نزول قرآن
قرآن کے معنی عربی میں پڑھنے کے ہیں، قرآن پاک اس مقدس آسمانی کتاب کا نام ہے جس کو افضل البشر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ جیسا کہ مشہور ہے آسمانی کتابیں چار ہیں توریت، زبور ، انجیل اور قرآن- حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل کی گئی، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور ، حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن حکیم نازل کیا گیا۔ قرآن پاک کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو وہ جلال الہی کی تاب نہ لا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے ڈر و خوف سے پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا اور پہاڑ سرمہ کی شکل اختیار کر لیتا۔
چنانچہ وہ افضل البشر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب اطہر تھا ، اس بارگراں کو سہ سکا اور دنیا کی کوئی شے اس عظیم نعمت خداوندی کو برداشت نہ کر سکتی، اسی لیے نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہمارے نبی و آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء کا لقب عطا ہوا ، بالکل اسی طرح تمام کتابوں میں افضل الكتاب قرآن حکیم کو مانا گیا۔ اب قیامت تک کوئی دوسری آسمانی کتاب اس دنیا میں نازل نہیں کی جائے گی۔ جس طرح آپ اللہ کے آخری رسول ہیں، بالکل اسی طرح یہ کتاب اللہ بھی آخری کتاب ہے ۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے پردہ فرماتے وقت فرمایا کہ اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک میری اولاد اور دوسری یہ کتاب۔ ان دو چیزوں کو اگر کوئی میرا امتی مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھے، اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے اور اس پر عمل کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو گمراہی کی طرف نہیں لے جاسکتی اور وہ کبھی بھی ذلیل و خوار نہ ہوگا اور رہتی دنیا تک اس کو دین و دنیا کی سرخروئی اور کامیابی عطا ہوگی۔
قرآن حکیم کا اس امت سے یہ سوال ہے کہ جب اس کو دنیا میں بھیجا گیا تو اس کا کیا منشاء و مقصد خداوندی تھا؟ کیونکہ فرشتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے درمیان اس کو بھیجنا مقصود تھا اور اللہ رب العزت کو اپنے فرشتوں سے یہ بتانا مقصود تھا کہ دیکھو میرے بندے کس قدر اس کی تعظیم اور قدر و منزلت کریں گے اور اس کو کس طرح سے اپنے سینوں میں محفوظ کر لیں گے اور اسی پر عمل پیرا ہوکر زندگی کی ہر صبح و شام گزاریں گے۔ پچھلی قوموں کی طرح وہ گمراہی کا راستہ اختیار نہ کریں گے بلکہ مضبوطی کے ساتھ اس کو تھامے رہیں گے اور صراط مستقیم پر چلیں گے ، میرے احکام کو صدق دل سے مانیں گے اور میرے بھیجے ہوئے رسولوں ، فرشتوں اور آسمانی کتب پر پورا پورا یقین رکھیں گے۔ آخرت ، روز محشر ، عذاب قبر پر اور مرکر دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان کامل رکھیں گے۔ حساب و کتاب، پل صراط ، صراط ، میزان، جنت و دوزخ پر پورا پورا ایمان رکھیں گے۔ غرض کہ قرآن مجید کے اندر جتنی باتیں بیان کی گئی ہیں اس پر حق الیقین اور کامل ایمان رکھیں گے۔
یہ تمام باتیں کسی اور امت کو سزاوار نہیں تھیں ، وہ بہت جلد اپنے رسولوں کے سے منحرف ہو گئیں، آسمانی کتب کو جھٹلانے لگیں، ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگیں ، اپنی طرف سے من گھڑت قصے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگیں ، ان میں رد و بدل کرنے لگیں۔ قانون الہی کو خیر باد کہہ کر اپنی مرضی و منشاء کے مطابق اصول بنائے گئے تو بہت جلد ان قوموں پر عذاب الہی نازل ہوا۔ کبھی تو زلزلہ کی شکل میں دنیا آنا فانا تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ، تو کبھی آندھی وطوفان کی شکل میں غضب الہی نازل ہوا ، تو کبھی بیماریوں کی وباء پھیل گئی ، جس سے پل بھر میں دنیا کا وجود ختم ہو کر ویرانوں میں تبدیل ہو گیا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک امت مرحومہ کا وجود ہی ایک بے مثال امر عظیم ہے، جو کہ اور قوموں کو نصیب نہیں تھا۔ اب قیامت تک کوئی اور رسول یا کتاب اس دنیا میں نہیں آئے گی۔
شب قدر
شب اور لیل کے معنی رات کے ہیں اور قدر کے معنی عزت و بزرگی اور برتری کے ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں کہیں لیلۃ القدر کے نام سے اور کہیں لیلۃ مبارکہ کے نام سے اس مبارک شب ( یعنی شب قدر ) کا ذکر ملتا ہے۔
اس رات کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس رات کو ہی کیوں تمام راتوں پر فوقیت و برتری حاصل ہے اور دوسری راتوں کو ایسی فضیلت و بزرگی کیوں نہیں عطا کی گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر فضیلت اور برتری عطا کی ہے، جیسا کہ کتابوں میں سب سے زیادہ فضیلت قرآن حکیم کو حاصل ہے، رسولوں میں سب سے زیادہ فضیلت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ، ملائکہ میں سب سے افضل حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، اللہ کے گھروں میں سب سے افضل گھر خانہ کعبہ ہے، مہینوں میں سب سے افضل رمضان المبارک کا مہینہ ہے، دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی طرح تمام راتوں میں سب سے افضل اور متبرک رات شب قدر کو قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس بابرکت اور فضیلت والی رات کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے بے شک ہم نے اس رات کو (قرآن) نازل کیا، جو بڑی قدر و منزلت والی اور بزرگی والی رات ہے اور تم کو کیا معلوم کہ اس رات میں ہم نے کیا کیا برکتیں پوشیدہ رکھی ہیں۔ یہ ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بڑھ کر افضل و برتر ہے اور اس رات میں افضل الملائکہ یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی پوری جمعیت کے ساتھ دینا میں نازل ہوتے ہیں اور اپنے رب کے حکم سے تمام رات رحمت اور سلامتی کی بارش نیک بندوں پر برساتے ہیں ، یہاں تک کہ صبح صادق طلوع ہو جائے۔ اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر پورا قرآن مجید نازل فرمایا اور پھر ۲۳ سال کی طویل مدت میں وقتاً فوقتا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا جو امت محمدیہ کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اس رات میں جبرئیل امین علیہ السلام لاکھوں کی تعداد میں فرشتوں کی جمعیت کو لے کر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور نیک بندوں پر سلامتی کا پیغام بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ کو یہ آواز دیتا ہے دیکھو میرے بندے کس طرح اپنی نیند کو خیر باد کہہ کر اپنی تمام ضرورتوں کو چھوڑ کر صرف میری عبادت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اس سے بڑھ کر رضائے الہی بندہ کے حق میں اور کیا ہو سکتی ہے ، جب کہ اللہ تعالیٰ خود فرمارہا ہے کہ آج کی رات میری رحمت کا دریا جوش میں ہے اور بندوں پر بے دریغ رحمت کی بارش برستی ہے اور یہ سلسلہ تمام رات جاری و ساری رہتا ہے۔
ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ اے باری تعالٰی پہلے کی امتوں کو تو نے ۸۸۰ برس اور ایک ہزار برس کی عمریں عطا کی تھیں اور وہ بہت زیادہ تیری کبریائی اور عبادتوں کے مستحق تھے، لیکن میری امت کی عمریں تو نے بہت کم کر دی ہیں ، یعنی پچاس اور ساٹھ برس کے درمیان تو ارشاد ربانی ہوا کہ ”اے میرے پیارے حبیب، میں نے تمہاری امت کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ اور عظیم تحفہ عطا کیا ہے، یعنی رمضان شریف میں ایک رات ایسی مخفی رکھی ہے، جس کو شب قدر کہتے ہیں، جو ہزار مہینوں کی عبادتوں سے بڑھ کر افضل واعلیٰ ہے ، اگر کوئی اس رات کو پالے اور تمام رات عبادتوں ، اذکار و نماز اور تلاوت قرآن مجید میں گزار دے تو پھر اسے اس ایک رات کی عبادت کے بدلے ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب عطا کیا جائے گا ۔ یعنی ایک ہزار مہینوں کے ۸۳ برس چار ماہ ہوتے ہیں ، اس طرح ایک سال میں صرف ایک رات کی عبادت کا ثواب ۸۳ برس کے برابر دیا گیا۔ چنانچہ اسی رات کا کرشمہ اور طفیل ہے کہ ہم کو اس ایک رات کے بدلہ میں ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب ملتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس رات کو پاکر اس کا پورا پورا فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی و خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔
ماخوذ : سہ ماہی رہبر نور










