قطب عالم غوث زماں حضرت علامہ حکیم سید محمد ولی شکوہ علیہ الرحمة والرضوان کی حیات مبارکہ عبادت و ریاضت خداترسی و بندگان خدا کی بھلائی حصول علم و حکمت و منازل عرفان و معرفت کرتے کرتے بسر ہوئی۔ آپ غرباء کی امداد نہایت خاموشی سے فرماتے اور ان کے گزارنے کا سامان مہیا فرماتے تھے۔ یہ راز آپ کے وصال شریف کے بعد افشا ہوا جب غرباء نے خود ہی اپنی زبان سے بیان فرمایا اور اس راز سے پردہ اُٹھایا۔
بابائے قوم وملت پر فیضان مدار العالمین کی جلوہ فرمائی
سادات و مشائخین مکن پور شریف نے فرمایا کہ ولی اکمل عارف بالله قبلہ و کعبہ سید علی شکوہ میاں علیہ الرحمۃ والرضوان نہایت تقویٰ و طہارت اوراد و وظائف مخلوق خدا پر مہربانی فرمانے والے اللہ کے محبوب بندے تھے۔ وہ اپنے بستر پر آرام فرمارہے تھے کہ خواب میں سید الاولیا قطب وحدت سیدنا سید بدیع الدین احمد مدار العالمین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا اے علی شکوہ مژدہ ہو کہ تمہارے یہاں جو بیٹا پیدا ہونے جا رہا ہے وہ اللہ کا مقرب ولی ہو گا تم اس کا نام ولی شکوہ رکھنا سبحان اللہ!
بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ کی پیدائش کی بشارت سید الاولیاء نے دی اور نام بھی منتخب فرمایا یعنی جو ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منتخب کردہ ہے۔ بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ اس ذات اقدس کا انتخاب ہیں۔
خورشید مداریت کے مزار اقدس سے اکتساب فیض کرنا
قطب زماں ولی اکمل حضور سیدنا سید خورشید احمد دادا میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات اقدس سر زمین بہیڑی شریف ضلع بریلی اتر پردیش انڈیا میں مدفون ہے اور آپ کا مزار مقدس مرجع عوام و خواص ہے۔
بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ نے قطب عالم غوث زمان خواجہ سید خورشید احمد دادا میاں علیہ الرحمہ کے مزار اقدس سے اکتساب فیض کیا اور شجرہ شریف مجھے تفویض کیا وہ شجرہ خورشیدیہ مداریہ میرے کتب خانہ میں موجود ہے وقت کی قلت اور مضمون کی طوالت کے پیش نظر اس کو تحریر نہیں کر رہا ہوں۔ اگر زندگی نے ساتھ دیا تو کسی موقع پر تحریر کروں گا۔ اس وقت تک عملی بے بضاعتی کے سبب میں اس بات سے ناواقف تھا کہ کشف القبور ممکن ہے اور شیخ و مرید کا ایک زمانہ نہ ہونے کے باوجود اکتساب فیض اور اجرائے سلسلہ ممکن ہے۔ اور پھر حضور مدار العالمین رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مطلب بھی سمجھ میں آگیا جو حضور ولی اکمل خلیفۂ مدار العالمین حضرت شیخ محمود کنتوری رضی اللہ عنہ کی فرمائش کرنا مدار العالمین رضی اللہ عنہ سے کہ حضور اپنا شجرہ شریف تحریر کرادیجئے آپ نے فرمایا
اكْتُبُ اسْمُكَ ثُمَّ اسمى ثُمَّ اسمى رسول الله صلى الله عليه وسلم
پہلے اپنا نام لکھو۔ پھر میرا نام لکھو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھو۔
