رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

حضرت شیخ سیف الدین مداری رحمۃ اللہ علیہ

On: فروری 22, 2026 4:54 شام
Follow Us:
شیخ سیف الدین مداری


سلسلۂ عالیہ مداریہ کی تابناک تاریخ میں جن بزرگوں نے اپنے زہد و تقویٰ، فیضِ باطن اور خدمتِ خلق کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا، ان میں حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ ایک ایسے بزرگ تھے جن کی شخصیت علم، عمل، فقر اور سخاوت کا حسین امتزاج تھی۔

حضور مدارِ پاک رضی اللہ عنہ کے سلسلے سے نسبت

حضرت سید الموحدین، عمدة الاطهار، سید بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ (معروف بہ مدارِ پاک) سلسلۂ مداریہ کے بانی اور برصغیر میں توحید، مجاہدہ اور ترکِ دنیا کی عظیم مثال ہیں۔ آپ کا فیض ایسا ہمہ گیر تھا کہ آپ کے خلفا اور سجادہ نشینوں کے ذریعے یہ سلسلہ دور دور تک پھیلا اور ہزاروں نفوس کو راہِ حق نصیب ہوئی۔
حضرت خواجہ سید ابو محمد، محمد ارغون رضی اللہ عنہ، مدارِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوّل سجادہ نشین تھے۔ آپ نے اپنے شیخ کے فیض کو نہایت امانت و دیانت کے ساتھ آگے منتقل کیا اور سلسلۂ طبقاتیہ مداریہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ آپ کی خانقاہ رشد و ہدایت کا مرکز تھی جہاں تشنگانِ معرفت سیراب ہوتے تھے۔ حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ ہی کے خلیفہ تھے

بیعت و سلوک کا سفر

حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے روحانی سفر کا آغاز سلسلۂ چشتیہ سے کیا۔ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین طاہر رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور کچھ عرصہ ان کی صحبتِ فیض سے مستفید ہوتے رہے۔
بعد ازاں، اپنے مرشد حضرت شیخ شمس الدین طاہر رحمۃ اللہ علیہ ہی کے حکم اور اجازت سے آپ حضرت سید ابو محمد خواجہ ارغون قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ یہاں آپ نے سلسلۂ طبقاتیہ مداریہ میں بیعت کی، اور مجاہدہ، اطاعت اور خدمت کے مراحل طے کرتے ہوئے تکمیلِ سلوک کو پہنچے۔
یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ میں اخلاص، اطاعتِ مرشد اور طلبِ حق بدرجۂ اتم موجود تھی۔

غنا، سخاوت اور خدمتِ خلق

اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ کو غنائے ظاہری و باطنی کی ایسی دولت عطا فرمائی تھی کہ آپ کی خانقاہ سے کبھی کوئی سائل یا حاجت مند خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔
آپ کا دل فقر کے نور سے معمور اور ہاتھ سخاوت کے دریا تھے۔ محتاجوں کی خبر گیری، مسافروں کی مہمان نوازی اور اہلِ دل کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ عوام و خواص سب میں یکساں مقبول تھے۔

وصال

یہ مردِ حق بالآخر اپنے رب سے جا ملا۔
آپ کا وصال ۹۲۴ھ میں ماہِ رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب کو ہوا، جو برکتوں اور رحمتوں کی رات ہے۔ یوں آپ کی پوری زندگی عبادت، مجاہدہ اور خدمتِ دین میں گزری اور اختتام بھی رحمت کی گھڑی میں ہوا۔

خلاصہ

حضرت شیخ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی نسبت، کامل اطاعتِ مرشد اور مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت انسان کو روحانی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ آپ سلسلۂ عالیہ مداریہ کے ان روشن چراغوں میں سے ہیں جن کی روشنی آج بھی اہلِ دل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

قطعۂ تاریخ وفات
سیف مسلول خدا سیف الدین
گشت عازم چوسوے خلد برین
سال او گفت سروش غیبی
جلوه گر شد بجنان سیف الدین

کتاب :-
سیر المدار – ظہیر احمد سہسوانی بدایونی
صفحہ – ۱۴۱

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment