رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت

On: فروری 21, 2026 4:29 شام
Follow Us:

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره، آیت ۱۸۳)

اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پر ہیز گار ہو جاؤ”

عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالی کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاء کو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔

رمضان کا لفظ ” رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گرد و غبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالی کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔

رمضان المبارک اسلامی تقویم ( کیلنڈر) میں وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے قرآن حکیم نازل فرمایا۔ رمضان المبارک کی ہی ایک با برکت شب میں آسمان دنیا پر پورے قرآن کا نزول ہوا لہذا اس رات کو اللہ رب العزت نے تمام راتوں پر فضیلت عطا فرمائی اور اسے شب قدر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ الْفِ شَهْرٍ ( القدر ۳:۹۷)

شب قدر ( فضیلت و برکت اور اجر و ثواب میں ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

انه سمع من يتق به …. خير من الف شهر)

(موطا امام مالک ، الاعتکاف ، باب ماجاء فی لیلة القدر ۱۲۳/ الطبع مصر)

انہوں نے بعض معتمد علماء سے یہ بات سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ سے پہلے لوگوں کی عمریں دکھلائی گئیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ آپ کی امت کی عمریں ان سے کم ہیں اور اس وجہ سے وہ ان لوگوں سے عمل میں پیچھے رہ جائے گی ، جن کو لمبی عمریں دی گئیں۔ تو اللہ تعالی نے اس کا ازالہ اس طرح فرمادیا کہ امت محمدیہ کے لیے لیلۃ القدر عطا فرمادی۔

رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت اور فیوض و برکات کے باب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ.

( بخاری، صحیح، کتاب بدء الخلق ، باب صفة ابليس وجنوده ۳: ۱۱۹۴، رقم : ۳۱۰۳)

جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔

رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے لگایا جاسکتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَإِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدِّم مِنْ ذَنْبِهِ.

بخاری، کتاب الصلاة التراویح، باب فضل ليلة القدر ۲: ۷۰۰ رقم ۱۹۱۰)

جو شخص بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ مل کر بھی اس کی برابری و ہمسری نہیں کر سکتے۔

قیام رمضان کی فضیلت سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حضورنبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا:

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

( بخاری- کتاب الایمان، باب تطوع قیام رمضان من الایمان،۲۲:۱، رقم: ۳۷)

جس نے رمضان میں بحالت ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔

الصوم جنة يسجن بها العبد من النار

(صحيح الجامع، ح: ۷۶۸۳)

روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔

ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

الصوم جنة من عذاب الله

(صحيح الجامع، ح: ۶۶۸۳)

روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (بچاؤ کی) ڈھال ہے۔”

ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا

(صحيح البخاري، الجهاد والسير، باب فضل الصوم في سبيل الله، ح: ۰۴۸۲ وصحيح مسلم، الصيام، فضل الصيام في سبيل الله … ح : ۳۵۱۱)

جس نے اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالی اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے ۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان في الجنة بابا يقال له فلم يدخل منه احد

(صحيح البخاري، الصوم، باب الريان للصائمين، ح: ۶۹۸۱ وكتاب بدء الخلق ، ح : ۷۵۲۳ وصحیح مسلم، باب فضل الصيام، ح : ۲۵۱۱)

مولا تا سید طارق حسین

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment