رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

حضرت اویس القرنی المرادی رضی اللہ عنہ

On: فروری 5, 2026 12:01 شام
Follow Us:
Hazrat Uwais al-Qarani al-Muradi (Raziyallahu Anhu)

تعارف

آپ جلیلُ القدر تابعین اور مقتداۓ عربین میں سے ہوئے ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اویس احسان و مہربانی کے اعتبار سے بہترین تابعین میں سے ہے۔ اور جس کی توصیف سرکارِ دو عالم ﷺ فرما دیں، اس کی تعریف دوسرا کوئی کیا کر سکتا ہے؟ بعض اوقات جانبِ یمن رُوئے مبارک کر کے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں یمن کی جانب سے رحمت کی ہوا آتی ہوئی پاتا ہوں۔

حسب و نسب

علمائے انساب نے آپ کا سلسلہ نسب دو طریقوں سے لکھا ہے
اویس بن عامر بن جزء بن مالک بن عمرو بن مسعد و بن عمرو بن سعد بن عصوان بن قرن بن رومان بن ناجیہ بن مراد المرادی القرنی۔
اور دوسرے صورت میں اس طرح کہ اویس بن عامر بن جز بن مالک بن عمرو بن سعد بن عصوان بن قرن بن رومان بن ناجیہ بن مراد بن مالک بن مذحج بن زید

ولادت و جائے پیدائش

آپ کو دربار نبوی سے غائبانہ طور پر خیر التابعین کا معزز لقب ملا تھا۔ آپ کو سید التابعین بھی کہا جاتا ہے آپ کے والد گرامی (عامر ) آپ کی کمسنی میں ہی وفات پاگئے تھے آپ کی والدہ ماجدہ ( بدار ) نا بینا اور ضعیفہ تھیں جن کی خدمت میں آپ کی عمر کا زیادہ تر حصہ گزرا۔ بچپن سے ہی آپ نے شتربانی کا پیشہ اختیار کیا اور اس کا معاوضہ والدہ ماجدہ پر صرف کرتے تھے۔ ان سے جو بچ جاتا وہ راہ خدا میں لٹا دیتے۔

جسد و صورت و حلیہ

آپ کی ولادت نشو و نما بچپن اور جوانی کے حالات اور مشاغل پردہ اخفا میں ہیں۔ ان کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلومات ہیں۔ حضرت اویس قرنی / قرن نامی بستی کے رہنے والے تھے۔ قرن کا قصبہ ملک یمن میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ مراد سے تھا اور جائے سکونت ملک یمن اور قصبہ قرن میں تھی۔ اس لیے آپ کو اویس القرنی المرادی اور یمنی کہا جاتا ہے۔
حرم بن حیان ایک صاحب دل تابعی اور حضرت اویس رضی اللہ تعالی عنہ کی ملاقات کا تذکرہ سیرت صحابہ جلد ۳ ص ۴۹ (از شاہ معین الدین ندوی) اور طبقات ابن سعد حصہ ششم صفحہ ۱۸۱ اردو پر اس طرح کیا گیا ہے:
ابن حیان (یا حبان) کہتے ہیں کہ میں اویس رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت کے شوق میں کوفہ گیا اور تلاش کرتے کرتے فرات کے کنارے پہنچا دیکھا ایک شخص تنہا بیٹھا نصف نہار کے وقت دریا کے کنارے پر وضو کر رہا ہے اور کپڑے دھو رہا ہے۔ میں اویس کے اوصاف سن چکا تھا اس لیے فورا پہچان گیا۔ وہ فربہ اندام تھے۔ رنگ گندم گوں تھا۔ بدن پر بال زیادہ تھے۔ سر منڈا ہوا تھا۔ داڑھی گھنی تھی۔ بدن پر صوف کا ازار (پاجامہ) اور صوف کی ایک چادر تھی چہرہ بہت بڑا اور مہیب تھا۔ فرمان نبوی اور تابعی ابن حبان کے مطابق حضرت اویس کا حلیہ مبارک یہ تھا۔
۰ رنگ گندم گوں برویت دیگر بسرخی مائل
۰ دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ
۰ آنکھیں نیلگوں مگر سرمگیں
۰ قد درمیانہ
۰ ٹھوڑی سینہ سے لگی ہوئی
۰ نظریں نیچی سجدہ گاہ پر جھی ہوئیں
۰ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے
۰ قرآن کی تلاوت کرتا ہوگا اور اپنے اوپر روتا ہوگا
۰ لباس دو کپڑوں پر مشتمل ایک پشمی پاجامہ اور ایک پشمی ردا
۰ دنیا میں گمنام
۰ آسمان پر مشہور
۰ قسم کھائے تو اللہ اس کو سچ کر دے
۰ بائیں کندھے تلے برص کا سفید نشان
روز محشر نیک و کاروں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا لیکن حضرت اویس رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم ہوگا کہ ٹھہر جاؤ لوگوں کی شفاعت کرو۔ پھر اللہ ربیعہ اور مضر قبیلوں کے افراد کی تعداد کے برابر لوگوں کے بارے میں ان کی شفاعت قبول کرے گا۔

خورد و طعام

جب تک آپ کی والدہ ماجدہ زندہ رہیں شتر بانی کے معاوضہ سے والدہ اور اپنی گزر اوقات کرتے رہے۔ انہوں نے مفلسی اور خستہ حالی میں زندگی بسر کی۔ دنیا سے ان کو نفرت تھی صبح کی اذان کے وقت گھر سے نکل جاتے اور نماز عشاء کے وقت گھر تشریف لاتے۔ واپسی پر راستے سے چھو ہاروں کی گٹھلیاں چن کر لاتے اور انہیں کھا لیا کرتے۔ بس یہی ان کی غذا تھی۔ کبھی معمولی قسم کے چھوہارے مل جاتے تو ان سے افطار کر لیتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ گٹھلیاں بیچ کر افطار کے لیے چھوہارے خرید لیتے۔

آپ کبھی کبھی جو کی سوکھی روٹی کھجور کے شیرہ کے ساتھ کھا کر گزارا کر لیتے تھے پیٹ کے کھانے اور بدن کے کپڑوں کے سوا کچھ پاس نہیں رکھتے تھے فرماتے "خدایا میں تجھ سے بھوکے پیٹ اور ننگے بدن کی معذرت چاہتا ہوں غذا جو میرے پیٹ میں ہے اور لباس جو میرے جسم پر ہے اس کے سوا میرے پاس کچھ نہیں” جو کچھ دانہ پانی اور کپڑا بچ جاتا سب خیرات کر دیتے تھے اور بارگاہ الہی میں دعا فرماتے کہ "یا الہی اگر کوئی بھوک سے مر جائے تو مجھ سے سوال مت کرنا”

طبقات ابن سعد میں حرم بن حبان کا بیان ہے کہ میں حضرت اویس رضی اللہ تعالی عنہ کو ملنے کوفہ گیا میں نے کہا اویس! اللہ آپ پر رحمت نازل کرے اور آپ کی مغفرت کرے یہ آپ کا کیا حال ہے ان کی ظاہری خستہ حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے اور مجھے روتا دیکھ کر وہ بھی رو پڑے۔

عشق الٰہی

آپ عشق و محبت کا وہ پیکر اتم ہیں، جنہیں سرکار دو عالم ﷺ کی قربت اور حضوری دور رہ کر بھی میسر تھی ، فرط محبت میں جنوں کا غلبہ ہوا تو ان کا یہ حال ہو گیا کہ دیوانوں کی طرح گلیوں میں ننگے پاؤں چلتے تھے، پریشان اور خستہ حال دیکھ کر لڑکے مجنوں سمجھتے اور پتھر مارتے جن سے خون بہنے لگتا ایک روز آپ رک گئے اور بچوں سے فرمانے لگے کہ "مجھے بڑے پتھروں سے نہیں بلکہ چھوٹے پتھروں سے مارا کرو ان میں سے کسی نے کہا اویس! کیا تیرے دعوۂ عشق کی یہی حقیقت ہے کہ بڑے پتھروں کی تکلیف سے خوفزدہ ہو گئے ہو؟ آپ یہ سن کر فرمانے لگے ” میں بڑے پتھروں سے نہیں ڈرتا بلکہ بات یہ ہے کہ ان سے خون بہنے لگتا ہے اور وضو ٹوٹ جاتا ہے اور میں بے وضو یاد الہی نہیں کر سکتا۔”

آپ ایک شب قیام میں گزارتے، دوسری شب رکوع میں اور تیسری سجدہ میں اکثر دن کا وقت بھی عبادت میں گزرتا ، ہمیشہ روزہ رکھتے ، جب افطار کے لئے کچھ میسر نہ ہوتا تو کھجور کی گٹھلیاں چن کر بیچتے اور ان کی قیمت سے چند لقموں کا سامان کر لیتے، کوفہ میں آپ ایک حلقۂ ذکر میں شریک ہوتے تھے۔ اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس حلقہ میں ہمارے دلوں پر سب سے زیادہ حضرت اویس کے ذکر کا اثر ہوتا تھا۔

فضائل

حضورِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ روزِ محشر ستر (۷۰۰۰۰) ہزار فرشتوں کے ساتھ جو اویس قرنی کے ہم شبیہ ہوں گے۔ اویس کو جنت میں داخل کیا جائے گا تاکہ مخلوق ان کی پہچان نہ کر سکے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ ان کے دیدار سے مشرف کرنا چاہے۔ اس لیے کہ آپ نے خلوت نشین ہو کر اور مخلوق سے روپوشی اختیار کر کے محض اس لیے عبادت و ریاضت اختیار کی کہ دنیا آپ کو برگزیدہ تصور نہ کرے۔ اسی مصلحت کے پیشِ نظر روزِ محشر آپ کی پردہ داری قائم رکھی جائے گی۔

حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک ایسا شخص ہے جس کی شفاعت سے قبیلہ ربیعہ و مضر کی بھیڑوں کے بال کے برابر گناہگاروں کو بخش دیا جائے گا۔ (ربیعہ و مضر دو قبیلے، محلے ہیں جن میں بکثرت بھیڑیں پائی جاتی تھیں) اور جب صحابۂ کرام نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے اور کہاں مقیم ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کا ایک بندہ ہے۔ پھر صحابہ کے اصرار کے بعد فرمایا کہ وہ اویس قرنی ہے۔

چشمِ باطن سے زیارت ہوئی

جب صحابہ نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا کبھی نہیں۔ لیکن چشمِ ظاہری کے بجائے چشمِ باطنی سے اس کو میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے۔ اور مجھ تک نہ پہنچنے کی دو وجوہ ہیں:
اوّل غلبۂ حال
دوم تعظیمِ شریعت

کیونکہ اس کی والدہ مومنہ بھی ہیں اور ضعیف و نابینا بھی، اور اویس شتربانی کے ذریعے ان کے لیے معاش حاصل کرتا ہے۔ پھر جب صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم ان سے شرفِ نیاز حاصل کر سکتے ہیں؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ عمر و علی سے ان کی ملاقات ہو گی۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ پورے جسم پر بال ہیں، ہتھیلی کے بائیں پہلو پر ایک رَوَم کے مساوی سفید رنگ کا داغ ہے لیکن وہ برص کا داغ نہیں۔ لہٰذا جب ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام پہنچانے کے بعد میری امت کے لیے دعا کرنے کا پیغام بھی دینا۔ پھر جب صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے پیراہن کا حق دار کون ہے؟ تو فرمایا کہ اویس قرنی۔

سیدنا عمر فاروق اعظم نے اپنے زمانۂ خلافت میں حج کے موقع پر باہر سے آنے والوں کے ایک مجمع میں لوگوں کو کھڑے ہونے کے لیے کہا! اس کے بعد آپ نے فرمایا تمام کے تمام بیٹھ جائیں مگر کوفہ کے لوگ کھڑے رہیں پھر آپ نے کوفہ والوں کو بھی بیٹھ جانے کی اجازت دی مگر کوفہ والوں میں سے قبیلہ مراد کے لوگ کھڑے رہے آپ نے فرمایا مراد والے بھی بیٹھ جائیں مگر ان میں سے صرف وہ کھڑے رہیں جو قرن سے آئے ہیں سارے لوگ بیٹھ گئے مگر ایک شخص انیس نامی جو اویس کے چچا تھے اور قرن سے آئے تھے کھڑے رہے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ اویس کو پہچانتے ہیں انیس نے کہا آپ اس کے متعلق کیوں دریافت کرتے ہیں وہ تو ایک غریب دیوانہ سا آدمی ہے حضرت عمر روئے اور فرمایا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسے ہی لوگوں کی شفاعت سے قیامت کے روز لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

حُرُم بن حیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی تو میں کوفہ گیا مجھے حضرت اویس قرنی سے ملنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا اچانک ایک دن دوپہر کے وقت میں دریائے فرات کے کنارے جا پہنچا میں نے حضرت اویس کو دیکھا کہ وہ وضوء فرما رہے ہیں میں نے آپ کو پہچان لیا کیونکہ میں نے لوگوں سے آپ کا حلیہ پوچھ لیا تھا میں نے سلام عرض کیا مجھے جواب ملا میں نے مصافحہ کرنے کی کوشش کی لیکن حضرت اویس نے ہاتھ کھینچ لیا میں نے کہا "اویس یرحمک اللہ غفرلک کیف رحمک اللہ” یہ ایک بات کہتے ہی میں زور زور سے رونے لگا چونکہ مجھے آپ سے بہت محبت ہو گئی تھی میری حالت دیکھ کر حضرت اویس رونے لگے تھوڑی دیر کے بعد ہم خاموش ہوئے تو حضرت اویس نے فرمایا: "حیّاک اللہ یاھرم بن حیان” میرے بھائی تمہارا کیا حال ہے آپ کو میری طرف کس نے رہنمائی کی ہے اویس نے کہا اللہ تعالی نے ہرم نے پوچھا آپ کو میرا اور میرے باپ کا نام کس نے بتایا تھا اویس نے فرمایا مجھے بھی اللہ تعالی نے بتایا تھا اس کے بعد بہت سی باتیں ہوئیں لیکن آخری بار جو نصیحت کی اس میں فرمانے لگے حضور کا وصال ہو گیا حضرت ابوبکر صدیق رخصت ہو گئے میرے بھائی حضرت عمر کا انتقال ہو گیا میں نے کہا حضور حضرت عمر تو ابھی زندہ ہیں فرمایا نہیں مجھے ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ حضرت عمر شہید ہو گئے ہیں پھر اس قسم کی باتیں کرتے رہے اور دعائے خیر کر کے مجھے اجازت دی اور ساتھ ہی کہا "السلام علیکم ورحمۃ اللہ میں آج کے بعد آپ کو نہ مل سکوں گا” یہ کہتے ہوئے روانہ ہو گئے میری خواہش تھی کہ چند قدم آپ کے ساتھ چلوں آپ نے مجھے اجازت نہ دی اور دوڑنا شروع کر دیا میں آپ کے پیچھے روتا اور دوڑتا رہا یہاں تک کہ کوفہ کے کوچوں گلیوں میں آگئے لیکن طلب بسیار کے باوجود میں انہیں نہ پاسکا۔

حضرت مولی علیؓ و عمرؓ کی حضرت اویس قرنیؓ سے ملاقات

دورِ خلافتِ راشدہ میں جب حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کوفہ پہنچے اور اہلِ یمن سے ان کا پتہ معلوم کیا تو کسی نے کہا کہ میں ان سے پوری طرح تو واقف نہیں، البتہ ایک دیوانہ آبادی سے دور عرفہ کی وادی میں اونٹ چرایا کرتا ہے۔ خشک روٹی اس کی غذا ہے۔ لوگوں کو ہنستا ہوا دیکھ کر خود روتا ہے اور روتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر خود ہنستا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت اویس نماز میں مشغول ہیں۔ ملائکہ (فرشتے) ان کے اونٹ چرا رہے ہیں۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب حضرت عمرؓ نے ان کا نام پوچھا تو جواب دیا کہ عبداللہ یعنی “اللہ کا بندہ”۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ کے بندے تو ہم بھی ہیں، آپ اپنا اصلی نام بتائیے۔ تو آپ نے جواب دیا کہ اویس ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ دکھائیے۔ انہوں نے جب ہاتھ دکھایا تو حضور ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں کو دیکھ کر حضرت عمرؓ نے ان کے ہاتھوں کو چوما اور حضور ﷺ کا لباسِ مبارک پیش کرتے ہوئے سلام پہنچایا اور امتِ محمدیہ کے حق میں دعا کرنے کا پیغام بھی دیا۔ یہ سن کر اویس قرنیؓ نے عرض کیا کہ آپ خوب اچھی طرح دیکھ بھال فرما لیں، شاید وہ کوئی دوسرا فرد ہو جس کے متعلق حضور ﷺ نے نشاندہی فرمائی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جس نشانی کی حضور ﷺ نے ہمیں نشاندہی فرمائی ہے وہ آپ میں موجود ہے۔ یہ سن کر اویس قرنیؓ نے عرض کیا کہ اے عمر! تمہاری دعا مجھ سے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں تو دعا کرتا ہی رہتا ہوں، البتہ آپ کو حضور ﷺ کی وصیت پوری کرنی چاہیے۔ چنانچہ حضرت اویسؓ نے حضور ﷺ کا لباسِ مبارک کچھ فاصلے پر لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی:
یا رب! جب تک تو میری سفارش پر امتِ محمدیہ کی مغفرت نہ کر دے گا میں سرکارِ دو عالم ﷺ کا لباس ہرگز نہ پہنوں گا، کیونکہ تیرے نبی ﷺ نے اپنی امت کو میرے حوالے کیا ہے۔
چنانچہ ندائے غیبی آئی کہ ہم نے تیری سفارش پر کچھ لوگوں کی مغفرت کر دی۔ لیکن آپؓ نے پھر عرض کیا کہ پوری امت کی مغفرت فرما دے۔ جواب ملا کہ ہم نے ایک ہزار لوگوں کی بخشش کر دی۔ اسی طرح آپ مشغولِ دعا تھے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ آپ کے سامنے پہنچ گئے، اور جب آپؓ نے سوال کیا کہ آپ دونوں حضرات کیوں آ گئے؟ میں تو جب تک پوری امت کی مغفرت نہ کروا لیتا اس وقت تک یہ لباس کبھی نہ پہنتا۔

مقام ولایت خلافت سے بہتر ہے

حضرت عمرؓ نے آپ کو ایسے کمبل کے لباس میں دیکھا جس کے نیچے تونگری کے ہزاروں عالم پوشیدہ تھے۔ یہ دیکھ کر آپ کے قلب میں خلافت سے دست برداری کی خواہش بیدار ہوئی، اور فرمایا کہ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو روٹی کے ایک ٹکڑے کے بدلے میں مجھ سے خلافت خرید لے؟ یہ سن کر حضرت اویسؓ نے کہا کہ کوئی بے وقوف شخص ہی خرید سکتا ہے۔ آپ کو تو فروخت کرنے کے بجائے اٹھا کر پھینک دینا چاہیے، پھر جس کا جی چاہے اٹھا لے گا۔ یہ کہہ کر آپؓ نے حضور اکرم ﷺ کا لباس پہن لیا اور فرمایا کہ میری سفارش پر بنو ربیعہ اور بنو مضر کی بھیڑوں کے بالوں کے برابر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی مغفرت فرما دی۔
جب حضرت عمرؓ نے آپ سے حضورِ اکرم ﷺ کی زیارت نہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو آپؓ نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ دیدارِ نبی ﷺ سے مشرف ہوئے تو بتائیے کہ حضور ﷺ کی بھنویں کشادہ تھیں یا گھنی؟
لیکن دونوں صحابہ جواب نہ دے سکے۔

نبی ﷺ کی پیروی میں دندانِ مبارک کا توڑنا

حضرت اویس قرنیؓ نے کہا کہ اگر آپ نبی ﷺ سے محبت کرنے والوں میں سے ہیں تو یہ بتائیے کہ جنگِ اُحد میں حضور ﷺ کا کون سا دندانِ مبارک شہید ہوا تھا؟ اور آپ نے نبی ﷺ کی پیروی میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ ڈالے؟ یہ کہہ کر اپنے تمام ٹوٹے ہوئے دانت دکھا کر کہا کہ جب دندانِ مبارک شہید ہوا تو میں نے اپنا ایک دانت توڑ ڈالا، پھر خیال آیا کہ شاید کوئی دوسرا دانت شہید ہوا ہو، اسی طرح ایک ایک کر کے جب تمام دانت توڑ ڈالے تو اس وقت مجھے سکون نصیب ہوا۔ یہ دیکھ کر دونوں صحابہ پر رقت طاری ہو گئی اور یہ اندازہ ہو گیا کہ پاسِ ادب کا حق یہی ہوتا ہے۔ جو حضرت اویس قرنیؓ دیدارِ نبی ﷺ سے مشرف نہ ہو سکے، لیکن اتباعِ رسالت کا مکمل حق ادا کر کے دنیا کو درسِ ادب دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

مومن کے لیے ایمان کی سلامتی ضروری ہے

جب حضرت عمرؓ نے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تو آپؓ نے کہا کہ نماز میں تشہد کے بعد میں یہ دعا کیا کرتا ہوں:
اے اللہ! تمام مومنین و مومنات کی مغفرت فرما۔
اگر تم ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے تو تمہیں مسرت و خوشی حاصل ہو گی، ورنہ میری دعا بے سود ہو کر رہ جائے گی۔

وصیت

حضرت عمرؓ نے جب وصیت کرنے کے لیے فرمایا تو آپؓ نے کہا: اے عمر! اگر تم خدا شناس ہو تو اس سے زیادہ افضل کوئی وصیت نہیں کہ تم خدا کے سوا کسی دوسرے کو نہ پہچانو۔ پھر پوچھا: اے عمر! کیا اللہ تعالیٰ تم کو پہچانتا ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت اویس قرنیؓ نے کہا: بس خدا کے علاوہ تمہیں کوئی نہ پہچانے، یہی تمہارے لیے افضل ہے۔

استغناء

حضرت عمرؓ نے خواہش کی کہ آپ کچھ دیر اسی جگہ قیام فرمائیں، میں آپ کے لیے کچھ لے کر آتا ہوں۔ تو آپؓ نے جیب سے دو درہم نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ اونٹ چرانے کا معاوضہ ہے۔ اگر آپ یہ ضمانت دیں کہ یہ درہم خرچ ہونے سے پہلے میری موت نہیں آئے گی تو یقیناً آپ کا جو جی چاہے عنایت فرما دیں، ورنہ یہ دو درہم میرے لیے بہت کافی ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہاں تک پہنچنے میں آپ حضرات کو جو تکلیف ہوئی اس کے لیے میں معافی چاہتا ہوں۔
اب آپ دونوں واپس ہو جائیں کیونکہ قیامت کا دن قریب ہے، میں زادِ آخرت کی فکر میں لگا ہوں۔
پھر ان دونوں صحابہ کی واپسی کے بعد جب لوگوں کے قلوب میں حضرت اویسؓ کی عظمت پیدا ہوئی تو مجمع لگنے لگا، تو آپ گھبرا کر کوفہ میں سکونت پذیر ہو گئے۔

شہادت

آپ کی شہادت جنگِ صفین میں ہوئی۔ حضرت مولا علی مرتضیٰؓ کی حمایت میں جہاد کے لیے نکلے اور لڑتے ہوئے شہادت حاصل فرمائی۔

Reference Books:
Tazkiratul-Auliya (Fariduddin Attar)
Seerate-Hazrat-Uwais-Qarni (Prof. Tufail Chaudhri)

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment