مسلمانوں کو وندے ماترم گانے پر اعتراض ہے۔ یہ اعتراض کیوں ہے اور اس کے پیچھے کیا اسباب ہیں اس کو سمجھنے کے لئے تاریخ کی ورق گردانی کرنی پڑیگی وندے ماترم کو بنکم چندر چڑی کی تخلق بتلایا جاتا ہے۔ جو ان کے ایک گیت میں شامل ہے ۔ اس گیت کے بارے میں اب کہا جانے لگا ہے کہ آزادی کی چنگاری روشن کرنے میں اس گیت کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ گیت ناول کے اوراق میں سے نکل کر انقلابوں کی چیخ بن گیا لیکن یہ گیت ابتدا سے ہی متنازعہ رہا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ گیت میں جس آئڈولوجی کا اظہار کیا گیا ہے اس میں فرقہ واریت موجود ہے اور مسلمانوں کو دل آزاری کا پہلو نمایاں ہے۔
ہندوستان کی سیاست میں اس نغمے پر بحث نے بڑا فروغ حاصل کیا اس گیت کو بطور قومی ترانہ اختیار کرنے یا اسے رد کرنے کے بارے میں پر زور دلائل کے ساتھ بات کی جاتی رہی۔
جو لوگ اس گیت کو پسند کرتے ہیں انہوں نے اس کو ادبی درجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ گیت آننڈ مٹھ ناول میں شامل ہے۔ جو بنکم چند چڑجی کی تخلیق ہے۔ ان کی موت کے دو سال بعد یہ ناول بہت مقبول ہو گیا۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۸۹۶ء میں جب انڈین نیشنل کانگریس کا اجلاس امرتسر میں شروع ہوا تو اس میں وندے ماترم گیت گایا گیا۔ ہندوؤں نے اس گیت کو سر آنکھوں پر رکھا اور اسے ہندوستان کے ساتھ عقیدت کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا۔
رابندرناتھ ٹیگور کا نگریس کے اجلاس میں اس گیت کے پیش کرنے والوں میں سب سے آگے تھے۔ ۱۸۹۶ء کے بعد یہ روایت قائم ہوگئی کہ کانگریس کے ہر اجلاس میں یہ گیت گایا جانے لگا اپنے وقت کے مشہور ماہر موسیقی وی ڈی پالسکر نے اس کی دھن ترتیب دی جس نے اسے ایک زبردست نغماتی آہنگ بخشا۔
۱۹۰۵ سیاسی اعتبار سے نظریاتی ٹکراؤ کا سال رہا۔ لارڈ کرزن نے اپنی شاطرانہ چال چلی اور بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انگریز حکومت کی طرف سے تقسیم کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ انتظامی سہولیات فراہم کرانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اصل میں یہ ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ایک سازش تھی۔ فیصلہ سے ناراض ہندوؤں نے وندے ماترم کا نعرہ لگا کر بنگال کی تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سو نافرمانی شروع ہوئی یہ وہ موقع تھا جب وندے ماترم گیت کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ صرف دو الفظ وندے ماترم کہتے ہوئے سیکٹروں لوگوں نے اپنی جانیں دیدیں اور یہ گیت ہندوستان کی جنگ آزادی کا بگل بج گیا۔ اس کے برعکس مسلمان اس گیت سے کبھی متفق ہوئے۔
ہندوؤں نے اس گیت کو اس قدر شہرت دی کہ بعض لوگ اس کو قومی ترانہ کہنے لگے لیکن مسلمانوں کو وندے ماترم میں موجود فرقہ واریت سے اختلاف ہے۔ آنند مٹھ ناول میں ناول نگار نے مغلیہ دور حکومت کو پیش کیا ہے جہاں ہنودوؤں کے ساتھ نا انصافی ہی نا انصافی ہے اور وہ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار بھاوانو ادا مغلیہ حکمرانوں کے خلاف ایک فوج بنا رہا ہے اور نو جوانوں کو بھرتی کر رہا ہے۔
