رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

حضرت بابا مان شاہ دریائی رضی اللہ عنہ

On: فروری 6, 2026 5:44 شام
Follow Us:
Hazrat Baba Man Shah Dariyai (Rahmatullah Alaih)

آج کے اس مضمون میں ہم آپ کو سلسلہ مداریہ کے ایک ایسے بزرگ سے وابستہ اور روبرو کروائیں گے کہ جن پر بادشاہی ناز کرے, ایسے ولی اللہ کہ جن پر ولایت فخر کرے ایسے عبادت گزار جن پر عبادت رشک کرے ایسے کرامات والے جن پر کرامات فخر کرتی ہوئی نظر آئیں جنہیں بابا مان دریائی کہا جاتا ہے جن کا جسم مبارک آپ کی وفات کے بعد پھولوں کا ڈھیر بن گیا , زندہ شاہ مدار کے دریائی دولھا بھی کہا جاتا ہے , جن کے آستانے پر آج بھی ایک کراماتی پتھر کے غسل کا دودھ پینے سے بے اولادوں کو اولاد عطا ہوتی ہے میں بات کر رہا ہوں شہنشاہ بڑودرا حضرت بابا مان کی حضرت بابا مان کا آستانۂ مبارک گجرات کے ضلع بڑودرا میں آپ کے ہی نام سے منسوب علاقے بابا مان میں مرجع خلائق ہے

نام: عارف باللہ , مخدوم الہند , ملنگ اعظم, سید اکمل حسین عرف بابا مانا شاہ دریائی

ولادت : ۷۲۱ ھجری

 آپ کا شجرۂ طریقت کچھ اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر ملتا ہے حضرت سید اکمل حسین عرف بابا مان ملنگ مداری ان کے پیر حضرت سید سدھن سرمست مداری ان کے پیر حضرت سید جمال الدین جان من جنتی ان کے پیر حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ

حضرت بابا مان کے آستانۂ مبارک پر ایک کراماتی پتھر موجود ہے جس کی نسبت حضرت بابا مان سے ہے اور جب بھی کوئی اپنے بیٹے کے لئے دعا مانگتے ہیں تو بیٹے ملتے ہیں۔ آپ اپنے پیر سدھن شاہ سرمست کی بارگاہ میں جاتے تھے تو اسی پتھر کو اپنے پیروں سے مارتے ہوئے اپنے پیر کی بارگاہ میں جاتے اور ویسے ہی واپس آتے تھے آپ نے اپنے پیر کی بارگاہ میں جاتے تھے اپنے پیر سدھن شاہ سرمست کی طرف کبھی پیٹھ نہیں کی آج بھی اس کراماتی پتھر کی کرامات یہ ہے کہ جس عورت کو اولاد نہیں ہوتی وہ صرف اس کراماتی پتھر کے غسل کا دودھ پی لے تو آپ کی دعا سے اسے اولاد نصیب ہوتی ہے یہ دودھ ۸ شعبان یعنی بابا مان کے صندل کے دن تقسیم کیا جاتا ہے ,یہی نہیں بڑی سے بڑی قسم کی بیماریوں کا علاج بھی اسی کراماتی پتھر سے ہوجاتا ہے

ایک مرتبہ آپ بڑودہ پہنچے اس وقت وہاں ایک جوگی رہتا تھا جو بڑودہ کے راجہ کا گرو تھا اس نے راجہ سے کہہ رکھا تھا کہ مسلمان فقرا کو شہر بڑودرہ میں نہ مانگنے دیا جائے اسی وجہ سے راجہ نے فقرہ کو نذر و نیاز پر پابندی لگائی ہوئی تھی وہ جوگی اپنے ہاتھ میں کانوڑ رکھتا تھا جس سے وہ پورے شہر میں مانگتا تھا بابامان کو جب یہ خبر ملی تو آپ راجہ کے دربار میں پہنچے دربان نے انہیں روکنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر مداریت کے جلالی قدم کو روک نہ سکا آخر کار بابا مان دندناتے ہوئے راجہ کے سامنے پہنچے راجہ نے آپ کا چہرہ دیکھا تو جلال مان سے اسے جلال خداوندی نظر آنے لگا راجہ پر خوف طاری ہوا اور کہا بابا میرے قریب آ کر بیٹھئے اور بتائیے آخر اتنے غصے میں کیوں ہیں بابا مان نے فرمایا کہ اے راجہ تُو نے آخر اپنے شہر میں مسلم فقرا کے لیے خیرات کا دروازہ کیوں بند کیا ہوا ہے پھر راجہ نے ادب کے ساتھ کہا کہ میرے گرو نے مسلم فقراء کو دولت و نذر دینے کے لیے منع کیا ہوا ہے بابا مان نے فرمایا اپنے گرو کو بلا راجہ نے اس جوگی کو بلوایا جوگی اپنی کشکول اپنے ساتھ لیا اور بغل میں اس کو رکھ دیا جب بابا مان نے اس سے پوچھا کہ اے جوگی تو راجہ کو خیرات کرنے سے کیوں روکتا ہے تو وہ کہنے لگا کہ ہمارے مذہب میں مسلمانوں کو دھرم دینا جائز نہیں تو آپ نے فرمایا تیرے پاس کیا ہے اس نے کہا کانوڑ ہے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ تیری کانوڑ ہے تو اس سے کہو کہ شہر میں خیرات مانگ کر لائے تو وہ جوگی بولا کہ کیا کانوڑ خود کہیں جا سکتی ہے بابا مان کہنے لگے کہ اگر یہ تیری ہے تو تیرے حکم سے جانے سے کیا انکار کر دے گی جوگی مسکر آیا اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ ہی اسے منگوانے کے لیے بھیج دیجئے آپ مسکرآئے اور کانوڑ سے فرمایا حکمِ خدا سے اور دعاءِ فقیری سے ڈھائیں گھر مانگ لائے اور توحید بول یہ کہتے ہی کشکول ہلنے لگی اور راجہ اور جوگی کے قریب سے گزری پورا دربار ایک حیرت و استعجاب کے عالم میں ڈوب گیا کشکول جوگی کے پاس سے گزرتی ہوئی بابا مان کے پاس آئی اور خوب ہلنے لگی اور توحید اللہ اللہ کہنے لگی پھر اس کا رخ شہر کی طرف ہو گیا شہر میں جس دروازے پر وہ کشکول پہنچتی لوگ اس میں خیرات کرتے یہاں تک کہ عورتیں اپنے زیورات بھی اس میں خیرات کر دیتی تھوڑی دیر میں وہ کانوڑ شہر سے مانگ کر واپس آگئی یہ دیکھ کر راجہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا اور سارے درباری بھی کھڑے ہوئے راجہ نے کہا بابا ہم شرمندہ ہیں میری خطا معاف ہو میرے لیے جو حکم ہو میں ماننے کو تیار ہوں حضرت بابا مان نے فرمایا اے راجہ ہم فقیروں کو دنیا کی چاہ نہیں ہوتی بس ایک بات یہ ہے کہ میرے اسلامی فقرا پر لگی پابندی کو ہٹایا جائے اور اس شہر بڑاودہ کا نام میرے نام سے منصوب کیا جائے پس راجہ نے یہ اعلان کیا کہ صرف بڑودہ کہہ کے اس شہر کو نہ پکارا جائے بلکہ جب بھی کہا جائے تو بابا مان کا بڑودہ کہا جائے ساتھ ہی ساتھ مسلم فقرا پر لگی پابندی کو بھی راجہ نے ختم کر دیا

آپ کو بابا مان کہنے کی مجھے یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ جو راجہ اور جوگی کسی فقیر کو نہ مانتے تھے آپ کی کرامات سے وہ ماننے پہ مجبور ہو گئے

دوسری بات یہ بھی کہی جا سکتی ہے کہ کھوئی ہوئی فقرا کی عزت یعنی مان و سمان انہیں نے دلایا اسی لیے انہیں مان کہا جاتا ہوگا اسی کیلئے لوگ آپ کو بابا مان کے نام سے پکارتے ہیں

حضرت بابا مان کو دریائی دولہا کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ آپ کے ایک مرید کہ جو سوداگر تھے جو ایک بار دریا میں سفر کر رہے تھے نے دوران سفر ان کی کشتی میں چھید ہو گیا جس کے بعد پانی کشتی میں بھرنے لگا مرید نے اپنے پیر کو یاد کیا یا بابا مان میری مدد فرمائیے آپ اس وقت بڑودا میں موجود تھے کندھے پر ایک کپڑا تھا آپنے اسی کپڑے کو زمین میں لگا دیا جس سے اس سوداگر کی کشتی کا چھید بند ہوگیا اور اس سوداگر کی کشتی پار لگ گئی 

اسی طرح بہت سے دریاء میں پھنسے لوگوں نے آپ کو یاد کیا اور آپ ان کی رہنمائی فرماتے تھے اسی لیے آپ کو دریائی دولہا کے لقب سے پکارا جاتا ہے

 آپ کی یہ بھی کرامات ہے کہ آپ کو نہ غسل دیا گیا نہ کفن دیا گیا اور نہ ہی آپ کے جنازے کی نماز ہوئی سیدھے اٹھ کر پھولوں کا ڈھیر بن گئے اسی لیے آپ کو لوگ زندہ شامدار کے زندہ ولی کے نام سے بھی جانتے اور پہچانتے ہیں 

حضرت بابا مان کا آستانہ مبارک شہر بڑاودہ کے بابا مان علاقے میں موجود ہے آپ کی وفات ۱۰۱۲ ہجری میں ہوئی آپ نے تقریباً ۳۰۰ سال کی عمر پائی آپ کا عرس مبارک ۳ شعبان کو منایا جاتا ہے

غلام فرید حیدری مداری

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment