سیدھی بات یہ ہے کہ مسلمان کا سلسلہ ہے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” جس کی زبان پر کلمہ طیبہ کے مقدس الفاظ جاری ہیں اور ضروریات دین میں سے کسی کا انکار نہیں کرتا اس کا سلسلہ درست ہے۔ اللہ و رسول پر ایمان لانے اور توحید و رسالت کی گواہی دینے کے بعد عمر بھر کا کافر و مشرک بھی مومن و مسلمان اور نجات کا مستحق ہو جاتا ہے۔
مسلمانوں! "لا اله الا الله محمد رسول اللہ” دین کی بنیاد کی پہلی اینٹ اور سارے نبیوں کا سب سے اہم اور اول سبق ہے دین کی تمام باتوں میں اسکا درجہ سب سے اونچا ہے سرکار دو جہاں کا ارشاد گرامی ہے
"افضل الذكر لا اله الا الله”
(ابن ماجه ، نسائی) یعنی تمام ذکروں میں افضل و اعلیٰ "لا الہ الا اللہ” ہے۔
یہی کلمہ اسلام کا دروازہ اور دین و ایمان کی جڑ اور بنیاد ہے جو شخص اقرارِ کلمۂِ طیبہ نہ کرے اور اس کو سمجھ کر نہ پڑھے اس کا سلسلہ بلاشبہ منقطع ہے پیغمبر خدا نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے اس کو کچھ واسطہ نہیں وہ بد دین ناری و جہنمی ہے۔
یہ بات یا در رکھنے کی ہے کہ مسلمان کا سلسلہ بغیر کفر و ارتداد کے سوخت نہیں ہوتا اور نہ ختم ہوتا ہے قرآن پاک کی بہت سی آیتوں اور حدیث شریف سے ثابت ہے کہ کافر و مشرک اور منافق بے سلسلہ ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ سلسلہ درست نہیں کافروں کا اور سلسلہ درست نہیں مشرکوں کا اور سلسلہ سوخت و منقطع ہو گیا منافقوں اور مرتدوں کا۔
قرآن پاک نے فرمایا
"اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ”
یعنی بلا شبه منافقین دوزخ کے نیچے درجہ میں ہوں گے۔
مسلمانوں پر سلام الہی
قرآن پاک میں ہے
"وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ”
یعنی پیغمبر اسلام جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں تو آپ فرمائیں تم پر سلامتی ہو اور بشارت دیں کہ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم کو لازم کر لیا ہے۔یہ عام مسلمانوں کے لئے فرمایا گیا ہے جو خاص بندے ہیں ان کی شان نرالی ہے۔
"لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ”
یعنی ان کے لئے دنیا و آخرت میں بشارت و خوشخبری ہے۔
اولیاء اللہ کی عظمت و شان کی تمام آیات تو اس میں نہیں پیش کر سکتا اس لئے کہ اس چھوٹی سی کتاب میں اس کی گنجائش نہیں اس کے لئے ایک مستقل کتاب چاہئے ۔ ہاں آگے چل کر کچھ آیتوں کی تلاوت کا شرف حاصل کروں گا آپ ان کو سمجھ کر ایمان تازہ کریں۔ یہاں سلسلہ کی کڑی یادر ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں خوب سمجھ لیں اور یاد رکھیں کہ دنیا کا کوئی مسلمان بے سلسلہ تھا اور نہ اب ہے نہ آئندہ ہو گا جو شخص کسی مسلمان کو بے سلسلہ کہے وہ جھوٹا ہے دین اور اصول دین سے بے خبر ہے ایسی بے ہودہ اور بے سر و پا باتوں سے توبہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
"كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ”
یعنی تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کئے گئے ہو اچھے کام کرنے کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔
اللہ تعالیٰ بہترین امت فرمائے اور تم سوخت پوخت لئے گھومو خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرو۔
اللہ و رسول کی کسی بات میں شک و شبہ اور بے اعتمادی اور کسی قسم کا تامل یا تذبذب یہ سراسر کفر و انکار جہل و طغیان ہے۔ انسانیت اور ایمان کے بالکل منافی ہے اور کھلی بربریت اور بالکل شیطنت ہے جس کا نتیجہ دنیا میں بربادی اور رسوائی اور آخرت میں سخت سزایابی ہے اللہ پاک اور اس کے رسول مکرم کے ہر حکم اور فرمان کی تصدیق ہو یہی ایمان اور بنیاد اسلام ہے مختصر یہ ہے کہ سلسلہ کو مضبوطی اقرارِ کلمۂِ طیبہ ہے یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا
"قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ”
پیغمبر اسلام کافروں سے فرمادیجئے اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
خانۂِ بے سلسلہ؟
کافر ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے اس لئے کہ ان کا سلسلہ نہیں ہے کبھی بھی عذاب سے ان کی نجات نہ ہوگی اور نہ ان کے عذاب میں کبھی کمی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
"لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ”
نہ ان کا عذاب ہلکا ہو گا اور نہ ان کو مہلت ملے گی۔
خانۂِ با سلسلہ
مومنوں کا ثواب دائمی ہے یہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور کبھی جنت سے نہ نکلیں گے۔ قرآن پاک نے فرمایا
"إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ”
گنہگار مسلمان
اپنے گناہوں کے موافق عذاب بھگتے گا اس کو عذاب دے کر دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ اس کے ایمان کی برکت سے اس کو کافروں کی طرح سیاہ رو نہ کیا جائے گا اور نہ اس کے طوق و زنجیر ڈالیں گے۔ دوزخ کا دائمی عذاب کافروں کے لئے مخصوص ہے جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا اس کا انجام رحمت پر ہوگا اور اس کا مقام جنت ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے یہ بات بالکل روشن ہے کہ ذرہ برابر ایمان والا بخش دیا جائے گا۔ جنت میں داخل ہو گا اگر سلسلہ نہیں ہے تو گنہگار کی نجات کیسی جنت میں جانا کیسا شفاعتِ سرکارِ رِسالت کس کے لئے جو بے سلسلہ ہو اس کے لئے نہیں بلکہ جس کا سلسلہ ہو اس کے لئے ہے۔ سرکار مدینہ رشد و ہدایت کے آخری تاجدار ہیں قیامت تک آپ کا سلسلہ آپ ہی کا زمانہ آپ ہی کا کلمہ آپ ہی کی دی ہوئی کتاب قرآن کافی ہے۔
ہے انہیں کا یہ زمانہ ہے انہیں کی یہ خدائی
جو پڑے کوئی مصیبت تو انہیں کی دے دہائی
مدنی تا جدار احمد مختار نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لو كان موسى حياً ما وسعه الا اتباعي
یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے تو میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
عیسی علیہ السلام صاحب کتاب پیغمبر جن پر انجیل مقدس نازل فرمائی گئی جب آخر وقت میں تشریف لائیں گے تو "لا الہ الا اللہ عیسی رسول اللہ” نہیں پڑھائیں گے بلکہ یہی فرمائیں گے کہ "اے مجھ پر ایمان لانے والے عیسائیو! میں نبی آخر الزماں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں لوسنو! میں کہتا ہوں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یاد رکھئے جس کا کلمہ پڑھا جائے اسی کا سلسلہ ہے۔
الحمد للہ ہم اپنے نبی پر ایمان رکھتے ہیں۔ تعظیم و تکریم صلوۃ و تسلیم بجا لاتے ہیں بلا شبہ ہم سب کا سلسلہ ہے اور ابدُالآباد تک ہے۔
یا الٰہی حشر تک چھوٹے نہ دامان رسول
ہم گنہگاروں کا سلسلہ جب اپنے پیغمبر سے قائم ہے تو کہیں عاشقان الہی اور دیوان گان حق کشتگان خنجر تسلیم سیدان عرب کے سلسلے سوخت ہوتے ہیں اللہ کا عاشق اللہ کا چاہنے والا اللہ کا پرستار اللہ کا فرماں بردار کہیں نامراد ہوتا ہے۔ طالب مولا اپنے مالک کو پاگیا خدا مل گیا۔ خدا تک پہونچا اس کا سلسلہ اتم و بس ہو گیا۔ قرب خدا ملا، دنیا سے بے نیاز ہو گیا شان صمدیت کا مظہر بن گیا۔ بندہ سے بندہ نواز ہو گیا اور خواجہ سے غریب نواز بن گیا اگر کسی بات پر قسم کھالے تو خدا ویسا ہی کردے۔ ولی ہو گیا۔ خدا کا دوست و مقرب ہو گیا ۔ جو اللہ والوں کا ہو گیا اس سے خدا راضی اللہ والوں پر خدا کا انعام ہے جس کا شاہد قرآن ہے۔ قرآن پڑھیے اور سمجھئے۔
أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا
اللہ تعالیٰ نے انبیاء پر انعام فرمایا اور سچے اور شہیدوں اور نیک لوگوں پر ان سب کی رفاقت اچھی ہے ان سے لگاؤ اچھا ہے ان سے عقیدت اچھی ان کی صحبت مفید و بہتر ان کی نگاہ و کرم کایا پلیٹ۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو عزم یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
ان کی محبت اور سر کار زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کے سلسلہ پاک میں داخلہ دونوں جہاں کی کامیابی اور سعادت ہے۔
قرآن پاک میں اعلان فرمایا
ٱلۡأَخِلَّآءُ يَوۡمَئِذِۭ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ إِلَّا ٱلۡمُتَّقِينَ
یعنی جس دن ایک دوست دوسرے دوست کا دشمن ہوگا اس دن اللہ والے فراموش نہ کریں گے۔ دنیا میں دستگیری کرنا اللہ والوں کی شان ہے۔ اللہ کا ولی ایماندار اور ایمان بخش ہوتا ہے ان کی نظر کیمیا اثر ہوتی ہے ان کی آن میں انسان کچھ سے کچھ ہوتا ہے۔
ازقلم : سید العلماء حضرت مولانا سید غلام سبطین علیہ الرحمہ مکن پور شریف۔
ماخذ : کتاب ۔ سید الاقطاب صفحہ ۳۱ تا ۳۷










