلے سے پہنے ہوئے تھے ان کو ہاتھ میں لے کر پہاڑ سے نیچے اترے۔ میں پیچھے ہو لیا۔ جب وہ صفا و مروہ کے درمیان پہنچے تو ایک سائل نے کہا: “رسول اللہ کے صاحبزادے! یہ کپڑا مجھے دے دیجیے، اللہ جل شانہ آپ کو جنت کا جوڑا عطا فرمائے۔” وہ دونوں چادریں اس کو دے دیں۔
میں نے اس سائل کے قریب جا کر اس سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ حضرت امام جعفر صادق ہیں۔ میں پھر ان کے پاس واپس آیا کہ ان سے کچھ نصیحتیں وغیرہ سنوں، مگر ان کا کہیں پتا نہ چلا۔
حق بیانی:
جب آپ تارکِ دنیا ہو گئے تو حضرت ابو سفیان ثوری نے حاضرِ خدمت ہو کر فرمایا: مخلوق آپ کے تارک الدنیا ہونے سے آپ کے فیوضِ عالیہ سے محروم ہو گئی ہے۔ آپ نے اس کے جواب میں شعر پڑھا۔ ترجمہ یہ ہے: کسی جانے والے انسان کی طرح وفا بھی چلی گئی، اور لوگ اپنے خیالات میں ڈوبے رہ گئے۔ اگرچہ دکھاوے کے لوگ محبت اور وفا کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اُن کے دلوں میں بچھو بھرے پڑے ہیں۔
سادگی:
ایک دفعہ آپ کو بیش بہا لباس میں دیکھ کر کسی نے اعتراض کیا کہ ایسا قیمتی لباس اہلِ بیت کے لیے مناسب نہیں۔ تو آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جب اپنی آستین پر پھیرا تو اسے آپ کا لباس ٹاٹ سے بھی زیادہ کھردرا محسوس ہوا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا: مخلوق کی نگاہوں میں تو یہ عمدہ لباس ہے لیکن حق کے لیے یہی کھردرا ہے۔
دانشمندی کی تعریف:
ایک مرتبہ آپ نے امام ابو حنیفہ سے سوال کیا کہ دانشمندی کی کیا تعریف ہے؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ جو بھلائی اور برائی میں امتیاز (فرق) کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ امتیاز تو جانور بھی کر لیتے ہیں، کیونکہ جو ان کی خدمت کرتا ہے اس کو ایذا (نقصان) نہیں پہنچاتے اور جو تکلیف دیتا ہے اس کو کاٹ کھاتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ نے پوچھا کہ پھر آپ کے نزدیک دانشمندی کی کیا علامت (پہچان) ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جو دو بھلائیوں میں سے بہتر بھلائی کو اختیار کرے اور دو برائیوں میں سے مصلحتاً کم برائی پر عمل کرے۔
پڑوسی کو نصیحت:
ایک آدمی نے آپ سے اپنے پڑوسی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: صبر سے کام لو اور کوئی جوابی کارروائی نہ کرو۔ اس نے کہا: اس طرح وہ مجھے چھوٹا اور ذلیل شخص سمجھے گا۔ آپ نے فرمایا: “ذلیل تو وہ شخص ہوتا ہے جو ظلم کرتا ہے، بلا شبہ ظالم ہی درحقیقت ذلت کا سامنا کرنے والا ہے۔”
تاجر کو نصیحت:
ایک تاجر آپ کے پاس اکثر آتا جاتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ وہ کچھ مدت گزرنے کے بعد آیا اور بہت پریشان تھا۔ اس کے مالی حالات یکسر بدل گئے تھے۔ اس نے اپنی اس زبوں حالی اور تنگدستی کی شکایت کی تو آپ نے اسے دو اشعار میں خوبصورت نصیحت کی جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: گھبراؤ نہیں، اگر آج تم غریب ہو گئے ہو تو ایک عرصۂ دراز تک امیر بھی رہے ہو۔ اور اللہ کی رحمت سے مایوسی میں نہ پڑو، کیونکہ اس کی رحمت سے نااُمیدی کفر ہے۔ کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ہی پھر تمہیں مالدار کر دے۔
خلیفہ اور امامِ صادق کی نصیحت آمیز گفتگو:
ایک دن منصور نے امام جعفر کی طرف پیغام کہلوا بھیجا کہ: تم ہمارے پاس کیوں نہیں آتے جس طرح باقی لوگ ہمارے پاس آتے ہیں؟
آپ نے جواب میں فرمایا: ہمارے پاس کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر ہمیں تمہارا ڈر ہو، نہ تمہارے پاس آخرت کی کوئی ایسی چیز ہے جس کے ہم تم سے امیدوار ہوں، نہ تم کسی ایسی نعمت میں ہو کہ جس پر ہم تمہیں مبارک باد دیں، اور نہ ہم اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں کہ اس پر ہم تمہاری تعزیت کریں، تو پھر کس وجہ سے ہم تمہارے پاس آیا کریں؟
منصور نے اس کے جواب میں کہا: تم ہمارے پاس آیا کرو تاکہ ہمیں کوئی نصیحت کر دیا کرو۔
اس پر آپ نے فرمایا: جو دنیا کا طالب ہے وہ تمہیں نصیحت نہیں کرے گا، اور جو آخرت کا طالب ہے وہ تمہارے ساتھ رہے گا نہیں۔
نسبتِ رسول:
خلیفہ منصور نے امام جعفر صادق سے ایک مرتبہ کہا: رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں ہم اور تم برابر ہیں (کہ ہم دونوں اُن کی امت میں ہیں اور وہ ہم سب کے نبی ہیں)، تمہیں کون سی کوئی فضیلت حاصل ہے؟
آپ نے فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی کو نکاح کا پیغام بھیجیں اور اس سے شادی کرنا چاہیں تو آپ ﷺ کے لیے یہ جائز ہے، جبکہ ہم میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا آپ ﷺ کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہم حضور ﷺ سے ہیں اور حضور ﷺ ہم میں سے ہیں۔
کبریائی پر فخر:
کسی نے آپ سے عرض کیا کہ ظاہری و باطنی فضل و کمال کے باوجود آپ میں تکبر پایا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں متکبر تو نہیں ہوں، البتہ جب میں نے کبر کو ترک کر دیا تو میرے رب کی کبریائی نے میرا احاطہ کر لیا۔ اس لیے میں اپنے کبر پر نازاں نہیں ہوں بلکہ میں تو اپنے رب کی کبریائی پر فخر کرتا ہوں۔
الزام تراشی پر ندامت:
کسی شخص کی دینار کی تھیلی کھو گئی تو اس نے آپ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میری تھیلی تم ہی نے چرائی ہے۔ حضرت جعفر نے اس سے سوال کیا کہ اس میں کتنی رقم تھی؟ اس نے کہا: دو ہزار دینار۔ چنانچہ گھر لے جا کر آپ نے اسے دو ہزار دینار دے دیے۔ بعد میں جب اس کی کھوئی ہوئی تھیلی کسی دوسری جگہ سے مل گئی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر کے معافی چاہتے ہوئے آپ سے رقم واپس لینے کی درخواست کی، لیکن آپ نے فرمایا: ہم کسی کو دے کر واپس نہیں لیتے۔ پھر جب لوگوں سے اسے آپ کا اسمِ گرامی معلوم ہوا تو اس نے بے حد ندامت کا اظہار کیا۔
لباسِ غیبی:
ایک مرتبہ آپ تنہا اللہ اللہ کا ورد کرتے ہوئے کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک اور شخص بھی اللہ اللہ کا ورد کرتا ہوا آپ کے ساتھ ہو گیا۔ اُس وقت آپ کی زبان سے نکلا: اے اللہ! اس وقت میرے پاس کوئی بہتر لباس نہیں ہے۔ چنانچہ یہ کہتے ہی غیب سے ایک نہایت قیمتی لباس نمودار ہوا۔ آپ نے اسے زیبِ تن کر لیا۔ لیکن اُس شخص نے جو آپ کے ساتھ لگا ہوا تھا عرض کیا کہ میں بھی اللہ اللہ کا ورد کرنے میں آپ کا شریک تھا، لہٰذا آپ اپنا پرانا لباس مجھے عنایت فرما دیں۔ آپ نے اپنا لباس اتار کر اس کے حوالے کر دیا۔
معرفتِ الٰہی:
کسی نے آپ سے عرض کیا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کروا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا تھا کہ تُو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ تو مجھے بھی علم ہے، لیکن یہ تو امتِ محمدی ہے جس میں ایک تو یہ کہتا ہے کہ میرے قلب نے اپنے پروردگار کو دیکھا اور دوسرا یہ کہتا ہے کہ میں ایسے رب کی عبادت نہیں کرتا جو مجھ کو نظر نہیں آتا۔ یہ سن کر آپ نے حکم دیا کہ اُس شخص کے ہاتھ پاؤں باندھ کر دریائے دجلہ میں ڈال دو۔ چنانچہ جب اُس کو پانی میں ڈال دیا گیا اور پانی نے اُس کو اوپر پھینکا تو اُس نے حضرت سے بہت فریاد کی، لیکن آپ نے پانی کو حکم دیا کہ اس کو خوب اچھی طرح اوپر نیچے غوطے دے۔ اور جب کئی مرتبہ پانی نے غوطے دیے اور وہ لبِ مرگ ہو گیا تو اللہ تعالیٰ سے اعانت کا طالب ہوا۔ اُس وقت حضرت نے اُس کو پانی سے باہر نکلوا لیا اور حواس درست ہونے کے بعد دریافت فرمایا کہ اب تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیا؟ اس نے عرض کیا کہ جب تک میں دوسروں سے اعانت کا طلبگار رہا اُس وقت تک تو میرے سامنے ایک حجاب سا تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اعانت کا طالب ہوا تو میرے قلب میں ایک سراخ نمودار ہوا اور پہلا سا اضطراب ختم ہو گیا، جیسا کہ باری تعالیٰ کا قول ہے کہ کون ہے جو حاجت مند کے پکارنے پر اُس کا جواب دے۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک تُو نے صادق کو آواز دی اُس وقت تک تُو جھوٹا تھا اور اب قلبی سراخ کی حفاظت کرنا۔
امام صادق اور امام اعظم ابو حنیفہ کا مکالمہ
تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں اکثر حضرت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت حاضر ہوا کرتے تھے اور یہ ہوتا رہتا تھا کہ آپ ان کا امتحان لے کر انہیں فائدہ پہنچا دیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جناب ابو حنیفہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا کہ اے ابو حنیفہ میں نے سنا ہے کہ تم مسائل دینیہ میں قیاس سے کام لیا کرتے ہو عرض کی جی ہاں تو ایسا ہی آپ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو کیونکہ دین میں قیاس کرنا ابلیس کا کام ہے اور اسی نے قیاس کی پہل کی ہے۔
ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق نے پوچھا کہ اے ابو حنیفہ یہ بتاؤ خداوند عالم نے آنکھوں میں نمکینی کانوں میں تلخی ناک کے نتھنوں میں رطوبت اور لبوں میں شیرینی کیوں پیدا کی انہوں نے بہت غور و حوض کے بعد کہا یاحضرت اس کا مجھے علم نہیں آپ نے فرمایا اچھا مجھ سے سنو آنکھیں چربی کا ڈھیلا ہیں اگر ان میں شوریت اور نمکینی نہ ہوتی تو پگھل جاتیں کانوں میں تلخی اس لیے ہے کہ کیڑے مکوڑے نہ گھس جائیں ناک میں رطوبت اس لیے ہے کہ سانس کی آمد و رفت میں سہولت ہو اور خوشبو اور بدبو محسوس ہو لبوں میں شیرینی اس لیے ہے کہ کھانے پینے میں لذت آئے۔
پھر آپ نے پوچھا وہ کون سا کلمہ ہے جس کا پہلا حصہ کفر اور دوسرا ایمان ہے انہوں نے عرض کی مجھے علم نہیں امام جعفر صادق نے فرمایا کہ وہ وہی کلمہ ہے جو تم رات دن پڑھا کرتے ہو سنو "لا الہ” کفر اور "الا اللہ” ایمان ہے۔
پھر آپ نے پوچھا عورت کمزور ہے یا مرد تو امام اعظم نے فرمایا کہ عورت کمزور ہے امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اچھا اگر عورت کمزور ہے تو کیا وجہ ہے کہ میراث میں اس کو ایک حصہ اور مرد کو دو حصہ دیا جاتا ہے انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا کہ عورت کا نفقہ مرد پر ہے اور حصول آزوقہ اسی کے ذمے ہے اس لیے اسے دہرا دیا گیا۔
پھر آپ نے پوچھا حالت حمل میں عورت کو خون حیض کیوں نہیں آتا امام اعظم نے فرمایا یہ نہیں معلوم کہ اسے عالم حمل میں حیض کیوں نہیں آتا امام جعفر صادق نے فرمایا عورت کو عالم حمل میں خون حیض اس لیے نہیں آتا کہ وہ بچے کے پیٹ میں داخل ہو کر غذا بن جاتا ہے۔
پھر امام جعفر صادق نے پوچھا کہ یہ بتاؤ عقلمند کون ہے انہوں نے عرض کی جو اچھے برے کی پہچان کرے اور دوست و دشمن میں تمیز کر سکے آپ نے فرمایا کہ یہ صفت اور تمیز تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے وہ بھی پیار کرتے اور مارتے ہیں یعنی اچھے برے کو جانتے ہیں انہوں نے کہا پھر آپ ہی فرمائیں امام جعفر صادق نے ارشاد فرمایا عقلمند وہ ہے جو دو نیکیوں اور دو برائیوں میں یہ امتیاز کر سکے کہ کون سی نیکی ترجیح دینے کے قابل اور دو برائیاں میں کون سی برائی کم اور کون زیادہ ہے۔
سوالات
سوال؟
کسی نے آپ سے سوال کیا کہ صبر کرنے والے درویش اور شکر کرنے والے مالدار میں آپ کے نزدیک کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ صبر کرنے والے درویش کو اس لیے فضیلت حاصل ہے کہ مالدار کو ہمہ اوقات اپنے مال کا تصور رہتا ہے اور درویش کو صرف اللہ تعالیٰ کا خیال۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ توبہ کرنے والے ہی عبادت گزار ہیں۔
سوال؟
ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا کہ سود کو حرام قرار دینے کی کیا حکمت ہے؟ آپ نے فرمایا: تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور تعاون کرنے سے رک نہ جائیں۔ (کیونکہ اگر سود حلال ہوتا تو لوگ آپس میں ہمدردی و تعاون کی بنیاد پر قرض دینے کے بجائے وہ رقم سود پر ادھار دیتے۔)
سوال؟
کسی نے آپ سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں مگر ہماری دعا قبول نہیں ہوتی؟ فرمایا: کیونکہ جس سے تم دعا کرتے ہو اُسے تم پہچانتے ہی نہیں۔
سوال؟
ایک دفعہ خلیفہ منصور پر مکھی آ کر بیٹھ گئی، اُس نے اسے ہٹا دیا۔ وہ دوبارہ آ کر بیٹھ گئی، اُس نے پھر ہٹا دیا، یہاں تک کہ مکھی نے اسے تنگ کر دیا۔ اتنے میں امام جعفر اُس کے پاس تشریف لے آئے۔ منصور نے آپ سے کہا: اے ابو عبداللہ! اللہ تعالیٰ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟ آپ نے بلا کسی خوف و جھجک کے فرمایا: ظالموں کو ذلیل کرنے کے لیے۔ یہ سن کر منصور چپ ہو کر رہ گیا۔
ارشادات و نصیحت
آپ کے اقوال و فرمودات ایک ایسا قیمتی ذخیرہ ہیں جس میں ہر قسم کی نصیحتیں ملتی ہیں۔ ان میں کہیں تہذیبِ اخلاق کا تذکرہ ہے تو کہیں اصولِ زندگی کا بیان، کہیں علم و حکمت کی ترغیب ہے تو کہیں زہد و تقویٰ کی دعوت، کہیں رزقِ حلال پر ابھارا ہے تو کہیں ادائے حقوق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ الغرض نصیحتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس کے چند پھولوں کا نمونہ پیشِ خدمت ہے:
فرمایا:
چار چیزیں ایسی ہیں جن کا تھوڑا بھی زیادہ ہوتا ہے: آگ، دشمنی، فقر و فاقہ، اور بیماری۔
فرمایا:
اللہ تعالیٰ چھ کو چھ کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے: حکمرانوں کو ظلم کی وجہ سے، عربوں کو عصبیت کی وجہ سے، زمینداروں کو تکبر کی وجہ سے، تاجروں کو خیانت کی وجہ سے، دیہات والوں کو دین سے ناواقفیت کی وجہ سے اور علماء کو حسد کی وجہ سے۔
فرمایا:
بیٹیاں نیکی ہیں اور بیٹے نعمت۔ اور ضابطہ یہ ہے کہ نیکیوں پر اجر و انعام دیا جائے گا، جبکہ نعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔
فرمایا:
باطن (یعنی انسان کا اندر) جب درست ہو جاتا ہے تو ظاہر طاقتور ہو جاتا ہے۔
فرمایا:
بے عمل داعی کی مثال اس تیر انداز کی سی ہے جو بغیر کمان کے تیر پھینکنا چاہتا ہو (ظاہر ہے کہ اس تیر میں قوت نہیں ہوگی اور مؤثر ثابت نہیں ہوگا)۔
فرمایا:
جب تم خیر کے کسی کام کا ارادہ کرو تو اس میں دیر نہ کرو، کیونکہ بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو خیر کے کام میں مشغول دیکھتا ہے تو خوش ہو کر فرماتا ہے: اے بندے! میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میں تجھے ہرگز عذاب نہیں دوں گا۔ اور جب تم برائی کے کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے قریب تک نہ جاؤ، کیونکہ بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو برائی کے کسی کام میں دیکھتا ہے تو ناراض ہو کر فرماتا ہے کہ اے بندے! میری عزت اور میرے جلال کی قسم! میں تجھے کبھی نہیں بخشوں گا۔
فرمایا:
نیکی تین چیزوں سے پوری ہوتی ہے: اسے جلدی کرنے سے، چھوٹا سمجھنے سے اور چھپانے سے۔
فرمایا:
زیادہ ہنسی مذاق سے بچو، کہ اس سے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے۔
فرمایا:
کسی کو معاف کر کے پچھتانا مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی کو سزا دے کر پچھتاؤں۔
فرمایا:
جو شخص بغیر خاندانی جتھے کے قوت و عزت اور بغیر بادشاہت کے رعب و ہیبت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نافرمانی کی ذلت بھری زندگی چھوڑ کر فرمانبرداری کی پر عزت زندگی شروع کر دے۔
فرمایا:
جو بڑے آدمی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے وہ خود بھی برائی میں مبتلا ہو جاتا ہے، جو بری جگہوں پر آتا جاتا ہے وہ لوگوں میں متہم (بدنام) ہو جاتا ہے، اور جو اپنی زبان پر قابو نہیں پاتا وہ شرمندگی کا سامنا کرتا ہے۔
فرمایا:
علماء امانتِ انبیاء کے حاملین ہیں۔ جب تم دیکھو کہ علماء بادشاہوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو ان علماء کو متہم سمجھو۔
فرمایا:
جب تم اپنے کسی دوست کے گھر جاؤ تو اس کی طرف سے ہمہ قسمی اکرام قبول کر لینا، مگر اس کی خاص نشست گاہ پر نہ بیٹھنا۔
فرمایا:
مومن کی شان یہ ہے کہ جب اسے غصہ آتا ہے تو اس کا غصہ اسے حق بات سے باہر نہیں نکالتا، جب وہ خوش ہوتا ہے تو اس کی خوشی اسے کسی ناجائز کام پر نہیں ڈالتی، اور جب کسی چیز پر اسے اختیار حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اپنے حق سے زیادہ اس میں سے نہیں لیتا۔
فرمایا:
جس آدمی کو اپنی غلطی چھوٹی نظر آتی ہے، اس کو دوسروں کی غلطیاں بڑی نظر آتی ہیں، اور جس کو اپنی غلطی بڑی نظر آتی ہے، اس کو دوسروں کی غلطیاں چھوٹی نظر آتی ہیں۔
فرمایا:
برے لوگوں کے ساتھ دوستی لگانے سے بچنا، کیونکہ ان لوگوں کی مثال اس پتھر کی ہے جس سے پانی نہ بہتا ہو، اس درخت کی ہے جس کے پتے مرجھا چکے ہوں، اور اس زمین کی ہے جو بنجر ہو چکی ہو۔
فرمایا:
تقویٰ سے افضل کوئی توشہ نہیں، خاموشی سے بہتر کوئی حیلہ نہیں، جہالت سے زیادہ نقصان دہ کوئی دشمن نہیں، اور جھوٹ سے بڑی کوئی بیماری نہیں۔
فرمایا:
جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص شے پر موجود ہے یا کسی شے سے قائم ہے وہ کافر ہے۔
فرمایا:
کہ جس معصیت سے قبل انسان میں خوف پیدا ہو، وہ اگر توبہ کر لے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، اور جس عبادت کی ابتدا مامون رہنا اور آخر میں خود بینی پیدا ہونا شروع ہو تو اس کا نتیجہ بعدِ الٰہی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ جو شخص عبادت پر فخر کرے، وہ گناہگار رہے۔ جو معصیت پر اظہارِ ندامت کرے، وہ فرمانبردار ہے۔
فرمایا:
کہ ذکرِ الٰہی کی تعریف یہ ہے کہ جس میں مشغولیت کے بعد دنیا کی ہر شے کو بھول جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر شے کا نعم البدل ہے۔
فرمایا:
کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کر لیتا ہے، یعنی تمام اسباب و وسائل ختم کر دیے جاتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ عطائے الٰہی بلاواسطہ ہے نہ کہ بالواسطہ۔
فرمایا:
کہ مومن کی تعریف یہ ہے کہ نفس کی سرکشی کا مقابلہ کرتا رہے، اور عارف کی تعریف یہ ہے کہ جو اپنے مولا کی اطاعت میں ہمہ تن مشغول رہے۔
فرمایا:
کہ صاحبِ کرامت وہ ہے جو اپنی ذات کے لیے نفس کی سرکشی سے آمادۂ بجنگ رہے، کیونکہ نفس سے جنگ کرنا اللہ تعالیٰ تک رسائی کا موجب ہوتا ہے۔
فرمایا:
کہ اوصافِ مقبولیت میں سے ایک وصفِ الہام بھی ہے۔ جو لوگ دلائل سے الہام (خدا کی طرف سے دل میں آئی ہوئی بات) کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں، وہ بددین ہیں۔
فرمایا:
کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے جتنا کہ رات کی تاریکی میں سیاہ پتھر پر چیونٹی رینگتی ہے۔
فرمایا:
کہ مجھ پر رموزِ حقیقت اس وقت کھلے جب میں خود دیوانہ ہو گیا۔
فرمایا:
نیک بختی کی علامت یہ بھی ہے کہ عقل مند دشمن سے واسطہ پڑ جائے۔
فرمایا:
کہ پانچ لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیے:
اوّل، جھوٹے سے، کیونکہ اس کی معیت فریب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
دوم، بے وقوف سے، کیونکہ جس قدر وہ تمہاری منفعت چاہے گا اسی قدر نقصان پہنچائے گا۔
سوم، کنجوس سے، کیونکہ اس کی صحبت سے بہترین وقت رائیگاں ہو جاتا ہے۔
چہارم، بزدل سے، کیونکہ یہ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
پنجم، فاسق سے، کیونکہ ایک نوالے کی طمع میں کنارہ کش ہو کر مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
فرمایا:
کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں فردوس و جہنم کا نمونہ پیش کر دیا ہے، کیونکہ آسائشیں جنت ہیں اور تکلیفیں جہنم۔ اور جنت کا صرف وہی حقدار ہے جو اپنے تمام امور اللہ تعالیٰ کو سونپ دے، اور دوزخ اس کا مقدر ہے جو اپنے امور سرکش نفس کے حوالے کر دے۔
فرمایا:
کہ اگر معاندین کی صحبت سے اولیائے کرام کو ضرر پہنچ سکتا تو فرعون سے آسیہ کو پہنچتا، اور اگر اولیا کی صحبت دشمن کے نافع ہوتی تو سب سے پہلے حضرت نوح اور حضرت لوط کی ازواج کو فائدہ پہنچتا، لیکن قبض و بسط کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔
وقت آخر
منصور عباسی جب آپ کی روحانیت سے عاجز آگیا اور کسی مرتبہ قتل کرنے میں کامیابی نہ حاصل کر سکا تو اس نے سو ایسے افراد تلاش کئے جو کچھ جانتے اور پہچانتے ہی نہ تھے۔ بالکل الڑھ اور کنده ناتراش تھے۔ منصور نے مال و دولت دے کر اس امر پر راضی کیا کہ جب امام جعفر صادق کی طرف اشارہ کیا جائے تو وہ انھیں قتل کر دیں۔ پروگرام مرتب ہونے کے بعد رات کے وقت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو بلایا گیا۔ آپ تشریف لائے حکم تھا کہ بالکل تنہا تشریف لائیں۔ آپ اکیلے آئے۔ جب آپ دربار میں داخل ہوئے اور ان لوگوں کی نظریں آپ پر پڑیں جو تلواریں سونتے ہوئے کھڑے تھے تو وہ سب کے سب تلواریں پھینک کر آپ کے قدموں پر گر پڑے۔ یہ حال دیکھ کر منصور نے کہا ، ابن رسول اللہ آپ رات کے وقت کیوں تشریف لائے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تونے مجھے گرفتار کراکے منگوایا ہے۔ اب کہتا ہے کیوں آئے ہو؟ اُس نے کہا ، معاذ اللہ کہیں یہ بھی ہو سکتا ہے آپ تشریف لے جائیں اور قیام گاہ میں آرام فرمائیں۔ آپ واپس چلے گئے وہاں سے مدینہ تشریف لے گئے۔ امام علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ تم نے خلاف ورزی کیوں کی اور انہیں قتل کیوں نہیں کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو وہ امام زمانہ ہے جو ہماری شب و روز خبر گیری کرتا ہے اور ہمیشہ ہماری اپنے بچوں کی طرح پرورش کرتا ہے۔ یہ سن کر منصور ڈر گیا اور اُسے خیال ہوا کہ کہیں یہ لوگ مجھ سے اس کا بدلہ نہ لینے لگیں۔ اسی لیے انھیں رات ہی میں روانہ کردیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا۔ بالآخر آپ اس آخری زہر سے شہید ہو گئے جو انگور کے ذریعہ سے دیا گیا تھا۔
وفات:
آپ نے اڑسٹھ (68) سال کی عمر پائی، اور مدینۂ طیبہ میں 15 رجب، بروز پیر 148 ہجری میں انتقال فرمایا۔ (بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آپ کا انتقال بھی زہر سے ہوا تھا اور بادشاہ ابو جعفر منصور نے یہ زہر دلوایا تھا)۔ آپ کو آپ کے والد حضرت باقر، دادا حضرت زین العابدین اور ان کے چچا حضرت حسن کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
ماخوذ: گلدستۂ اہلِ بیت، شواہدُ النبوّت، اہلِ بیت روشن ستارے، مناقبِ ابو حنیفہ، تذکرۃُ الخواص، تذکرۃُ الاولیاء
مرتبہ : غلام فرید حیدری مداری