بھاوانو ادا ناول کے ایک دوسرے کردار مہیندر سے رجوع کرتا ہے اور اس سے فوج میں شامل ہونے کے لئے کہتا ہے اور اسے وندے ماترم گا کر سناتا ہے۔ مہندرا جب گیت کے معنی دریافت کرتا ہے تو بھاوانو ادا جواب میں کہتا ہے ہمارا مذہب رخصت ہو چکا ہے ہماری قومیت ختم ہو چکی ہے، ہمارا وقار ہم سے چھین لیا گیا ہے کیا ان ملیچھ مسلمانوں کے یہاں رہتے ہوئے ہند و عزت و آبرو کے ساتھ اس ملک میں رہ سکتے ہیں؟
مہیند رائے سے متفق نہیں ہوتا تب بھاوانو ادا اس کو آنند مٹھ میں لے جاتا ہے جہاں یک سادھو اسے کالی اور درگا کی مورتیاں دکھلاتا ہے اور سادھو مہندرا سے کہتا ہے کہ وہ وندے ماترم کہے۔
ستیہ نند ناول کا ایک اور کردار ہے جو مافوق الفطرت ہندو عقیدوں کی باتیں کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے ہم نے مسلم سلطنت کو تباہ کر دیا ہے تم اب بھارت ماتا کی تقدیر بناؤ اب انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی ہے اب اپنی جنگ بند کر دو اس کے بعد راز اور گہرا ہو جاتا ہے دشمن کون ہے؟ جواب ہے اب دشمن کوئی نہیں ہے انگریز جو دوست ہیں اب حکمراں ہیں اور کوئی بھی ان کو جنگ میں شکست نہیں دے سکتا۔ یہ ناول انگریزوں کے دور حکومت میں لکھا گیا تھا اور انگریزوں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت کا بر ملا اظہار ناول میں جگہ جگہ موجود ہے۔
ایسے ناول کے کسی گیت کو حب الوطنی کی علامت کے طور پر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ناول کی پوری فضا میں مسلم دشمنی چھائی ہوئی ہے۔ گیت پر مسلمانوں کا اعتراض آج کوئی نیا نہیں ہے۔ ۱۹۰۸ء میں جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اس گیت پر اعتراضات کئے گئے تو گیت کے حامیوں نے شدت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ امرتسر میں مسلم لیگ کے اجلاس میں سید احمد علی نے اپنی تقریر کے دوران کہا بنکم چندر چٹرجی کا ناول آنند مٹھ اصل میں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کی صورت مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے اور ناول کے گیت وندے ماترم میں تو مسلمانوں کے مذہبی عقیدے کے بالکل خلاف بات کہی گئی ہے۔ مسلمان وطن دوست ہیں لیکن وطن کی پرسش نہیں کر سکتے۔
یہ گیت ہندوستان کی دو بڑی قوموں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازش اتحاد بر قرار رکھنے کے نام پر کانگریس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس گیت کو اپنے اجلاسوں میں نہ گائے اور اس گانے کو اپنے کارکنوں کے لئے ممنوع قرار دے چونکہ اس گیت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
اس گیت کے خلاف ایک مضبوط اور قابل ذکر احتجاج ۱۹۲۳ء میں ہوا جب کالی ناڈا، آندھرا پردیش میں کانگریس کا اجلاس ہو رہا تھا اور وی ڈی پالسکر اس گیت کو سنگیت دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔ مولا نا محمد علی نے جوا س وقت کانگریس اجلاس کے صدر تھے وی ڈی پالسکر کو روکتے ہوئے کہا: گانا بجانا ہمارے مذہب میں جائز نہیں ہے۔ چنانچہ پورا گیت بغیر کسی گاجے باجے کی سادگی سے پڑھ دیا گیا۔
۱۹۳۷ء میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ وندے ماترم میں مناسب ترمیم کر کے اسے سب کے لئے قابل قبول بنا دیا جائے چنانچہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو کلکتہ میں جب کانگریس ورکنگ کمیٹی کا جلاس ہوا تو ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں طے پایا کہ رابندرناتھ ٹیگور ، سبھاش چندر بوس اور پنڈت شہر کو شامل رکھتے ہوئے گیت کا تجزیہ کیا جائے۔
کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ وندے ماترم گیت میں قابل اعتراض باتیں موجود ہیں جو مسلمانوں کے نظریات کے خلاف ہیں اور ان کو پسند نہیں ہیں۔ طے کیا گیا کہ گیت کے پہلے دو بند ہی اجتماعت میں گائے جائیں ۔ درگا اور کالی وغیرہ سے متعلق جو بند ہیں ان کا چلن ترک کر دیا جائے۔
ہندوستان آزار ہوا، قومی ترانہ منتخب کرنے کا وقت آگیا وندے ماترم پر اعتراضات تھے "جن گن من” کسی دیوی دیوتا کی پوجا کا ذکر نہیں تھا اس لئے اسے زیادہ پسند کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ "جن گن من” کو ہی ہندوستان کا قومی ترانہ بنایا جائے۔ یہ سب کے لئے پسند یدہ گیت تھا۔
۲۵ اگست ۱۹۴۸ء کو آئین ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا اور پنڈت نہرو نے اس اجلاس میں قومی ترانہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فوری طور پر قومی ترانہ کے انتخاب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے اجلاس میں موجود آئین مرتب کرنے والے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گورنروں سے قومی ترانہ کے بارے میں ان کے نظریات معلوم کر لئے ہیں اور سب نے جن گن من کو ہی قومی ترانہ بنانے کے بارے میں رائے دی ہے۔ چنانچہ وندے ماترم گیت قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں قومی ترانہ نہیں بن سکا۔ اور جن گن من کو ہی قومی ترانہ مان لیا گیا۔ پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ موسیقی کی دھن پر جن گن من زیادہ آسانی سے گایا جا سکتا ہے۔ ماسٹر کرشنا راؤ دھنوں کے ماہر تھے ان کی رائے میں قومی ترانہ ایسا ہونا چاہیے جس کی دھن مشکل نہ ہو اور آسانی سے گایا جا سکے اور ساز آسانی سے اس کی دھن نکال سکیں۔ ماسٹر کرشنا راؤ نے دونوں گیتوں کی دھنیں پارلیمینٹری کمیٹی کے سامنے پیش کیں۔ پارلیمینٹری کمیٹی نے جن گن من کو ہی پسند کیا اور اسے اتفاق رائے سے قومی ترانہ بنا دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد سیاست شروع ہو گئی۔
مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے وندے ماترم متصادم ہے اس لئے مسلمانوں نے اس گیت کی تخلیق کے دن سے ہی آج تک کبھی بھی اس کو گانے پر رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے۔
یہ مضمون معروف انگریزی روزنامہ پائز میں بھی شائعہ ہو چکا ہے۔
بنکم چندر چڑجی کا ناول آنند مٹھ اصل میں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کی صورت مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے اور ناول گیت وندے ماترم میں تو مسلمانوں کے مذہبی عقیدے کے بالکل خلاف بات کہی گئی ہے۔ مسلمان وطن دوست ہیں لیکن وطن کی پرستش نہیں کر سکتے ۔ یہ گیت ہندوستان کی دو بڑی قوموں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازش ہے۔
یہ ناول انگریزوں کے دور حکومت میں لکھا گیا تھا اور انگریزوں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت کا برملا اظہار ناول میں جگہ جگہ موجود ہے۔ ایسے ناول کے کسی گیت کو حب الوطنی کی علامت کے طور پر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔
musalman vande mataram kyon nahin gate?
musalman vande mataram kyon nahin bolate
musalman vande mataram kyu nahi khate
ماخوز : سہ ماہی رہبر نور
سید اقتدا حسین جعفری مداری مکن پور










