تمہیدی کلمات
اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مسلمان غیر ملکی ہیں اور ان کے آباؤ اجداد عرب کی سرزمین سے ہندوستان آئے۔ اگر صرف اس بنیاد پر کہ کسی کے آباء باہر سے آئے تھے، ان کی اولاد کو غیر ملکی قرار دیا جائے، تو اس ملک میں برہمن، کشتری اور ویش بھی غیر ملکی ٹھہرتے ہیں۔
آریاؤں کی آمد اور تاریخی حقیقت
ہندوستانی تاریخ اور ہندو مذہبی کتب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آریہ اصل میں ہندوستانی نہیں تھے، بلکہ وہ کئی مرحلوں میں خشکی اور سمندری راستوں سے ہندوستان کی سرزمین پر آئے، اور سام، دام، دنڈ، بھید کی پالیسی اپنا کر یہاں قابض ہوئے۔
سرزمینِ سندھ اور اس کی قدامت
تاریخ کے اوراق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کو حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے سندھ (بن حام بن نوح علیہ السلام) نے آباد کیا، اور انہی کے نام پر ایک خطہ آباد ہوا جسے سندھ کہا گیا، جو آج بھی موجود ہے۔
تیرہ سو سال پہلے جس علاقے کو سندھ کہا جاتا تھا، وہ نہایت وسیع و عریض تھا۔
راجہ داہر کے دورِ حکومت میں سندھ کا علاقہ مغرب میں مکران تک ۔ جنوب میں بحیرۂ عرب اور گجرات تک ۔ مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط تک ۔ شمال میں ملتان سے گزرتا ہوا جنوبی پنجاب تک پھیلا ہوا تھا۔ اور عرب مؤرخین اس پورے خطے کو سندھ ہی کہتے تھے۔
یہ خطہ اس قدر قدیم ہے کہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ کب سے آباد ہے اور اس کے نام میں کیا تبدیلیاں آئیں۔ تاریخ سے صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب آریہ ہزاروں سال پہلے اس سرزمین پر آئے تو انہوں نے سندھ کا نام بدل کر سندھو رکھ دیا، کیونکہ وہ اپنی زبان میں دریا کو سندھو کہتے تھے۔
ابتدا میں وہ اس ملک کو سندھو کہتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ اسے پھر سندھ کہنے لگے، اور یہ نام اتنا مقبول ہوا کہ ہزاروں سال بعد بھی سندھ ہی رائج رہا۔
آریاؤں کی فتوحات اور ناموں کی تبدیلی
کہا جاتا ہے کہ آریاؤں نے جن جن علاقوں پر قبضہ کیا، ان سب کو سندھ ہی کہا، یہاں تک کہ وہ پنجاب کی سرحد بھی عبور کر گئے، لیکن نام تبدیل نہیں کیا۔
جب وہ گنگا کے کنارے پہنچے تو وہاں رک کر اس علاقے کو آریہ ورت کا نام دیا، مگر یہ نام ہندوستان سے باہر مقبول نہ ہو سکا۔
لفظ “ہند” اور “انڈیا” کی تشکیل
ایرانیوں نے اپنے لہجے میں سندھ (سندھ) کو "ہند” بنا دیا، اور یونانیوں نے ہ کو ہمزہ (ء) میں بدل کر”ہند” کو "اند” کہا۔
رومی زبان میں یہ لفظ "اند” سے "انڈ” اور پھر "انڈیا” بن گیا، کیونکہ انگریزی زبان میں “د” نہیں بلکہ “ڈی” (D) ہے۔
(اس طرح نوح علیہ السلام کے پوتے سندھ کے نام پر آباد ہوا ملک کا نام تبدیل ہوکر آج ایک محدود سرحدی علاقہ ہی سندہ کہلاتا ہے۔)
قدیم باشندے اور ذات پات کا نظام
یہاں کے قدیم باشندے دراوڑ، ناگ اور اسور جیسے ناموں سے بھی جانے جاتے تھے۔
انہیں غلام اور بے بس بنا دیا گیا، اور ذات پات کا نظام قائم کر کے انہی کو شودر قرار دے دیا گیا۔
اس کے ثبوت میں سب سے قدیم ہندو مذہبی و تاریخی کتب میں
رِگ وید (وولگا سے گنگا)
رِگ ویدک آریہ (راہل سانکرتیاین)
ڈسکوری آف انڈیا (جواہر لال نہرو)
تاریخِ فرشتہ (محمد قاسم فرشتہ)
غلام گیری (مہاتما پھولے)
دوردرشن پر نشر ہونے والا سیریل بھارت ایک کھوج
کتاب دیواسَر سنگھرش
اور جدید تحقیق سے آراستہ مسعود عالم فلاحی کی کتاب ذات پات اور مسلمان یہ تمام اس بات کے شواہد فراہم کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے آباء اور سرزمینِ ہند
جہاں تک مسلمانوں کے آباء کے غیر ملکی ہونے کی بات کی جاتی ہے، تو یہ دعویٰ خود تاریخی تحقیق کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔ قدیم روایات اور بعض مسلم مؤرخین کے مطابق، سندھ (جسے بعد کے ادوار میں ہند کہا گیا) کو حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخصیت سِندھ نے آباد کیا۔ اس کے بعد وہ کہاں گئے، یا ان کی نسل کس صورت میں باقی رہی، اس بارے میں تاریخ میں قطعی اور متفقہ شواہد موجود نہیں۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ اس خطے کی آبادی نہ کسی ایک نسل تک محدود رہی اور نہ کسی ایک مذہب تک۔ بلکہ یہاں ایکتا اور ملنساری اور میل جول اس قدر گھلا ملا تھا جس کی مثال ان شخصیات کے ناموں سے واضح ہے جیسے:
رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری، ایک ہندو تھے لیکن تخلص فراق،
مزید رس خان، رحیم داس، رام پرساد بسمل، کبیر داس، دیکھنے یا سننے میں یہ نام یا تخلص مسلمانوں والے لگتے ہیں مگر شخصیت ہیں ایسی تھیں کہ کوئی کسی بھی مذہب کا پیروکار نہیں تھا اور کوئی ہندو مذہب کا پیروکار تھا لیکن نام اور تخلص مسلمانوں جیسے تھے
اسی سلسلے میں مشہور مؤرخ محمد قاسم فرشتہ اپنی کتاب تاریخِ فرشتہ میں نوح علیہ السلام کی اولاد کے حوالے سے بعض مقامی حکمرانوں کا ذکر کرتے ہیں، جن میں ایک نام راجہ سورج کا بھی ملتا ہے۔ یہ بات واضح نہیں کہ یہ نام ابتدا ہی سے یہی تھا یا بعد میں کسی مذہبی یا تہذیبی تبدیلی کے نتیجے میں اختیار کیا گیا، لیکن یہ حقیقت اہم ہے کہ مذہب بدلنے کے باوجود نام باقی رہنے کی مثالیں قدیم زمانے سے موجود ہیں۔ یعنی ممکن ہے کہ کسی دور میں مذہبی شناخت بدلی ہو، مگر خاندانی یا روایتی نام چلتا رہا ہو۔
ہاں البتہ اسلام میں داخلہ پر اچھا نام رکھا جاتا ہے مگر برصغیر کی تاریخ میں یہ عمل یک طرفہ نہیں رہا۔ جیسے بعض خاندان اسلام میں داخل ہوئے مگر ان کے غیر مسلم یا مقامی نام باقی رہے، آج بھی گجرات اور راجستھان پنجاب کے علاقوں میں غیر مسلموں کے نام میں بھی خان، شاہ، نظر آتا ہے اسی طرح بعض خاندان ایسے بھی ملتے ہیں جن کے اجداد کسی وقت اسلامی تہذیب یا معاشرت سے وابستہ رہے، مگر بعد کے ادوار میں مذہب بدلنے کے باوجود ان کے نام یا القاب مسلمانوں جیسے باقی رہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ برصغیر میں نام ہمیشہ مذہب کی مکمل ترجمانی نہیں کرتے بلکہ وہ اکثر تہذیب، علاقے، خاندانی روایت اور سماجی تسلسل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔.
اسی لیے اگر کسی کے نام میں اسلامی رنگ پایا جائے تو یہ لازمی نہیں کہ وہ یا اس کے اجداد غیر ملکی ہوں، اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ مذہب بدلتے ہی نام بھی بدل جائے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے صدیوں تک نام، رسم، زبان اور تہذیب کو مذہب سے الگ رکھ کر بھی زندہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ایسے نام ملتے ہیں جو بظاہر “مسلمانوں والے” محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کے حامل افراد کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اور ایسے مسلمان بھی ملتے ہیں جن کے نام مقامی یا غیر مسلم روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ ساری حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ برصغیر کی شناخت خالص نسلی یا مذہبی نہیں بلکہ مشترکہ تہذیبی اور تاریخی ہے، اور مسلمانوں کو محض نام یا مفروضہ نسب کی بنیاد پر غیر ملکی کہنا یا کسی بھی انسان کو مذہب کے نام پر یا اس کے مذہبی نام پر غیر ملکی کہنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ علمی طور پر قابلِ قبول۔
یہ ممکن ہے کہ جب آریاؤں نے سندھ کے علاقوں پر حملے کیے تو بہت خون بہا، اور ممکن ہے کہ وہ اصل باشندے قتل ہو گئے ہوں، یا اِدھر اُدھر ہجرت کر گئے ہوں، یا اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہو۔
قبل از اسلام مساجد کا سوال
ہندوستان میں بعض ایسی مساجد کے شواہد بھی ملتے ہیں جن کا رُخ مسجد اقصیٰ کی طرف تھا، چرمن پیر درگاہ جبکہ چھٹی صدی عیسوی سے پہلے کی مساجد کا رُخ مسجد اقصیٰ ہی کی طرف ہوتا تھا۔ یہ مساجد کتنی قدیم ہیں، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
عربوں کی آمد اور ابتدائی فتوحات
سن ۶۳۷ء میں عثمان بن ابی العاص ثقفی نے ایک فوجی قافلہ ہندوستان کی طرف بھیجا۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ کو سخت ناراضگی ہوئی (تاریخِ پاک و ہند) امیر معاویہ کے دور میں مہلب بن ابی صفرہ لاہور تک آیا
(تاریخِ پاک و ہند) سن ۷۱۲ء میں محمد بن قاسم نے سندھ کے راجہ داہر سین پر حملہ کیا۔
مسلم حکمران اور ہندوستان
محمود غزنوی نے حملے کیے، مگر مندروں کو توڑنے کے الزامات درست نہیں، اور نہ ہی انہوں نے ہندوستان میں حکومت قائم کی۔
محمد غوری کے حملوں سے مسلم حکومت کی بنیاد پڑی۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں کے فوجی اکثر واپس اپنے ممالک لوٹ گئے۔ جو چند رہ گئے، انہوں نے ہندوستانی عورتوں سے شادیاں کیں اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
مغل دور اور معاشی ترقی
مغل دور میں برصغیر چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معاشی طاقت تھا۔
عالمی صنعتی پیداوار اور جی ڈی پی میں اس کا حصہ ۲۲ فیصد تھا، جو پورے یورپ سے زیادہ تھا۔ مغربی مؤرخ اینگس میڈیسن کے مطابق،
سن ۱۷۰۰ عیسوی میں اورنگزیب کے دور میں برصغیر دنیا کا سب سے امیر خطہ تھا، اور عالمی جی ڈی پی میں اس کا حصہ 24 فیصد تھا۔ موجودہ (دسمبر ۲۰۲۵) عالمی معیشت میں بھارت کا حصہ تقریباً 3 سے 4 فیصد کے درمیان ہے یعنی جہاں کبھی برصغیر دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت تھا، آج وہ درمیانی درجے کی عالمی معیشت شمار ہوتا ہے۔ یہ ان اسلام مخالف مؤرخین کے منہ پر طمانچہ ہے جو مسلمانوں کو لٹیرے اور قابض کہتے ہیں۔ لکس ورما جیسے غیر مسلم مؤرخین نے مغل سلطنت کو ایک صنعتی ٹیکنالوجی پر مبنی سلطنت قرار دیا ہے۔
نتیجہ: مسلمان غیر ملکی نہیں
پورے مسلم دور میں لوگوں نے عزت اور بھائی چارے کی وجہ سے اسلام قبول کیا، اور اونچی ذاتوں کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ کچھ مسلمان باہر سے آئے تھے، تو ان کی تعداد نہایت کم تھی۔
اکثریت انہیں ہندوستانیوں کی تھی جنہوں نے اسلام کے اخلاق اور مساوات کو دیکھ کر اسے قبول کیا۔
لہٰذا مسلمانوں کو غیر ملکی کہنا سراسر غلط ہے۔
آزاد ہندوستان میں جو بھی اس ملک کا شہری ہے، وہ ہندوستانی ہے چاہے وہ برہمن ہو یا شودر، مسلمان ہو یا سکھ، عیسائی ہو یا کوئی اور اگر تعصب کی بنیاد پر مسلمانوں کو غیر ملکی کہا جاتا ہے، تو تاریخی بنیاد پر آریاؤں کو غیر ملکی کہنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
جن کے گھر شیشے کے ہوں، وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے۔
اس مضمون کی تیاری میں متعدد مستند تحریروں سے استفادہ کیا گیا ہے، اور خصوصا رام سرن پَوَن جی کی کتاب سے
تحریر : حافظ غلام فرید مداری