اسی طرح بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ نے مزار اقدس دادا خورشید احمد علیہ الرحمة والرضوان سے ڈائریکٹ اکتساب فیض کیا اور الحمد للہ اس خادم کو اس کی اجازت بھی عطا فرمائی۔
حضور بابائے قوم وملت علیہ الرحمہ کی عبادت اور تقویٰ و طہارت دیکھ کر ایک گم گشتۂ راہ کا ہدایت یافتہ ہو جانا
سرزمین بہیڑی الجامعة العربية سيد العلوم بديعيه مداریہ محلہ اسلام نگر میں حضور قبلہ علیہ الرحمہ نے آخری دورہ کے درمیان ۲۶ دن قیام فرمایا اسی قیام کے دوران ہوا کچھ یوں ہوا کہ محلہ میں ایک خلیل احمد نام کا شخص رہتا تھا اس شخص کی الٹی سیدھی باتوں سے لوگ خفا رہتے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ وہ اچھا عقیدہ نہیں رکھتا ہے اس دورہ کے درمیان ایک دن صبح میں مدرسہ آیا اور بابا حضور کو تشریف فرما نہ پایا میں نے بابا حاجی ظہور احمد سے دریافت کیا کہ بابا حضور کہاں ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا خلیل احمد ٹھیکیدار بلا کر لے گئے ہیں انہیں کے گھر گئے ہیں میں ان کی الٹی سیدھی اور بدعقیدگی والی باتوں سے اچھی طرح واقف تھا میں گھبرا گیا اور الحاج بابا ظہور سے کہا جلد خلیل احمد ٹھیکیدار کے گھر جاؤ اور بابا حضور علیہ الرحمہ کو بلا کر لاؤ کہیں وہ آپ سے غلط سلط باتیں نہ کرے بابا ظہور احمد صاحب گئے اور کچھ دیر بعد بغیر بابا حضور کو لئے مدرسہ واپس آگئے میں نے بابا ظہور احمد صاحب سے سوال کیا کہ آپ گئے نہیں انہوں نے کہا گیا تھا مگر ٹھیکیدار اور ان کی اہلیہ تو بابا کے دست حق پرست پر مرید ہو رہے ہیں مجھے نہایت مسرت و شادمانی کے ساتھ تعجب بھی ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ ایک دن میں نے ٹھیکیدار سے پوچھا کہ آپ تو دن رات پیروں کی برائی کرتے تھے آخر کرشمہ کیا ہوا کہ آپ بابا حضور کے مرید ہو گئے۔ تو انہوں نے بیان کیا کہ امام صاحب میں آپ کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں اور روز مدرسہ میں دیکھتا ہوں لوگوں کا اثردھام بابا حضور کے ارد گرد جمع رہتا ہے رات کے بارہ ایک بجے تک بھیڑ بھاڑ کا ماحول رہتا ہے بابا حضور دو بجے سے پہلے نہیں سو پاتے ہوں گے رات میں سویا اور آنکھ جلد کھل گئی میں مسجد چلا آیا تو دیکھا کہ بابا حضور مسجد میں مصلے پر عبادت میں مصروف ہیں میں نے سوچا کہ بابا حضور کے پاس سے ابھی کچھ دیر پہلے ہی لوگ گئے ہوں گے تو بابا حضور سوتے کس وقت ہیں صبح سے رات کے ایک بجے لوگوں کا اثردھام اور پھر بقیہ رات عبادت کرتے گزارنا میں نے اس رات فیصلہ کیا کہ سارے پیر ایک طرح کے نہیں ہیں یہ پیر کامل اور اللہ والے ہیں ان سے اچھا پیر نہیں ملے گا اور میں صبح کو حضرت کے دست اقدس پر مرید ہو گیا اور اپنے پرانے خیالات و عقائد سے توبہ کر لی۔
(صاحب جمال مداریت کے کشف و کرامات)
حضرت کا وصال شریف ۱۴ / جنوری ۱۹۹۶ء مطابق ۲۲ شعبان المعظم ۱۴۱۷ ھجری بروز اتوار ہیلٹ اسپتال کانپور میں دن کے دس بج کر بیس منٹ پر ہوا۔
چوں مرگ آمد حکیم ابلہ شود۔
کے مطابق ڈاکٹروں نے آپ کے شکم شریف کا آپریشن کیا اور یہ کہتے ہوئے فی الفور اس کو بند کر دیا کہ ان کی پوری باڈی سڑ گئی ہے ان کو انتقال کے بعد باقاعدہ غسل مت دینا اور جسم پر ہاتھ نہ لگانا ورنہ کھال ہاتھ میں آجائے گی القصہ مختصر آپ کے جسم اقدس کو مکن پور شریف لایا گیا اور سنت نبوی کے مطابق غسل دیا جانے لگا حضور فاتح اجمیر حضرت علامہ ڈاکٹر سید محمد مرغوب عالم علیہ الرحمہ غسل دینے والوں میں شامل تھے اور میں بھی موجود تھا حضور فاتح اجمیر علیہ الرحمہ نے مجھے آواز دی مولانا خلیق ادھر آؤ اور بابا حضور کو غسل دو میں غسل دینے میں شریک ہو گیا مجھ سے کہا جسم اطہر کو خوب خوب رگڑ کر غسل دو کھال نہیں اترنے والی یہ اللہ کے مقرب ولی کا جسم اقدس ہے ڈاکٹر نے پاگل پن میں کہہ دیا ہے کہ جسم کو ہاتھ نہ لگانا کھال ہاتھ میں آجائے گی بخدا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جتنا ہاتھوں سے مل مل کر غسل دیا جار ہا تھا اتنا اتنا نکھار آتا جارہا تھا اور نورانیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا بعد غسل تلفین ہوئی اور دمال شریف میں نماز جنازہ ادا کی گئی جنازہ شریف کے گشت کے بعد تدفین کا عمل شروع ہوا۔ ولی کامل عارف باللہ شیر بیشۂ مداریت حضرت العلام ڈاکٹر سید محمد مرغوب عالم صاحب جعفری المداری فاتح اجمیر علیہ الرحمہ اور ان کے ہمراہ غالبا مجھے کچھ شبہ ہو رہا ہے حضور قبلہ و کعبہ سید عظیم الباقی علیہ الرحمہ قبر شریف میں اتارنے کیلئے قبر میں اترے اور قبر میں لٹا کر حضور فاتح اجمیر نے بآواز بلند قبر شریف سے آواز لگائی کہ مولانا خلیق اور تمام لوگو! قریب آؤ دیکھو کتنی بھینی بھینی خوشبو قبر انور سے آرہی ہے میں بھی قرب قبر انور کے قریب ہوا اور لوگ بھی قریب ہوئے اور وہ خوشبو لوگوں نے سونگھی اللہ گواہ ایسی پیاری اور انوکھی خوشبو نہ میں نے اس سے پہلے سونگھی اور نہ اس کے بعد آج تک سونگھی ہے۔ یہ شان ولی ہے جو اپنی زندگی میں بھی دکھاتے رہے اور بعد وصال بھی دکھا رہے ہیں الغرض میں حضور فاتح اجمیر علیہ الرحمہ کے ساتھ رہتا تھا اور اجلاس کی نظامت بھی کرتا تھا بعد تدفین حضور فاتح اجمیر علیہ کے در دولت پر پہنچا کھانا تناول کیا اور کھانے کے بعد ہم بیٹھے ہوئے تھے تبھی ولی کامل عارف باللہ سید عظیم الباقی صاحب علیہ الرحمہ نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ مولانا خلیق تم بابا حضور کے ساتھ کافی وقت رہے ہو یہ بتاؤ کہ کبھی کبھی بابا حضور کا مزاج تلخ ہوتا تھا اور بات بات پر لوگوں کو ڈانٹ دیتے تھے ایسا کب ہوتا تھا میں نے کہا حضور میں تو خادم تھا اور خادم کی اتنی جرات کہاں تھی بڑے بڑے علمائے دین و مفتیان کرام تو بابا حضور سے سوال کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ میری کیا اوقات تو حضرت نے فرمایا کہ مولانا آج بابا حضور پردہ فرما گئے ہیں آج میں بابا کے اس راز سے پردہ اٹھاتا ہوں۔ حضرت فرمانے لگے مولانا تمہارے بابا بلا ناغہ سرکار دو عالم نور مجسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار فرماتے تھے اور جس دن کسی وجہ سے دیدار نصیب نہ ہوتا تھا اس دن بابا حضور کے مزاج شریف میں چڑ چڑا پن ہوتا تھا اور بات بات پر لوگوں کو ڈانٹ دیتے تھے یہ تھی شان جلالت و مقام و مرتبہ بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ کا۔ حضور بابائے قوم و ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے صدقہ میں ہمیں بھی خواب میں دیدار مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو۔
خادم کا ایک سچا خواب
الحمد للہ میری اولاد میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے اس وقت تک جب خواب میں میرے بابا حضور علیہ الرحمہ تشریف لائے تو میری چار بیٹیاں تھیں فقط بیٹا کوئی نہیں تھا ہر صاحب اولاد جانتا ہے کہ جس کے بیٹیاں ہی بیٹیاں ہوں بیٹا نہ ہو اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اللہ تبارک و تعالی مجھے ایک ہی بیٹا دیدے میری بھی خواہش تھی۔
جاگ اٹھا مقدر مرے خواب کا
کے مصداق حضور بابائے قوم و ملت خواب میں تشریف لائے اور فرمایا خلیق اس بار تمہارے گھر بیٹا پیدا ہو گا میں نے صبح کو ہی اپنی اہلیہ سے کہہ دیا کہ بابا حضور نے خواب میں بیٹے کی بشارت دی ہے۔ ہمچوں شد۔ ایسا ہی ہوا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے ایک پیارا سا بیٹا عطا کیا میں نے اس کا نام نادر حسین رکھا اور آج وہ بیٹا عالم دین ہے اور مولانا نادر الخلیق مصباحی مداری کے نام سے موسوم ہے۔
وصال شریف سے قبل وصال کا اعلان
جمادی المدار کی ۱۷ تاریخ ۱۴۱۷ھ کا زمانہ قل شریف کی مبارک و مسعود رات ہے حضور بابائے قوم و ملت علیہ الرحمہ تشریف فرما ہیں مجھے خلافت عطا فرماتے ہیں سر پر دستار خلافت باندھتے ہیں اور میرے بعد حضور فاتح اجمیر علیہ الرحمہ کو آواز دیتے ہیں مرغوب ادھر آؤ اور فاتح اجمیر علیہ الرحمہ کو دستار خلافت باندھنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو فاتح اجمیر نے عرض کیا چا جان ابھی نہیں آئندہ سال دستار بندی فرما دیجئے گا تو حضور بابائے قوم وملت نے بھرے مجمع میں ارشاد فرمایا کیا میں آئندہ سال تک بیٹھا رہوں گا۔ یعنی میں وصال کر جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا کہ آپ تین ماه بعد ۱۴ / جنوری ۱۹۹۶ء مطابق ۲۲ / شعبان المعظم ۱۴۱۷ ھجری بروز اتوار دن کے دس بجکر بیس منٹ پر ہیلٹ اسپتال کانپور میں وصال فرماگئے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ مختصر مقالہ میری ذاتی یاد داشت پر مشتمل ہے اگر اللہ تعالیٰ نے میری صحت سلامت رکھی تو انشاء اللہ تعالیٰ مکمل سوانح حیات تحریر کروں گا اگر سہواً کچھ غلطیاں ہو گئی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے عفو وکرم سے معاف فرمائے اور مختصر سی کاوش کو قبول فرمائے (آمین)۔
بشکریہ رہبر نور رسالہ
مدیر اعلی : سید مقتدا حسین جعفری
خاکپائے ولی
الحاج مولانا خلیق احمد مداری
خادم الجامعة العربيه، سید العلوم بدیعیہ مداریہ
محلہ اسلام نگر ، بہیڑی ضلع بریلی، اتر پردیش، انڈیا
مزید پڑھئے







