رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

شب برأت کی فضیلت اور معمولات

On: فروری 5, 2026 5:19 شام
Follow Us:
Shab-e-Bara’at

شعبان المعظم کا مہینہ بہت ہی بابرکت مہینہ ہے رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ رجب المرجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک میری امت کا مہینہ ہے ۔اسی مہینہ میں ایک رات ایسی آتی ہے جسے شب برأت کہتے ہیں۔

شعبان کی پندرہویں رات کو”شبِ برأت“کہتے ہیں، یعنی یعنی وہ رات جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کوگناہوں کے عذاب سے بری کردیاجاتاہے۔
تقریبًادس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس رات سے متعلق حدیثیں مروی ہیں۔ یہاں ہم کچھ احادیث مبارکہ کا ترجمہ امت مسلمہ کیلئے پیش کرتے ہیں

1- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواپنی آرام گاہ پرموجودنہ پایاتوتلاش میں نکل پڑی، دیکھاکہ آپ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ”جنت البقیع قبرستان “میں ہیں. جب میں وہاں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپر اپنی شایانِ شان نزول فرماتاہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے“۔

2-دوسری حدیث میں ہے:”اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتاہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیاجاتاہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔“

3- ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات لوگوں کے، وہ یہ ہیں: 1,مشرک
2,والدین کانافرمان
3, کینہ پرور
4, شرابی
5,،قاتل
6،شلوارکوٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا
7,واں چغل خور
ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی الا یہ کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ کرلیں۔

4- حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیاکرواوردن میں روزہ رکھاکرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے اوراعلان کرتاہے:” کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جو مصیبتوں سے چھٹکاراحاصل کرلے؟”

ان احادیثِ کریمہ اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اوربزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ کے عمل سے اس رات میں تین کام کرنا ثابت ہے:

1- قبرستان جاکر مردوں کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کرنا ثابت ہے لیکن یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی حیاتِ مبارکہ شبِ برأت میں جنت البقیع جاناثابت ہے۔
اس لیے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے چلاجائے تو اجر و ثواب کاباعث ہے، قبروں کی صفائی کرکے تازہ پھول چڑھانا جائز ہے لیکن موم بتی اور اگر بتی قبروں پر جلانا بلکل ناجائز ہے ،اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔جو چیزنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھناچاہیے، اس کانام اتباع سنت اوردین ہے۔

2- اس رات میں نوافل پڑھنا،تلاوت قرآن مجید کرنا،ذکرواذکارکااہتمام کرنا جائز اور معمولات اہلسنت والجماعت میں سے ہے۔
اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے، یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کاقرب حاصل کرتاہے،لہذانوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھرمیں اداکرکے اس موقع کوغنیمت جانیں،۰
یہ فضیلت والی راتیں شوروشغب اور ہنگاموں کیلئے نہیں ہیں بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوارکرنے کے قیمتی لمحات ہیں ،ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔

3- دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت سیدنا امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے اوردوسرا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ میں ایام بیض یعنی 13/14/15 کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے،لہذا اس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔

باقی اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا اور پوری رات مٹر گشتی کرنا یہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں،شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اورعبادت سے مسلمانوں کو محروم کردیناچاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔

حلوہ پر فاتحہ

ہمارے حضور نبی کریم رؤف و رحیم آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کی بخشش و نجات اور مغفرت ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے روایات احادیث میں ہے کہ آپ جب پیدا ہوئے تو اور وصال فرمایا تو

"رب ھب لی امتی رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی

کی صدا لگائی یعنی اے میرے رب تو میری امت کو بخش دے اور جب حشر ہوگا تو پل صراط پربھی یہی صدا لگائیں گے” رب ھب لی امتی ،رب ھب لی امتی”اے میرے پالن ہار اے میرے پروردگار تو میری امت کو بخش دے اور آج کی لیلۃ المبارکہ بھی مغفرت اور بخشش کی خاص رات ہے آج کی رات جنت البقیع جایا کرتے تھے اور دعاۓ مغفرت فرمایا کرتے تھے تو آج کی رات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کیلئے بھی خاص رات ہے اور امت مصطفوی کیلئے بھی خاص مغفرت و نجات کی رات ہے
اور ہمارے حضور آقائے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حلوہ بہت پسند فرمایا کرتے تھے چنانچہ ترمذی شریف اور دیگر احادیث کی کتب میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے

"کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب العسل و الحلوۃ”

یعنی رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم شہد اور حلوہ بہت پسند فرماتے تھے اسلئے حضور پاک صاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی اس خصوصی پسند کو اس خصوصی نجات وبخشش کی رات میں نذر و نیاز دےکر پیش خدمت کیا جاتا ہے اور حضور سیدنا الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی ورضا طلب کی جاتی ہے اور آپکی امت کی مغفرت ،بخشش اور نجات کیلئے دعائیں کی جاتی ہیں اسلیئے اس نیات محمودہ کی بناء پر حلوہ شریف اور اطیب الطعام و افضل المشروبات پر فاتحہ خوانی و نذر و نیاز پیش کرنا جائز و مستحب قرار دیا جاتا ہے۔

ہمارے اسلاف کی یہ سنت صدیوں سے رائج ہے اللہ تعالیٰ اسے قبولیت کا شرف عطا فرمائے اور آج کی رات میں ہماری ،ہمارے والدین کی ہمارے مشائخ عظام اور مرشدان کرام کی ، ہمارے بچوں کی ہمارے جملہ مریدین و متوسلین و معتقدین و شاگردان و اساتذہ اور ہمارے جملہ احباب و اعزہ و اقارب اور کل امت مصطفیٰ جان عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مغفرت اور بخشش فرمائے اور انہیں ہر قسم کے عذاب سے نجات فرمائے اور ہماری سربلندی اور سرخروئی کا ہمارے لئے سامان و ضمانت عطا فرمائے اور آج کی اس مبارک رات میں میرا رب ہمارا پالن ہار ھمارا کریم رب ہمارا رحیم رب ،اور ھمارا حفیظ رب ہماری اور جملہ مسلمانان عالم کی حفاظت فرمائے خاص طور سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی خصوصی فتح و نصرت عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم


از قلم ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری دار النور آستانہ عالیہ زندہ شاہ مدار مکن پور شریف کانپور 9793347086

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment