آپ آگاہِ رموزِ خفی و جلی تھے، آپ نے تعلیم حضرت مولانا شکر اللہ صاحب سے حاصل فرمائی، اور آپ جن جن کتابوں کو پڑھتے تھے، دوبارہ اس کو دیکھنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی، اور علاوہ اپنے سبق کے تمام طالبِ علموں کا درس ذہن نشین فرما لیتے تھے۔ آپ کی ذہانت پر آپ کے استاد اور دیگر سامعین کو تعجب ہوا کرتا تھا۔ یہ حال کیوں نہ ہوتا؟ چونکہ آپ کی دادی محترمہ منت فاطمہ، جو علومِ ظاہری و باطنی سے مالا مال تھیں، علمِ ظاہری سے جب علمِ باطن کی طرف رخ کیا، پھر تو زیادہ وقت علمِ باطن حاصل کرنے میں لگ گیا، اور اپنی نسبت کو سرکارِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے قوی فرمائی۔ مکنپور شریف میں زیادہ تر باغ تھے، جن میں کنویں، مسجدیں تعمیر تھیں، دریائے ایسن کے کناروں پر بھی مسجدیں تھیں۔ آپ بجائے مکان و بستی کے باغات میں رہنا پسند کیا کرتے تھے، اور جب کبھی مکان پر تشریف لاتے تو لوگ آپ کو گھیر لیتے اور اپنی اپنی ضرورتوں کو آپ کی بارگاہ میں پیش کرتے۔ آپ جس کے لیے جو کچھ زبان سے کہتے، وہ خدائے تعالی ضرور پورا کرتا۔ کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے:
من کان اللہ کان اللہ لہ
جو اللہ کا ہو جاتا ہے، اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔ اور جب اللہ اس کا ہو جاتا ہے تو ساری مخلوق اس کا دم بھرنے لگتی ہے۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ شروع برسات کا مہینہ تھا، بارش ہوئی، پھر بالکل بارش نہ ہوئی، جس کی بنا پر فصل برباد ہو رہی تھی۔ مکنپور اور قربِ جوار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: "حضرت! آپ خدا کے واسطے بارگاہِ الٰہی میں دعا کردیں۔” کہ بارش ہو۔ ابھی دعا کے واسطے ہاتھ اٹھانا ہی چاہتے تھے کہ نظیر احمد صاحب، جو کہ رئیسِ مکنپور، وہ آپ کے رشتہ میں سالے ہوتے تھے، انہوں نے فرمایا: "میاں صاحب! دعا کر دیجیے، بارش ہو جائے ورنہ فاقہ سے لوگ مرجائیں گے۔” اس جملے سے آپ کے چہرے سے کچھ غصہ ظاہر ہوا اور زبانِ مبارک سے یہ کہا: "ایسا پانی برسے گا بجائے رحمت کے زحمت کے آثار نمودار ہوں گے۔” خدا کی قدرت سے ابر عالمگیر ہوا، بارش شروع ہوئی، ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی، سورج دیکھنے کو لوگ ترس گئے۔ آخر نظیر احمد صاحب کو وہ جملہ آپ کا یاد آگیا، پھر تو خدمت میں حاضر ہوئے۔ بارش کی زیادتی بند ہو جانے کی تمنائیں دلی پیش کیں۔ آپ نے صحنِ خانہ میں جا کر
بلغ العلی بکماله
کشف الدجی بجماله
حسنت جمیع خصاله
صلوا علیه و آله
پڑھ کر آسمان کی طرف دم کرنا شروع کیا۔ پس بارش بند ہو گئی۔ اور سورج سامنے آگیا۔ محترم نظیر احمد صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور خدا کا شکر ادا کرنے لگے۔ اس سال ہر قسم کا غلہ مکا، جوار، باجرہ وغیرہ وغیرہ اس قدر پیدا ہوا کہ لوگ خوش ہو گئے۔
جناب مولوی نثار علی شاہ صاحب نے میرے قبلہ والد محترم سے خود ایک واقعہ بیان کیا جس کو آپ (علامہ ذوالفقار علی قمر) نے اپنی کتاب ذوالفقار بدیع میں تحریر کیا ہے۔ جس دور میں مولوی نثار علی شاہ صاحب قصبہ شیولی میں مدرس تھے، کہتے ہیں کہ مجھ کو سخت خارش ہوئی جس کی وجہ سے بے حد پریشان تھا۔ بہت کچھ علاج کرایا، فائدہ کچھ نہ ہوا۔ آخرکار بارگاہ قطب المدار میں رجوع ہوا اور اسی شب کو بحالت خواب مکن پور شریف پہنچا اور مولانا سید خو شوقت علی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو سلام پیش کیا، آپ نے جواب دیتے ہوئے حال دریافت کیا۔ میں نے بس خارش کی شکایت کی، آپ نے کچھ پڑھا اور مجھ پر دم کیا، پھر پڑھا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر دم کرکے میرے جسم پر پھیر دیے اور فرمایا: "جاؤ۔” جب میں خواب سے بیدار ہوا تو طبیعت کو بشاش پایا اور خواب کو قاسم علی صاحب سے بیان کیا۔ پس انہوں نے فرمایا: "الحمدللہ۔” صحت ہو جائے گی، چنانچہ ویسا ہی ہوا۔ مجھ سے خارش دور ہو گئی۔ الغرض ایک دن آپ کے شکم مبارک میں سخت درد اٹھا جس سے آپ گھبرا گئے اور فرمانے لگے: "شاید میرا وقت آگیا۔” تو آپ نے اپنے لخت جگر ابوالوقار سے فرمایا: "تم اپنے بھائیوں کے سر پر دست شفقت رکھنا اور اپنی والدہ محترمہ کی خدمت سے کبھی باہر نہ ہونا۔” کیونکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
الجنة تحت أقدام أمهاتكم.
جب تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے، تم نماز پڑھتے ہو اور پڑھتے رہنا، اور کبھی اس کو ترک نہ کرنا۔ خدائے تعالیٰ تم کو اجر عظیم دے گا۔ میں خود اور اپنے بڑے ماموں سید شاہ محمد صاحب آپ کے پیر داب رہے تھے، اسی اثناء میں ماموں صاحب نے ایک سفوف بتاشے کے اندر رکھ کر آپ کو دیا اور کہا کہ آپ اس کو کھا لیجیے، جب آپ نے اس کو کھا لیا، درد بند ہو گیا۔ پس ایک بتاشے میں اپنی زبان مبارک لگا کر مجھ کو عطا کیا، اس کو میں نے کھالیا، پھر آپ نے سلسلہ جعفریہ مداریہ میں بیعت کرکے سلسلہ اویسیہ سے بھی نوازا۔ اور جو نعمات سرکار قطب المدار سے ان تک پہنچے تھے، مجھ کو عطا کیے۔ اور اپنا قائم مقام کرکے اجازت بیعت و خلافت عطا فرمائی۔ اور ایک طریقہ یاسین شریف کا جوکہ آپ کی دادی صاحبہ سے عطا ہوا تھا، اس کو بھی سمجھایا اور کرنے کی ہدایت کی۔ اور فرمانے لگے: "جب تمہارے پھوپھا حضرت سراج العارفین مولانا حکیم سید شمس الدین صاحب ادیپور سے تشریف لائیں، (جو کہ بھوپال کے قریب ہے) ان سے مستفیض ہونا۔
۲۷ رجب المرجب ۱۳۳۴ ہجری شب کو مکان سے چلے گئے، دو ایک دن انتظار کیا، پھر تلاش کے لیے نکلے، جہاں پہنچتے تھے لوگ کہتے تھے: "ابھی تو میاں صاحب یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔” کئی دن گزر گئے، ایک دن سید اشتیاق احمد، جو کہ میرے ماموں زاد بھائی ہوتے ہیں، چند اشخاص کے ساتھ میاں گنج و مڑھارپور اور جاگیر ہوتا ہوا قنوج پہنچا۔ شاہ عبداللہ جنون سے دریافت کیا: "کہ آپ سے میرے والد کا بڑا دوستانہ تھا، لیکن وہاں بھی کچھ پتہ نہ چلا، ارَول ہوتے ہوئے مکان آئے۔” پھر اشتیاق احمد نے یہ خبر وحشت ناک ٹھٹھیا سے آکر سنائی کہ لوگوں کا بیان ہے کہ اس جنگل میں ایک شخص کو بھیڑیوں نے پھاڑ کر شکار کیا، تلاش کرنے سے صرف ایک دانت اور ریزے ہڈی کے ملے، ان کو پدر بزرگوار قدس سرہ کے تصور کر کے میرے دادا مولانا سید عبدالسبحان محدث علیہ الرحمہ، دادی صاحبہ کی مزار اقدس کے دفن کر آئے۔
بتاریخ تین شعبان المعظم کو یہ واقعہ حیرت انگیز پیش آیا۔
کئی ماہ گزر جانے کے بعد سید علی حسن عرف صدر اعلیٰ نے بتایا کہ مولانا خوشوقت علی صاحب مجھ کو سادھوڑ گاؤں، جوکہ ریاست گوالیار اسٹیشن کے قریب ہے، میں نے ان کو دیکھا اور بات چیت کی۔ جو میٹھا میرے پاس تھا، آپ کو پیش کیا۔ آپ نے فرمایا: "نہیں، چنے ہوں تو لاؤ۔” میں نے اپنے بیٹے سید غلام مدار سے چنے لانے کو کہا۔ یہ سن کر آپ چل دیے۔ مجھ کو ان کو روکنے کی جسارت نہ ہوئی۔ چند قدموں کے بعد نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
حقیر سے خود عزیزی صوفی سید دلاور حسین کے والد نے بیان کیا: "سرکار حضرت قطب المدار کے عرس کا وقت تھا، مجھے میرے والد نے حکم دیا کھانا میرے ہمراہ لے کر چلو۔” میں کھانا لےکر قبلہ والد محترم کے ہمراہ ہوا۔ مجھ کو جامع مسجد کے ایک حجرے میں لے گئے۔ میں نے وہاں دیکھا کہ وہاں پر ایک نورانی شکل کے بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں، اشارہ کیا کھانا سامنے رکھ دو اور پانی لا کر رکھ دو۔ ان بزرگ نے کھانا تناول فرمایا، دوسرے وقت میں تنہا کھانا لے کر پہنچا، تیسرے وقت پھر پہنچا۔ ان بزرگ کے سامنے کھانا رکھا میری زبان سے یہ نکل گیا "حضرت آپ تو خوشوقت علی پھوپھا ہیں” یہ کہنا تھا، آپ فوراً اٹھے اور چل دیے۔ ہر چند تلاش کیا لیکن نہ مل سکے۔
کھانا لےکر مکان پر واپس آیا اور والد صاحب سے حقیقت بیان کی۔ آپ مجھ پر غصہ ہوئے اور فرمانے لگے، "تم نے برا کیا، ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ عنہ کے چند خلفائے معظم شاہ الیاس شاہ صاحب گجراتی و سید احمد بادپہ پا وغیرہ ہنوز حیات ہیں اور اعظم گڑھ کے علاقہ کولہوابن میں جو راستہ بھٹک جاتا ہے وہ یہ کہتا ہے
"کولہوابن کے راؤ
بھولے بھٹکے کو راستہ بتاؤ”
پس اس کی حضرت سید احمد بادیاپہ شریف لاکر رہبری فرماتے ہیں اور وہاں آپ کالو شہید کرکے مشہور ہیں، لہذا یقینا آپ انہی حضرات کے زمرے میں شامل ہوں گے۔
ماخوذ :
کتاب – فیضان اھل بیت اطہار و عرفان قطب المدار
مؤلف – سید مختار علی وقاری مداری







