رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

مدار پاک کی کرامات

On: نومبر 7, 2025 12:17 شام
Follow Us:
madare pak ki karamat, madare paak ki karamat

عورت مرد ہو گئی

ایک مرتبہ حضور سیّدنا سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خادم کو قریب کے ایک گاؤں میں بھیجا کہ کوئی معقول جگہ دیکھ کر خدائے واحد کی عبادت کرنے کے لئے ایک عبادت خانہ بنائے۔ وہ خادم جب گاؤں میں پہنچے تو وہاں کے جادوگروں نے ان کو بکری بنا دیا۔ حضور مدار العالمین کو جب اس حال کی خبر ہوئی تو آپ تشریف لے گئے۔ حضور مدارالعالمین نے عبرت دلانے کی غرض سے ان غافلوں ظالموں کی دو باندیاں جن کو وہ کہیں سے اُدھار لائے تھے، آپ کی دعا سے اللہ نے ان کے جسم بدل ڈالے اور وہ عورت سے مرد ہو گئیں۔ باندیوں کو بدلا ہوا دیکھ کر سب لوگ آپ کی عظمت سمجھ گئے اور آپ کی بارگاہ پناہ میں حاضر ہوئے اور اپنی خطاؤں کی معافی چاہی۔ حضور مدار پاک نے انھیں معاف فرما دیا اور خدا سے ان کے جسم بدلنے کی دعا مانگی۔ خدا نے پھر انکے جسم مرد سے بدل کر عورت یعنی باندیوں جیسے کر دئیے اور ان لوگوں نے سچے دل سے اسلام قبول کیا۔


آگ کا شعلہ کھا گئے

ایک دن حضرت سیّدنا سید بدیع الدین قطب المدار حضور مدارالعالمین رضی اللہ عنہ اپنے حجرہ شریف کے باہر چند خلفا اور مریدین کے ساتھ تشریف فرما تھے اور رموزِ اسرار، تصوف و فقر و سلوک پر تقریر فرما رہے تھے کہ یکایک ایک گروہ باشندگانِ قنوج کا خدمتِ با برکات میں حاضر ہوکر فریادی ہوا کہ یا حضرت! آپ ابنِ آلِ رسول ہیں۔ آپ کے گھر سے ہمیشہ خلقُ اللہ کی مدد اور مشکل کشائی ہوتی رہی ہے، ہمیشہ بہبودی و فلاحِ امت آپ کے مدنظر رہی ہے۔ حضور! ہم آپ کے خادمان و غلامان وبا سے تباہ ہو رہے ہیں، آپ ہماری حالت پر نظرِ رحمت فرمائیے اور ہم مصیبت کے ماروں کو اس وبا سے دور فرمائیے جس نے ہماری بستیوں کو ویران کر دیا ہے۔

حضور مدار العالمین نے سب کی داستانِ رنج سن کر حضرت شہاب الدین قدوائی رحمۃ اللہ علیہ کو حکم دیا کہ جلدی جاؤ اور اس مرض کو ختم کرو۔

شہاب الدین ان فریادیوں کے ساتھ گئے اور تین روز شہر سے باہر رہ کر مشغولِ دعا رہے۔ تین روز کے بعد تیز آندھی سی اٹھی اور تمام علاقہ تاریک ہو گیا۔ اس گرد و غبار کے اندھیرے سے ایک شعلہ نکل کر حاجی شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آیا۔ حاجی شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ نے منہ کھول کر اس شعلے کو کھا لیا۔ اس کے بعد جو وبا و گرد و غبار تھا وہ ختم ہو گیا۔ اس شعلے کے کھانے سے قاضی شہاب الدین کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔ اس واقعے کی خبر جب حضرت شاہ مدار رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ تشریف لائے۔ قاضی صاحب کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، درد کی شکایت دور ہو گئی، اور مدار پا نے ارشاد فرمایا: کہ اے شہاب الدین! جو شعلہ تم نے کھا لیا وہ در حقیقت وبا تھی۔ لہٰذا اب خدا نے تم کو شفا دی اور تمہارے ذریعہ خلقِ خدا کو وبا سے نجات عطا فرمائی۔

قارئین! ملنگ کتاب (مصنف: مفتی سید شجر علی) میں لکھا ہوا ہے کہ اس وقت قنَّوج میں بابا بھیکھا اور بابا گوپال نام کے دو مشہور بابا تھے۔ قنَّوج کے لوگ اُنہیں بہت مانتے تھے۔ سارے لوگ اُنہیں کے پاس اِکٹھّا ہوئے اور کہا: بابا! کیوں نہ ایک بُڑھیا کو مار کر کہہ دیا جائے کہ آپ کی بات جھوٹی نکلی۔ دونوں بابا نے کہا: کہہ تو ٹھیک رہے ہو، مگر ایک بات پر غور کیا؟ ۳۹ دن ہو گئے ہیں، قنَّوج میں انسان تو کیا ایک چِڑیا بھی نہیں مری ہے۔ یعنی جس نے اُس بندے کو بھیجا تھا اُس نے موت کو اپنی مُٹّھی میں بند کر لیا ہے۔

یاد رکھو! جو مُٹّھی بند کر سکتا ہے وہ مُٹّھی کھول بھی سکتا ہے۔

اگر اُس نے اپنی مُٹّھی کو کھول دیا تو قنَّوج کا ایک بھی بندہ زندہ نہ بچے گا۔ تم لوگ کل کی بات کرتے ہو، ہم دونوں بھائی آج ہی اُن کی شخصیت و دین کا اعتراف کرتے ہیں۔ پھر وہ سارے لوگ زندہ شاہ مدار کے مُرید ہوئے۔ خاص طور پر بابا بھیکھا اور بابا گوپال خلیفۂ قطب المدار ہوئے۔ بابا بھیکھا کا مزار بالا پیر کے پاس، بجلی کے کھمبے کے سامنے ایک چھوٹی سی گلی میں ہے۔ تھوڑی ہی دُور پر محل کا چراغاں ہے جہاں بابا گوپال کا مزار ہے۔ اُنہیں سید بابا کہا جانے لگا۔


اندھے کو آنکھیں

حضور سیدنا مدار العالمین رضی اللہ عنہ دین محمدی ﷺ  کی تبلیغ فرماتے ہوئے جب سورت شہر پہنچے تو چاروں طرف سے لوگ آپ کی زیارت و اکتساب فیض کے لیے حاضر ہونے لگے۔ راستے میں ایک نابینا بیٹھا ہوا تھا جو اپنی معذوری و کمزوری کی وجہ سے بھیک مانگا کرتا تھا۔ آپ کو اس کی حالت دیکھ کر رحم آ گیا، آپ نے اسی وقت وضو فرمایا اور وضو فرماکر وضو کا بچا ہوا پانی اس کی آنکھوں پر لگادیا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ آپ کی دعا بارگاہِ خداوندی میں فوراً قبول ہوئی اور اندھا آدمی آنکھ والا ہو گیا۔

مدار پاک کی اس کرامت سے سورت(گجرات) اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے آپ کی بہت عزت کرنے لگے اور آپ پر جاں نثار ہونے لگے۔

میلہ بسنت پنچمی کے موقع پر آج بھی ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک بہت بڑا سنگم ہوتا ہے جو بسنت کے نام سے مشہور ہے۔

خواجہ مصباح المراد مکن پوری فرماتے ہیں

دیتا ہے ہر ایک آنکھ کو بینائی عرفانیت
تیرے چراغ در کا یہ کاجل مدار العالمیں


گوشت کے ٹکڑے میں جان آ گئی

شہر قنوج میں ایک ایسا بھی شخص رہتا تھا، جو بے اولاد تھا۔ جب حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کی عنایات و الطاف کرامات کی شہرت ہوئی تو وہ شخص بھی حضور مدار پاک کا چرچہ سن کر اپنی عورت کے ساتھ مکن پور شریف میں حاضر ہوا۔ حور مدار پاک نے اس کے حق میں دعا فرمائ، اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا مگر ولادت عجیب طرح سے ہوئی بچہ ایک گوشت کے ٹکڑے کے مانند تھا۔ وہ اسے اٹھا کر آپ کی خدمت میں لایا۔ آپ نے اس کو بغور دیکھا اور اپنی باطنی قوت سے اس کے نقائص دور کر دیے، جس کے اثر سے وہ رونے لگا اور اللہ نے اسے زندگی عطا فرما دی۔

اس کی نسل اب تک باقی ہے، اور وہ زمانہ میں الرائے کے نام سے مشہور ہوئے۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

نئی حیات جو دیتا ہے مردہ روحوں کو
زمانے والو وہ زندہ مدار کا در ہے

خواجہ مصباح المراد مکن پوری فرماتے ہیں

خالی نہ جائے جس کے در سے کوئی سوالی
جو سب پہ دت لٹائے لاؤ مدر


مدار والوں نے لوہے کے چنے چبا دیے

یہ روحانی واقعہ اس زمانہ کا ہے جب حضرت مدارِ پاک قدس سرہ کوکلا پہاڑی اجمیر شریف میں قیام فرما تھے کہ اَدھرناتھ نام کے ایک جادوگر آپ کی شہرت و مقبولیت کو عام ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور حضور مدار پاک کی مقبولیت سے اسے حسد ہونے لگا  ایک دن ادھرناتھ جادوگر مداریوں کا  امتحان لینے کی غرض سے لوہے کے چنوں کا تھیلا لیکر مدار پاک کی بارگاہ مبارک میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں نے تو آگ میں پانی اور پانی میں آگ لگائی ہے اگر تم بھی کمال والے ہو تو میرے چنے چباکر دکھاؤ یہ کہہ کر وہ لوہے کے چنوں کا تھیلا مدار پاک کو پیش کیا۔

آپ نے فرمایا: میرا تو روزہ ہے، میرے ہمراہوں،غلاموں میں تقسیم کر دو۔

جب وہ لوہے کے چنے آپ کے مریدین و خلفا کے ہاتھوں میں پہنچے تو سب نے مل کر ان چنوں کو چبا لیا۔ جادوگر ان لوگوں کے چہروں کو دیکھا ور حیران ہوا۔ وہ تو صرف اس بات کا امتحان لینے ایا تھا کہ یہ لوہے کے چنے جبا پائیں گے یا نہیں لیکن حضرت قطب المدار رضی اللہ عنہ نے اُسے اِس سے بڑی کرامت یہ دکھائی کہ ایک چنا اپنے دستِ مبارک سے اس پہاڑی پر دفن کر دیا، جس سے بہت بڑا ایک درخت نکلا اور اس کے پھل بھی عام پھلوں سے بڑے نکلے۔

جب جادوگر نے یہ دیکھا تو اسے بھی تعجب ہوا کہ لوہے کے چنے سے درخت نکل آیا۔ جادوگر ادھرناتھ بہت حیران ہوا اور تائب ہوکر کلمہ پڑھ لیا اور اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوا، جس کی اولاد آج بھی موجود ہے، جو جوگی کہلاتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ایک کہاوت مشہور ہوگئ – کہ مدار والوں نے لوہے کے چنے چبادئے، لوہے کے چنے چبانا آسان نہیں۔


زندہ آدمی کا جنازہ

حضرت مولانا قاضی شہاب الدین دولت آبادی جو ملک العلماء کے لقب سے مشہور تھے اور شیراز ہند جونپور کے بادشاہ ابراھیم شاہ شرقی حسینی مداری کے عہد میں   قاضی القضاة کے عہدے پر فائز تھے۔

جب قاضی صاحب نے جب قطب المدار کی عادت و کرامت کا شہرہ سنا تو تمام باتوں کو محض خیالی سمجھا۔

پھر کیا تھا، قاضی صاحب نے بارگاہ قطب المدار میں چند سوالات پیش کردیے۔ حضرت قطب المدار نے قاضی صاحب کے سارے سوالوں کے جوابات دیے۔ جب پھر بھی دل کو تشفی اور مطمئن نہ ہوئے تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ قاضی صاحب نے امتحان کی غرض سے ایک آدمی کو مردے کی طرح کفن پہنایا اور مصنوعی جنازہ تیار کرکے چند آدمیوں کے ساتھ وہ جنازہ خدمت میں بھیجا، اور ان لوگوں کو ہدایت کی کہ آپ سے نماز پڑھانے کو کہیں۔ مقصد یہ تھا کہ اگر آپ روشن ضمیر بزرگ ہونگے تو زندہ کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائیں گے، اور اگر پڑھ دی تو حقیقت کھل جائے گی۔

غرض، لوگ جنازہ لے کر آپ کی خدمت میں پہنچے اور نماز پڑھانے کی درخواست کی۔ حضور مدار پاک اٹھے، نمازِ جنازہ پڑھائی، اور پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے قہہ قہے لگا کر ہنسنا شروع کردیا لیکن جب سر سے کفن ہٹایا تو وہ آدمی واقعی مر چکا تھا۔

جب یہ حال قاضی شہاب الدین کو معلوم ہوا تو فوراً دوڑے دوڑے حضرت قطب المدار رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور معافی کی درخواست کی۔


مدارِ پاک کی دعا سے بارش

ایک مرتبہ بنگال کے علاقہ میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط پڑ گیا۔ کاشتکاری بے سود ہوگئی، فصلیں تباہ ہو گئیں، اناج کمیاب ہو گیا اور مخلوقِ خدا فاقوں اور بھک و پیاس سے مرنے لگی۔ شہر کے لوگ جمع ہو کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارش کے لیے ربّ کائنات سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ مخلوقِ خدا کو پریشان دیکھ کر حضور مدار پاک تڑپ اٹھے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کرنے لگے:

اے میرے ربّ! میں بندہ ہوں، احساسِ شرمندگی کے ساتھ تیرے در پر حاضر ہوں، اپنی مخلوق پر رحم فرما، اور اپنے پیارے محبوب محمد مصطفے ﷺ کے طفیل بارانِ رحمت کا نزول فرما۔

اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی ایسی موسلادھار بارش ہوئی کہ لوگوں کو واپس ہونا دشوار ہو گیا، یہاں تک کہ سارا شہر سیراب ہو گیا۔

لوگ خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس گئے اور پورے بنگال میں مدار پاک کے فضل و کمال کی شہرت عام ہو گئی۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

دہائی تو دو قطب ہر دو جہاں کی
قبول خدا ہر مناجات ہو گی


مردہ کھوپڑی بول اُٹھی

ایک مرتبہ سرکار سرکاراں حضرت سیدنا سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ ایک میدان سے گزر رہے تھے۔ آپ کے خلفا بھی آپ کے ساتھ تھے۔

حضرت خواجہ سید ابو تراب فنصور رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ انسان کی ایک کھوپڑی آپ کو نظر آئی۔
جب مدار پاک قریب پہنچے تو اس کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا
تو کون ہے؟ تیرا قصہ کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اسے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔
اس نے عرض کیا

اے اللہ کے ولی! میں فلاں بن فلاں کی مزدوری کرتا تھا، جو اجرت مقرر تھی، اسے خود اور بال بچوں میں خرچ کر کے خوش رہتا تھا، اچانک حضرتِ عزرائیل علیہ السلام آ گئے اور میری روح قبض کر لی، بارہ سال کا عرصہ گزر گیا ہے، طرح طرح کے عذاب و مصیبت میں مبتلا ہوں اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔

کھوپڑی کی روداد سن کر حضرت سیدنا قطب المدار رضی اللہ عنہ کو غم ہوا۔
آپ نے بارگاہِ ربّ العزت میں عاجزی کے ساتھ عرض کیا
مالک و مولا! اس بےجان کو زندگی عطا فرما دے۔

آپ کی دعا قبول ہوئی اور اس کھوپڑی کو جسم و جان عطا ہوئی۔ آپ نے اس کا نام زمزمہ رکھا، اور وہ بارہ سال تک زندہ رہا۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

ترا فيض لخت دل علی یہ سنا گیا ہے گلی گلی
کبھی مردہ روحوں کو جاں ملی کبھی ڈوبی کشتی ابھر گئی


ڈوبی کشتی نکل گئی

ایک مرتبہ حضرت سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک سوداگر نے اپنا ساز و سامان کشتی میں بھرا اور روانہ ہو گیا۔ کچھ دیر سفر کرنے کے بعد سوداگر کی وہکشتی دریا میں ڈوب گئی۔ ایک دہقان اس حال کو دیکھ رہا تھا، اس نے شور مچایا اور بھاگ کر حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام حال عرض کیا۔

مدار پاک نے دریا میں غرق ہونے کی روداد سننے کے بعد ایک مٹھی خاک اسے دی اور فرمایا کہ دریا میں ڈال دو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ قدرت الہی مدار پاک کے طفیل ایسا عجیب نظارہ دکھایا کہ کشتی دریا سے نمودار ہو گئی۔

اس تاجر نے جب یہ کرامت دیکھی تو خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے حالات سے توبہ کی، اور اپنے ہمراہوں کے ساتھ ایمان والا ہو گیا۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

جب بحر حوادث میں کشتی طوفان سے ٹکرانے ہے چلی
کی اپنے غلاموں کی اس دم امداد مدار عالم نے

خواجہ مصباح المراد مکن پوری فرماتے ہیں:

میری کشتی کی نہ خدائی کو
نعرۂ دم مدار کافی ہے

علامہ قاری سید محضر علی مکن پوری فرماتے ہیں:

طوفان خود ہی کشتی کنارے لگا گیا
گونجی صدا فضاؤں میں جب دم مدار کی


پھول کی باتیں

ایک مرتبہ حضرت شیخ عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی خدمت میں ایک کیوڑے کا پھول پیش کیا۔
شیخ عیسی رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا: خوشبودار پھول قبول کرنا جائز نہیں۔
حضور مدار پاک نے ارشاد فرمایا: ہاں قبول نہیں کرنا چاہیے بشرطِ مشکوک و مشتَبِہ نہ ہو۔

اس سلسلے میں شیخ عیسی نے کچھ زیادہ گفتگو کرنا چاہی، مگر اللہ کی قدرت اور مدار پاک کی کرامت سے وہ پھول بزبان ہو گیا، بولنے لگا اور بات چیت کرنے لگا، اور اپنے مشکوک و مشتَبِہ ہونے کی گواہی دی۔
اس کرامت سے شیخ عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کو بھرے مجمع میں شرمندہ ہونا پڑا۔
اس قسم کے بہت سے واقعات جونپور میں ظہور میں آئے ہیں۔


سوکھا پیڑ ہرا ہو گیا

ایک دن حضور سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ وعظ فرما رہے تھے، ہزاروں کی مجلس ایک عظیم مجمع تھا۔ ایک شخص لوگوں سے پوچھنے لگا کہ یہاں یہ میلہ کیسا لگا ہوا ہے؟ اتنے لوگ کہاں سے اکٹھے ہو گئے؟ شیخ محمد بقاءاللہ نے بتایا کہ حضرت سیدنا بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ میرے پیر و مرشد جلوہ فرما ہیں، جو درجۂ قطب المدار پر فائز ہیں یہ کثیر مجمع ان کی زیارت کو آیا ہے۔

وہ شخص دل میں خیال کرنے لگا کہ ایسی ولایت کا میں قائل نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے کوئی کرامت نہ دیکھ لوں۔ اللہ اکبر اس کے دل کے اس حال کی خبر حضرت قطب المدار رضی اللہ عنہ کو ہوگئی۔
حضور سیدنا بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو اپنے قریب بلایا اور دریافت کیا

اے شخص! تیرے سامنے جو درخت ہے، وہ کس چیز کا ہے؟ کہنے لگا: حضرت! ایک مدت گزری، اس پر بجلی گری تھی، جسے برابر دیکھتا ہوں، مگر کون بتائے کہ یہ کس کا درخت ہے؟

پھر آپ نے فرمایا: اے شخص! تُو اپنی آنکھ اٹھا اور اس درخت کی طرف دیکھ، اب تُو بتائے گا کہ یہ درخت کس چیز کا ہے۔ اس شخص نے نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہے کہ درخت ہرا بھرا ہو گیا اور ناریل کے پھل دکھائی دینے لگے۔
سرکار نے فرمایا:
اب تو تیری منشا پوری ہو گئی؟ وہ شخص آپ کے قدموں میں گر پڑا اور کہنے لگا: حضرت! مجھے معاف فرما دیجئے۔
آپ نے اسے اٹھاتے ہوئے فرمایا: مجھے یہ خطرہ ہے کہ اس درخت کو کوئی کاٹ نہ ڈالے، یہ بدبختی کی نشانی نہ بن جائے۔ اس درخت کے پھلوں میں یہ تاثیر تھی کہ جو اسے کھاتا پیتا، آنکھوں کے تمام امراض سے محفوظ رہتا۔


کنویں میں سیلاب

یہ کرامت اس زمانے کی ہے کہ جب حضرت زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ اپنے مریدوں کے ساتھ افغانستان کے پایۂ تخت شہر کابل میں ایک سر سبز و شاداب جگہ پر قیام فرما تھے۔ کہ حضور مدر پاک نے پانی لانے کا حکم فرمایا، آپ کے خادم کنویں کا پانی لانے کے لیے گئے، اور جب پانی بھرنے کے واسطے کنویں پر پہنچے تو کچھ شرپسندوں نے خادم کو پانی بھرنے سے روکا اور پانی نہ لینے دیا۔
خادم نے واپس آ کر سارا قصہ حضور مدار پاک سے بیان کیا۔ مدار پاک نے جلال میں آ کر ارشاد فرمایا
جاؤ، کنویں سے کہہ دینا کہ شہیدِ کربلا کے پوتے بدیع الدین نے تجھے بلایا ہے۔
آپ کے خادم دوبارہ کنویں پر پہنچے اور جو کچھ آپ نے فرمایا تھا، وہ سب کنویں سے کہہ دیا۔

کنویں نے جب نامِ نامی اسمِ گرامی آپ کا سنا تو اس قدر جوش میں آیا کہ پانی اوپر آ کر چاروں طرف پھیل گیا اور ایک طوفانی شکل اختیار کرلی۔

جب خادم نے اپنے سب برتنوں میں پانی بھر لیا تو کنویں کا جوش کم ہو گیا اور پانی پھر اپنی تہہ میں ٹھکانے پر پہنچ گیا۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

ہے کمال اسم اعظم کا تم کو ملا
بس میں ہیں خاک اور آگ پانی ہوا
سب پر تم حکم راں تم پہ لاکھوں سلام
میرے قطب زماں تم پہ لاکھوں سلام

جب پانی روکنے والوں نے یہ کرامت دیکھی تو آپ کے قدموں پر گر پڑے اور اپنے قصور کی معافی مانگی۔ آپ نے انہیں معاف کر دیا اور وہ سب ہدایت یافتہ ہو گئے۔


اجمیر والوں کی حفاظت

یہ ۳۰۰ ہجری کے دور کی بات ہے کہ جب پہلی بار حضور سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ اجمیر میں پہنچے، اجمیر پہنچنے کے بعد مدار پاک نے کوکلہ پہاڑی پر قیام فرمایا۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ ابھی خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی جبکہ مدار پاک کے تشریف لانے سے پہلے سیّد میر حسین خنگ سوار قدس سرہٗ اور ان کے ساتھی شہید ہو چکے تھے۔ تارا گڑھ پر ان شہیدوں کی لاشیں بغیر کفن پڑی ہوئی تھیں جن سے تکبیر کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ لوگ ان آوازوں کو سن کر بہرے ہو جایا کرتے تھے، اور طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھے۔ وہاں کے لوگوں نے کوشش کر کے جادوگروں کو بلایا کہ کسی طرح یہ آوازیں بند ہو جائیں،
لیکن تمام کوششیں بےکار ثابت ہوئیں۔

جب مدار پاک اجمیر تشریف لائے تو اجمیر کے رہنے والوں کو خیال آیا کہ اس سے پہلے جب ایک بار مسلمان آئے تھے تو انہوں نے شہر کا یہ حال کیا، کہ آج تلک راتوں میں ہمارا کوئی بچہ سو نہیں پاتا ہے یہ آج پھر آئے ہیں، نہ جانے کیا ہو

بہرحال، یہ تمام گزری ہوئی باتیں یاد کرنے کے بعد وہ تمام لوگ جو ان میں سنجیدہ تھے وہ قطب المدار رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی مصیبتوں کا اظہار کیا۔ آپ نے بغیر تفریق مذہب و ملت تسلی و تشفی دی اور وعدہ کرکے فرمایا:
کہ تم لوگ جاؤ، آج کی رات سے یہ آوازیں آنا بند ہو جائیں گی۔
مدار پاک نے اپنے خلفاء کو حکم دیا کہ
جاؤ تارا گڑھ پر جو شہیدوں کی لاشیں ایک زمانے سے بغیر کفن پڑی ہیں، جن کا پوچھنے والا خدا کے سوا کوئی نہیں
ان کو دفن کر کے آؤ

آپ کے خلفاء نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور شہیدوں کی لاشوں کو دفن کر دیا۔ اب رات سکون سے گزری، صبح بہت سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کا شکریہ کیا اور آپ سے محبت کرنے لگے۔ اس کے بعد سرکار قطب المدار رضی اللہ عنہ نے ان کی زبان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ ایمان میں داخل ہو گئے۔

خواجہ مصباح المراد مکن پوری فرماتے ہیں:

اجمیر ہو یا کلیر دیوا ہو یا کچھوچھہ
ہیں سب پہ جس کے سائے لاؤ مدار جیسا


نصیبہ کا نصیب

حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوثِ صمدانی رضی اللہ عنہ کی دو بہنیں تھیں، ایک کا نام سیدہ زینب تھا، اور دوسری بہن کا نام سیدہ بی بی نصیبہ تھا۔

کہتے ہیں کہ بی بی نصیبہ لاولد یعنی بےاولاد تھیں۔ اپنی خالی گود پر نظر ڈالنے کے بعد حضرت بی بی نصیبہ ایک دن گھبرا کر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور دعا کی درخواست کرنے بعد عرض کرنے لگیں

اے بھائی جان! کائنات کا ذرہ ذرہ آپ کے فیوض و کرم سے مستفیض ہو رہا ہے، اور میری گود اولاد سے خالی ہے کہ میری کوئی اولاد نہیں ہے برائے کرم میرے لیے دعا کیجئے کہ رب تبارک و تعالی میرے آنگن میں خوشی کا پھول کھلا دے، میری خالی گود کو اولاد کی خوشی سے بھر دے۔ سیدہ بی بی نصیبہ کی دُکھیاری صدا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے بغور سنی، اور لوحِ محفوظ کا مشاہدہ کرکے فرمایا:

اے میری بہن! اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد سے نوازے گا، لیکن تمہاری اولاد کی ولادت کا دار و مدار زندہ شاہ مدار کی دعا پر ہے، عنقریب وہ تشریف لانے والے ہیں، تم ان سے دعا کی درخواست کرنا، جب وہ تمہارے لیے دعا کریں گے، خدا تمہیں صاحبِ اولاد کرے گا۔

اس واقعے کو ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ سیدنا مدارالْعالمین رضی اللہ عنہ کی آمد کا ذکر گھر گھر ہونے لگا کے مدار پاک آنے والے ہیں، جب حضور مدار پاک بغداد آگئے تو یہ خبر سیدہ بی بی نصیبہ کو پہنچی، آپ مدارِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور روداد غم سنا کر دعا کی درخواست کی۔ سرکار مدار پاک نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ تمہیں دو بیٹے عطا فرمائے گا، لیکن ایک بیٹا تم مجھے تبلیغِ دین کے لیے پیش کرنا، اور ایک بیٹا اپنے پاس رکھنا۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

مایوسی کے بندھن سے کر کے آزاد مدار عالم نے
دے دی ہے نصیبہ بی بی کو اولاد مدار عالم نے

الغرض سیدہ بی بی نصیبہ نے آپ سے وعدہ کر لیا کہ میں ایک بیٹا اپ کی بارگاہ میں پیش کر دوں گی۔ جب تیسری بار سرکارمدار پاک بغداد تشریف لے گئے تو سیدہ بی بی نصیبہ کے دو صاحبزادے تھے بڑے کا نام سید محمد اور چھوٹے کا نام سید احمد تھا۔ سرکار مدار پاک کچھ دن بغداد میں قیام پذیر رہے۔ سیدہ بی بی نصیبہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور اور اپنا ماضی کا کیا ہوا وعدہ یاد کر کے اولاد کی جدائی کو مد نظر رکھتے ہوئے محبت سے یہ جملہ بولیں کہ ایک دن سید محمد اپنے گھر کی چھت پر تھے کہ اچانک چھت سے گرے اور وصال ہو گیا

سیدہ بی بی نصیبہ نے حضرت سید محمد رضی اللہ عنہ کے وصال کا جملہ اس لیے کہا تھا کہ کیونکہ مدار پاک سے وعدہ کر چکی تھیں کہ اپنا بڑا بیٹا آپ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے اور اب جب اولاد کی جدائی یاد آئی تو اس غم کو برداشت نہ کر سکیں اور بچے کو اپنے سے دور نہ کرنے کی وجہ سے یہ جھوٹ بول دیا کہ میرا بیٹا چھت سے گر کر انتقال کر گیا تاکہ مدار پاک سید محمد کو مجھ سے نہ لے جائیں لیکن حضرت سید محمد رضی اللہ تعالی عنہ زندہ تھے مگر جب حضرت سیدہ بی بی نصیبہ اپنے گھر پہنچی تو سید محمد کا بےجان جسم دیکھا تو گریہ و زاری کرنے لگیں، ایسے رونے پیٹنے کی حالت میں انہیں یاد آیا کہ یہ بچہ تو وہی ہے جسے مدارِ پاک کی بارگاہ میں پیش کرنے کا میں نے عہد کیا تھا، سیدہ بی بی نصیبہ نے سید محمد کی لاش کو سرکار کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا:

آپ کی دعا سے دو بچے اللہ پاک نے عطا فرمائے، جو بچہ آپ کے لیے تھا، اسے اللہ نے اٹھا لیا — اب اس کی لاش حاضر ہے ، حضور میری معصیت کو معاف فرما دیں، اور میرے محمد کو دوبارہ زندہ فرما دے
سرکار مدار پاک نے فرمایا

اے نصیبہ! تیرے نصیب کا یہ بچہ نہیں ہے، اس کا نصیب کاتبِ تقدیر نے میرے ساتھ تبلیغِ اسلام کے لیے جوڑا ہے، اب تمہارا اس پر کوئی حق نہیں۔ سیدہ نے رو رو کر عرض کیا

مُردوں پر کس کا حق ہوتا ہے؟ اتنا سن نھ کے بعد حضور سیدنا مدارالْعالمین رضی اللہ عنہ سید محمد کے سرہانے کھڑے ہو کر ارشاد فرمانے لگے:

اے جمال الدین جانِ منِ جنتی! اٹھ اللہ کے حکم سے!
یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ سید محمد کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

علامہ ادیب مکن پوری فرماتے ہیں:

یہ بات بی بی نصیبہ کے لال سے پوچھو
حیات کس کی نگاہ کرم کا صدقہ ہے

اس کے بعد سے سید محمد جمال الدین جانِ منِ جنتی کے نام سے مشہور ہو گئے اور آپ کو جانمن جنتی، جمن جنتی، جمیل شاہ، داتا جمال شاہ اور دیگر مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے، دنیا کے کئی ملکوں میں آپ کے چلّے اور نشانِ کرامت موجود ہیں۔

الغرض، سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا مدارِ اعظم کی اس کرامت کے بعد اپنے دو بھتیجے اور دو بھانجے ان کی بارگاہ میں پیش کر دیے۔


حضور قطب المدارکا میوات میں قیام اور باون چوروں کا ایمان لانا

جب حضرت قطب المدارنے میوات میں قدمِ مبارک رکھا تو آپ نے ایک پہاڑ پر قیام فرمایا۔ تمام خلفا آپ کے قرب میں جمع تھے۔ جب اہلِ میوات کو یہ خبر پہنچی کہ قطب المدارپہاڑ پر موجود ہیں تو ایک آن میں عوام کا ایک عظیم ہجوم قربِ بدیع الدین میں جمع ہو گیا۔
حضرت سید بدیع الدین قطب المدارنے مجمع کو خطاب فرمایا اور ارشاد کیا

ایک خدا نے یہ دنیا پیدا فرمائی، پانی خدا نے پیدا کیا، تمام خلقت خدا نے بنائی۔ اس نے فرمایا کن فیکون، اور جب مشیتِ ایزدی چاہے قیامت برپا ہو جائے۔ خدا نے اپنی پوری مخلوق پر احسان فرمایا۔ انسان روزی اور رزق تلاش کرتا ہے تو خدا بے حساب عطا کرتا ہے۔ اے لوگو! تم دولت پر غرور نہ کرنا، بلکہ عاجزی تمہارا شعار ہونا چاہئے۔
روزانہ قطب المدارخطاب فرماتے اور دنیا ان کے کلماتِ نور سے فیض حاصل کرتی۔

ایک رات کا ذکر ہے کہ باون چور، جو پہاڑ پر چوری کے ارادے سے چڑھے تھے (جہاں حضور قطب المدارچلہ کش تھے)، جیسے جیسے وہ قریب آتے جاتے، ان پر ایک ہیبت طاری ہو جاتی اور ایک غیر مرئی قوت انہیں پیچھے دھکیل دیتی۔ چوروں کے امیر نے کچھ قدم بڑھانے کی کوشش کی تو حضرت قطب المدارکے عتاب نے اس پر اثر کیا اور وہ اچانک اندھا ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر تمام چور زار و قطار رونے لگے، سینہ کوبی کرنے لگے اور حضرت کی حضوری میں عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگے

حضور! ہم نے خطاؤں پر خطائیں کیں۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ محض ایک صاحبِ ثروت بزرگ ہیں، میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آپ خدا کے برگزیدہ صوفی اور ولیِ کامل ہیں۔ حضور! میں چوری کی نیت سے آیا تھا، مگر اب اپنے گناہوں پر پشیمان ہوں، توبہ کرتا ہوں اور آپ کے قدموں میں حاضر ہوں۔

حضرت قطب المدارنے ان سب پر دستِ شفقت پھیرا۔ آپ کی نگاہِ ولایت نے ایسا اثر دکھایا کہ اندھوں کو بینائی حاصل ہو گئی۔ یہ منظر دیکھ کر سب کے دلوں میں انقلاب پیدا ہو گیا۔ وہ باون چور، جو رات چوری کے ارادے سے آئے تھے، ایمان کی روشنی سے منور ہو گئے۔ سب نے دینِ مصطفی ﷺ قبول کیا، مرید ہوئے، اور بعد میں سب خلیفہ بنائے گئے۔ حضرت قطب المدارنے ان سب کو ایک خاص لقب عنایت فرمایا — باون گوتر۔

ان میں چند چوہڑ بھی تھے، جنہیں حضور نے بی کا نام دیا۔ اسی نسبت سے علاقۂ میوات میں آج بھی ایک مشہور میلہ منعقد ہوتا ہے، جسے چوہڑ نامی میلہ کہا جاتا ہے۔

یوں قطب المدارکی نگاہِ کرامت نے نہ صرف اندھی آنکھوں کو روشنی بخشی بلکہ گناہوں کے اندھیروں میں بھٹکتے دلوں کو ایمان و معرفت کی روشنی سے منور کر دیا۔


طوافِ مدار، طوافِ حج بن گیا

جس زمانے میں حضرت سید بدیع الدین قطب عالمؒ سورت میں مقیم تھے، اس وقت قربِ بدیع الدین میں ایک عظیم میلہ لگتا تھا، جہاں ہزاروں افراد فیض حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ پستیاں بلندیوں پر آگئیں ہیں، اور ذرّے آفتاب بن گئے ہیں۔ فقیر بادشاہوں جیسے عزت و وقار کے حامل تھے۔
حضرت قطب المدارتبلیغِ دین میں ہمہ تن مصروف رہتے۔ آپ فرماتے تھے

خدا نے تمہیں اشرف المخلوقات بنایا، تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی، لیکن تم نہ روزہ رکھتے ہو، نہ نماز پڑھتے ہو، نہ حج کرتے ہو، نہ زکوٰۃ دیتے ہو۔ تم مسلمان ہو مگر تمہیں اپنا طریقہ یاد نہیں! آپ کی تبلیغ کا اثر اتنا گہرا تھا کہ کافر ایمان لے آتے، شہادت دیتے اور مسلمان بن جاتے۔

انہی دنوں ایک قافلہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ راستے میں جب حضرت قطب المدارکا شہرہ سنا تو قافلے کے ایک بزرگ شیخ خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے۔ بیعت کی خواہش ظاہر کی، تو ساقیِ معرفت نے جامِ سیرابی عطا فرمایا۔

قافلہ تو کعبہ کی طرف روانہ ہوا مگر شیخ بدیع الدین کی صحبت میں بے خود اور مست ہو گئے۔ خلافتِ بدیع الدین میں ایسی لذت پائی کہ حج فراموش کر بیٹھے۔ طریقت کی منازل طے کرتے گئے، ولایت کی بلندیوں پر چڑھتے گئے — یہاں تک کہ پیمائش سے بالا مقام حاصل کیا۔ پانچ مہینے گزرتے ہی اچانک حج یاد آیا۔ دل میں خیال آیا: کاش میں یہاں نہ ہوتا تو کعبہ میں ہوتا، حجاج وہاں ہیں اور میں یہاں! ایسے خیالات بار بار دل میں آتے، حتیٰ کہ یومِ حج بھی آ پہنچا،شیخ غمگین رہنے لگے۔ چہرہ پژمردہ، آنکھوں میں آنسو، بال پریشان۔ حضرت بدیع الدینؒ نے دریافت فرمایا: شیخ! تم ہر وقت روتے کیوں رہتے ہو؟

شیخ پھوٹ پڑے، عرض کیا: حضور! میں کعبہ کی سمت حج کے لیے روانہ ہوا تھا۔ راستے میں آپ کا شہرہ سنا، تو خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ مرید بھی بن گیا، خلیفہ بھی، مگر میرا حج رہ گیا۔ دل کو سکون نہیں ملتا۔آپ نے تبسم فرما کر فرمایا

شیخ! مجھے کعبہ سمجھو، میرا طواف ہی تمہارے لیے ذریعۂ نجات ہے۔ چنانچہ شیخ نے طوافِ قطب المدارکو اپنا معمول بنا لیا۔

جب طواف کرتے تو محسوس ہوتا کہ وہ مطاف میں ہیں، مزدلفہ میں ہیں، منیٰ میں ہیں، جمرات پر ہیں، مقامِ ابراہیم پر ہیں۔ سب ارکانِ حج حسبِ ترتیب ادا ہوتے۔ پھر مدینہ منورہ کے تصور میں سنہری جالیوں کے سامنے بارگاہِ خیرالانام ﷺ میں درود و سلام پیش کرتے۔ جب آنکھیں کھلیں تو خود کو قربِ بدیع الدین میں پایا — خوش و خرم، شاد و مسرور۔ آپ نے فرمایا: شیخ! تمہارا حج منزلِ قبولیت کو پہنچ چکا ہے۔ مگر عقل نے وسوسہ ڈالا: تم نے عرب نہیں دیکھا، کعبہ نہیں دیکھا، پھر حج کیسے مانا جائے؟ یہ خیال آیا تو بے قراری بڑھی۔ تسبیح، جانماز، بستر اٹھایا اور عرض کیا: حضور! اجازت دیجیے، میں سمتِ عرب حج کے لیے جانا چاہتا ہوں۔

آپ نے پوچھا: شیخ! بغیر اجازت جا رہے ہو؟ عرض کیا: حضور! میں برائے حج چلا تھا، راستے میں شہرۂ حضور سنا تو رک گیا۔ آپ کا طواف کیا مگر دل کو تسکین نہیں ملی، شریعت میں حج فرض ہے۔


حضرت قطب المدارنے فرمایا

شیخ! میرے قریب آؤ، اپنا تصور کعبہ کی طرف لے جاؤ۔ شیخ نے تصور میں خود کو کعبہ میں پایا، مگر وہ تصور حقیقت بن گیا! چھ ماہ تک وہ وہاں مقیم رہے، حج کیا، زمزم پیا، عرفات میں وقوف کیا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، مدینہ پہنچے، بارگاہِ رسول ﷺ میں سلام عرض کیا۔ جب آنکھ کھلی تو پھر قربِ قطب المدارمیں تھے۔ اب سمجھ گئے کہ ان کا حج حقیقتاً مکمل ہو چکا ہے۔
پھر بقیہ زندگی خدمتِ قطب وحدت میں بسر فرمائی۔


مناظرہ

ایک روز حضرت قطب ارشادؒ ایک مسجد میں قیام پذیر تھے، جہاں ایک قاضی صاحب امامت کے منصب پر فائز تھے۔ جب نماز کا وقت آیا تو قطب المدارنے ابتداء وقت میں جماعت کرائی۔ قاضی صاحب اس وقت موجود نہ تھے۔ بعد میں جب آئے تو دیکھ کر بَرہم ہوئے اور بولے: قطب وحدت! تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا؟ حضور مدار پاک نے فرمایا

حدیث میں آیا ہے کہ نماز کو وقتِ اول میں ادا کرنا افضل ہے۔ تم موجود نہ تھے، اس لیے میں نے جماعت کرائی۔ باقی لوگوں کو تم پڑھاؤ۔ قاضی صاحب کے نزدیک جماعتِ ثانی مکروہ تھی۔ انہوں نے بحث شروع کر دی۔ لہجہ سخت، آواز میں گرج۔

قطب المدارنے فرمایا: قرآنِ مجید کھولو، اس میں دیکھو، قاضی صاحب نے قرآن اٹھایا، مگر جب بھی ورق پلٹتے تو ہر صفحہ بغیر تحریر کے نکلتا۔ حیرت سے چہرہ زرد پڑ گیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کا نام حضور؟ فرمایا: بدیع الدین۔

یہ نام سنتے ہی انہیں یاد آیا کہ برسوں پہلے وہ شیخ ابوالفتح شطاری کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ شیخ نے فرمایا تھا: تم میرے ہاتھ پر مرید نہ بنو، تمہیں شیخ سید بدیع الدین قطب ارشادؒ نے اپنی غلامی کے لیے چن لیا ہے۔ تم خوش نصیب ہو۔ قاضی صاحب رونے لگے، قدموں پر گر گئے، معافی چاہی۔
حضرت نے فرمایا: پہلے اپنی پرانی تعلیم بھلا دو۔ عرض کیا: حضور، یہ میرے اختیار میں نہیں۔ آپ نے فرمایا

زبان نکالو۔ جب زبان نکالی تو آپ نے لعابِ دہن اس پر ڈالا۔ فوراً قاضی صاحب پر تمام ارضی و فلکی اسرار منکشف ہو گئے۔ آپ نے انہیں بیعت فرمایا، خلافت عطا کی، اور وہ ساری عمر خدمتِ قطب المدارمیں رہے۔
بت زمین میں دھنس گیا
جب حضرت قطب ارشادؒ  نیشاپور پہنچے تو شہر میں کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور قتل و فساد عام تھا۔
آپ نے جب دینِ مصطفی ﷺ کی تبلیغ شروع کی تو اہلِ نیشاپور کو غصہ آیا، مگر آپ اپنے کام میں مصروف رہے۔

کفار کے سردار بولے :یہ درویش اگر یہاں رہا تو بہت سے لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ ہمیں اسے یہاں ٹھہرنے نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا:یہ شہر میرا آبائی وطن ہے، تم مجھے روک نہیں سکتے۔ مگر پھر بھی آپ نے نیشاپور چھوڑ دیا اور قریب کے جنگل میں قیام فرمایا۔ تین دن بعد شہر میں جشنِ بتاں منایا جانا تھا۔ مندر سجائے گئے، صفائی و آرائش کا اہتمام ہوا۔حضرت نے اپنے ایک خلیفہ سے فرمایا

آج موقع ہے، مندر میں جاؤ، بڑے بت کے ہاتھ میں ایک کانٹا چبھو دینا۔ خلیفہ حکمِ شیخ پر عمل کے لیے گیا۔ میلے میں بھیڑ تھی، مگر کسی طرح بت کے قریب پہنچا اور کانٹا چبھو دیا۔

اسی لمحے دیکھتے ہی دیکھتے بت زمین میں دھنس گیا۔ شہر میں کہرام مچ گیا۔ لوگ حیرت زدہ، پریشان۔ کسی نے کہا: میں نے دیکھا، ایک مسلمان آیا، اس نے کانٹا چبھو دیا اور بت زمین میں دھنس گیا! سب دوڑتے ہوئے قطب المدارکے قریب پہنچے اور ماجرا بیان کیا۔

حضرت نے فرمایا :یہ کیسا خدا ہے جو خود کو نہ بچا سکا؟ جو نہ دیکھ سکتا ہے، نہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے — کیا وہ تمہیں بچا سکتا ہے؟ پھر آپ نے چہرے پر سے ایک نقاب اٹھائی۔ تجلی ایسی چمکی کہ کفار تابِ نظارہ نہ لا سکے، سب بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو سب نے کلمہ پڑھا، مسلمان ہو گئے، اور باقی زندگی قربِ قطب وحدت میں گزاری۔


سراج کیوں نہ جل گیا

جب حضور سیدِ ناسید، قطب وحدت، حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ نے کالپی میں قیام فرمایا تو اطراف و اکناف میں آپ کا شہرہ پھیل گیا۔ مخلوقِ خدا پر آپ کی رحمت خوب خوب برستی تھی۔ لوگ دامن پھیلاتے اور اکتسابِ فیض کرتے۔ پورا شہر کالپی آپ کے فیضان سے مزین و آراستہ ہو گیا تھا۔ نور و انوار کی بارش تھی۔ تمنائیں جاگ اٹھتی تھیں۔ اندھے بینا ہو جاتے، رہزن راہِ ہدایت پا لیتے۔ ذرّے آفتاب بن گئے تھے، اور تاریکیاں نور میں بدل چکی تھیں۔

قادر شاہ بادشاہ نے جب یہ شہرہ سنا تو دل میں ہیجان برپا ہو گیا۔ کہنے لگا: یا خدا! یہ کون فرشتہ سیرت انسان جلوہ فرما ہے جس نے پورے شہر کا نقشہ بدل دیا؟ دل میں تمنا جاگی کہ ملاقات کی جائے اور فیض حاصل کیا جائے۔ مگر عقل نے سمجھایا کہ بغیر اجازتِ پیر جانا مناسب نہیں۔ چنانچہ بادشاہ اپنے پیر حضرت شیخ سراج الدین سوختہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: حضور! میرا دل چاہتا ہے کہ اس مردِ کامل کی خدمت میں حاضر ہوں۔

شیخ سراج الدین سوختہ نے فرمایا: بیٹا! اپنا پیر، پیر ہوتا ہے۔ تم غیر کے دامن میں پناہ کیوں چاہتے ہو؟ مت جاؤ۔ مگر قادر شاہ پر شوق کا غلبہ ہو گیا، کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ وہ دوپہر کے وقت چل پڑا۔ جب بارگاہِ قطب المدارپہنچا تو دربان نے کہا: ابھی ملاقات کا وقت نہیں۔ حضور مستغرقِ یادِ رب ہیں، پھر آنا۔ مگر بادشاہ ضدی تھا۔ ضد پر قائم رہتے ہوئے دیوار پر چڑھا تاکہ حضور کا دیدار کرے، مگر دیوار اتنی بلند تھی کہ دیکھ نہ سکا۔ اس نے گھوڑے پر چڑھ کر دیکھا، پھر بھی نہ ہو سکا۔ تب ہاتھی منگوایا، مگر ہر بار دیوار اور بلند ہوتی گئی۔ غصے میں آ کر بادشاہ نے کہا: فردالافراد! میرا شہر چھوڑ دو!

آپ نے صبر فرمایا، جمنا ندی پار کر کے ایک کنارے پر قیام کیا۔ تب قطب وحدت کا عتاب نازل ہوا۔ قادر شاہ کے پورے جسم پر آبلے پھوٹ پڑے۔ سوزش نے بے چین کر دیا۔ وہ گھبرا کر اپنے پیر کے پاس آیا، اور سارا واقعہ بیان کیا۔

شیخ سراج الدین سوختہ نے اپنا پیرہن اتار کر اسے دیا۔ قادر شاہ نے وہ پہنا تو فوراً صحت یاب ہو گیا، مگر سراج الدین پر قہر نازل ہوا۔ قطب المدارنے فرمایا: سراج الدین! چرا نہ سوختی؟ سراج کیوں نہ جل گیا؟ یہ فرمانا تھا کہ سراج الدین جل اٹھے۔ نو دن تک جلے رہے، پھر مریدوں کو وصیت کی: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے غسل نہ دینا، بغیر غسل کے دفن کر دینا۔

مریدوں کو یہ وصیت عجیب لگی۔ بعد میں جب قادر شاہ کا وقتِ اجل آیا تو مریدوں نے سوچا کہ شاید پیر کی وصیت کی کوئی حکمت ہو۔ انہوں نے ایک انگلی پر پانی بہایا تو پانی ابل پڑا، چھنگنیا بہہ چلی۔ تب راز کھلا کہ وصیت کیوں فرمائی تھی — یہ سب عتابِ قطب المدارحضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ کا نتیجہ تھا۔


ایسن ندی

ایک دن حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ  کے ایک خلیفہ نے عرض کیا: حضور! پانی نہیں ملتا، سب خلیفے پریشان ہیں، نہ غسل ہے، نہ وضو، نہ کھانا، نہ پینا۔ حضور مدار پاک نے فرمایا: میری بینت لو، زمین پر خط کھینچو، چشمہ پھوٹ پڑے گا۔

حضرت یسین شاہ فرمانِ قطب المدار پر عمل کرتے ہوئے جنگل پہنچے، اور زمین پرپچھم سے پورب کی طرف ایک   خط کھینچ دیا۔ فضلِ خدا سے چشمہ پھوٹ پڑا۔ چشمہ دیکھتے ہی دیکھتے ندی بن گیا۔ پہلے یسین ندی کہلاتی تھی، پھر کثرتِ استعمال سے ایسن ندی کہلائی۔ آج بھی اس ندی کا پانی شفابخش ہے۔ جذام، برص، قبض، اختلاجِ قلب، آشوبِ چشم اور بہرا پن جیسے امراض میں مفید پایا جاتا ہے۔ سترہویں شریف اور میلہ بسنت کے موقع پر ہزاروں لوگ اس پانی سے برکت حاصل کرتے ہیں۔ یہی چشمہ آج بھی فیضانِ مداری کا مظہر ہے۔

ہر سال عرس حضور سیدنا مدار العالمین رضی اللہ تعالی عنہ کے موقع پر اسی ایسن ندی سے نصف شب  میں پانی لایا جاتا ہے جس سے کھیر بنائی جاتی ہے جب یہ پانی کھیر میں شامل کر دیا جاتا ہے تو پھر اس کے بعد دودھ کی ضرورت نہیں پڑتی جب کہ دودھ کے بغیر کھیر بنانا ممکن نہیں لیکن حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ  کی یہ  جیتی جاگتی کرامت ہے۔


ولادتِ مدار کے پرندوں نے بشارت دی

حضور سیدنا بدیع الدین زندہ شاہ مدارؒ کی ولادتِ باسعادت سے قبل قصبہ چنار میں ایک سفید پرندہ ظاہر ہوا جو صدا دیتا تھا

 یَا مَعْشَرَ النَّاسِ! اتَّقُوا اللّٰهَ، اللّٰهَ، اللّٰهَ!
وہ پرندہ تین دن تک چالیس مرتبہ یہ ندا دیتا اور غائب ہو جاتا۔ لوگ حیران رہ گئے۔

پھر شوال ۲۴۲ھ میں شاہِ ولایت حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدار قطب المدارؒ کی ولادت ہوئی۔ قدرتِ الٰہی نے خود ان کی آمد کی بشارت پرندوں کے ذریعے دی تاکہ اہلِ زمین جان لیں کہ یہ نورِ الٰہی کا مظہر اور شہنشاہِ ولایت ہیں۔


پیدا ہوتے ہی سجدہ

جب حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدار آقا مدار پاکؒ نے اس دنیا میں قدم رکھا تو آپکا مکان نور سے بھر گیا۔ پیدا ہوتے ہی حضور مدار پاکؒ نے سجدہ کیا اور زبانِ مبارک سے فرمایا:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ

حضرت ادریس حلبیؒ روایت کرتے ہیں کہ ولادت کے وقت روحِ پاکِ مصطفوی ﷺ مع جملہ اہلِ بیت و اصحابِ کبار جلوہ افروز ہوئی اور سید علی حلبی و بی بی فاطمہ ثانیہ کو مبارکباد دی۔ غیب سے ہاتفِ غیبی نے صدا دی:

ھٰذَا وَلِیُّ اللّٰہِ، ھٰذَا وَلِیُّ اللّٰہِ


میں عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہوں

حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ   بچپن ہی سے  عام بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہ ہوتےتھے۔ بلکہ یاد الہی میں مستغرق رہتے تھے  ایک دن  حضور مدار پاک بکریاں چرانے گئے تو بچے کھیلنے لگے، مگر آپ ایک طرف آنسو بھری آنکھوں سے خاموش بیٹھے تھے۔ کسی نے پوچھا: آپ کیوں نہیں کھیلتے؟

حضور مدار پاک نےفرمایا: میں کھیلنے کے لیے نہیں، عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ یہ قولِ مبارک: کہ میں کھیلنے کے لیے نہیں، عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہوں

حضور سیدنا بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدارؒ کی طفولیت (بچپن) کی ایک مشہور روحانی جھلک ہے، جو آپ کے باطنی کمالات اور فطری عرفانِ الٰہی کو ظاہر کرتی ہے، یہ جملہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ آپ کی فطرت ہی عبادت و بندگی کے لیے ڈھلی ہوئی تھی، آپ کی روح ازل سے اللہ تعالیٰ کی یاد اور اطاعت میں محو تھی  اور یہی معنی قرآنِ کریم کی اس آیت سے بھی جھلکتا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الذاریات: 56
میں نے جنّ و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔


پہلے ہی دن الف کی تشریح بیان فرما دی

جب حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ   کی بسم اللہ خوانی ہوئی تو والدِ معظم نے آپ کو حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی شامیؒ کے سپرد کیا۔ حضرت حذیفہ شامی نے فرمایا بدیع الدین پڑھو  ‘الف بدیع الدین نے الف نہیں پڑھا بلکہ الف  کی شرح بیان کرنا شروع فر مادی اور پھر ایک دن نہیں ہفتے تک الف کی شرح بیان فرماتے رہے حضور سیدنا حذیفہ شامی غواص بحر حیرت بنے متحیر تھے حیرت زدہ تھے مدار پاک سے الف کی تشریح سن کر انگشت بدنداں تھے آپ سماعت کرتے جاتے اور کہتے جاتے

ھٰذا ولی اللہ، ھٰذا ولی اللہ، ھٰذا ولی اللہ، ھٰذا ولی اللہ، ھٰذا ولی اللہ!
اکثر آپ ایسی معرفت آمیز باتیں ارشاد فرماتے کہ استاد بھی دنگ رہ جاتے۔


عبداللہ بن میمون قرامطی کو بینائی عطا کی

مختصر تعارف :قرامطہ /قرامطی فرقہ۔

اسلامی تاریخ کا ایک مشہور اور خطرناک باطنی فرقہ ہے، جس نے ابتدائی عباسی دور میں تیسری و چوتھی صدی ہجری فتنہ و فساد پھیلایا۔ ان کا بانی حمدان بن قرمط نامی شخص نے یہ تحریک عراق میں شروع کی تھی  یہ دراصل اسماعیلی دعوت سے متاثر تھا، لیکن بعد میں اس نے اپنے علیحدہ عقائد بنا لیے اسی کی نسبت سے اس فرقہ کو قرامطہ کہا گیا۔

317 ہجری (930 عیسوی) میں قرامطیوں نے حرمِ مکّہ پر حملہ کیا ہزاروں حجاج کو شہید کیا، زمزم کے کنویں کو لاشوں سے بھر دیا، اور حجرِ اسود (کعبہ کا مقدس پتھر) کو نکال کر بحرین لے گئے۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کی سب سے المناک اور فتنہ انگیز کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔

قرامطی ۳۱۶ھ میں حجرِ اسود کو چوری کر کے بحرین لے گئے۔ جب یہ خبر  حضور مدار پاک کے والد حضرت قدوۃ الدین علی حلبیؒ ملی تو آپ یہ خبر سن کر صدمے سے واصلِ بحق ہوئے۔ اور اسکے  کچھ عرصے بعد حضور مدار پاک کی  والدہ محترمہ بی بی ہاجرہ تبریزیؒ بھی وفات پا گئیں۔

۳۳۶ھ میں ابو طاہر نے اعلان کیا کہ جو شخص عبداللہ بن میمون اندھے کو بینائی دے، اسے حجرِ اسود دے دیا جائے گا۔ آپؒ نے حجرِ اسود کو غسل دے کر اس کے پانی سے عبداللہ کی آنکھیں دھلوائیں، فوراً بینائی لوٹ آئی۔ تاریخِ تہران کے مطابق، آپؒ نے حجرِ اسود کو دوبارہ اسی مقام پر نصب کیا۔


چاند پر جا کر نماز ادا فرمائی

۵۰۰ھ کے آخر میں جب حضور سید ناسید قطب المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ   یورپ کے شہر گوڈتھاپ نومبیا میں تبلیغِ دین فرما رہے تھے تو عیسائیوں نے معراجِ نبوی پر اعتراض کیا۔ آپؒ نے دعا فرمائی، فوراً ایک نورانی تخت ظاہر ہوا۔ آپ اس پر سوار ہوئے اور آسمان کی طرف روانہ ہو گئے۔

چالیس دن بعد واپسی پر فرمایا: میں چاند پر گیا تھا، وہاں دو رکعت نماز ادا کی، اور یہ مٹی وہیں سے لایا ہوں۔

خواجہ سید ابوالحسن طیفور سے روایت ہے کہ مدارِ پاکؒ چاند سے مٹی بھی لائے اور لوگوں کے سامنے بلند آواز سے قرآنِ کریم کی آیت

 إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  کی تلاوت فرمائی۔


برسوں تک سانس روکنے کی کرامت

سن۲۸۲ھ میں جب حضور سید ناسید قطبِ المدار حضرت سید بدیع الدین شاہ مدارؒ  ہندوستان تشریف لائے تو رشیوں اور منیوں کا دور دورہ تھا۔ وہ سانس روک کر عبادت کرتے اور اسی میں کمال سمجھتے۔ آپؒ نے اسی طرز میں حبسِ دم کو ذکرِ الٰہی کے ساتھ جوڑا۔

آپ لا الٰہ پر سانس اندر لیتے اور الا اللہ پر سانس باہر نکالتے، پھر کئی روز تک محمد رسول اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے۔ یہ کیفیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے، گروہ در گروہ حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگے۔

خواجہ مکنپوریؒ نے کہا

برسوں تلک جو اپنی سانسوں کو روکتا ہو
جو حبسِ دم دکھائے، لاؤ مدار جیسا!

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment