حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام جعفر کنیت ابو عبد اللہ اور لقب صادق ہے آپ حضور سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے امام الساجدین مصدر سادات حضور سید نا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور شہید کر بلا سید الشہداء حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑپوتے ہیں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ام فروہ حضرت محمد بن ابوبکر کی پوتی تھیں جن کے والد حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکر مدینہ کے مشہورسات فقہا میں شمار کئے جاتے تھے حضرت سیدنا امام امام علی زین العابدین آپ کے دادا ہیں نیز آپ کو تابعی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ آپ نے بچپن میں حضرت سہل بن سعد اور دیگر چند صحابہ سے ملاقات فرمائی تھی۔ اکابرین امت باالخصوص حضرت امام مالک اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے استاد تھے ان حضرات نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔
ولادت با سعادت
۱۷ ربیع الاول ۸۰ھ بمطابق ۲۰ اپریل ۷۰۲ء کو آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی اور وفات ۲۵ شوال ۱۴۸ھ بمطابق ۷۶۵ء مدینہ منورہ ہی میں ہوئی۔
آپ کا نسب نامہ یہ ہے
جعفر بن محمد بن علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ الکریم
آپ کی ماں فروہ حضرت ابوبکر صدیق کے پڑپوتے قاسم بن محمد کی لڑکی تھیں،
ننیہالی شجرہ یہ ہے:
ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر ،
اس طرح امام جعفر صادق کی رگوں میں صدیقی خون بھی شامل تھا بارہ برس آپ نے اپنے جد بزرگوار حضرت امام زین العابدین کے زیر سایہ تربیت پائی شہادت حضرت امام حسین کے بعد سے پینتیس برس تک حضرت امام زین العابدین کا مشغلہ عبادت الہی اور اپنے مظلوم باپ سید الشہداء کو رونے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ واقعہ کربلا کو ابھی صرف بائیس برس گذرے تھے۔ اس مدت میں کربلا کا عظیم سانحہ اپنے تاثرات کے لحاظ سے ابھی کل ہی کی بات معلوم ہوتا تھا جب حضرت امام جعفر صادق نے آنکھ کھولی تو اسی غم واندوہ کی فضا میں شب و روز شہادت حسین کا تذکرہ اور اہلبیت پاک پر یزیدی مظالم کے واقعات نے ان کے دل و دماغ پر وہ اثر قائم کیا کہ جیسے وہ خود واقعہ کربلا میں موجود تھے۔
۹۵ھ میں بارہ برس کی عمر میں حضرت امام سجاد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد (۱۹) انیس برس آپ نے اپنے والد حضرت امام محمد باقر کے دامن تربیت میں گزارے یہ وہ وقت تھا جب سیاست بنی امیہ کی بنیادیں ہل چکی تھیں اور حضرت امام محمد باقر کی طرف فیوض علمی حاصل کرنے کے لیے خلائق رجوع کر رہی تھی۔ اس وقت اپنے پدر بزرگوار کی مجلس درس میں حضرت امام جعفر صادق ہی ایک وہ طالب علم تھے جو قدرت کی طرف سے علم کے سانچے میں ڈھال کر پیدا کیے گئے تھے۔ آپ سفر اور حضر دونوں میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہتے تھے چنانچہ ہشام بن عبدالملک کی طلب پر آپ بھی حضرت امام محمد باقر کے ساتھ تھے۔ حضرت امام محمد باقر کے بعد امامت کی ذمہ داریاں حضرت امام جعفر صادق پر عائد ہوئیں۔ اس وقت دمشق میں ہشام بن عبد الملک کی سلطنت تھی۔ اس کے زمانہ سلطنت میں ملک میں سیاسی خلفشار بہت زیادہ ہو چکا تھا۔ مظالم بنی امیہ کے انتقام کا جذبہ تیز ہو رہا تھا اور بنی فاطمہ سے متعدد افراد حکومت کے مقابلے کے لیے تیار ہو گئے تھے، ان میں نمایاں ہستی حضرت زید کی تھی جو امام زین العابدین کے بزرگ مرتبہ فرزند تھے۔ ان کی عبادت زہد و تقویٰ کا بھی ملک عرب میں شہرہ تھا۔ مستند اور مسلم حافظ قرآن تھے۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آکر انھوں نے میدانِ جہاد میں قدم رکھا۔
امام جعفر صادق کے لیے یہ موقعہ نہایت نازک تھا مظالم بنی امیہ سے نفرت میں ظاہر ہے کہ آپ بھی حضرت زید سے متفق تھے پھر حضرت زید آپ کے چچا بھی تھے جن کا احترام آپ پر لازم تھا مگر آپ کی دوربیں نگاہ دیکھ رہی تھی کہ یہ اقدام کسی مفید نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لئے عملی طور سے ان کا ساتھ دینا مناسب نہیں مگر ان کی ذات سے آپ کو انتہائی ہمدردی تھی۔ آپ نے مناسب طریقہ پر انھیں مصلحت بینی کی دعوت دی مگر اہل عراق کی ایک بڑی جماعت کے اقرار اطاعت و وفاداری نے جناب زید کو کامیابی کی توقعات دلائیں اور آخر ۱۲۰ھ میں ہشام کی فوج سے تین روز تک بہادری کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد شہید ہو گئے دشمن کا جذبۂ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ دفن ہو جانے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو جدا کر کے ہشام کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا اور لاش کو دروازہ کوفہ پر سولی دے دی گئی اور آپ کی لاش کئی سال تک اسی طرح لٹکتی رہی حضرت زید کے ایک سال بعد ان کے بیٹے حضرت یحیی ابن زید بھی شہید ہوئے۔ یقیناً ان حالات کا امام جعفر صادق علیہ السلام کے دل پر گہرا اثر پڑ رہا تھا۔ مگر جذبات سے بلند فرائض کی پابندی تھی کہ اس کے باوجود آپ نے ان فرائض کو جو اشاعت علوم اہلبیت اور نشر شریعت کے قدرت کی جانب سے آپ کے سپرد تھے برابر جاری رکھے بنی امیہ کا آخری دور ہنگاموں اور سیاسی کش مکشوں کا مرکز بن گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بہت جلدی جلدی حکومتوں میں تبدیلیاں ہو رہی تھی اس لئے حضرت امام جعفر صادق کو بہت سی دنیوی سلطنتوں کے دور سے گذرنا پڑا۔ ہشام بن عبد الملک کے بعد ولید بن عبد الملک پھر یزید بن ولید بن عبد الملک اس کے بعد ابراہیم بن ولید بن عبد الملک اور آخر میں مروان حمار آیا اور اسی پر بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
جب سلطنت کی داخلی کمزوریاں قہر و غلبہ کی چولیں ہلا چکی ہوں تو قدرتی بات ہے کہ وہ لوگ جو اس حکومت کے مظالم کا مدتوں نشانہ رہ چکے ہوں اور جنہیں ان کے حقوق سے محروم کر کے صرف تشدد کی طاقت سے پنپنے کا موقع نہ دیا گیا ہو، قفس کی تتلیوں کو کمزور پا کر پھڑ پھڑانے کی کوشش کریں گے اور حکومت کے شکنجے کو ایک دم توڑ دینا چاہیں گے، سوائے ایسے بلند افراد کے جو جذبات کی پیروی سے بلند ہوں۔ عام طور پر اس طرح کی انتظامی کوششوں میں مصلحت اندیشی کا دامن بھی ہاتھ سے چھوٹنے کا امکان ہے مگر وہ انسانی فطرت کا ایک کمزور پہلو ہے جس سے خاص خاص افراد ہی مستثنی ہو سکتے ہیں بنی ہاشم میں عام طور پر سلطنت بنی امیہ کے اس آخری دور میں اسی لئے ایک حرکت اور غیر معمولی اضطراب پایا جا رہا تھا۔ اس اضطراب سے بنی عباس نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے آخری دور امویت میں پوشیدہ طریقے سے ممالک اسلامیہ میں ایک ایسی جماعت بنائی جس نے قسم کھائی تھی کہ ہم سلطنت کو بنی امیہ سے لے کر بنی ہاشم تک پہنچائیں گے جن کا یہ واقعی حق ہے۔ حالانکہ حق تو ان میں سے مخصوص ہستیوں ہی میں منحصر تھا جو خدا کی طرف سے نوع انسانی کی رہبری اور سرداری کے حقدار بنائے گئے تھے مگر یہ وہی جذبات سے بلند انسان تھے جو موقع کی سیاسی رفتار سے ہنگامی فوائد حاصل کرنا اپنا نصب العین نہ رکھتے تھے۔ سلسلہ بنی ہاشم میں سے ان حضرات کی خاموشی قائم رہنے کے ساتھ اس ہمدردی کو جو عوام میں خاندان بنو ہاشم کے ساتھ پائی جاتی تھی، بنی عباس نے اپنے لیے حصول سلطنت کا ذریعہ قرار دیا۔ حالانکہ انھوں نے سلطنت پانے کے ساتھ بنی ہاشم کے اصل حقداروں سے ویسا ہی یا اس سے زیادہ سخت سلوک کیا جو بنی امیہ ان کے ساتھ کر چکے تھے۔ یہ واقعات مختلف ائمہ اہلبیت اطہار کے حالات کے مطالعہ سے آپ کے سامنے آجائیں گے۔
بنو عباس میں سب سے پہلے حضرت محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس نے بنی امیہ کے خلاف تحریک شروع کی اور ایران میں مبلغین بھیجے تا کہ وہ مخفی طریقہ پر لوگوں سے بنی ہاشم کی وفاداری کا عہد و پیمان حاصل کریں حضرت محمد بن علی کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم قائم مقام ہوئے۔ جناب زید اور ان کے صاحبزادے جناب یحییٰ کے دردناک واقعات شہادت سے بنی امیہ کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہو گیا۔ اس سے بھی بنی عباس نے فائدہ اٹھایا اور ابو سلمہ خلال کے ذریعہ سے عراق میں بھی اپنے تاثرات قائم کرنے کا موقعہ حاصل کیا۔ رفتہ رفتہ اس جماعت کے حلقہ اثر میں اضافہ ہوتا گیا اور ابو مسلم خراسانی کی مدد سے عراق عجم کا پورا علاقہ قبضہ میں آگیا اور بنی امیہ کی طرف سے حاکم کو وہاں سے فرار اختیار کرنا پڑا۔ ۱۲۹ھ سے عراق اور خراسان وغیرہ میں سلاطین بنی امیہ کے نام خطبہ سے خارج کرکے ابراہیم بن محمد کا نام داخل کر دیا گیا۔
ابھی تک سلطنت بنی امیہ یہ سمجھتی تھی کہ یہ حکومت سے ایک مقامی مخالفت ہے۔ جو ایران میں محدود ہے مگر اب جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اس کا تعلق ابراہیم ابن محمد بن عباس کے ساتھ ہے جو مقام جابلقا میں رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب ابراہیم کو قید کر دیا گیا اور قید خانہ ہی میں ان کو قتل کرا دیا گیا۔ ان کے پس ماندگان اور ان سے وابستہ دیگر افراد بنی عباس کے ساتھ بھاگ کر عراق میں ابو سلمہ کے پاس چلے گئے۔ ابو مسلم خراسانی کو جو ان حالات کی اطلاع ہوئی تو ایک فوج کو عراق کی طرف روانہ کیا جس نے حکومتی طاقت کو شکست دے کر عراق کو آزاد کرالیا۔
ابو سلمہ خلال جو وزیر آل محمد کے نام سے مشہور تھے بنی فاطمہ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے انھوں نے چند خطوط اولاد رسول میں سے چند بزرگوں کے نام لکھے اور ان کو قبول خلافت کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک خط حضرت امام جعفر صادق کے نام بھی تھا سیاست کی دنیا میں ایسے مواقع اپنے اقتدار کو قائم کرنے کے لئے غنیمت سمجھے جاتے ہیں مگر آپ انسانی خود داری واستغنا کا مثالی مجسمہ تھے آپ نے اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے اس موقعہ کو ٹھکرا دیا اور بجائے جواب دینے کے حقارت آمیز طریقہ پر اس خط کو آگ کی نذر کر دیا۔
ادھر کوفہ میں ابو مسلم خراسانی کے پیروکار اور بنی عباس کے ہوا خواہوں نے ابو عبد اللہ سفاح کے ہاتھ پر ۱۴ ربیع الثانی ۱۳۲ھ کو بیعت کر لی اور اس کو امت اسلامیہ کا خلیفہ اور فرمانروائے سلطنت اسلامیہ تسلیم کرلیا۔ عراق میں اقتدار قائم کرنے کے بعد انھوں نے دمشق پر چڑھائی کردی۔ مروان حمار نے بھی بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا مگر بہت جلد اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ مروان نے راہ فرار اختیار کی اور آخر میں افریقہ کی سرزمین پر پہنچ کر قتل ہوا۔ اس کے بعد سفاح نے بنی امیہ کا قتل عام کرایا۔ سلاطین بنی امیہ کی قبریں کھدوائیں اور ان کی لاشوں کے ساتھ عبرتناک سلوک کروائے اس طرح قدرت کا انتقام جو ان ظالموں سے لیا جانا ضروری تھا بنی عباس کے ہاتھوں دنیا کی نگاہ کے سامنے آیا۔ ۱۳۶ھ میں ابو عبدالله سفاح بنی عباس کے پہلے خلیفہ کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور تخت خلافت پر بیٹھا جو منصور کے نام سے مشہور ہے ماقبل میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ بنی عباس نے ان ہمدردیوں کا جو عوام کو بنی فاطمہ سے تھیں ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور انھوں نے دنیا کو یہ دھوکہ دیا تھا کہ ہم اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں چنانچہ انھوں نے محبت و رضائے آل محمد ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی نصرت و حمایت پر آمادہ کیا تھا اور اس کو اپنا نعرۂ جنگ قرار دیا تھا۔ اس لیے انھیں بر سر اقتدار آنے کے بعد اور بنی امیہ کو تباہ کرنے کے بعد سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ کہیں ہمارا یہ فریب دنیا پر کھل نہ جائے اور یہ تحریک نہ پیدا ہو جائے کہ خلافت اسلامیہ بنی عباس کی بجائے بنی فاطمہ کے سپر د ہونا چاہیے، جو واقعتاً آل رسول ہیں ابو سلمہ خلال بنی فاطمہ کے سچے محبین و ہمدردوں میں سے تھے اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہ اس تحریک کی حمایت نہ کریں لہذا سب سے پہلے ابو سلمہ کو راستے سے ہٹایا گیا وہ باوجود ان احسانات کے جو بنی عباس سے کر چکے تھے سفاح ہی کے زمانے میں تشدد بنے اور قتل کر دیئے گئے ایران میں ابو مسلم خراسانی کا اثر تھا، منصور نے انتہائی مکاری اور غداری کے ساتھ اس کی زندگی کا بھی خاتمہ کر دیا اب اسے اپنی من مانی کارروائیوں میں کسی با اثر اور صاحب اقتدار شخصیت کی مزاحمت کا اندیشہ نہ تھا لہذا اس کے ظلم و استبداد کا رخ سادات بنی فاطمہ کی طرف مڑ گیا۔
مشہور اسلامی مؤرخ علامہ شبلی نعمانی سیرت النعمان میں لکھتے ہیں۔ صرف بدگمانی پر منصور نے سادات علویین کی بیخ کنی شروع کر دی۔ جو لوگ ان میں ممتاز تھے ان کے ساتھ بے رحمیاں کی گئیں۔ محمد ابن ابراہیم کہ حسن و جمال میں یگانۂ روز گار تھے اور اسی وجہ سے دیباج کہلاتے تھے زندہ دیواروں میں چنوا دیئے گئے۔ ان بے رحمیوں کی ایک داستان ہے جس کے بیان کرنے کو بڑا سخت دل چاہئے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر ان حالات کا بہت اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ جب سادات بنی حسین طوق و زنجیر میں قید کر کے مدینہ سے لے جائے جار ہے تھے تو آپ ایک مکان کی آڑ میں کھڑے ہوئے ان کی حالت کو دیکھ کر رو رہے تھے اور فرمارہے تھے کہ افسوس مکہ و مدینہ بھی دار الامن نہ رہا۔ پھر آپ نے اولا د انصار کی حالت پر افسوس کیا کہ انصار نے آقا علیہ السلام کو اس عہد و پیمان پر مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی تھی کہ ہم آپ اور آپ کی اولاد کی اسی طرح حفاظت کریں کے جس طرح ہم اپنے اہل و عیال اور جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں مگر آج انصار کی اولا د باقی ہے اور کوئی ان سادات کی امداد نہیں کرنے والا یہ فرما کر آپ بیت الشرف کی طرف واپس ہوئے اور بیس دن تک سخت بیمار رہے ان قیدیوں میں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ محض بھی تھے۔ جنھوں نے کبر سنی کے عالم میں عرصہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کے بیٹے حضرت محمد نفس زکیہ نے حکومت کا مقابلہ کیا اور ۱۴۵ھ میں دشمن کے ہاتھ سے مدینہ منورہ کے قریب شہید ہوئے۔ جوان بیٹے کا سر بوڑھے باپ کے پاس قید خانہ میں بھیجا گیا یہ صدمہ ایسا تھا جس سے حضرت عبد اللہ محض وفات فرما گئے اس کے بعد حضرت عبد اللہ کے دوسرے صاحبزادے حضرت ابراہیم بھی منصور کی فوج کے مقابلہ میں جنگ کر کے کوفہ میں شہید ہوئے۔ اسی طرح حضرت عباس ابن حضرت امام حسن ، حضرت عمر ابن حسن مثنی ، حضرت علی و حضرت عبد اللہ فرزندان حضرت نفس زکیہ، حضرت موسیٰ اور حضرت یحی برادران نفس زکیہ وغیرہ بھی بے دردی اور بے رحمی سے قتل کئے گئے۔ بہت سارے سادات کرام عمارتوں میں زندہ چنوا دیئے گئے ان تمام ناگوار حالات کے باوجود جن کا تذکرہ انتہائی اختصار کے ساتھ اوپر لکھا گیا ہے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموشی کے ساتھ علوم دین مصطفوی کی اشاعت میں مصروف رہے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ لوگ بھی جو بحیثیت امامت حقہ آپ کی معرفت نہ رکھتے تھے یا اسے تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے وہ لوگ بھی آپ کی علمی عظمت کو مانتے ہوئے آپ کے حلقات درس میں داخل ہونے کو فخر سمجھتے تھے۔
منصور کو آپ کی جلالت علمی برداشت نہیں تھی اس نے حضرت امام جعفر صادق کی علمی عظمت کا اثر عوام کے دل سے کم کرنے کے لئے ایک تدبیر یہ کی کہ آپ کے مقابلے میں ایسے اشخاص کو بحیثیت فقیہ اور عالم کھڑا کر دیا جو آپ کے شاگردوں کے سامنے بھی زبان کھولنے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور پھر وہ خود اس کا اقرار رکھتے تھے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ حضرت امام جعفر صادق کی خیرات ہے منصور جب اس طرح آپ کی مقبولیت کم نہ کر سکا تو حکم جاری کر دیا کہ جو بھی امام جعفر صادق کی محبت اور آپ کی رفعتِ علمی کا دم بھرے اسے گرفتار کر لیا جائے۔
خود حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ السّلام کو تقریباً پانچ مرتبہ مدینہ طیبہ سے دربار شاہی میں طلب کیا گیا جو آپ کے لئے سخت روحانی تکلیف کا باعث تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی بھی آپ کے خلاف کوئی ایسا بہانہ اسے نہ مل سکا کہ اس کے سبب آپ کو قید یا قتل کئے جانے کا حکم دے سکے البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس سلسلہ میں عراق کے اندر ایک مدت کے قیام سے علوم شریعت کی اشاعت کا حلقہ وسیع ہوا اور اس کو محسوس کرکے منصور نے پھر آپ کو مدینہ بھیجوا دیا۔ اس کے بعد بھی آپ ایذارسانی سے محفوظ نہیں رہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ کے گھر میں آگ لگا دی گئی۔ قدرت خدا تھی کہ وہ آگ جلد فرو ہو گئی آپ کے متعلقین اور اہل خانہ کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا آپ اس حفاظت الٰہیہ کی ایک کڑی تھے جسے رب کریم نے نوع انسانی کے لئے نمونہ کامل بنا کر پیدا ہی کیا تھا۔ ان کے اخلاق و اوصاف زندگی کے ہر شعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے وہ خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طور پر واقعات نقل کئے ہیں وہ ہیں مہمان نوازی، خیر و خیرات، مخفی طریقہ سے غربا کی خبر گیری، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک، عفو جرائم ، صبر وتحمل وغیرہ
ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں وارد ہوا اور مسجد رسول میں سو گیا۔ آنکھ کھلی تو اسے شبہ ہوا کہ اس کی ایک ہزار کی تھیلی موجود نہیں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، کسی کو نہ پایا۔ ایک گوشۂ مسجد میں امام جعفر صادق علیہ السّلام نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کو بالکل نہ پہچانتا تھا۔ آپ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے۔ آپ نے فرمایا، اس میں کیا تھا؟ اس نے کہا ایک ہزار دینار آپ نے فرمایا میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر گیا۔ آپ بیت الشرف پر تشریف لاکر ایک ہزار دینار اس کے حوالے کر دیئے۔ وہ جب مسجد میں واپس آیا اور اپنا سامان اٹھانے لگا تو اس کے دیناروں کی تھیلی سامان میں نظر آئی یہ دیکھ کر وہ بہت شرمندہ ہوا اور دوڑتا ہوا حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں آیا اور معذرت خواہی کرتے ہوئے وہ ہزار دینار واپس کرنا چاہے مگر آپ نے فرمایا ہم جو کچھ دے دیتے ہیں وہ پھر واپس نہیں لیتے۔
یہ حالات سبھی کی آنکھوں کے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ قحط یا خشک سالی ہونے والی ہے اناج مشکل سے ملے گا تو جس سے جتنا ممکن ہوتا ہے وہ اناج خرید کر رکھ لیتا ہے مگر حضرت امام جعفر صادق کے کردار کی حیات طیبہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے وکیل معتب سے ارشاد فرمایا کہ غلہ روز بروز مدینہ میں گراں ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں کس قدر غلہ ہوگا؟ معتب نے کہا کہ ہمیں اس گرانی اور قحط سالی کی تکلیف کا کوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کا اتنا ذ خیرہ ہے کہ جو بہت عرصہ تک کافی ہوگا آپ نے فرمایا تمام غلہ فروخت کر ڈالو۔ اس کے بعد جو حال سب کا ہو وہ ہمارا بھی ہو جب غلہ فروخت کر دیا گیا تو فرمایا اب خالص گیہوں کی روٹی نہ پکایا کرو بلکہ آدھے گیہوں اور آدھے جو کی روٹی پکاؤ جہاں تک ممکن ہو ہمیں غریبوں کا ساتھ دینا چاہئے۔
آپ کا معمول تھا کہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے۔ مزدوروں کی بڑی قدر فرماتے تھے۔ خود بھی تجارت فرماتے تھے اور اکثر اپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لئے ہوئے باغ میں کام کر رہے تھے اور پسینہ سے تمام جسم تر ہو گیا تھا کسی نے کہا حضور یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں آپ نے فرمایا طلب معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف سہنا عیب کی بات نہیں۔
غلاموں اور کنیزوں پر وہی مہربانی فرماتے رہتے تھے جو اس گھرانے کی امتیازی صفت تھی۔ اس کا ایک حیرت انگیز نمونہ ملاحظہ کریں جسے حضرت سفیان ثوری نے بیان کیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہے۔ میں نے سبب پوچھا آپ نے فرمایا میں نے منع کیا تھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پر نہ چڑھے۔ اس وقت جو گھر میں گیا تو دیکھا کہ ایک کنیز جو ایک بچہ کی پرورش پر متعین تھی اسے گود میں لئے زینہ سے اوپر جا رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو ایسا خوف طاری ہوا کہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور صدمے سے جان بحق ہو گیا مجھے بچے کے مرنے کا اتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا اس کا رنج ہوا کہ اس کنیز پر اتنا رعب و ہراس کیوں طاری ہوا۔ پھر آپ نے اس کنیز کو پکار کر فرمایا ڈرو نہیں، میں نے تمھیں راہ خدا میں آزاد کردیا اس کے بعد آپ بچے کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوگئے آپ اس خانوادہ علم و فضل و عمل کے چشم و چراغ ہیں جس کے ادنی اونی خدام مسند علم کے وارث ہوئے آپ کے والد حضور سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پایہ کے عالم تھے کہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان ابن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اکابر امت ان کے شاگرد تھے، سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علم گویا وراثت میں ملا تھا، فضل و کمال کے لحاظ سے آپ اپنے وقت کے امام تھے حافظ امام ذہبی آپ کو امام اور احد السادة الاعلام لکھتے ہیں، اہلبیت کرام میں بھی علم میں کوئی آپ کا ہمسر نہ تھا، ابن حبان کا بیان ہے کہ فقہی علم اور فضل میں آپ یگا نہ تھے امام نووی لکھتے ہیں کہ آپ کی امامت ، جلالت اور سیادت پر سب کا اتفاق ہے۔ حدیث آپ کے جد امجد علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اقوال ہیں، اس لئے آپ سے زیادہ اس کا کون مستحق تھا؛ چنانچہ آپ مشہور حفاظ حدیث میں تھے، علامہ ابن سعد لکھتے ہیں : کان کثیر الحدیث حافظ ذہبی آپ کو سادات اور اعلام حفاظ میں لکھتے ہیں حدیث میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام باقر ، محمد بن منکدر، عبید اللہ بن ابی رافع ، عطاء، عروہ، قاسم بن محمد، نافع اور زہری وغیرہ سے فیض پایا تھا حضرت شعبہ ، سفیان ، ابن جریح ، ابو عاصم، امام مالک، امام ابو حنیفہ وغیرہ ائمہ آپ کے تلامذہ میں تھے حدیث رسول اللہ کا اتنا احترام تھا کہ ہمیشہ طہارت کی حالت میں حدیث بیان کرتے تھے۔
تمام عالم اسلامی میں آپ کی علمی جلالت کا شہرہ تھا۔ دور دور سے لوگ تحصیل علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی تھی ان میں فقہاء تھے، مفسرین تھے متکلمین تھے اور مناظرین بھی تھے آپ کے دربار میں مخالفین و منکرین مذہب اسلام حاضر ہوتے سوالات پیش کرتے ان کے جوابات پاتے کبھی کبھی آپ کے تلامذہ سے مناظرے بھی ہوتے تھے جن پر آپ نقد و تبصرہ بھی فرماتے تھے اور تلامذہ کو ان کی بحث کے کمزور پہلو بتلا کر اسلام کی وکالت کے سنہرے داؤ پیچ سکھاتے تھے تاکہ آئندہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں کبھی آپ خود بھی مخالفین مذہب اور بالخصوص دہریوں سے مناظرہ فرماتے تھے علوم فقہ و کلام وغیرہ کے علاوہ علوم عربیہ جیسے ریاضی اور کیمیا وغیرہ کی بھی بعض شاگردوں کو تعلیم دیتے تھے۔
چنانچہ آپ کے شاگردوں میں سے جابر بن حیان طرسوسی سائنس اور ریاضی کے مشہور امام فن ہیں جنھوں نے چار سو رسالے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افادات کو حاصل کر کے تصنیف کئے ہیں آپ کے تلامذہ میں کئی حضرات بڑے فقیہ تھے جنھوں نے کتا بیں تصنیف کیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ علما انبیا کے امین ہیں جب تک وہ سلاطین کی آستانہ بوسی نہ کریں آپ کے اقوال و کلمات طیبات تہذیب اخلاق علم و حکمت اور پند و موعظت کا دفتر ہیں حضرت سفیان ثوری سے آپ نے ایک مرتبہ فرمایا، سفیان جب خدا تم کو کوئی نعمت عطا کرے اور تم اس کو ہمیشہ باقی رکھنا چاہو تو زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرو کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا جب رزق ملنے میں تاخیر ہو رہی ہو تو استغفار زیادہ کرو اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے: اپنے رب سے مغفرت چاہو، وہ بڑا مغفرت کرنے والا ہے تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا اور دنیا میں مال اور اولاد سے تمھاری مدد کرے گا اور آخرت میں تمھارے لئے جنت اور نہریں بنائے گا۔ جب تمھارے پاس سلطان وقت یا اور کسی کا کوئی حکم پہنچے تو لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم زیادہ پڑھو وہ کشادگی کی کنجی ہے جو شخص اپنی قسمت کے حصہ پر قناعت کرتا ہے وہ مستغنی رہتا ہے اور جو دوسرے کے مال کی طرف نظر اٹھاتا ہے وہ محتاج مرتا ہے جو شخص خدا کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا وہ خدا کو اس کے فیصلہ پر متہم کرتا ہے جو شخص دوسرے کی پردہ داری کرتا ہے خدا اس کے گھر کے خفیہ حالات کی پردہ داری کرتا ہے جو بغاوت کے لئے تلوار کھینچتا ہے، وہ اس سے قتل کیا جاتا ہے جو اپنے بھائی کے لئے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اس میں گرتا ہے جو بے وقوفوں کے پاس بیٹھتا ہے وہ حقیر ہو جاتا ہے جو علما سے میل جول رکھتا ہے وہ معزز ہو جاتا ہے جو برے مقامات پر جاتا ہے وہ بدنام ہو جاتا ہے ہمیشہ حق بات کہو خواہ تمھارے موافق ہو یا مخالف آدمی کی اصل اس کی عقل ہے، اس کا حسب اس کا دین ہے اس کا کرم اس کا تقویٰ ہے تمام انسان آدم کی نسبت میں برابر ہیں سلامتی بہت نادر چیز ہے، یہاں تک کہ اس کی تلاش کرنے کی جگہ بھی مخفی ہے، اگر وہ کہیں مل سکتی ہے تو ممکن ہے گوشئہ گمنامی میں ملے، اگر تم اس کو گوشہ گمنامی میں تلاش کرو اور نہ ملے تو ممکن ہے تنہا نشینی میں ملے ، گوشۂ تنہائی گوشۂ گمنامی سے مختلف ہے اگر گوشۂ تنہائی میں بھی تلاش سے نہ ملے تو سلف صالحین کے اقوال میں ملے گی آپ فرماتے تھے جب تم سے کوئی گناہ سرزد ہو تو اس کی مغفرت چاہو انسان کی تخلیق کے پہلے سے اس کی گردن میں خطاؤں کا طوق پڑا ہے گناہوں پر اصرار ہلاکت ہے آپ فرماتے تھے کہ خدا نے دنیا کی طرف وحی کی ہے کہ جو شخص میری خدمت کرتا ہے تو اس کی خدمت کر اور جو تیری خدمت کرتا ہے اسے دھتکار دے آپ فرماتے تھے کہ بغیر تین باتوں کے عمل صالح مکمل نہیں ہوتا جب تم اسے کرو تو اپنے نزدیک اسے چھوٹا سمجھو، اس کو چھپاؤ اور اس میں جلدی کرو، جب تم اس کو چھوٹا سمجھو گے تب اس کی عظمت بڑھے گی ، جب تم اس کو چھپاؤ گے اس وقت اس کی تکمیل ہوگی اور جب تم اس میں جلدی کرو گے تو خوشگواری محسوس کرو گے آپ فرماتے تھے کہ جب تمھارے بھائی کی جانب سے تمھارے لئے کوئی نا پسندیدہ بات ظاہر ہو تو اس کے جواز کے لئے ایک سے ستر تک تاویلیں تلاش کرو، اگر پھر بھی نہ ملے تو سمجھو کہ اس کا سبب اور اس کی کوئی تاویل ضرور ہو گی جس کا تم کو علم نہیں۔ اگر تم کسی مسلمان سے کوئی کلمہ سنو تو اس کو بہتر سے بہتر معنی پر محمول کرو جب وہ محمول نہ ہو سکے تو اپنے نفس کو ملامت کرو۔
آپ فرماتے تھے چار چیزوں میں شریف کو عار نہ کرنا چاہئے ، اپنے باپ کی تعظیم میں، اپنی جگہ سے اٹھنے میں ، مہمان کی خدمت کرنے میں اور خود اس کی سواری کی دیکھ بھال کرنے میں خواہ گھر میں سو غلام کیوں نہ ہوں اور اپنے استاد کی خدمت کرنے میں۔
آپ کی ذات فضائل اخلاق کا زندہ پیکر تھی ، آپ کا ایک نظر دیکھ لینا آپ کی خاندانی عظمت کی شہادت کے لیے کافی تھا ، عمرو بن المقدام کا بیان ہے کہ جب میں جعفر بن محمد کو دیکھتا تھا تو نظر پڑتے ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ نبیوں کے خاندان سے ہیں عبادت آپ کے شبانہ روز کا مشغلہ تھی ، آپ کا کوئی دن اور کوئی وقت عبادت سے خالی نہ ہوتا تھا، امام مالک کا بیان ہے کہ میں ایک زمانہ تک آپ کی خدمت میں آتا جاتا رہا آپ کو اکثر نماز پڑھتے پایا روزہ رکھے ہوئے پایا قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے پایا انفاق فی سبیل اللہ اور فیاضی و سرچشمی اہل بیت کرام کا امتیازی اور مشترک وصف رہا ہے، سیدنا امام جعفر صادق کی ذات اس وصف کا مکمل ترین نمونہ تھی ، ہیاج بن بسطام روایت کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق بسا اوقات گھر کا کل کھانا دوسروں کو کھلا دیتے تھے اور خود ان کے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ باقی رہ جاتا تھا آپ بظاہر اہل دنیا کے لباس میں رہتے تھے لیکن اندر لباس فقر مخفی ہوتا تھا، حضرت سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت امام جعفر بن محمد کے پاس گیا ، اس وقت ان کے جسم پر خز کا جبہ اور دخانی خز کی چادر تھی، میں نے کہا یہ آپ کے بزرگوں کا لباس نہیں ہے، فرمایا وہ لوگ افلاس اور تنگ حالی کے زمانہ میں تھے اور اس زمانے میں دولت بہ رہی ہے، یہ کہہ کر انھوں نے اوپر کا کپڑا اٹھا کر دکھایا تو خز کے جبہ کے نیچے پشمینہ کا جبہ تھا اور فرمایا ثوری یہ ہم نے خدا کے لیے پہنا ہے اور وہ تم لوگوں کے لیے جو خدا کے لیے پہنا تھا اس کو پوشیدہ رکھا ہے اور جو تم لوگوں کے لیے تھا اس کو اوپر رکھا ہے مذہبی اختلاف سخت نا پسند کرتے تھے فرماتے تھے تم لوگ خصومت فی الدین سے بچو، اس لیے کہ وہ قلب کو مشغول کر دیتی ہے اور نفاق پیدا کرتی ہے نہایت جری، نڈر اور بے خوف تھے ، بڑے بڑے جبابر کے سامنے ان کی بے باکی قائم رہتی تھی۔
ایک مرتبہ منصور عباسی کے اوپر ایک مکھی آکر بیٹھی وہ بار بار ہنکاتا تھا اور مکھی بار بار آ کر بیٹھتی تھی، منصور اس کو ہنکاتے ہنکاتے عاجز آگیا، مگر وہ نہ ہٹی، اتنے میں حضرت امام جعفر صادق پہونچ گئے منصور نے ان سے کہا ابو عبد اللہ مکھی کس لیے پیدا کی گئی ہے، فرمایا جبابرہ کو ذلیل کرنے کے لیے ایسی مصروف زندگی رکھنے والے انسان کو جاہ سلطنت حاصل کرنے کی فکروں سے کیا مطلب؟ مگر آپ کی علمی مرجعیت اور کمالات کی شہرت سلطنت وقت کے لیے ایک مستقل خطرہ محسوس ہوتی تھی۔ جب کہ یہ معلوم تھا کہ اصلی خلافت کے حقدار یہی ہیں جب حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود کوئی بہانہ اسے آپ کے خلاف کسی کھلے ہوئے اقدام اور خونریزی کا نہ مل سکا تو آخر خاموش حربہ زہر کا اختیار کیا گیا اور زہر آلود انگور حاکم مدینہ کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے ، جن کے کھاتے ہی زہر کا اثر جسم میں سرایت کر گیا اور ۱۵ شوال ۱۴۸ھ میں ۵۶ سال کی عمر میں شہادت پائی۔
آپ کے فرزنداکبر اور جانشین حضور سید نا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے تجہیز و تکفین کی اور نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے اس احاطہ میں دفن کیا گیا جہاں اس سے پہلے حضرت سیدنا امام حسن، حضرت سیدنا امام زین العابدین اور حضرت سیدنا امام محمد باقر دفن ہو چکے تھے آپ اہل السنۃ والجماعت کے پیشوا بالخصوص طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے سالار طریقت ہیں آپ کی تاریخ ولادت و وفات سے متعلق مختلف تاریخی روایات ہیں ایک روایت کے مطابق آپ کی ولادت ۸ رمضان المبارک ۸۰ ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی اور ۱۵ رجب المرجب ۱۴۵ ہجری کو مدینہ طیبہ ہی میں انتقال فرمایا۔
حوالہ جات: تہذیب التہذیب ، صفوة الصفو، تذكرة الحفاظ، تہذیب الاسماء وغیر ہم۔
مولانا مفتی محمد حبیب الرحمن علوی منظری المداری
قومی ترجمان آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ
9628407397











