دار النور مکن پور شریف صدیوں سے مرکز ولایت اور مخزن تصوف وسلوک کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے ہر دور اور ہر صدی میں تقرب الی اللہ کی عظیم مسند پر زیب مسند رہے مقربان بارگاہ لم یزال کی جلوہ فرما رہی چونکہ قطب المدار کا بلدہ ہے اس لئے یہاں کے ذرے نگینے ہو جاتے ہیں پھر جو نگینہ ہوگا اس کی نورانی شعائیں کسی آفتاب و ماہتاب سے کم نہ ہونگی۔ ان پاک ذوات استودہ صفات اولیائے کرام میں تیرھویں صدی میں الحاد ولا دینی کی تاریکیوں میں شمع ایمان و ایقان فروزاں کرنے والی عبقری ذات یعنی سید الاتقیاء، خیر الاذكياء، رئیس الاصفیاء، مقتدائے اولیاء، حضرت مولانا الشاہ السید جرات علی بیریا علیہ رحمۃ اللہ الکبریا کی ذات موضوعِ سخن ہے
آپ کا نام نامی اسم گرامی: ۔
جرات علی، شاعری میں تخلص "بیریا” رکھتے ہیں اس وجہ سے پورے نام "سید جرات علی بیر یا” سے مشہور زمانہ ہیں۔
نسب عالی وقار: ۔
آپ فاطمی حسینی ارغونی سید ہیں
خاندانی وراثت: ۔
کے اعتبار سے شریف النفس منکسر المزاج اور عاجزی پسند تھے روزہ دار اور عابد شب زندہ دار تھے غرض بہت بڑے متقی پرہیز گار تھے اپنے وقت کے نامور حکیم جید عالم عمدة الافاضل، باکمال شاعر بے مثال مصنف، صوفی، اور پہلوان تھے۔
تیرھویں صدی ہجری میں آپ کے علم و فضل کا سورج مطلع علم و حکمت پر طلوع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے غیر منقسم ہندوستان کی متعدد ریاستوں شہروں قصبوں پر ان کی ضیا بار کرنوں نے صبح امید کا اجالا بکھیر دیا بالخصوص مدھیہ پردیس، میوات، متھرا، آگرہ، بندیل کھنڈ، سیتاپور اودھ کے علاقوں سے آج بھی اس گھرانہ سے منسلک افراد حاضر دربار مدارالعالمین ہوتے ہیں اور نذر خلوص و عقیدت پیش کرتے ہیں جو اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج بھی اسی سرزمین سے وابستہ ہیں۔
آپ کے علم وفضل کا بڑا شہرہ تھا آپ کی متعدد تصنیفات بتائی جاتی ہیں۔
۱۔ مونس الارواح منظوم (غیر مطبوعہ)
عزیزی مولانا قاضی سید محمد توثیق میاں منصف مصباحی اطال اللہ عمرہ کی ذاتی لائبریری میں موجود ہے
۲۔ حقیقیت الواصلين
اس کے علاوہ بھی متعدد تصنیفات کے بارے میں سنا ہے اگر چہ فقیر مداری شرف زیارت سے مشرف نہ ہوا لیکن تصنیفات کا ہونا ثابت ہے جیسا کہ "تذکرہ مشائخ مدار یہ جلد اول” کی تقریظ میں حضرت ڈاکٹر عطا خورشید صاحب مولانا آزاد لائبریری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے تحریر کیا جب ۱۲۶۰ھجری سید عطا حسین دانا پوری رحمۃ اللہ علیہ پیادہ پانچ کے دوران مکن پور شریف آئے تھے، تو سید جرات علی میاں سے ملاقات ہوئی تھی، اور انھوں نے ان کو اپنی تصانیف پڑھ کر سنائی تھیں۔
یہ سب باتیں حضرت عطا حسین نے اپنے سفرنامہ ہدایت المسافرین قلمی میں لکھی ہیں۔
تصنیفی تالیفی کام کے ساتھ ساتھ شاعری کا بہت ذوق تھا اور آپ کا شمار استاذ الشعرا و علماء میں ہوتا تھا آپ کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ مکن پور شریف و بیرون مکن پور شریف میں تھا جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا حسین بخش شاہ صاحب نعیم فیروز آبادی کی مطبوعہ تصنیف میں آپ کی منقبت قطب المدار موجود ہیں برٹش دور حکومت مکن پور شریف کے کسی شخص نے کسی پر مقدمہ لگایا جس میں بحیثیت گواہ حضرت جرات علی بیریا تھے عدالت میں جب مقدمہ کی سنوائی ہونے لگی تو جج نے گواہ طلب کیا جب بحیثیت گواہ حاضر ہوئے تو وکیل نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے آپ نے فرمایا جرات علی حج نے کہا اچھا تو آپ جرات علی ہیں؟
جی!
آپ بہت بڑے شاعر بھی ہیں؟
جی
حج نے کہا آپکی گواہی تب قبول کی جائیگی جب آپ پورا ماجرا اشعار میں سنائیں گے آپ نے اپنی گواہی اور پورا واقعہ فی البدیہہ اشعار میں سنا دیا جج اشعار میں گواہی سن کر اس قدر خوش ہوا کہ فیصلہ کر دیا۔
حضرت مولانا سید جرات علی بیریا کی مناجات جو مستجاب الدعوات میں سے ہے جب بھی پڑھی جائے جس مقصد کیلئے پڑھی جائے اللہ پاک اس کے طفیل حاجت روائی فرماتا ہے۔
والد گرامی مرتبت (مؤلف کے والد گرامی) حضور تاج الاصفیاء ماہر علم الانساب حضرت علامہ صوفی الشاہ سید افسر علی میاں قبلہ جعفری المداری رحمۃ اللہ علیہ بعد نماز فجر اوراد و وظائف و معمولات و ختم خواجگان سے فارغ ہو کر مناجات پابندی سے پڑھتے تھے جس کے تقریبا 36 بند نقل ہیں۔
میں نے کہا کہ مناجات بہت طویل ہے آپ نے فرمایا کہ تین سو بند تھے ہمیں اتنی ہی ملی ہے جو اپنی ڈائری میں نقل کر دی قارئین کی دلچسپی کیلئے چند بند پیش کر رہا ہوں۔
یا الہی روح ختم الانبیاء کے واسطے
رحم فرما شافع روز جزا کے واسطے
اے میرے مولی محمد مصطفیٰ کے واسطے
کر میری تکلیف زائل مرتضی کے واسطے
کر عفو میری خطا خیر النساء کے واسطے
معجزے تو نے دیئے ہر اک نبی کو جس قدر
خاتمہ انکا کیا درشہ لولاک پر
دیتے تھے مہر نبوت کی گواہی سب حجر
سر پہ سایہ کرتے تھے ہر دم پروں کو کھول کر
حکم تھا تیرا یہ مرغان ہوا کے واسطے
کیا میں اپنے طالع بد کی کجی ظاہر کروں
گر الف سیدھا لکھوں خم ہو کے بن جاتا ہے نوں
ہاتھ چھو جائے مرا تو ہوتے موتی نیلگوں
غیر ممکن ہے سیہ بختی کو اپنی لکھ سکوں
پارسائی دے تو بخت پارسا کے واسطے
اے خدا حاجت روائے خلق تیری ذات ہے
تو کریم و کارساز و قاضی الحاجات ہے
لطف کر مجھ پر ہجوم فکر غم دن رات ہے
رحم فرمانا ترے نزدیک کتنی بات ہے
اے تنزل رفع و رنج و عنا کے واسطے
میرے رازق تو ہے ضامن رزق مخلوقات کا
آسرا ہے ہر کس و ناکس کو تیری ذات کا
تو ہی بر لائے دعا اس مورد آفات کا
تجھ سوا پرساں نہیں ہے کو میری ذات کا
بن ترے جاؤں کہاں میں التجا کے واسطے
واسطہ حضرت سلیماں، یونس و داؤد کا
صالح وایوب کا موعود کا بیرود کا
لوط کا یعقوب کا اسحق کا محمود کا
واسطہ اے کبریاء ان انبیاء جود کا
کھولدے روزی مری مشکل کشا کے واسطے
اس کے علاوہ مناقب حسینی کا ایک دیوان حضرت الشاہ سید ذاکر حسین صاحب قبلہ جعفری مداری علیہ الرحمہ کے پاس موجود تھا جس کے کچھ اقتباس حضرت علامہ الحاج قاری سید محضر علی صاحب قبلہ نے سہ ماہی رہبر نور میں "قدیم شعرائے مکن پور شریف کا اجمالی تذکرہ” میں نقل کئے ہیں۔
شاعری کے ساتھ ساتھ آپ کا محبوب مشغلہ پہلوانی بھی تھا آپ بہت طاقتور پہلوان تھے بڑی بڑی کشتیاں لڑتے اور فتحیاب ہو جاتے تھے آپ کی پہلوانی کا ایک واقعہ آج بھی بہت مشہور ہے جسے فقیر مداری نے (مؤلف) اپنی والدہ محترمہ مکرمہ مخدومہ دام ظلها علینا سے سنا (نیز حضور بابائے قوم وملت حضرت علامہ حکیم الشاہ سید محمد ولی شکوه جعفری مداری علیہ الرحمۃ والرضوان و وجاہت مآب قائد بے بدل محسن قوم حضرت سید دارا شکوه صاحب جعفری مداری نور اللہ مرقدہ حضرت شاہ سید جرات علی بیر یا ان تینوں کے حقیقی پر دادا تھے، بابائے قوم و ملت حضرت حکیم محمد ولی شکوه بن حضرت مولانا سید علی شکوه بن حضرت مولانا سید عابد علی بن حضرت مولانا سید جرات على المتخلص بیر یا رحمۃ اللہ علیھم و دیگر مشائخ و سادات مکن پور شریف سے بھی سنا ہے)
وارث قوت مولا علی، الشاه سید جرات علی، کہتے ہیں کہ صبح دھوپ چھٹکی تو وہ حضرات انبیائے کرام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی بکریاں چرانے گاؤں کے جنگل میں پہونچ چکے تھے، جنگل کیا جیسے جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری، گاؤں کیا جنت کے حسین ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا، و انهار من اللبن کا عکس جمیل شفاف نیلی ایسین کے کنارے صدیوں پرانے املی و دیگر جنس کے تناور درختوں کے باغ میں حسب عادت بکریوں کو چرا رہے تھے، لحیم شحیم قد آور اور بہت بڑے پہلوان معلوم ہوتے تھے، آپکی پہلوانی اور شجاعت و بہادری کے چرچے دور دور تک پھیلے تھے، یعنی آپ کی شہرت کا سکہ اطراف واکناف سے لیکر ملک کے متعدد مقامات تک رائج تھا ویسے بھی ملک کی کئی ریاستوں میں آپ کا حلقۂ ارادت پھیلا تھا آپ جہاں جاتے وہاں کے بہادر پہلوان سامنا پکڑنے سے کچی کاٹتے تھے ایک مرتبہ ملک کے نامور پہلوانوں میں سے ایک کشتی لڑنے کی غرض سے گاؤں میں داخل ہوا ٹوٹے پھوٹے چٹکے پھٹے بوسیدہ مکانات کے ساتھ ساتھ کچھ الجھے بکھرے چھپروں جھونپڑیوں کو دیکھ کر متعجب ہوا کہ پورے ملک بلکہ بیرون ملک میں جس قصبہ کی شہرت ہو اس کے مکین سعد ابن ابی وقاص کی طرح جھونپڑیوں میں رہتے ہیں خیر اہل بستی سے ملا اور پوچھا کہ ہم نے سنا ہے کہ یہاں جرات علی بیریا نام کے پہلوان رہتے ہیں سنا ہے کہ ان کے مقابل میں کوئی پہلوان نہیں آتا ہے لوگوں نے بتایا کہ جی بڑے بڑے پہلوان خاک چاٹ جاتے ہیں اور اس مرد جری کے مقابلے کی تاب نہیں لاتے ہیں آنے والے بہادر پہلوان نے طمطراق سے کہا آج ہم یہی دکھانے آئے ہیں انہیں بلاؤ اکھاڑا تیار کرو اور ہم سے کشتی لڑینگے سادات کی بستی کسی مجرم کو سزادینا تو پسند نہیں کرتی وہ طنز کا جواب طنزیہ لہجے میں کیا دیتی عفو و کرم کی بھیک دینے والوں نے بڑے نرم و نازک لہجے میں غرور کا تیشہ توڑ کر کہا وہ سامنے گھنے باغات میں بکریاں چرا رہے ہیں وہیں جا کر دو دو ہاتھ کر لو پہلوان جب باغ میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا کہ باغ میں ایک ہی شخص ہے اور وہ سب سے بوڑھے تناور مضبوط درخت کی موٹی شاخ جھکا کر اس کی پتیاں بکریوں کو کھلا رہا ہے یہ دیکھا تو پہلے ہی پہلوان مرعوب ہو گیا بہر حال طاقت میں کم یا زیادہ مگر تھا تو پہلوان کوئی بزدل تو تھا نہیں پوچھا کیا آپ جرات علی بیر یا ہیں پیڑ کی شاخ پکڑے پکڑے بالکل نرم لہجہ میں:
آپ کون؟ اور یہاں کیسے؟ کیا کام ہے ان سے؟
پہلوان نے کہا کہ ہم پہلوان ہیں اور ان سے کشتی لڑنا چاہتے ہیں،
ایک گرج دار لہجہ فضا میں گونجا "یہ ڈال مضبوط پکڑ کر میری بکریاں چراؤ میں جرات علی کو بلا کر لاتا ہوں”
جیسے ہی اس نے ڈال پکڑی آپ نے چھوڑ دی موٹی مضبوط شاخ او پر اٹھی تو پہلوان شاخ میں لٹک گیا آپ نے فرمایا کہ جرات علی کی جھکائی شاخ تو تم سے سادھی نہ گئی جرات علی سے کشتی کی جرات ہوئی کیسے؟
تب اس نے معافی مانگی اور چلا گیا
خوارق و کرامات: ۔
حضرت مولانا سید شاہ جرات علی صاحب بیریا مداری رحمۃ اللہ علیہ سے کرامات کا بھی صدور ہوتا تھا ایک کرامت صوفیِ باصفا رہبر شریعت شیخ طریقت حضرت علامہ صوفی الشاه سید شفیع الحسن صاحب قبلہ جعفری مداری رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے تھے ۔
۱ ۔ ہانڈی سے کھانا کم نہ ہونا
رات کی کالی زلفیں دن کا خوبصورت چہرا ڈھانپ چکی تھیں انہیں زلفوں کے نشیمن سے چاند کا چمکتا دمکتا چہرہ شرما شرما کر نکلتا اور چھپ جاتا، رات کا ایک پہر گزر چکا تھا تقریبا سبھی لوگ نیند کی پرسکون آغوش میں روپوش ہو چکے تھے، حضرت جرات علی بیریا مداری کے دروازے پر دستک کی آواز آئی، آپ بیدار ہو گئے پوچھا کون؟
آنے والے مہمانوں نے اپنا تعارف کرایا میں فلاں فلاں ، کہاں سے تشریف لائے ہیں؟
مہمان: فلاں جگہ سے
آپ نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو تین مہمان دروازے پر کھڑے تھے ، آپ نے اھلا و سهلا و مرحبا کہا اور اپنی کوٹھی ، (مہمان خانے) ، میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا کچھ گفتگو کے بعد اندرون خانہ تشریف لے گئے تاکہ اور مہمانوں کے خوردونوش کا انتظام کیا جائے آپ نے اپنی اہلیہ کو جگاکر فرمایا تین مہمان آئے ہیں انکے کھانے پینے کا انتظام کرو اہلیہ محترمہ نے عرض کیا کہ اتنی رات گئے کہاں سے انتظام کروں گھر میں اتنا کھانا نہیں ہے کہ ایک آدمی کا بھی پیٹ بھر پائے تھوڑا ہے؟ جی بس تھوڑا ہے
آپ نے فرمایا ہانڈی چولھے پر رکھ کر گرم کرو پھر بنا دیکھے نکالتی رہنا، چنانچہ آپ کی اہلیہ محترمہ نے ایسا ہی کیا، تینوں مہمانوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا کم نہیں ہوا، جتنا تھا اتنا ہی رہا
۲ ۔ جتنا تھا سب کھا گئے
شہزادۂ حضور بابائے قوم وملت پیر طریقت سید امین الحق صاحب قبلہ جعفری مداری مدظلہ العالی بیان کرتے ہیں کہ دادا محترم حضرت خواجہ سید جرات علی بیریا کے دور میں اہل ہنود بطور مہمان سادات مکن پور شریف کی معزز ترین شخصیت کو اعزاز کے طور پر دعوت دیتے تھے اور جب انکے معزز مہمان تشریف لے آتے تو شادی کے کھانے کا آغاز انہیں سے کراتے تھے۔
حضرت مولانا الشاہ سید جرات علی بیریا کے پڑوس میں بقال رہتے تھے انکی نسل سے آج بھی رہتے ہیں ، آپ کے پڑوس میں اہل ہنود بقال کے گھر بیٹی کی شادی تھی ، بقال نے حسب دستور حضرت مولانا جرات علی صاحب کو دعوت دی تھی آپ تشریف لے گئے کھانا شروع ہونے سے پہلے دستور کے مطابق آپ کے سامنے کھانا لگا کر کہا مولانا صاحب کھانا تناول فرمائیں تاکہ شگن ہو ، آپ نے منع فرمادیا ، بقال بضد ہوا اور کہا کہ مولانا صاحب ہماری قوم کا دستور ہے کہ کھانا معزز لوگوں سے شروع کیا جاتا ہے ، کھانا شروع ہونے سے پہلے آپ کو کھانا ہی پڑیگا آپ نے باصرار تمام اقرار کرلیا کھانا لگایا گیا آپ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا اب کیا تھا تھال کے تھال صاف ہونے لگے تھوڑی ہی دیر میں سب کھانا کھالیا اور کھانا ختم ہونے لگا ، کسی نے اس بقال کو بتایا کہ مولانا صاحب کھانا کھا گئے اور کھانا ختم ہو گیا بقال دوڑا ہوا گیا اور جہاں کھانا بن رہا تھا دیکھا سب کڑھاؤ خالی ہو گئے سارا کھانا ختم ہو گیا چہرہ سُست ، حراساں ، پشیماں ، سماج کی بدنامی کے ڈر سے عار و مذلت میں ڈوبا ہوا ، نبضین تھمی ، جسم پیسنے پیسنے بالآخر پاؤں پکڑ ہی لئے مولانا صاحب دعا کرو ، ہمارے کڑہاؤ خالی ہو گئے ، ہمارے دستر خوان اجڑ گئے ، ہمارے چولھے ٹھنڈے ہو گئے اب ہم باراتیوں کا مزید انتظام نہیں کر سکتے بارات دروازے پر ہے اور گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں ہے مولانا صاحب اب ہوگا کیا ، آنکھوں میں آنسو دیکھ کر آپ نے فرمایا ، کیا کھانا ختم ہو گیا ؟ جی ، اب ہم مہمانوں کو کیا کھلائیں گے فرمایا کھانا! ، مگر کھانا تو سب آپ نے کھا لیا! ، آپ نے ہاتھ بلند کر کے کچھ پڑھا پھر فرمایا کہ جا کر کڑہاؤ میں دیکھو دیکھا گیا تو کڑہاؤ پکوان سے بھرے تھے کھانا جیسا بنا تھا ویسا ہی ہے لوگ ششدر تھے کہ جب کھایا تو سب کھا گئے اور ابدیا تو سب بھر دیا یہ کرامت دیکھ کافی لوگ متاثر ہوئے
وما توفيقى الا بالله
مزید تحقیق جاری ، مقالہ نگار
خاک در ولئی باری سید از بر علی مداری
خادم آستانہ عالیہ قطب المدار دار النور مکن پور شریف
حضرت خواجہ سید جرات علی بیریا علیہ الرحمه کی حیات پاک پر مبنی ویڈیو











