تعارف / حیات / سیرت مشائخ سلسلۂ مداریہ دعا / عبادات تہوار مذہبی معاشرتی تقابل الھلال حضور مدار پاک خبریں

حلب کا چاند

On: مارچ 28, 2026 11:12 صبح
Follow Us:
Halab ka Chand

حلب میں دو چاند نمودار ہوئے

پائی جہاں نے آج ہیں دو دو مسرتیں
اک سو ہلال عید ہے اک سو حلب کا چاند

1شوال 242ھ مطابق 31 جنوری 857ء

857ء مطابق 242ھ کا زمانہ تھا رمضان المبارک کی پرانوار ساعتیں تھیں رحمتوں برکتوں کی برسات تمام اہل حلب بلکہ اہل شام بلکہ تمام کائنات عالم کو سیراب فرما رہی تھی۔
ہر طرف لوگ اللہ کی عبادتوں میں مصروف تھے ۔
جہاں حلب کی سرزمین رمضان المبارک کے نور سے پر نور تھی وہیں
ملک شام کے اس عظیم شہر حلب کی فضاؤں میں ایک سفید رنگ کا پرندہ اڑتا اور ایک صدا دیتا

یا ایہا الناس اتقواللہ اللہ اللہ

اور یہ صدا ایک دن دو دن یا تین دن نہیں بلکہ پورا مہینہ ایک روایت میں ہے کے چالیس روز تک ایک سفید رنگ کا پرندہ اڑتا اور یہی صدا بلند کرتا اور غائب ہوجاتا۔

لوگ بڑے ہی تعجب سے اس پرندے کو دیکھتے اور اس کی صدا کو سنتے لیکن یہ سوچتے رہے کے آخر یہ ماجرا کیا ہے

کیونکہ ملک شام ایک ایسا عظمت والا ملک ہے جس کی فضیلت کو رحمت دو جہاں قاسم نعمات خدا
افضل الانبیاء سرور رسولاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی زبان سے بیان فرمائی ہے ۔
آپ ارشاد فرماتے ہیں

صفوة الله من ارضه الشام وفيها صفوته من خلقه وعباده ولتدخلن الجنة من امتي ثلة لا حساب عليهم ولا عذاب”.-” صفوة الله من أرضه الشام وفيها صفوته من خلقه وعباده ولتدخلن الجنة من أمتي ثلة لا حساب عليهم ولا عذاب”.

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی زمین میں سے اس کا انتخاب شام کی سرزمین ہے اور شام میں کئی بندگان خدا اللہ کے تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہیں اور میری امت میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جو بغیر حساب و کتاب اور عذاب و عقاب کے جنت میں داخل ہو گی

اس کے علاؤہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد گرامی ہے

-” طوبى للشام إن ملائكة الرحمن باسطة اجنحتها عليه”.-” طوبى للشام إن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليه”.

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری ہے، رحمن کے فرشتوں نے اس پر اپنے پر پھیلا رکھے ہیں
اس کے علاؤہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلّم نے ملک شام میں ابدال کی نشان دہی بھی فرمائ جس کو امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کچھ یوں بیان فرمایا کہ

عن شریح بن عبید قال ذکر أہل الشام عند علي رضي اللہ عنہ وقیل ألعنہم یا أمیر الموٴمنین قال: لا إني سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: الأبدال یکونون بالشام وھم أربعون رجلاً کلما مات رجل أبدل اللہ مکانہ رجلاً یسقی بہم الغیث وینتصر بہم الأعداء ویصرف عن أھل الشام بہم العذاب?

ترجمہ: حضرت شیح بن عبید تابعی روایت کرتے ہیں کہ ایک موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل شام کا ذکر کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ اے امیرالموٴمنین! شام والوں پر لعنت کیجیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوتے ہیں اور وہ چالیس مرد ہیں جب ان میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو مقرر کردیتا ہے ان (ابدال) کے وجود وبرکت سے بارش ہوتی ہے، ان کی مدد سے دشمنان دین سے بدلہ لیا جاتا ہے اورانھیں کی برکت سے اہل شام سے سخت عذاب کو دفع کیا جاتا ہے ۔ (مشکوة) ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیار امت (امت کے نیک ترین لوگ جو اس امت میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں) کی تعداد ۵۰۰ ہے اور ابدال چالیس کی تعداد میں رہتے ہیں نہ پانچ سو کی تعداد کم ہوتی ہے اور نہ چالیس کی جب کوئی ابدال مرجاتا ہے تو اس کی جگہ اللہ تعالیٰ پانچ سو خیارِ امت میں سے کسی ایک کو مقرر کردیتا ہے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان کے اعمال کے بارے میں بتادیجیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو معاف کردیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ بھی نیک سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو جو کچھ بھی دیتا ہے اس کے ذریعہ وہ فقراء مساکین کی خبرگیری کرتے ہیں

لہٰذا اہل شام اس پرندے کی صدا کو سنتے اور آپس میں بات کرتے کے یہ ماجرا کیا ہے

آخر کار سن 1جنوری 857 ء مطابق 1شوال المکرم 242ھ کا دن آیا یعنی عید الفطر کا چاند نمودار ہوا تو حلب کے قاضی شہر اولاد رسول فخر ولایت سرکار سیدنا قاضی سید قدوۃ الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ کے دولت کدے میں ایک ایسا چاند نمودار ہوا ایک ایسا فرزند ارجمند پیدا ہوا جو پیدا ہوتے ہی اپنے رب کی ربوبیت کی گواہی دیتا ہوا پیدا ہوا اپنے نبی رسالت کا اقرار کرتا ہوا پیدا ہوا جب وہ پیدا ہوا تو اس نے کلمہ شہادت کو پڑھا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ادا کیا۔
جس کے پیدا ہوتے ہی حضرت علی حلبی کا گھر نور سے روشن ہوگیا نور کی مخلوق کاشانہ علی حلبی میں آکر اس نو مولود کی ولادت کی مبارکباد پیش کرتی
یہاں تک خود سردار انبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم اپنے اصحاب کے ساتھ قاضی قدوۃ الدین علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ کے دولت کدہ پر تشریف لائے اور اس نومولود کی ولادت کی مبارکباد پیش کی اور ارشاد فرمایا اے علی حلبی تمہارا یہ فرزند سعید ازلی ولی ہے اور یہ اولیاء میں عظیم مراتب پر فائز ہوگا لہذا اس فرزند ارجمند کا نام احمد بدیع الدین رکھنا یہ ایک عالم کو نور ہدایت سے معمور فرمائے گا اور کفر و شرک کے اندھیروں کو مٹاکر ایمان و اسلام کے نور سے منور فرمائے گا
چنانچہ حضرت علی حلبی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس نومولود کا نام حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احمد رکھا اور لقب بدیع الدین ۔
اور آپ دنیائے عالم میں قطب المدار ۔زندہ شاہ مدار ۔زندان صوف۔ مدار جہاں ۔مدار دو جہاں و مدار العالمین۔ کے لقب سے مشہور ہوئے ۔

اللہ پاک ہم سب کو فیضان قطب المدار سے مستفیض فرمائے اور آپکی ولادت کے اس حسین موقع پر ہم سب پر آپکا فیضان عام فرمائے آمین

میں تمام عالم اسلام کو شہنشاہ ولایت قطب وحدت قطب الاقطاب فرد الافراد قطب الارشاد حامل مقام صمدیت واصل مقام محبوبیت حضور سرکار سرکاراں سیدنا سید احمد بدیع الدین قطب المدار رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کی مبارکباد پیش کرتا ہوں

فقط

قاضی سید محمد توثیق منصف جعفری مداری
صدر قاضی شہر مکنپور شریف

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment